نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.
ایک جگنو مری وحشت کا سبب ہوتا تھا
شام کے وقت مرا حال عجب ہوتا تھا
اک ستارہ تھا کہ روشن تھا رہِ امکاں میں
اک سمندر، مرے ادراک میں جب ہوتا تھا
میری وحشت مرے ہونے کے حوالے سے نہ تھی
میرا ہونا میری وحشت کا سبب ہوتا تھا
ایک خوشبو تھی کہ آغوش کشا تھی ہر وقت
ایک لہجہ تھا کہ تحسین طلب ہوتا تھا
ایک آہٹ تھی کہ ہر وقت مرے دھیان میں تھی
اک فسانہ تھا کہ سرمایۂ لب ہوتا تھا
اب وہ خوشحال زمانہ ہی نہیں ہے ورنہ
روشنی کا بھی کوئی نام و نسب ہوتا تھا
میں بھی ہوتا تھا نوید اپنے حوالے سے کبھی
اور ہمہ وقت سرِ بامِ طلب ہوتا تھا
Share on Facebook
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ
خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ
صحرا میں بھلی گزری، اکیلا تھا تو کیا تھا
لوگوں میں کسی بات کا چرچا بھی نہیں کچھ
اب آ کے کھلا، کوئی نہیں، کچھ بھی نہیں [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.
نذر اقبال
خراب و خوار مثالِ درختِ صحرا ہوں
میں پائمالِ سرِ راہِ سختِ صحرا ہوں
مجھے بھی اپنی طرف کھینچتے ہیں آئینے
مگر میں سب سے گریزاں کہ بختِ صحرا ہوں
تو کیا یہ لوگ مجھے بھول جائیں گے یکسر
تو کیا میں صرف بگولہ ہوں، لختِ صحرا ہوں
تو میرے ساتھ کہاں چل سکے گا عہدِ نَو
کہ تو نقیبِ تغیر، [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.
کچھ دن سے جو گھر میں آ پڑا ہوں
میں اپنے قریب آ گیا ہوں
دنیا سے غرض بھی ہو تو کیوں ہوں
آپ اپنی ہنسی اُڑا رہا ہوں
میں نام کمانا چاہتا تھا
پہچان گنواتا جا رہا ہوں
جس موڑ پہ ہم بچھڑ گئے تھے
میں برسوں وہیں کھڑا رہا ہوں
کچھ ہو تو جواز دیکھنے کا
میں تیرا جہان دیکھتا ہوں!!
میں یعنی [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »
نوائے ادب نے Friday، 5 February 2010 کو شائع کیا.
خود سے بہت خفا ہوں میں، خود سے بہت جدا تھا میں
دیکھا نہیں کہ کیا ہوں میں، سوچا نہیں کہ کیا تھا میں
ٹوٹ گیا، بکھر گیا، اپنے لئے تو مر گیا
تیری طرف تھا گامزن، خود سے کٹا ہوا تھا میں
کیجے ملاحظہ ذرا، دفترِ ماہ و سالِ دل
میرا اسیر تھا یہ دل، اس میں پڑا ہوا [...]
Share on Facebook
مکمل تحریر پڑھیے »