ابھرتے ہوئے چین کے خلاف حکمت عملی اور پاکستان

امریکہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود تا حال دنیا کے نقشے پر ایک عالمی قوت کے طور پر موجود ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی صاحب چشم بینا انکار نہیں کر سکتا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب یہ عالمی طاقت روبزوال ہے اور اس سفر کی رفتار بھی اطمینان بخش ہے۔ اور اگر امریکہ کو زوال آتا ہے تو یہ صرف ایک ملک کا ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک طرز معاشرت اور ایک عالمی نظام کا زوال ہو گا۔

اس زوال کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔ البتہ طاقت کے غرور میں کی جانے والی جنگی جارحیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا مالیاتی بحران قابل ذکر اسباب ہیں۔ لیکن امریکہ خود اس بات سے غافل نہیں ، وہ بھی حالات کی نزاکت کو سمجھ چکا ہے اور اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے اس نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

اس سلسلے میں بے شمار اقدامات کئے جاسکتے ہیں اور امریکہ کر رہا ہے لیکن سب سے اہم اپنے مقابل ابھرنے والی طاقت کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔کیوں کہ جب تک کوئی دوسری طاقت سامنے نہیں آتی تب تک یہ اعزاز امریکہ ہی کے پاس ہے چاہے وہ اندرونی طور پر کتنا ہی کمزور ہو چکا ہو۔ اس لئے مد مقابل طاقت کو ابھرنے سے روکنا حکمت عملی کا سب سے اہم نکتہ ہونا چاہئے۔ اس وقت اگر دنیا کے نقشے پر نظر ڈالی جائے تو امریکہ کے بعد اگر کوئی ملک عالمی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ چین ہے۔ جس حقیقت کا اعتراف کئی مبصرین بارہا کر چکے ہیں۔ اور خود چین کا بڑھتا ہوا عالمی کردار ، اقتصادی طور پر مستحکم پوزیشن اور عسکری ساز و سامان کے لحاظ سے چین کی خود کفیلی بھی اس بات پر شاہد عدل ہے ۔ لہذا اب امریکہ کے لئے سب سے اہم کام چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لئے دو کام اہم ہیں ، اول چین کے دوستوں کو کمزور کرنا، دوم یہ کہ اس کے مقابل کوئی طاقت کھڑی کر دینا۔ جہاں تک چین کے دوستوں کا تعلق ہے تو پاکستان چین کے ان بہترین دوستوں میں سے ایک ہے جو ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے۔ معاشی اور عسکری میدان میں ان دونوں ملکوں کا تعاون بے مثال رہا ہے۔ اس لئے سب سے پہلے پاکستان کو کمزور کرنا ضروری ہے تا کہ آئندہ کسی وقت درد سر نہ بنے ۔

طاقت ور، مستحکم اور ایٹمی توانائی سے لیس پاکستان نہ صرف چین سے دوستی کی وجہ سے ناپسندیدہ تھا بلکہ اسرائیل اور بھارت کی آنکھ میں کھٹکتا تھا۔ باین وجہ اس کے خلاف کاروائی بہت ضروری تھی۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ اتحادی ہونے کی وجہ سے براہ راست کاروائی ممکن نہ تھی اس کے لئے ایک جال بچھایا گیا۔ پہلے پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا کیا گیا۔ افغانستان کے راستے سے یہود و ہنود کے بے شمار ایجینٹ سرحدی علاقے میں داخل کئے گئے ۔ جب ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا تو ایٹمی پروگرام کے غیر محفوظ ہونے کا واویلا شروع کردیاگیا۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو پاکستان کی جنگ قراردیا گیا ہے۔ اور ہمارے ناعاقبت اندیش حکمران اس سازش کو یا تو سمجھ نہ سکے یا سمجھ بوجھ کر اس کا حصہ بن گئے اور اس جنگ کو اپنی جنگ تسلیم کر لیا۔ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اتناواویلاکیاگیا کہ ہم خود صفائیاں پیش کرنے لگے۔ امریکہ کو مطمئن کرنے کے لئے فرمانبرداری کی تمام حدیں عبور کر گئے، بد ترین کی غلامی کی زندہ مثالیں پیش کر دیں ، اپنی ہی فوج اپنی عوام کے خلاف برسرپیکار کردیا، بلوچستان سے لے کر خیبر تک حکومتی عملداری کو داو*¿ پر لگا دیا لیکن ان کی جانب سے ابھی تک ”ہل من مزید “ کی صدائیں آرہی ہیں۔

موجودہ حالات میں ملک جس انتشار کا شکارہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں شاید امید سے زیادہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

چین کو عالمی قوت کے طور پر ابھرنے سے روکنے کے لئے دوسرا قدم خطے میں موجو د ممالک میں سے کسی کو چین کے مقابل قوت کے طور پر کھڑ اکرنا ہے اس ”مقدس “کے لئے قرعہ فال بھارت کے نام نکلا ۔ بھارت کی تیاری کثیر المقاصد حکمت عملی کے تحت ہے۔ اس کے ذریعے ایک طرف چین کے خلاف بندھ باندھنا مقصود ہے تو دوسری طرف پاکستان کو ”لگام ڈالنے“ کے کام میں بھی یہ اکسیر ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود حل نہیں کیا جارہا اور پانی کا مسئلہ سندھ طاس معاہدے باوجود سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے اس کے باوجود امریکہ نے کبھی ان مسائل کے بارے میں آواز نہیں اٹھائی ،جب کہ اس کے علاوہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والا واقعہ ”انسانی حقوق“ کے وسیع مفہوم کے تحت ”انسانی حقوق کے علمبردار “امریکہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اور اس کے خلاف آواز اٹھانا فرض سمجھا جاتا ہے۔ مگریہاں ہمدردی کے دو بول بھی گوارا نہیں۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر اٹھنے والی تحریکیں بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں۔ جنہیں روکنے لئے طاقت سے زیادہ عقل ،شدت کے بجائے نرمی کی ضرورت ہے۔ ان کے احساس محرومی کو دور کرنے اور ان کے زخموں پر مرہم لگانے کی ضرورت ہے۔ اور جو ملک دشمن عناصر ہیں ان کے لئے بہترین حکمت عملی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ فوجی طاقت کا استعمال معاملات کو سنوارنے کے بجائے مزید بگاڑتا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہم نے بلوچستان میںکیا، اور تاحال کر رہے ہیں۔ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں کیا، اس سے پہلے ویت نام میں بھی کر چکا ہے۔ عسکری طاقت کے استعمال اپنے پیچھے جو احساس محرومی اور اور انتقام کے جذبات چھوڑ جاتا ہے اس کے نتائج بڑے بھیانک ہوتے ہیں ۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ملکی مفاد کو سمجھ کر اپنی خارجہ پالیسی کا تعین کریں اور اس ”گیم“ کو سمجھیں جس کا ہم اس وقت شکار ہیں۔