اب مقابلہ جم کر ہو گا۔ پہلے مسٹر پاکستان ہی ہوتا تھا اب مس پاکستان بھی ہو گی۔ روشن خیالی، سونیا، ماریہ اور سحر آ گئیں ہیں۔ اب بتاؤ بچو؟
آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر یہ سونیا، ماریہ اور سحر ہیں کون؟
تو اب جو میں لکھنے جا رہا ہوں ذرا غور سے پڑھنا حضور!
کچھ عرصہ پہلے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر کچھ بڑی شوخ اور رنگین خبریں پڑھنے کو ملیں جن میں ان تینوں ہستیوں نے کافی رونق پیدا کی ہوئی تھی۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق سونیا احمد حسن کے مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے والی پاکستانی حسیناؤں کی منتظم ہے اورماریہ موتن پاکستانی نژاد امریکی شہریت رکھنے والی بائیس سالہ دوشیزہ ہے جس نے چین میں ہونے والے ‘مس بکنی’ کے مقابلے میں حصہ لیا اور سحر محمود پاکستانی نژاد کینیڈین ہے جس نے فلپائن میں ہونے والے ‘مس ارتھ دو ہزار چھ’ کے مقابلے میں حصہ لیا ہے۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق ان تینوں خواتین کے بیانات کچھ اس طرح ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں
سونیا احمد::
اگر پرویز مشرف دو سال اورصدر رہ گئے تو پاکستان میں مقابلہ حسن ضرور ہوگا۔ ’پرویز مشرف انتہائی معقول اور لبرل شخص ہیں، نجانے کیوں وہ فرسودہ خیال لوگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ اپنے مشیر بدلیں۔‘خود تو صدر پاکستان ’موڈریٹ مسلم‘ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس چیز کو پروموٹ نہیں کرتے۔’اگر صدر مشرف کو بکنی سے پرابلم نہیں ہے تو ملا کو کیوں ہے۔
سن 2002 سےمس پاکستان ورلڈ کا باقاعدہ دفتر پاکستان کے شہر کراچی میں موجود ہے اور اس دفتر کو سیکیورٹی کے پیش نظر ابھی ظاہر نہیں کیا گیا- اگراس دفتر کو ظاہر کردیا جاتا تو ابھی تک اس کو بم سے اڑا دیا گیا ھوتا۔ پاکستان کےنام پر ہر کام کے لیئے لائسنس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے- ہم نے کچھ غلط نہیں کیا مگر کچھ مذھبی حلقے مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔ ہم مقابلہ حسن میں حصہ لیتے ہیں اور لیتے رہیں گے۔اس سال کے آخر تک پاکستانی حسینائیں تمام عالمی مقابلوں میں شرکت کیا کریں گی-
سحر محمود::
میرے والدین امریکہ میں امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ میرا ایک بھائی لندن میں مقیم ہیں۔ ہر پاکستانی عورت کو اپنی خوبصورتی کا مظاہرہ کرنے کا پورا حق ہونا چاہیے۔ پاکستانی لڑکیاں بھی آگے آئیں اور مقابلہ حسن کے مواقع ضائع نہ ہونے دیں۔ ان لڑکیوں کو چاہیے کہ عالمی حسن کے نقشے پر پاکستان کو نمایاں کریں۔ پاکستانی معاشرہ فرسودہ خیالات رکھتا ہے اور تنگ نظر ہے، لیکن اس میں اب تبدیلی آرہی ہے اورلوگ آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے پاس مس یونیورس اور مس ورلڈ جیسے مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن اس کے لئے پاکستان کی سرزمین پر مس پاکستان کا مقابلہ ہونا ضروری ہے اور چاردیواری کی بجائے یہ مقابلہ کھلے عام ہونا چا ہیے۔ ان مقابلوں میں صرف جسم کی نمائش ہی ضروری نہیں ہے بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے بڑے تعلیمی مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ جسم کی نمائش تو صرف ان مقابلوں کا ایک حصہ ہے۔ اور ویسے بھی جسم کی نمائش آرٹ کی ایک قسم ہے۔
ماریہ موتن::
سونیا احمد نے ماریہ موتن کا پیغام پاکستانی خواتین کو دیتے ہوئے کہا کہ کوشش جاری رکھو اور ‘بریک دی بیرئیر‘۔ انہوں نے کہا کہ اچھے لوگوں کی بڑی تعداد اس ملک میں موجود ہے اور پاکستان کو صرف اسلامی ملک نہ سمجھا جائے۔ پاکستانی جھنڈا قومی ہے نہ کہ مذہبی لہذا اس جھنڈے کو مذہبی رسومات کا حصہ نہ بنایا جائے- 1981 کے بعد پاکستان کے بارے میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں– ہمیں بیرون ملک پاکستانی ثقافت کو حقیقی معنوں میں پیش کرنا ہے۔ ھم 1960 والا پاکستان واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔