بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام : حقوق نسواں کا سب سے بڑا عملبردار اور محافظ

بعد از حمد و ثنا۔

افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے اقوام وجود میں آتی ہیں ۔ اقوام کی پر سکون زندگی اور پرامن بقا کے لئے انصاف اولین شرط ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر بقائے باہمی نا صرف مشکل بلکہ ناممکن بن جاتی ہے۔ معاشرہ کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے افراد کے کچھ حقوق مقرر کر دیئے گئے ہیں جن کی پاسداری سے پر امن فضا کا قیام ممکن ہے۔ ایک عرصہ تک ان حقوق کو بنیادی حقوق یا فطری حقوق کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے انسانی تمدن ترقی پذیر ہوتا رہا اور نئے نئے نقطہ نظر اور اصطلاحات کا ظہور ہوا تو بنیادی یا فطری حقوق ”انسانی حقوق“ کی اصطلاح کے ساتھ رائج ہونا شروع ہوئے۔

غیر اسلامی دنیا میں ان حقوق کو کس طرح تسلیم کروایا گیا، اس کے لئے کتنے لوگوں کو جان کے نذرانے پیش کرنے پڑے، یہ ایک تفصیل طلب بحث ہے اور تاریخ اس سے بخوبی واقف ہے۔لیکن اس تمام بحث میں انسان سے مراد صرف مرد لیا جاتا رہا جبکہ عورت ماضی قریب تک اسی استحصال کا شکار رہی جس کی وہ ایک عرصہ سے چلی آرہی تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اگرچہ اقوام متحدہ کی سطح پر باقاعدہ انسانی حقوق کے لئے کمیشن تشکیل دیئے گئے اور درجنوں دستاویزات وجود میں آئیں لیکن اس ساری مشق میں بھی عورت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ ”انسانی حقوق کا عالمی منشور“ تشکیل پانے اور تمام ممبر ممالک کی طرف سے اسے اپنے قانون اور دستور کا حصہ بنانے کے باوجود عورتوں کے حقوق کے لئے الگ دستاویزات تیار کرنے کی ضرورت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ شاید خواتین”انسان“ کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔

1948ءمیں انسانی حقوق کے عالمی منشور کی تشکیل سے قبل اس حوالے سے کیا صورت حال تھی اور اس کی بہتری کے لئے کیا کیا کاوشیں ہوئیں اس کا مطالعہ بھی اہم ہے ۔ لیکن اس ضمن میں یہ سمجھنا کافی ہو گا کہ انسان کو اپنے فطری حقوق جو اسے پیدائشی طور پر حاصل ہیں انہیں حاصل کرنے ہی نہیں بلکہ صرف تسلیم کروانے کے لئے کئی صدیاں لگ گئیں۔ اس کے باوجود بھی یہ حقوق محدود دطبقات کے لئے ہی تھے ۔ کہیں جاگیرداروں اور بادشاہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے ضمن میں جس کے نتیجے میں میگنا کارٹا (1215ء) وجود میں آیا، کہیں مزدوروں کے حقوق، کہیں سیاسی حقوق اورکہیں اس طرح کی دیگر اصطلاحات کی صورت میں کچھ دستاویزات سامنے آئیں۔

اسلام کے نقطہ نظر سے انسانی حقوق کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان کا وجودقدیم ہے۔ جب اللہ تعالی نے پہلا انسان روئے زمین پر بھیجا اور اسے ”ا*¿سماءکلھا“ کا علم دیا تو ساتھ ہی اسے دیگر افراد کے حقوق کا شعور بھی عطا کر دیا۔اور ہر نبی علیہ السلام کے پیغام میں یہ تمام حقوق سموئے ہو ئے تھے۔ لیکن بعد کے ادوار میں جیسے جیسے انسان نے آسمانی پیغام کو بھلا دیا اور اپنے انبیاءعلیہم السلام کی تعلیمات کو مسخ کر دیا تو ان حقوق کا تصور بھی ختم ہوتا چلا گیا۔ چونکہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اسے کسی اعلی طاقت کا خوف نہ ہو تو وہ بہیمیت کی انتہا کو پہنچنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، کمزوروں کو دبانا اور انہیں اپنی خدمت اور آسائش کے لئے استعمال کرنا انسانی تاریخ کا مکروہ ترین باب ہے۔ اور اس پورے کھیل میں چونکہ عورت سب سے کمزور اور قوت مدافعت سے عاری مخلوق تھی لہذا اس کی اس کمزوری سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا اور اسے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بازاروں کے میلوں میں ان کی خریدوفروخت کی جاتی تھی،راہبانہ مذاہب میں لڑکیوں کو باعث نحوست اور گناہ کا سرچشمہ تصور کیا جاتا تھا۔ اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں تو آج بھی شوہر کی میت کے ساتھ عورت کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔

ترقی کے اس دور میں مغرب نے ”حقوق نسواں “اور ”آزادیءنسواں“کے خوبصورت نعرے کی آڑ میں جو حقوق عورت کو عطا کئے ہیںوہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ۔۔۔ اسے عملی طور پر طوائف اور داشتہ کی سطح پر لے آیا ہے، اسے ایک ایسی شے بنا ڈالا ہے جس سے مرد لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ آرٹ اور کلچر کے خوبصورت پردوں میں اس کا اس قدر استحصال کیا گیا کہ عملا جنس کے متلاشیوں اور کاروباریوں کے ہاتھوں کھلونا بن گئی۔

اسلامی تصور

اسلام میں حقوق کا تصور انتہائی جامع ہے اور اس میں” انسان “کی اصطلاح میں تمام طبقات شامل ہیں ۔ انسان ہونے کے ناطے تمام طبقات” بنیادی انسانی حقوق“ کے یکساں مستحق ہیں۔ اگرچہ بعض معاملات میں بعض افراد کے کچھ خاص حقوق ہیںجیسا کہ ، والدین کے حقوق، بچوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ لیکن انسانی حقوق کی حد تک تمام افراد بلا تفریق رنگ و نسل، ملک و ملت، قبیلہ و برادری برابر ہیں۔یہاں چونکہ حقوق نسواں ہمارا موضوع بحث ہے لہذا دیگر طبقات کا صرف اشارہ ہی کافی ہو گا۔

موجودہ دور میں بطور خاص 9 ستمبر2001 ءکے بعد سے اسلام ہر لحاظ سے مورد الزام ہے جس میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور انسانی حقوق قابل ذکر ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حالات میں اسلام کا جو تصور مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے یا خود بعض مسلمان ممالک میں بعض مسلمان جن جاہلانہ روایات پر عمل پیرا ہیں اس کی رو سے انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کے ساتھ ناانصافی کا رویہ روا رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور ہمارا دعوی ہے کہ” اسلام حقوق نسواں کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔

درحقیقت اسلام کی آفاقی اور انقلابی تعلیمات نے عورت کو اس کے حقیقی حقوق اور مرتبہءعزت عطا کیا ہے اور اگر اسلام کی طرف سے دیئے گئے حقوق کا اجمالی جائزہ لیا جائے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ان حقوق کا تصور دیگر تہذیبوں میں نہ آج ہے نہ اس کی کوئی مثال ماضی کے کسی دور میں ملتی ہے۔

اس وقت دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، اور یہ آبادی دنیا کے بہت سے معاشروں میں منقسم ہیں۔ ان تمام معاشروں کا رہن سہن یکساں نہیں ہے اور ہر معاشرے میں اسلام پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا بھی ممکن نہیں۔ لہذا ان معاشروں کو دیکھ کر اس بات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام میں خواتین کے حقوق کیا ہیں؟بلکہ اس سلسلے میں اسلامی شریعت کے حقیقی مصادر سے براہ راست رہنمائی لینا ضروری اور قرین انصاف ہے۔

اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اور ان مصادر سے ملنے والی تعلیمات نے عورت کو آج سے تقریبا 15 صدیاں قبل مرد کے برابر حقوق عطا کرتے ہوئے اسے مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بنیادی اسلامی مصادر کی روشنی میں حقوق نسواں کی نشاندہی کی جائے ۔البتہ اسلامی تعلیمات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ دیگر قابل ذکر مذاہب اور تہذیبوں کی تعلیمات پر بھی روشنی ڈالی جائے تاکہ اسلام کی تعلیمات کی جامعیت واضح ہوجائے (بضدها تتبين الاشياء)۔

مزید براں اس امر کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی ہے کہ اسلام ایک عورت کو معاشرتی، معاشی، سماجی اورتمدنی لحاظ سے جو حقوق عطا کرتا ہے نیز معاشرے میں مختلف حوالوں سے عورت کے جوخصوصی حقوق عطا کئے گئے ہیں؟۔۔مثلا؛ ماں ، بہن، بیٹی وغیرہ ہونے کے ناطے ان کا تفصیلی جائزہ لے کر دنیا کے سامنے آشکار کیا جائے تا کہ ”حقوق نسواں “ اور ”آزادیءنسواں“ کے نام پر مذہب بیزار لوگوں کے پروپیگنڈے کا سد باب کیا جا سکے۔

دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس کام کو بانداز احسن کر نے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین