تحریر: حافظ مظفر محسن

امریکی امداد، دانشور قوم اور کشمالہ طارق طنزومزاح

صبح سویرے۔۔بچوں کواسکول چھوڑنے جانے سے پہلے میں دودھ لینے گیا تو کبیر بٹ دھوتی باندھے کھڑا تھا۔ ”سناو¿جی“۔۔”پوچھو جی“۔۔”امریکی امداد آ رہی ہے“۔۔”جی ہاں“۔۔۔”یار یہ تم لوگ امریکی امداد سے اس قدر خوش کیوں ہو “ ؟! کبیر بٹ نے غصے سے پوچھا۔(میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے)۔
”ہم خوش ہیں ۔۔ہم خوش ہوں گے۔۔۔ یہ امریکی امداد لے کر۔۔۔ہر آدمی امداد لے کر خوش ہوتا ہے۔۔۔ہر آدمی کو خوش ہونا چاہئے۔۔۔میرے بیان پر کبیر بٹ مزید غصے میں آ گیا۔۔۔بولا ”غریب آدمی امداد لے کر خوش ہوتا ہے“ ۔۔۔”غلط بالکل غلط تحفے لینے سے پیار بڑھتا ہے“۔۔۔میری وضاحت پر مزید گرمی کھا رہا تھا“!
”بہتر ہے آپ سعودی عرب سے قربانی کی کھالیں بھی اکٹھی کر لیں“ ہاں۔۔۔ ”اللہ کرے ایسا ہو۔۔۔لیدر انڈسٹری فلورش کرے گی۔۔۔ اللہ کرے ایسا ہو بکرا عید آ رہی ہے سعودی عرب کے بادشاہ جو پہلے ہی ہم پر بڑے مہربان ہیں وہ کہہ دیں کہ ہم اس بار چالیس لاکھ بکروں کی قربانی کے بعد کھالیں اپنے برادر پاکستان کو دیں گے“۔مظفر صاحب چھوڑیں بحث آپ نے میری دوکان کو پرائیویٹ چینل بنا دیا ہے جائیں بچوں کو اسکول چھوڑنے۔ جائیں یہ بحث پھر کر لیں۔ملک نے ہنستے مسکراتے مشورہ دیا۔
یہ تو غیر اخلاقی بات ہے کبیر بٹ نے دونوں ہاتھ ہلاتے ہوئے آہستہ سے کہا ۔۔”تمہارے نزدیک ہو گی یہ غیر اخلاقی بات ہمارے لئے تو قربانی کی کھالیں اکھٹی کرنا اچھی بات ہے ثواب کا کام ہے۔ ٹینریاں لگیں گی۔۔ لیدر تیار ہو گا۔ میرے بوٹ آٹھ سو ننانوے روپے نوے پیسے کے ملتے ہیں۔قربانی کی کھالیں آ جانے سے چار سو ننانوے روپے نوے پیسے میں ملیں گے۔ میں پھر کرنل منظور کی طرح دو دو بوٹ خریدا کروں گا۔ براو¿ن بھی ۔۔کالا بھی۔۔۔کبھی براو¿ن کبھی کالا“۔۔! بوٹ سے مجھے صدر ہاو¿س میں ایک وزیر صاحب کا چوری ہو جانے والا بوٹ یاد آ گیا۔ حکومت کو چاہئے لاہور سے عمر ورک کو بلوائے اور اس بوٹ چوری کی انکوائری کروائے۔ ۔۔”یار امریکی امداد ڈائریکٹ تمہیں تو نہیں مل رہی وہ تو حکمرانوں کو ملے گی“۔۔۔کبیر بٹ نے وار کیا۔(لگتا تھا جان چھوڑنے کے موڈ میں نہیں)۔
”بیس سال پہلے نکالے سرکاری ملازم بیس سال بعد زرداری صاحب نے نہ صرف بحال کر دیئے انہیں بقایا جات بھی ملے اور ترقیاں بھی جو حالانکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کام کرنے ہنر مندی بڑھنے سے ملتی ہیں لیکن صدر زرداری نے سب دے کر سب کو خوش کر دیا۔۔۔اس لئے امریکی امداد آئے گی ۔۔۔ کچھ وہاں خرچ ہو گی۔۔۔کچھ یہاں خرچ ہو گی۔۔۔کچھ ادھر جائے گی کچھ ادھر جائے گی۔۔“ اور تمہیں پتہ ہے ناں الطاف مہر بھی زرداری اسکیم کے تحت چودہ سال بعد نوکری پر بحال ہو گیا ہے حالانکہ وہ کٹر مسلم لیگی بن چکا ہے میں ہنس پڑا۔ ”امریکہ کو چاہئے امداد کے طور پر چینی دے دے“۔۔۔کبیر بٹ بولا۔۔۔”آہا۔۔ آ گئے نے بٹ صاحب لائن پر۔۔۔ موجود ہے ناں آپ کے اندر بھی امداد طلب کرنے کا خواہش مند شریف پاکستانی“۔۔۔مجھے ہمارے محلے کا پولیس کانسٹیبل امداد خان یاد آ گیا۔ ۔۔۔پچھلے دنوں اس نے بلے گوشت والے کو بوسیدہ گوشت فروخت کرتے پکڑا تو اس نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا۔۔”حضور چھوڑیں بات اوپر تک نہ لے جائیں۔۔۔آج آپ کو مفت میں تین کلو بغیر چربی کے قیمہ کھلاتا ہوں“۔۔۔۔امداد خان نے بلے گوشت والے کو ایک لگائی۔۔کمینے آدمی بہانے سے وہی گندہ گوشت مجھے بھی کھلانا چاہ رہا ہے تو۔۔قانون کے ساتھ مذاق؟۔۔! بعد میں پتہ چلا امداد خان نے بلے گوشت والے سے رشوت (امداد) لی اور سامنے والی گوشت کی دوکان سے تین کلوقیمہ (بغیر چربی۔۔بغیر بدبو) خریدا اور اپنے گھر چلا گیا۔ سو باو¿ کبیر یہ گوشت اور قیمے والی کہانی میں نے محض اس لئے سنائی کہ چینی مہنگی بیچنے سے وہ امداد جو امریکہ ہمیں دے گا شوگر مل مالکان تک بھی پہنچ جائے گی اور اگر وہاں سے امداد کی صورت میں ہم نے چینی منگوا لی تو یہاں شوگر ملیں بند ہو جائیں گی اور تم کیوں ”غریب“ شوگر مل مالکان کے پیچھے پڑے ہو۔۔۔تمہیں پتہ ہے ناں یہ سب شوگر ملیں ۔۔۔”غریب“ سیاستدانوں کی ہی ہیں۔۔۔ اگرچہ چوہدری شجاعت نے کہا ہے کہ ہم نے یہ سب شوگر ملیں فروخت کر دی ہیں۔۔۔ اب ہمیں مہنگی چینی بیچنے والوں میں شامل نہ کریں۔ہم عدالت لگنے سے پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔
شکر ہے چوہدری شجاعت نے یہ نہیں کہہ دیا کہ ہم تو خود یوٹیلٹی سٹور سے قطار میں لگ کر سستی چینی لیتے ہیں۔ صبح چوہدری پرویز الٰہی قطار میں لگتے ہیں اور شام کو مونس الٰہی۔۔۔۔ ایسے میں کشمالہ طارق بھی یہ سوال اسمبلی میں اٹھا سکتی ہیں کہ ایم۔این۔اے فردوس عاشق اعوان والا کیس دبا دیں۔۔بس یہ حکم جاری کر دیں کہ ان خواتین کے لئے علیحدہ قطار ہو جو ایم۔این۔اے یا ایم۔پی۔اے ہیں تاکہ وہ آسانی سے قطار میں کھڑی ہو کر چینی لے سکیں۔۔کشمالہ طارق بڑی بردبار سیاست دان ہیں حکومت کو ان کی ہر بات پر غور اور عمل بھی کرنا چاہئے۔ کہ یہ اب ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے جیسے دو سکھ اکھٹے کہیں جا رہے تھے کہ ان کو سڑک کے کنارے پڑے دو بم مل گئے۔۔۔ پہلے سکھ نے مشورہ دیا۔۔۔ ”چلو دونوں بم پولیس کر دے آتے ہیں“؟! دوسر سکھ ۔۔ اگر کوئی بم راستے میں پھٹ گیا تو۔۔۔؟! پہلا سکھ (سنجیدگی سے )جھوٹ بول دیں گے کہ ایک ہی ملا تھا۔۔۔
ٹی وی چینلز نے پوری قوم کو دانشور بنا دیا ہے۔۔۔۔ ہر آدمی اب ہر موضوع پر کھل کر بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔ اپنا مشورہ ٹھونسنا چاہتا ہے اور دس منت میں ختم ہو جانے والی بات ڈیڑھ گھنٹے میں کرنے کا عادی ہوتا چلا جا رہا ہے۔نہ یقین آئے تو مفتی منیب اور بلور میں ہونے والا مقابلہ روز ہر چینل پر دیکھیں مزہ آئے گا۔علم میں اضافہ ہو گا یا نہیں یہ میں نہیں کہ سکتا۔
میں کل بجلی کا بل جمع کرانے گیا۔۔۔بڑی لمبی قطار تھی۔۔۔لوگ شدید گرمی میں پسینے میں شرابور تھے کہ ”طالبان قیادت کی کمزوریاں طالبان قیادت کے لئے متوقع نام اور طالبان قیادت کے لئے مناسب نام جیسے موضوع پر بحث شروع ہو گئی ساتھ والی قطار میں کھڑی آپا بشریٰ نے ایک مدلل تقریر کر ڈالی اور سب لوگوں کر حیرت زدہ کر دیا۔۔۔۔لوگ قطار میں کھڑے نہایت مزے سے آپا بشریٰ کی تقریر دیکھ سن رہے تھے۔۔۔ اور سورج کی تپش کو بھول گئے۔۔۔۔ اس دوران ہم نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور خوب حکومت پر اور پھر طالبان پر بھی اپنا غصہ نکالا۔تنقید کی اور امریکہ پر بھی مرضی سے کیچڑ اچھالا محلے میں شیخ تنویر سے ہمار جھگڑا ہے اس کو بھی خوب لپیٹا۔
اس دوران امید تھی کہ بل جمع کرانے والے سنجیدہ لوگوں کی اس خوفناک گفتگو سے جان چھوٹ جائے گی کہ کیشیئر خود کود پڑا اس نہایت سنجیدہ معاملے میں بل اور پیسے اک طرف رکھ کر خدا کی پناہ۔ اس دوران بارہ بج گئے۔۔۔کیشیئر نے یہ کہہ کر ”ٹھک“ کھڑکی بند کر دی کہ ٹائم ختم ہو گیا ہے۔۔۔سب لوگ گھروں کو واپس جائیں۔۔۔ خوامخوہ دھوپ میںمزید کھڑے ہو کر بیمار نہ ہوں ورنہ بل والے پیسے ڈاکٹر کو دینے پڑ جائیں گے۔۔۔کل صبح ذرا جلدی تشریف لائیں۔۔تاکہ بل جمع کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان مخالفت، امریکی مشروط اور غیر مشروط امداد، کشمالہ طارق۔۔۔ عوام میں چینی کی مہنگائی کے باعث بڑھتا ہوا خوف و ہراس جیسے اہم ترین موضوعات پر کھل کر بحث کر سکیں۔۔۔میں بھی آج انار کلی کے باہر فٹ پاتھ پر پرانی کتابیں ٹٹول کر مطلب کی کتاب نکالوں گا۔ رات ساری مطالعہ کروں گا اور بہتر ہے آپ بھی مطالعہ کر کے آئیں آپس میں بحث و مباحثہ کر کے آئیں تا کہ کل ساتھ ساتھ بل جمع ہوں اور ساتھ ساتھ ہم سیر حاصل گفتگو بھی کر سکیں۔کسی بھی کامیاب عوامی چینل کی طرح۔ شکریہ۔
ایک سکھ نے مکھی کے دونوں پر توڑ کے کہا۔۔
”اڑ جا“۔۔۔”مکھی نہیں اڑی“
سردار بولا۔۔۔ثابت ہو ا کہ اگر مکھی کے پر توڑ دیئے جائیں تو مکھی سن نہیں سکتی۔

تحریر: حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527