ایک ٹوٹا ہوا دن

کورٹ سے نکل کر شالنی نے اپنے پر قابو پانے کی کوشش کی ۔ اب سب کچھ ٹھیک ہو جاۓ گا۔ اس نے سوچا۔ اور دھیرے دھیرے سڑک پار کرتی ہوئی بس سٹاپ پر آ کر کھڑی ہو گئی ۔ اسے اپنے گھر جانے کے لیے تیرہ نمبر کی بس کا انتظار تھا۔ اس نے اپنی بس کو آتے ہوۓ دور سے دیکھ لیا تھا اور وہ کیو میں لگ گئی تھی ۔ شالنی کے آگے ایک عورت اور کھڑی تھی۔ اور اس کے آگے تین مرد ۔ پھر کالج کی لڑکیاں اور ان کے آگے والی عورت بس میں چڑھنے لگی تب اسے پتہ چلا کہ اس عورت کے ساتھ ایک بچّی بھی تھی جو اسے اب تک کیو میں نظر نہ آئی تھی۔ پیاری پیاری بھولی بھالی سی۔ کوئی چار پانچ سال کی عمر کی ۔ بالکل سُمن کی طرح ۔ اس نے سوچا۔ کنڈکٹر چیخا ’جلدی جلدی بہن جی‘ ۔ عورت نے بچّی کو ایک ہاتھ سے گود میں اٹھایا اور دوسرے ہاتھ سے بس کے دروازے کے ہینڈل کو تھاما ۔ مگر اس کی گود کی بچی کچھ اسی طرح پھسلنے لگی کہ اس عورت کو دوسرے ہاتھ سے پھر اسے سنبھالنا پڑا ۔ بالکل سُمن کی طرح چُلبلی اور بے چین ۔ شالنی نے پھر سوچا ۔
’’ آپ بیٹھیے میں بچی کو چڑھاتی ہوں ‘‘ شالنی نے اپنے آپ کو کہتے ہوۓ پایا ۔ اور جب وہ بچی اور عورت کو سوار کرا چکی تھی تو اس کے پیچھے کی دو تین لڑکیاں بھی جلدی سے بس میں سوار ہو گئی تھیں جن کو کیو میں لگنے ہوۓ شالنی اب تک دیکھ نہیں سکی تھی۔ پھر نہ جانے کیا ہو ا کہ شالنی کو جب احساس ہوا تو بس بہت دور نظر آ رہی تھی ۔ ایک لمحے کو اس نے محسوس کیا کہ جیسے وہ محض اس عورت اور اس کی بچّی کو بس میں سوار کرانے کے لئے بس سٹاپ تک چلی آئی تھی اور اسے کہیں نہیں جانا تھا۔ مگر جب یہ لمحے بھر کا احساس زائل ہوا تو وہ عجیب سا محسوس کرنے لگی ۔ اسے شرمندگی ہوئی کہ وہ ابھی تک خود پر قابو نہیں پا سکی ہے ۔ مگر پھر خود کو اطمینان دلایا ۔ راکیش کے ساتھ شادی کے بعد پھر سب کچھ ٹھیک ہو جاۓ گا۔
کچھ دیر تک وہ وہیں کھڑی رہی۔ کچھ ایسے جیسے اسے کسی بس کا انتظار ہی نہ ہو۔ ایک بس آئی بھی تھی مگر اس نے اس بس کا نمبر تک نہیں دیکھا۔ وہ پیچھے کورٹ کی چاردیواری کی طرف دیکھتی رہی۔ آج سے چھ سال پہلے بھی وہ نریندر کے ساتھ یہاں پہلی بار آئی تھی ۔ سول میرج کے لیے ۔ اور آج دوسری بار طلاق کے لیے ۔ اور اب شاید تیسری بار پھر آۓ ۔ راکیش کے ساتھ ۔ اگلے مہینے ہی تو راکیش انگلینڈ سے لوٹ آۓ گا۔
وہ بس سٹاپ کے پاس پڑی بینچ پر بیٹھ گئی۔ اس فیصلے کے ساتھ کہ اب اسے گھر جانے کی بھی کیا جلدی ہے ۔ محض اپنے لیے کھانا پکانا ہی تو ہے ۔ اور آج وہ اپنا کھانا ٹال بھی سکتی ہے ۔ جب کوئی بس تیزی سے آ کر قریب رکتی تو اسے ہوش آتا اور وہ محسوس کر کے شرمندہ ہو جاتی کہ وہ مستقل کورٹ میں آنے جانے والے مردوں اور عورتوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
ایک بھولی بھالی سی لڑکی جس نے نیوی بلو ساری باندھ رکھی تھی۔ اور جس کے بال بے حد لمبے تھے (بنگالی ہو گی ۔ شالنی نے دل میں سوچا) اور جس کی آنکھیں ہر وقت سپنے دیکھتی محسوس ہو رہی تھیں ، ایک لڑکے کے ساتھ اندر جا رہی تھی ۔ لڑکا تندرست سا تھا چاکلیٹی رنگ کا سوٹ پہنے ۔ نریندر بھی اس زمانے ایسا ہی تھا ۔ شالنی کو یاد آیا اور وہ ۔۔۔ اس کے بال بھی تو کافی لمبے تھے تب ۔ وہ ہاتھ پیچھے لے جا کر اپنی سر کی چوٹی کو سامنے لے آئی ۔ اب کتنے کم ہو گۓ ہیں بال ۔ راکیش تو کہتا ہے کہ کٹوا ہی لو۔ خیر ۔ اس کے آنے میں ابھی بہت دن ہیں، دیکھا جاۓ گا۔ وہ بالوں کی طرف سے بے حد بے پروا بھی تو ہو گئی ہے ۔ مگر پہلے اس کے بال کیے گھنے اور لمبے تھے ۔ اور وہ اسی طرح نریندر کے ساتھ کورٹ کے اندر بے حد اعتماد کے ساتھ داخل ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

وہ دن جولائی کا ایک بھیگا بھیگا سا دن تھا۔ شالنی اور نریندر دونوں نے اپنے اپنے کالجوں سے چھٹّی لے لی تھی ۔ اور صبح ہلکی ہلکی پھوار کے باوجود دونوں رین کوٹس لیے اپنا گھر سجانے کی شاپنگ کرنے نکل پڑے تھے ۔۔۔ اس نے صوفہ سیٹ کا کپڑا اور رنگ پسند کیا تھا ۔ ڈائننگ ٹیبل اور گودریج کی وارڈ روب کا آرڈر دیا تھا ۔ اور بھی بیسیوں چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں ۔ ٹی وی نریندر پہلے ہی لا چکا تھا۔ فرنیچر کو اپنے نۓ گھر میں ڈیلیوری کا انتظام کر کے نریندر اس کے ساتھ اس کے کمرے میں آ گیا تھا۔ پھر گھر میں اس نے نریندر کے لیے کھانا پکایا تھا۔ اس کو ماش کی دال بہت پسند تھی۔ اس لیے اس نے وہی پکائی تھی اور اس کی پسند کے مطابق خوب سا سلاد بھی ۔ اور کھانا کھاتے وقت جب نریندر نے کہا تھا ’’ کل ماں کا خط آیا تھا ۔ لکھا ہے کہ بہو کو سیدھے لے کر گھر ہی آ جانا ۔ بابو جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ وہ خود نہیں آ سکے گی‘‘ تب اس نے کیلنڈر پر نظر دوڑائی تھی ۔ کوئی دس دن بعد۔ میلاد النبی جمعرات کو ہے ۔ جمعہ کو وہ چھٹی لے لے گی۔ پھر سکینڈ سٹر ڈے اور اتوار کی چھٹی ہے ہی۔ پیر کی بھی چھٹی لے لے گی، منگل کو پھر کوئی چھٹی ہے ۔ جمعرات کی صبح یا بدھ کی رات کو ہی وہ نریندر کے ساتھ لکھنؤ چلی جاۓ گی اور پانچ دن لکھنؤ رہ کر بدھ کی صبح واپس آ جاۓ گی۔
’’ اور کیا لکھا ہے ماں نے ۔۔۔۔‘‘ شالنی نے بڑے اشتیاق سے پوچھا تھا۔
’’ہاں ۔۔۔۔ لکھا ہے کہ اب تم کو کھانے کی آسانی ہو جاۓ گی۔ بہو کو کھانا پکانا تو آتا ہوگا ۔ مگر آج کل کی پڑھی لکھی لڑکیاں تو کھانا پکانا کم ہی جانتی ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
’’تم نے جواب دے دیا ۔۔۔۔‘‘
’’نہیں۔ مگر اب لکھ دوں گا کہ میری شانی رانی مجھے میری پسند کی ماش کی دال پکا کر کھلاتی ہے بہت مزے کی ۔ ارے میں کتنا کھا گیا۔
شالنی کو یاد آیا ۔ شروع شروع میں وہ کئی مہینے تک اسے شانی یا شانی رانی کہتا رہا تھا۔
بہر حال اس دن کے اگلے دن پھر دونوں نے چھٹی لی تھی ۔ اور ٹھیک دس بجے نریندر اس کے گھر چلا آیا تھا۔
جب اس نے بغیر دستک دیۓ کمرے میں قدم رکھا تو اسے کچھ عجیب سا لگا ۔
’’آج تو مجھے یہ حق ہے شانی ڈیر کہ میں تمہارے کمرے میں بغیر اجازت اندر گھس جاؤں۔۔۔۔ یا پھر شام کا انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔‘‘
وہ کوئی جواب نہ دے سکی تھی۔ مگر دل میں جیسے کہہ رہی تھی۔تم کو تو ہمیشہ سے یہ حق رہا ہے نریندر۔تم میرے دل میں بھی تو بغیر دستک دیۓ اندر چلے آۓ تھے ۔ مگر اس نے صرف اتنا کہا۔ ’’ میں ذرا کپڑے بدل لوں تو چلتے ہیں، تم ذرا باہر چلے جاؤ‘‘ اتنے سہج طریقے سے کہ جیسے کورٹ میں جانا ان کے لیے بے حد معمولی بات ہو ۔ جیسے شالنی ان ساری لڑکیوں سے الگ ہو جو اپنے ہاتھوں میں مہدی کے ارمان میں انتظار کۓ جاتی ہیں ۔ اور بابل سے جدا ہوتے وقت دھاروں دھار رو رو کے مری جاتی ہیں۔ ارمان تو اس کو بھی تھا۔ کہ ماں خود اس کے ہاتھ میں مہندی لگاۓ۔ اور وداع ہوتے وقت وہ پتا جی سے گلے مل کو خوب روۓ۔ مگر پتا جی تو اس سے پہلے ہی موت سے گلے مل چکے تھے ۔ اور مان ۔۔۔۔ چلو اس نے ماں کی زندگی میں ہی کم از کم بی ۔اے تو کر لیا تھا پتا جی کی پنشن بھی ماں کی زندگی تک ملی تھی ۔ مگر نوکری ہوتے وہ دیکھ نہ سکی شالنی کو ۔ کسی طرح اس نے نوکری کر کے ایم۔ اے بھی کر لیا تھا اور اب کالج میں لکچرر تھی۔ یہاں دلی میں ۔ اگر ماں اب بھی ہوتی تو کیا وہ اس کو دہلی میں س طرح اکیلے رہنے کی اجازت دے دیتی تھی۔ ! اسے ہر وقت شاید یہ خدشہ ہوتا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ کوئی ……
’’کیا اب تک تیّار نہیں ہوئیں۔۔۔۔‘‘ نریندر باہر سے پھر اس کے کمرے میں چلا آیا تھا تو وہ چونک گئی تھی۔ اگر ماں ہوتی تو یہ سب برداشت کر سکتی تھی۔
پھر جب وہ کورٹ کے لیے روانہ ہوۓ تھے تو ٹیکسی میں نریندر نے اس سے پوچھا تھا۔
’’ کیا تم کو یہ سب عجیب نہیں لگتا ۔ شادی ایسی ضروری کیوں ہوتی ہے ۔ کیا اس سارے جھگڑے سے پہلے ہم سب کچھ ………‘‘
شالنی کا جی چاہا کہ وہ کہہ دے ۔ ہاں ہاں ۔ اپنی بات ادھوری کیوں چھوڑتے ہو۔ جب تم کو یہ فعل کرتے شرم نہیں آئی تھی تو اب بات پوری کرنے میں شرم کیسی۔ مگر اسے کچھ خوشی ہی ہوئی۔ اچھا ہوا نریندر ساری باتیں زبان پر نہیں لے آیا ۔ پھر شالنی نے محض اتنا کہا تھا ۔ ’’آج سے پندرہ دن پہلے ہی ہم یہاں آ سکتے تو اچھا ہوتا نا ۔۔۔۔‘‘
’’ارے بھئی ۔ ہم تو سال بھر پہلے بھی آ سکتے تھے ۔ تم ہی اپنی لیو ویکنسی (Leave vacancy) والی نوکری کی وجہ سے کچھ نہیں کرنا چاہ رہی تھیں ۔ اب تو ریگولر ہو گئی نا ۔۔۔۔۔‘‘
پھر دونوں چپ چاپ رہے اور خاموشی ان کے درمیان بولتی رہی تھی۔
جب ٹیکسی رکی تو نریندر باہر نکلا۔ ’آؤ‘ اس نے شالنی کا بازو پکڑا اور اس طرح باہر کھڑا کر دیا جیسے وہ سمن کی طرح ننھی سی بچی ہو۔ سمن۔۔۔ یہ اسکول جاتی ہوئی بچی بھی سمن سے کتنی ملتی جلتی ہے ۔
پھر وہ دونوں اسی طرح کورٹ میں گئے تھے جس طرح ابھی یہ جوڑا خوش و خرم سا گزر گیا ہے شاید اسی مقصد سے ۔ لیکن اس دن شالنی کے دل میں ایک موہوم سا سایہ بھی لہرا رہا تھا کہ شاید نریندر شادی کو محض بیڈ روم میں داخل ہونے کی قانونی اجازت سمجھتا ہے ۔ بہر حال۔ ان کے اندر داخل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد نریندر کے تین دوست آ گۓ تھے ۔ جن میں ایک راکیش تھا۔ باقی دونوں کون تھے ۔ شالنی نے یاد کرنے کی کوشش کی مگر اسے یاد نہیں آیا ۔ ان دوستوں نے گواہوں کی حیثیت سے دستخط کیے تھے ۔ اور ان دونوں کی شادی ہو گئی تھی ۔ بغیر کسی کے کنیا دان کۓ ہوۓ ۔ بغیر مہندی اور منڈوے کے ۔ مگر پھر بھی وہ خوش تھی۔ اس دن نریندر کتنا پیارا لگ رہا تھا۔ گرے رنگ کے سوٹ میں۔ خاص طور پر جب بعد میں وہ کوالٹی میں بیٹھے تھے ۔ اس نیم روشن سے کیبن میں جب اس نے سر پر جھولتے ہوۓ رنگین بلب کا سوئچ آن کر دیا تھا تو اس کی مدھم اور نیلی نیلی روشنی میں وہ کتنا پیارا لگ رہا تھا۔ اس کے بال ماتھے پر آ پڑے تھے ۔ راکیش اور وہ دونوں نہ ہوتے تو شاید شالنی بڑے اطمینان سے ان بالوں کو ماتھے پر ہٹا دیتی۔
پھر وہ لوگ لکھنؤ گۓ تھے ۔ اور اس کے بعد دسہرے دیوالی کی چھٹیوں میں ہنی مون کے لیے شملہ گئے تھے ۔ پھر شملہ ہی کیوں ، اتر پردیش کے سارے ہل اسٹیشنز گھومنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ دہرہ دون۔ مسوری۔ نینی تال ۔ الموڑہ ۔ باگیشور۔ اور وہاں سے واپس آنے کے بعد ۔۔۔ زندگی جیسے زندگی نہیں رہی تھی ۔ ایک مشین بن گئی تھی ۔ وہی روز صبح تیار ہو کر اور ناشتہ بنا کے ، کر کے دونوں کا جانا ۔ شالنی کا کالج سے ایک بجے لوٹ کر کھانا پکانا ۔ اور پھر اگر کوئی پیریڈ ہو تو پھر کھانا کھانے کے بعد ہی بھاگنا ۔ نریندر تین بجے آ کر کھانا کھاتا ۔ اور اپنے دوستوں کے ساتھ کچھ وقت گزار کر واپس آتا ۔ شام کو پھر کہیں ٹہلنے کے لیے جانا ۔ اور پھر رات ۔۔۔ وہی وہی ۔۔۔۔ روز روز۔۔۔ پھر سمن پیدا ہوئی تو لگا کہ زندگی میں تبدیلی آ گئی ہے ۔ جیسے بنا بادبان کی ناؤ کو کوئی بادبان مل گیا ہے ۔ کوئی ٹوٹی ہوئی پتوار جڑ گئی ۔ پھر جیسے اس کے لیے ہر چیز رنگین ہو گئی۔ اسے کالج کی نوکری چھوڑ دینی پڑی۔ مگر کالج کی پرنسپل نے کہا تھا کہ جب بھی تمہاری بچی بڑی ہو جاۓ تو تم اپنی پوسٹ آ کر دوبارہ سنبھال سکتی ہو۔ نریندر سے اس کا پہلی بار اسی پر جھگڑ ہو ا تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک عدد آیا کیوں نہ رکھ لی جاۓ۔ مگر وہ آیا کے بھروسے اپنی بچی کو۔ اپنے نریندر کی بیٹی کو پالنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے کالج چھوڑ ہی دیا۔ اور چار سال بعد پچھلے چھ سات ماہ سے اس نے دوبارہ اسی کالج میں اپنی نوکری دوبارہ جائن کر لی ہے ۔ سمن اب اسکول جانے لگی ہے نا۔۔۔۔نریندر کو پہلے صرف اپنی ملازمت میں اپنی ماں اور بہن بھائی سپورٹ کرنا اور پھر ان کے اپنے گھر کے اخراجات کی وجہ سے تنگی محسوس ہوئی تھی ۔ وہ چڑ چڑا بھی ہو گیا تھا۔ اور پھر جب اسے اس کی عادت پڑنے لگی تو اب پھر تین چار بجے گھر آ کر اسے گھر میں موجود نہ پاکر جھنجھلانے لگا ہے ۔ کہ اب ملازمت کیوں کر رہی ہے ۔ سمن بھی اسکول سے سیدھی اس کے کالج آ جاتی ہے ۔ کبھی اس سے رنگین چاکوں کی فرمائش کرتی ہے ۔ کبھی چاہتی ہے کہ ڈسٹر گھر لے آتے ۔ کبھی فزکس اور کیمسٹری کی تجربہ گاہوں کے انسٹرومنٹس کو للچائی ہوئی نظر سے دیکھتی ہے ۔ اس کی نظر بچاتے ہی فزیکل بیلنس کا کور اٹھا کر اسے دیکھنا اس کا محبوب مشغلہ ہے ۔ ( ہے ۔۔۔۔ میں اتنی دیر سے ’ہے ‘ استعمال کر رہی ہوں۔ شالنی نے سوچا ۔ کیا اب سمن کبھی کالج آۓ گی۔۔۔ شاید اگلے ہفتے ہی نریندر اس کا داخلہ لکھنؤ میں کسی اسکول میں کرا دے گا اور وہ تو دادی کے پاس ہی رہے گی۔) ایک دن تو اس نے پیوٹPivot) ) سے اس بیلنس Balance)) کے دونوں پینس Pans)) گرا دۓ تھے ۔ پھر وہ دونوں گھر آتی تھیں۔ شالنی جلدی جلدی سمن کو کھانا کھلاتی تھی جو وہ ناشتے کے وقت ہی تیار کر لیتی تھی۔ پھر اپنے اور نریندر کے لیے کھانا پکاتی تھی۔ نریندر کبھی جلدی آ جاتا ۔۔۔۔‘‘ اب تک کھانا تیار نہیں ہوا کیا ۔۔۔۔۔؟ ‘‘ وہ کہتا۔ وہ بڑے نرم لہجے میں جواب دیتی۔ ’’ آج کالج میں دیر ہو گئی تھی نا ۔۔ اس لیے ۔ پھر سمن کو نہلا نا تھا‘‘۔
’’ اچھا اچھا ۔۔۔‘‘ وہ بڑے طنز سے کہتا ۔ اور شالنی کو اپنی رگوں میں جنگلوں کی طرح آگ پھیلتی محسوس ہونے لگتی۔ مگر صرف اتنا کہتی۔۔۔ ’’ تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ میں کالج بھی جاتی ہوں‘‘۔
’’ اور تم اسی لیے اپنی سروس کی بات یاد دلاتی ہو کہ مجھے احساس ہو جاۓ کہ تم خود بھی کماتی ہو۔۔۔‘‘
’’تو اس میں حرج کیا ہے ۔ کوئی میں میرا تمہارا تو نہیں کرتی کہ یہ کام میری تنخواہ سے ہوا ہے اور یہ تمہاری ‘‘ ۔۔ مگر وہ کچھ نہیں سنتا ۔۔۔ ‘‘ماں ٹھیک ہی کہتی ہے کہ کمانے والی لڑکیاں دب کر نہیں رہتیں‘‘۔۔۔ اف پھر وہی اولڈ لوجک ۔ وہ سخت تکلیف سے سوچتی ۔ کتنی بار کہا تھا کہ اس کے نزدیک مرد اور عورت بالکل یکساں ہیں۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ۔ پھر کیا ضروری ہے کہ شوہر بیوی کا غلام بن جاۓ یا بیوی شوہر کی کنیز ۔
یہ سب کچھ کتنے ہی دن تک ہوتا رہا۔ وہ ناراض ہو جاتی۔ نریندر کھانا کھاۓ بغیر اٹھ جاتا ۔ سینکڑوں لمحے چشم زدن میں اس کے سامنے دھول اڑاتی بگھّیوں کی طرح گزر گۓ ۔ پھر نریندر اکثر اپنے کینٹین میں ہی لنچ کر لیا کرتا اور راکیش۔۔۔۔ ؟
راکیش ان کی شادی کے بعد اکثر ہی آتا رہا تھا۔ اور پچھلے دنوں ساون کی ایک بھیگی رات کو بوندوں کی موسیقی نے ان کے کان میں ایک دوسرے سے بے حد جذباتی وابستگی کی اطلاع دی تو وہ چونک گۓ۔ جذبات بھی گھڑی کی سوئیوں کی طرح ہر لمحہ سرکتے ہوۓ بڑھتے ہوۓ دکھائی نہیں دیتے ۔ اس کا دونوں کو احساس ہی نہیں ہوا تھا۔ اور پھر ایک دن راکیش نے پرپوز کرتے ہوۓ کہا تھا کہ اسے نریندر سے طلاق لے لینی چاہیے اور پھر وہ دونوں ایک خوش گوار ازدواجی زندگی گزار سکیں گے ۔ ماضی کو بھولتے ہوۓ ۔ گزرے ہوۓ کو بھولنا ہی ہوگا۔ اس وقت اس نے طے کیا تھا۔ مگر ۔۔ کیا وہ اب تک یہ سب کچھ بھول سکی تھی۔ اگر وہ آج تک کے واقعات کو اتنے ہلکے پھلکے طریقے سے لیتی تو کیا وہ اتنی بسوں کو چھوڑ سکتی تھی؟
پھر اس نے ایک ٹیکسی کو آواز دی ۔ اسے اپنے گھر کا پتہ بتا دیا ۔ اور پھر اپنے گھر کا تالا کھول کر چپ چاپ اپنے بڈ روم میں بغیر لباس تبدیل کۓ گر پڑی ۔ جیسے وہ بے حد تھک گئی ہو ۔ جیسے وہ کئی میل پیدل اور ننگے پاؤں چلی ہو۔ وہ کچھ دیر تک بے مقصد بڈ روم کے دروازے کے پار سڑک کی طرف کھلنے والے دروازے کو دیکھتی رہی۔ نہ جانے کب تک دیکھتی رہتی۔ مگر اسی منٹ پوسٹ مین کی آواز اس نے سنی اور دروازے کی دراز سے جھانکتا ہو ا ایروگرام اسے نظر آیا۔
وہ بوجھل قدموں سے دروازے کی طرف گئی ۔ دروازہ کھولا ۔ باہر سڑک پر سمن کے اسکول کی بچیاں جا رہی تھیں ۔ وہی یونیفارم پہنے ۔ پھر خط دیکھا ۔ راکیش کا ہی تھا ۔ لکھا تھا وہ اگلے مہینے کی 4 تاریخ کو دہلی پہنچ رہا ہے ۔ صرف 18 دن بعد ۔ اس نے خط کے محض ابتدائی جملے پڑھے ۔ اور پھر آخری جملے دیکھنے لگی ۔
’’ سمن کو بہت بہت پیار ۔۔۔ پھر تم تو میری منتظر ہوگی ہی نا۔۔۔۔ تمہارا اپنا۔ راکیش ‘‘۔
اس نے خط پڑھے بغیر میز پر رکھ دیا اور بستر پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اسے ایسا لگا کہ وہ اتنی ٹوٹ گئی ہے کہ راکیش ۔سمن اور نریندر مل کر بھی اسے نہ جوڑ پائیں گے ۔ شاید خدا بھی۔۔