بس ایک اور دن

اس نے ماچس کی تیلی بجھا کر چاۓ کی خالی پیالی میں ڈال دی۔ پیالی میں بچی ہوئی چاۓ اور چاۓ کی پتیاں اور دو سگریٹوں کے ٹکڑے اور تین ماچس کی تیلیاں پہلے سے موجود تھیں ۔ آج سے پہلے وہ وہاں کبھی نہیں آیا تھا۔ یہ ریستوراں اس کے لیے بے حد اجنبی تھا مگر وہ یہ محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا جیسے وہ پہلے بھی یہاں آیا ہے ۔ یہاں کے بغیر وردی کے ویٹرس کو ، ریستوراں کے ایک کونے کے کاؤنٹر پر بیٹھے ہوۓ مالک کو جو بار بار اپنی عینک اتار کر اس کے دھندلے شیشوں کو میلے سے رومال سے صاف کر رہا ہے ، ان سب کو اس نے پہلے بھی کبھی دیکھا ہے ۔ اسے ان رومانی ناولوں کا خیال آیا جن میں ہیرو ہیروئن سے یہ کہتا ہوا دکھایا جاتا ہے کہ ’’ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں نے تم کو پچھلے جنم میں دیکھا تھا۔ تم نہ جانے کتنے سو کتنے قبل مسیح میں توتن خامن یا کسی اور فرعون مصر کے اہرام کے کسی اندرونی کمرے کی طاق میں چربی کے چراغ جلا رہی تھیں اور میں تم کو دیکھ رہا تھا’‘۔ یا پھر ان فلمی منظروں کی طرح جس میں ہیرو ، ہیروئین کے دوپٹے کو اپنی انگلی میں لپیٹ کر اس سے کہتا ہے کہ ’ہم پہلے خوابوں میں ملے تھے ۔ اور آج تم کو حقیقت میں دیکھ رہا ہوں ۔ اور دونوں بغیر کسی آرکسٹرا کے فی البدیہہ شاعری کر کے گانا شروع کر دیتے ہیں۔
’ہونہہ اس نے اپنا سر جھٹک دیا ۔ یہ رومانی اور بچکانہ خیالات ۔۔۔۔ اس کی پرانی زندگی کے تھے ۔ پرانی زندگی جو نہایت جذباتی تھی۔۔ بچکانی اور بھونڈی ۔۔۔
’’ دو چاۓ اور چار سموسے ‘‘ اس کے پیچھے والی میز پر بیٹھے ہوۓ دو آدمیوں میں سے ایک کی کرخت آواز نے اس کے خیالات کو منتشر کر دیا ۔ مگر پھر اس نے سوچ کے تانے بانے ملاۓ۔ ’’پرانی زندگی ۔۔۔ جو کب سے ایک ہی راستے پر چلی جا رہی تھی ۔ بالکل طے شدہ ۔۔ صبح نو بجے ناشتے کے لیے جلدی مچاتے ہوۓ سُمترا سے لڑنا۔ اور ماں سے اس کی شکایت کرنا ۔ اور پھر سائیکل اٹھا کر فائلوں کو اپنا خون پلانے دفتر کے لیے چل دینا ۔ راستے ۔ وہی روز کے جانے پہچانے راستے ۔ راستے میں ملنے والے وہی جانے پہچانے لوگ جن میں سے کچھ کو وہ سلام کرتا، کچھ اسے سلام کرتے ۔ کچھ کو وہ محض پہچان کر دوسری طرف دیکھنے لگتا۔ کچھ اسے پہچان کر منہ موڑ لیتے ۔ ہ شکل آشنا کو تو سلام نہیں کیا جا سکتا نا!۔ پھر ایک مسکراہٹ کی نقاب اسے اپنے چہرے پر چڑھانی ہوتی۔ زبردستی وہ لوگوں کو بتاتا ۔ ’’ ٹھیک ہے سب ‘‘ ۔ ’’بس ۔۔۔ گزر رہی ہے ‘‘ ۔ ’’آپ کی دعا ہے ‘‘ انہیں وہ یہ نہیں کہتا کہ ماں کو پھر رات کو دورہ پڑا ہے ۔ بہن کے لیے آیا ہوا ایک اور رشتہ ختم ہو گیا کیونکہ لڑکا فرج اور اسکوٹر مانگ رہا تھا ۔ مگر وہی چند گنے چنے فقرے ہر بار اس کی زبان سے پھسل جاتے جیسے واقعی سب خیریت ہے ۔ پھر دس بجے تک دفتر کے باہری پھاٹک پر سائیکل سے اترتے ہی بوٹ پالش والا لڑکا ہمیشہ سوال کرتا ’’ صاحب پالش‘‘ اور وہ ہمیشہ ٹالتا ہوا اندر چلا جاتا ۔ ۔ وہاں ۔۔۔ پھر وہی دفتر کے ساتھی ۔ پھر وہی کچھ گنے چنے فقرے اسی کی زبان پر آتے ’کیا حال ہے ۔’کیسی گزر رہی ہے ‘ ۔ سب خیریت ہے ۔۔۔۔‘‘ ہونہہ ۔ بلکہ ہو و و ،ہنہہ ۔ سب خیریت ہے ۔ پھر دفتر کی فائلیں ۔ صاحب کی گھنٹی ۔ جب اسے سگریٹ بجھا کر صاحب کے کمرے میں جانا پڑتا ۔ کل وہ دفتر جا کر صاحب سے ملے گا اور ان کے سامنے بے تکلفی سے سگریٹ پئے گا ۔
’’یہ ایک روپیہ پچاس پیسے ،پندرہ پیسے تمہاری ٹپ‘‘ پڑوس کی میز سے آواز آئی ۔ اور وہ رک کر پھر سوچنے لگا۔ وہ کل صاحب کے سامنے سگریٹ ضرور پیۓ گا ۔ اسے اس خیال سے بڑی خوشی ہوئی ۔ لنچ کے وقفے میں دفتر کے سارے لوگ صاحب کی برائیاں کرنے ، نئی اسٹینو سے اس کے عشق کی داستان نمک مرچ لگا کر بیان کی جاتی ۔ وہ محض کینٹین میں جا کر بیٹھ جاتا اور بیرا اس کے سامنے ایک آملیٹ اور چار سلائس خود ہی رکھ جاتا۔ اسے آرڈر دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ کل وہ جب دفتر صاحب کے سامنے سگریٹ پینے جاۓ گا تو کینٹین میں جا کر کچھ اور چیز کھاۓ گا ۔ مٹن چاپ ۔ پنیر پکوڑا ۔ یا کوئی پیسٹری پھر اسے خیال آیا وہ اب تک اپنے پرانے صاحب کو صاحب کے نام سے یاد کر رہا ہے ۔ نہیں ۔ ۔ اب وہ اسے محض پوار صاحب کہے گا ۔ ہوگا سالا کسی اور کا صاحب ۔ ان تمام بیوقوفوں کا صاحب جو دن بھر روٹین ورک کرتے رہتے ہیں اسی کی گھنٹی پر چونک جاتے ہیں اور اپنی سگریٹ بجھا دیتے ہیں ۔ بلکہ وہ کل پوار کو بھی سگریٹ آفر کرے گا۔ اسے خوشی ہوئی کہ اس بار اس نے اپنے پرانے صاحب کو پوار صاحب ہی نہیں ، صرف پوار کے نام سے یاد کیا ۔ ’’تین کوکا کولا ۔ پہلے پانی ۔۔۔‘‘ پڑوس کی میز پر کچھ اور لوگ آ گۓ تھے ۔ تو کل وہ دفتر صرف پوار سے ملے گا ، اس نے پھر سوچا ۔ وہ رام بھروسے شرما اور آلوک چودھری اور نعیم الحسن کے پاس نہیں بیٹھے گا۔ وہ لوگ خود ہی روٹین والی باتیں کریں گے ۔ اپنے اگلے اِنکریمنٹ کی، پرموشن نہ ہونے کی ، پراوڈنٹ فنڈ کی، مکان کے کراۓ کی اور بجلی کے بل کی اور بیویوں کی ساڑیاں اور زیورات خریدنے کی اور پھر اسے مشورہ دیں گے کہ وہ جلدی سے شادی کر لے اور اسے کہیں گے کہ وہ کسی دن وندنا سے انہیں ملواۓ۔
وندنا ۔۔۔ اس نے اپنی پینٹ کی دائیں جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک پرچہ محسوس کیا ۔ کچھ دیر تک وہ اپنی جیب میں ہی اس پرچے کو محسوس کرنا رہا جیسے وندنا کو چوری چھُپے چوم رہا ہو ۔ کچھ دیر بعد اس نے وہ پرچہ نکالا اور بارہویں بار پڑھا ’’ کل ریلوے سٹیشن کے بس سٹاپ پر ملوں گی۔ شام چھ بجے ۔۔ وندنا ‘‘ ’صاحب بِل‘ پڑوس کی میز سے آواز آئی ۔اس نے پرچہ پھر پڑھا ’’کل ریلوے …… ‘‘ اس نے ۔ پرچہ پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایش ٹرے میں ڈال دیا اور اگلی سگریٹ جلانے کے بعد ماچس کی تیلی ایش ٹرے میں ڈال کر اس پرچے کے شعلے اور پھر راکھ میں تبدیل ہونے کا تماشہ دیکھتا رہا۔ یہ بھی سب بچکانہ پن ہے ۔ ہر دوسرے تیسرے دن وندنا سے ملاقات ۔ کسی بس سٹاپ پر ، کسی کافی ہاؤس میں۔ کافی کی تلخی کے ساتھ زبردستی کی با ت چیت ۔ ابتک وہ اس سے کتنا جھوٹ بولتا رہا ہے ۔ یہاں تک کہ اس نے کہا تھا کہ وہ وندنا کے بغیر جی نہیں سکے گا ۔ مگر یہ تو شاید وہ وندنا کی شادی کے بعد کسی اور وندنا ، وسنتا یا وملا سے بھی کہہ دے گا ۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے اس کے مرنے جینے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسے وندنا سے کبھی محبت نہیں تھی۔ بس خوش شکل لڑکی ہے ۔ اگر اس سے اسے محبت تھی تو وہ شاید یہ محض لمحاتی جذبہ تھا جو ایک عرصے سے ڈیپ فریز میں رکھا تھا ۔ اب وہ اس جذبے کو نکال کر پھینک دے گا۔ اب وہ وندنا سے بھی نہیں ملے گا۔ مسکرایا ۔ اسے خوشی ہوئی کہ اب اس نے اپنی پرانی زندگی کی جذباتیت سے چھٹکارا پا لیا ہے ۔ اس نے ایک اور ماچس کی تیلی چلائی اور اسے بجھا کر ایش ٹرے میں پڑے سگریٹ کے ٹکڑوں کو اندر ہی اندر کریدتا رہا ۔
’’تین چاۓ ۔‘‘ ایک میز سے آواز آئی ۔ پھر ٹن ٹن ٹن ٹن ٹن ۔ وال کلاک نے پانچ بجاۓ۔ وہ چونک گیا۔ ہوں۔۔۔ تو ابھی پانچ بجے ہیں، ابھی کل تک وہ اس وقت کا نہایت بے چینی سے انتظار کرتا تھا ۔ اور اپنی فائلیں بند کر کے اپنی میز سے اٹھ کر دوسرے لوگوں سے الٹی سیدھی روز مرہ کی باتیں کرتا ہو ا باہر نکل آتا تھا اور پھر سائیکل اٹھا کر گھر کے لیے ، یا کسی ریستوراں کے لیے ، کچھ خریدنے کے لیے یا وندنا سے ملنے کے لیے روانہ ہو جاتا تھا۔ اور آج ۔۔ وہ آرام سے یہاں پانچ بجے بیٹھا ہوا ہے ۔ اسے کسی کام کی جلدی نہیں ہے ۔ اسے یہاں سے کہیں نہیں جانا ہے اسے 6 بجے سے پہلے پہلے ریلوے اسٹیشن کے بس اسٹاپ پر بھی نہیں پہنچنا ہے ۔ کل اسے پھر دس بجے بھاگ کر دفتر بھی نہیں جانا ہے ۔ مگر ماں سے کیا کہے گا ۔۔۔ آج تو اس نے ایک بجے گھر آ کر کہہ دیا تھا کہ اس نے چھٹی لے لی ہے ۔ اپنے استعفے کی بات وہ ماں سے نہیں کہہ سکا تھا۔ مگر کیا یہ جذباتیت نہیں تھی، اس نے ماں کو کیوں نہیں بتا دیا۔ خیر ۔ آج رات کو وہ کہہ دے گا کہ اس نے استعفیٰ دے دیا ہے اور اب گھر کا جو حال ہو ، اس سے اس کا کوئی تعلّق نہیں۔ مگر مان کو تسلی دی جا سکتی ہے کہ وہ جلد ہی دلّی جاۓ گا اور وہاں اسے دوسری بہتر نوکری ملنے والی ہے ۔
اب ہوٹل کی ساری میزیں اچانک آباد ہو گئی تھیں۔ اور بے حد شور ہونے لگا تھا۔ پہلے اسے یہ محسوس کر کے خوشی ہوئی کہ اس شور سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ اکیلا ہے پھر اسے اچانک محسوس ہو کہ ۔ شور بڑھتا جا رہا ہے ۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ ایک پل بھی اس ریستوراں میں نہیں بیٹھ سکتا۔ اس نے وال کلاک کی طرف نظر یں اٹھائیں ، ساڑھے پانچ بجنے والے تھے ۔ وہ اٹھا اور چپ چاپ کاؤنٹر پر ہی جا کر بل مانگ کر پیسے ادا کیے ۔ پھر باہر آ کر کچھ دیر وہ ریستوران کے دروازے پر کھڑا رہا۔ باہر اسے کافی کھُلا کھُلا سا محسوس ہوا ۔ اس نے اِدھر اُدھر کی دوکانوں پر نظر ڈالی ۔ سامنے ایک بک سٹال تھا۔ اس نے سوچا کچھ رسالے وغیرہ ہی دیکھے جائیں ۔ تیزی سے اس نے سڑک پار کی ۔
جیسے ہی وہ بک اسٹال پر پہنچا ۔ باہر ہی لٹکے ہوۓ رسالوں میں اسے ’فیمنا ‘ کا نیا شمارہ نظر آیا ۔ اسے یاد آیا کہ وہ یہ رسالہ سمترا کے لیے خریدتا ہے اس نے وہ شمارہ خرید لیا ۔ پھر سوچنے لگا ماں کے لیے گیتا کا کوئی نسخہ لیتا چلے ماں نے اس سے کئی بار کہا بھی ہے ۔ اس نے یہ بھی لے لیا ۔ اور وندنا کے لیے ۔۔۔ اسے بھی بہت دن سے کوئی تحفہ نہیں دیا ہے کیوں نہ وہ اس کے لیے بھی ڈینس رابنس کا کوئی ناول خرید لے ۔ پچھلا والا ’I should have known ‘ اسے کتنا پسند آیا تھا۔ جب وہ یہ سب خرید چکا تو پیسوں کے لیے اس نے غلطی سے اپنی پتلون کی دائیں جیب میں ہاتھ ڈالا ، اس میں اب کچھ نہیں تھا ۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ اسے جیب میں رہنے دیا اور پھر کتابوں رسالوں کو بغل میں دبا کر بائیں ہاتھ سے پتلون کی بائیں جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکالے اور کتابوں رسالوں کی قیمت ادا کی ۔ مگر اس کا دایاں ہاتھ ابھی بھی پتلون کی دائیں جیب میں تھا جو خالی تھی ۔ ’’کل ریلوے سٹیشن ………‘‘ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کی اس جیب کے خلا نے اسے چاروں طرف سے جکڑ لیا ہے ۔ وہ مکڑی کے جالوں میں الجھتا جا رہا ہے وہ خود ایک ننھی مکھی ہے اور بڑی سی کوئی مکڑی اسکے گرد جالہ بنتی ہوئی چلی آرہی ہے ، اس جالے کا مرکز اس کی پینٹ کی خالی دائیں جیب ہے ۔ اور جالا بڑھتا جا رہا ہے بڑھتا جا رہا ہے ، بڑھتا جا ………