جانے اجانے
(رام لال کی نذر)

اس نے جیسے ہی ٹرین سے اتر کر پلیٹ فارم پر قدم رکھا، اس کے پیر ایک ایسی زمین سے ٹکراۓ جو اسے بے حد اپنی محسوس ہوئی اس کے پیروں نے آٹھ سال بعد اس زمین کی خاک چکھی تھی ۔ ٹرین سے اتر تے ہی اس نے پلیٹ فارم پر ادھر ادھر دیکھا سب کچھ تبدیل ہو گیا تھا ۔ اسے جوگندر پال کا جملہ یاد آیا۔ وقت نہیں گزرتا ۔ ہم گزر جاتے ہیں۔ یہ نظریۂ اضافی…… ’اونہہ‘ ۔ اس نے دل میں کہا ۔ ایسے فلسفیانہ خیالات سے اسے کوفت ہوتی ۔ وہ یہ خیال جھٹک کر پلیٹ فارم پر ہی جان پہچان کے لوگوں کو تلاش کرنے لگا۔ انکوایری آفس میں اس کا ایک ساتھی راجندر سنگھ بیٹھا کرتا تھا۔ اس نے انکوایری آفس میں جھانکا۔ مگر وہاں کوئی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ راجندر کے دوستوں میں سے بھی کوئی نظر نہیں آیا ۔ پھر اسے زُبیر یاد آیا ۔ زبیر اس کے ساتھ ہائی اسکول میں پڑھتا تھا ۔ مگر آگے نہیں پڑھ سکا تھا۔ اور اس نے وزن کرنے کی مشین کے کنٹراکٹر کے یہاں نوکری کر لی تھی ۔ اس کی ڈیوٹی تھی کہ تمام اسٹیشنوں کے پلیٹ فارمس پر اور سینما ہالوں وغیرہ میں نصب وزن کرنے کی مشین کھول کر اس میں سے سکّے خالی کرے ٹھیکے دار کو رقم جمع کرے اور کسی خرابی کی رپورٹ دے ۔ وہ اس کی وجہ سے بغیر پیسے کے وزن کراتا رہتا تھا۔ اور اکثر اس کی بدولت بغیر پلیٹ فارم ٹکٹ کے پلیٹ فارموں پر مٹر گشتی کرتا رہا تھا۔ زبیر نے اپنے کام میں فنکارانہ مہارت حاصل کر لی تھی۔ ہر اتوار کو وہ اسٹیشن والی مشینوں پر آتا تھا اور باقی دوسرے دن دوسری جگہوں پر نصب مشینوں پر۔ ہر مشین کھول کر پچھلے ہفتے میں نکلنے والے ویٹ کارڈس کا شمار کرتا اور پیسوں کے خانے سے دس دس پیسے کے سکے جمع کرتا ۔ ہمیشہ ہی ایسا ہوگا تھا کہ ہفتے میں ویٹ کارڈس 70 عدد نکلے ہوۓ مگر 10 پیسے کے سو سکّے تک جمع نکلتے ۔ اور زبیر آرام سے باقی پیسے اپنی جیب میں ڈال لیتا۔ اس مشین کے مکینزم پر اسے اس قدر دسترس حاصل ہو گئی تھی کہ اس نے کئی مشینوں میں یہ انتظام کر رکھا تھا کہ 10 پیسے کے ایک سکّے سے وزن کا کارڈ آتا ہی نہیں تھا۔ جب اس پر دوسرا سکہ ڈالا جاتا تو برآمد ہوتا ۔ اور اس طرح نصف آمدنی اس کی اپنی ہوتی۔
آج بھی اتوار تھی۔ اس نے سوچا شاید زبیر ہی مل جاۓ۔ وہ اسٹیشن آتا تھا تو تین چار گھنٹے یہاں گزار کر جاتا تھا ۔ مگر اس کا بھی کہیں پتہ نہ تھا۔ نہ اس پلیٹ فارم پر اور نہ اب ٹرین کے گزر جانے کے بعد دوسرے خالی پلیٹ فارموں پر دور دور سے نظر آرہا تھا ۔ پھر اسے اپنے انٹر کے ساتھی اقبال ۔ گل مقصود۔ سلیم اور حمید یاد آۓ۔ یہ سب اسکوٹر رکشا چلا نے لگے تھے ۔ اس نے پلیٹ فارم سے باہر آ کر سارے رکشا ڈرائیوروں کی شکلیں دیکھیں مگر کوئی صورت پہچانی نظر نہ آئی ۔ مجبور ہو کر اس نے ایک رکشا لے ہی لی۔ اور اپنا ایر بیگ جھلاتے ہوۓ اس میں بیٹھ گیا۔ اور اپنے پرانے گھر کا پتہ بتا دیا۔ ’’مہارانی روڈ چلو‘‘ ۔ رکشا والے نے رکشا سٹارٹ کی اور کچھ لمحوں میں اسکوٹر نے سپیڈ پکڑ لی۔ اس نے راستے میں اقبال سلیم وغیرہ کے بارے میں پوچھا بھی مگر یہ ڈرائیور کسی سے واقف نہیں تھا۔ یوں تو اسے ارجُن نگر جاتا تھا۔اپنی دادی کے گھر مگر اس وقت بے ساختہ اس کا جی چاہا کہ وہ اپنے پرانے گھر چلا جاۓ۔ راستے میں جانے پہچانے راستے میں جانی پہچانی عمارتیں بھی انجانی محسوس ہو رہی تھیں ۔ جلد ہی اسکوٹر اس کے پرانے گھر کی سڑک پر مڑی۔ ’’کہاں روکوں‘‘ وہ ڈرائیور کی آواز سے چونکا۔ اور اس نے دور سے ہی اس پیپل کے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ جس کا تنا اسے بچپن سے ایسا لگتا تھا جیسے کرشن کنہیا بانسری بجا رہے ہوں۔ جب کچھ نزدیک پہنچا تو اسے محسوس ہوا کہ کرشن جی کی ایک ٹانگ کو کاٹ دیا گیا ہے ۔ اس کا دوہرا تنا اب اکہرا ہو گیا تھا ۔ اس نے اپنے پرانے چار منزلہ گھر کے سامنے اسکوٹر رکشا رکوائی۔ اور پیسے دے کر اترا۔ نیچے دُکان تھی جس کے مالک نے ہی وہ مکان خریدا تھا۔
’’بنارسی داس جی نہیں ہیں کیا۔۔۔۔؟‘‘ یہ مکان کے نۓ مالک کا نام تھا۔
’’وہ تو باہر گئے ہوۓ ہیں۔۔۔۔۔‘‘
’’اور سلیم صاحب ۔ من موہن جی اور حکیم جی ۔۔۔۔ ؟‘‘ یہ وہاں کے ملازمین کے نام تھے ۔
’’سلیم صاحب نے استعفیٰ دے دیا ۔ حکیم جی گزر گئے ۔ اور من موہن جی دوسری دُکان میں بیٹھتے ہیں۔ مگر آپ کو کس سے کام ہے ۔۔۔۔‘‘
اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس نئے اجنبی ملازم سے کیا کہے ۔ ’’ مجھے کام تو کسی سے نہیں۔ در اصل یہ مکان ہمارا ہی تھا ۔‘‘
’’اوہو ۔ آپ کہیں تو مکان کھلوا دوں۔ یہ تو ہم نے گیسٹ ہاؤس بنا رکھا ہے ۔ آپ چاہیں تو اسی میں ٹھہر جائیں ۔‘‘ ’’شاید پٹیل صاحب بھی بمبئی سے واپس آ جائیں گے ۔۔‘‘
اب بھی اسکی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کس ارادے سے یہاں آیا تھا۔ ’’نہیں رہنے دیجیۓ ۔ شکریہ ۔‘‘ اس نے کہا اور پڑوس کی دونوں دُکانوں کو دیکھا۔ مشری لال جی کی دُکان میں ان کا لڑکا راکیش دُکان پر بیٹھا تھا۔ یہ گول مول گھنگھریالے بالوں والا لڑکا اور کون ہو سکتا ہے ۔ ’’ اوہو ۔۔۔ یہ راکیش اتنا بڑا ہو گیا۔ اس نے اس سولہ سترہ سال کے لڑکے میں آٹھ نو سال کے لڑکے کی شباہت ڈھونڈھی ۔
’’پتاجی کہاں گۓ۔۔۔۔۔‘‘
مگر راکیش اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔۔۔
’’تم راکیش ہی ہو نا ۔۔۔۔‘‘ اس نے دوسرا سوال کیا۔
’’ہاں جی۔۔۔ پتا جی تو یاترا پر گئے ہیں۔ آپ نے مجھے کیسے پہچانا جی ۔۔ میں تو آپ کو نہیں جانتا۔ ‘‘
’’ارے میں نے تم کو اتنے سے لے کر اتنا بڑا تک دیکھا ہے ۔‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے ایک ننھے بچے سے لے کر آٹھ دس سال کے بچے کے قد کی نشان دہی کرتے ہوۓ کہا۔ ’’ میں یہاں پڑوس میں ہی تو رہتا تھا۔ پٹیل صاحب ۔۔ بنارسی چاچا نے یہ مکان ہم سے ہی خریدا تھا۔ دیکھو تم کو اب بھی پہچان لیا۔‘‘ مگر راکیش یہ پہچان قبول کرنے اور خلوص کے مظاہرے کے موڈ میں نہ تھا۔ یوں بھی گاہکوں کی بھیڑ بڑھ گئی تھی۔ اور اس نے ملازم کو آواز لگائی ۔ ’’ایک کلو کتھا ۔۔ نمبری ‘‘ اور اس سے غیر متعلق ہو گیا۔
اس نے اپنے بائیں طرف والے پڑوسی کی طرف رجوع کیا ۔ یہاں بھی ایک اجنبی چہرہ نظر آیا جو اسٹیل کے برتنوں کی چمک سے چمک رہا تھا اور اسٹیل کی طرح ہی بے حس ۔
’’وہ کہاں گئے بھئی۔۔۔‘ اسے کچھ مشکل سے نام یاد آیا۔۔۔۔ ’’ناگر صاحب ‘‘
’’ان کی دُکان تو نہیں ہے یہ۔ آپ نے سائن بورڈ نہیں دیکھا شاید ۔۔ در اصل ہم نے یہ دُکان ناگر صاحب سے 1979 ء میں ہی خرید لی تھی۔ آپ اس سے پہلے کی بات کر رہے ہیں شاید۔۔۔‘‘ اس نے باہر آکر دُکان کا سائن بورڈ دیکھا۔ ’’ناگر اینڈ سنس ۔ سٹین لیس سٹیل یوٹینسل ڈیلرس۔ کی جگہ ’’ شرما سٹیل سٹور‘‘ کا بورڈ لگ رہا تھا۔ کچھ لمحے اس نے پیپل کے تنے سے لگ کر گزارے ۔ یہ سوچتے ہوۓ کہ اب وہ یہاں سے دادی کے گھر ارجن نگر جاۓ یا نہ جاۓ ۔ دادی اس کے والد کی سوتیلی ماں تھی۔ جو کہ اس سے کافی پیار کرتی تھی اس لئے وہ چلا بھی آیا تھا۔ مگر اس کی پھوپھیاں، اس کے والد کی سوتیلی بہنیں اس سے اتنی رغبت نہیں رکھتی تھیں اور نہ اسے ہی ان کا اتنا خیال تھا۔ اس نے سوچا کہ ارجن نگر جا کر کیا کرے گا۔ اپنے پرانے گھر اور پرانے ساتھیوں کی یاد نے اسے یہاں آنے کے لیے اکسایا تھا۔ مگر شاید کوئی اسے اب پہچانتا نہیں تھا۔ اس نے ایک اسکوٹر رکشا رکوائی اور دھیرے سے کہا ’’ ریلوے اسٹیشن ‘‘۔ اسکوٹر رکشا پھر اسی راسے پر روانہ ہو کر اسٹیشن پہنچ گئی۔ وہ اپنا بیگ لے کر ویٹنگ روم میں گیا ۔ نہایا ۔ باہر آ کر کنٹین میں چاۓ پی۔ پھر کچھ رسالے لے کر تین گھنٹے اور ویٹنگ روم میں گزارنے کے ارادے میں واپس چلا گیا کہ واپسی کی ٹرین میں ابھی کافی وقت تھا۔ جب وہ دوبارہ سامان لے کر نکلا تو ٹرین کے وقت میں آدھا پون گھنٹہ ہی رہ گیا تھا۔ اس نے ٹکٹ خریدا اور واپس آ گیا۔۔ یہ سوچ کر کہ ٹرین میں جب کنڈکٹرس آ جائیں گے تو ریزرویشن کا معلوم کرے گا۔ تھوڑی دیر بعد ہی ٹرین پلیٹ فارم پر لگ گئی ۔مگر وہ تنہا ہی تھا اور سامان کون سا تھا اس کے پاس ۔ سوچا کہ آرام سے ٹرین کے چلتے وقت ہی بیٹھ جاۓ گا۔ ریزرویشن مل جاۓ تو اس بوگی میں۔۔۔ اتنے میں اسے ایک آواز نے چونکا دیا ۔۔۔۔ ’’ ابے تو ۔۔ جمّی ! ‘‘
اس نے مڑ کر دیکھا ۔ جمیل احمد ۔ ریڈر ان فلاسفی۔ دہلی یونیورسٹی کو یہ کون جمّی کہہ رہا ہے ۔؟ سفید بے داغ دھوتی پہنے گنجے سور اور ننگے پیر والے ایک بوڑھے کی آواز تھی یہ ۔۔۔۔
’’شری کاکا ‘‘۔۔۔
’’اے تو آیا ہے کہ جا رہا ہے ۔۔۔۔‘‘ یہ ٹرین تو دہلی جانے والی ہے ۔ ‘‘
’’نہیں جی ۔ میں کہیں نہیں جارہا کاکا ۔۔۔۔ ‘‘
’’کب آیا تو ۔۔۔۔‘‘
وہ قریب آ کر اس کے کندھے اور سر پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔۔۔۔
’’تیرے تو بال بھی کتنے پک گئے رے للوا۔۔۔ ‘‘ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔ تجھے دیکھ کر مجھے اپنا یار یاد آ گیا ۔۔ کیا جوان تھا اپنا عقیل‘‘۔۔
’’مشری کاکا ۔ آپ گۓ تھے کہاں ۔۔۔۔ ؟‘‘
’’ارے ۔ اب بڑھاپے میں چار دھام نہ دیکھ لیتا تو کیا پرلوک سدھار کے دیکھتا ۔ مورکھ ۔ اسی لیے تو جی رہا تھا اب تک ۔ اور شاید اس لیے کہ تجھ جیسے سپوت سے ایک بار ملنا ہو جاۓ۔ چل رے گھر چل۔‘‘
’’میں ابھی اتر کر سیدھا گھر گیا تھا کاکا ۔ راکیش نے مجھے نہیں پہچانا۔ پھر ایک دوست مل گیا جو مجھے پھر یہاں لے آیا۔۔۔۔ ‘‘
’’ارے ۔ راکیش تجھے کیا پہچانتا ۔ راجیش تھا تیرا دوست وہ تو لندن میں اپنا بزنس جماۓ ہوۓ ہے ۔ اکھلیش بھی تجھے پہچان لیتا ۔ وہ امریکہ میں ڈاکٹری کر رہا ہے ۔ راکیش تو بچہ تھا تیرے سامنے ‘‘۔
’’آؤں گا آپ کے گھر بھی کاکا ۔ ابھی تو دادی جی کا دیہاوسان ہو گیا ہے نا ۔ اس لیے آیا تھا۔ ‘‘
’’کل صبح تک تو میں تیرے گھر ہی تھا بیٹا، تیری دادی میری موسی جو تھی۔ ہاں۔ کل ضرور آنا ۔ ہاں نہیں تو۔ میں عقیل کو بھی ہاتھ مار دیتا تھا۔ تجھے تو مار ہی سکتا ہوں۔ ابھی بڑھاپے میں بھی اتنا دم تو ہے ہی ۔ دیسی گھی والا۔۔۔۔‘‘
ضرور کاکا۔ ابھی تو میں ایک آدھ ہفتے رہوں گا ۔ ‘‘ اس نے ہاتھ ڈال کر جیب میں ٹرین کا ٹکٹ محسوس کیا۔
’’اچھا جمّی بیٹا ۔ ہم چلے ۔ تیری کاکی جب سے پرلوک سدھاری ہے ۔ تب سے گھر پر اپنا جی نہیں لگتا ۔ تو ہی رہ جانا میرے ساتھ دو چار دن ۔۔۔۔۔‘‘
’’ضرور کاکا۔ کل تو ملنے آؤں گا۔ پھر اتوار سے دو تین دن آپ کے ساتھ ہی رہوں گا۔ ‘‘
شری کاکا نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور چل دیے ۔
آخر دادی تو اس سے پیار کرتی ہی تھی۔کیوں نہ پھوپھیوں سے بھی وہ مل ہی لے ۔ وہ سوچنے لگا ۔ اور خود کو انکوایری آفس کے سامنے کھڑا پایا۔
’’اوۓ۔۔ ‘‘ راجندر کو شاید اس کا نام یاد نہ آ رہا تھا۔
’’ او سوا لاکھے ۔۔ تم سالے یہیں ہو اب تک ۔ میں تو بڑی دیر سے یہاں ہوں مگر تم دکھائی نہیں دیۓ ۔ ‘‘
’’ابے میں شام کی ڈیوٹی پر ابھی تو آیا ہوں ۔ سالے ۔ یہ بتاؤ تم کب تک رکو گے ۔۔۔‘‘
’’آٹھ دس دن۔۔ جب کا تم ریزرویشن دلوا دو گے تب تک ۔ مگر تمہارے گھر شام کو آؤں گا۔ تم تو وہیں بخشی کالونی میں ہونا ۔۔ مگر تم کو دادی کا گھر کہاں معلوم ہے ۔ جہاں میں ٹھہروں گا ۔ اور پتہ بتانے کے معاملے میں تو تم جانتے ہو ۔ اپن کورے ہیں۔۔‘‘
’’لے یار ایک پان تو کھا لے ‘‘ اس نے ڈبیہ میں سے ایک تازہ تازہ پان نکال کر اسے دیا ۔ ایک خوشبو سی اڑی ۔
’’اور وہ زبیر کہاں ہے ۔ ‘‘ پان اس کے منہ میں تھا۔
’’کہاں جاۓ گا سالا۔ یہاں ہی ہے آج کل سٹیشن سوموار کو آتا ہے ‘‘ راجندر نے کہا۔
اچھا کل آؤں گا ۔ ابھی دادی کے گھر جا رہا ہوں۔‘‘ وہ اسٹیشن سے باہر نکل آیا۔
’’ارے سلیم بھائی۔۔۔۔‘‘ اس نے سلیم کو دیکھ کر آواز دی ۔
’’ کون ۔۔۔ جمیل۔۔۔۔؟ ارے تم کب آۓ۔ چلو چلو بیٹھو رکشا میں ۔ کہاں چلنا ہے ۔ ‘‘ اس نے رکشا سٹارٹ کر کے قریب لا کر کھڑی کی۔ اور اتر کر گلے ملا۔
’’چلو ۔ رستے میں ہی باتیں ہوں گی۔ ارجن نگر چلو ابھی تو ۔۔۔ ‘‘ وہ بیٹھ گیا۔ رکشا اسٹارٹ ہو گئی۔ اور سلیم سے باتیں کرتے ہوۓ جب وہ سڑک پر دیکھ رہا تھا تو اسے لگا کہ جیسے سب کچھ وہی تو تھا۔ تمام راستے وہی تھے زیادہ تر عمارتیں نہیں رہی تھیں۔ کچھ نئی بن گئی تھیں تو کیا۔ ۔۔۔۔ آخر ہر جگہ نئی عمارتیں بنتی ہی رہتی ہیں۔