اور جب آدھی رات کا گجر بجا اور آدھی رات ادھر اور آدھی رات ادھر ہو گئی اور مہمانوں کی طنزیہ مسکراہٹیں سونے لگیں اور ایک ایک کر کے مہمان کسی نہ کسی بہانے سے اپنے گھر روانہ ہونے لگے ۔ اس وقت عارف میاں رندھی ہوئی آواز میں کہہ رہے تھے ۔ ۔۔ ‘‘نجو ۔ میں نے وعدہ کیا تھا نا کہ میں تم کو اپنے ہاتھ سے دلہن بناؤں گا۔ یہ وعدہ پورا ہو چکا ۔‘‘ انہوں نے رومال سے اپنی آنکھوں کے گوشے پونچھے ۔ نجمہ نے عارف میاں کے کندھے پر سر رکھ کر ایک سبکی لی۔
’’ارے پگلی ۔۔ روتی ہے ۔ ارے وہ گھر تو بالکل جانا پہچانا ہے ۔ کسی غیر کے گھر میں جا رہی ہے کیا ۔‘‘ انہوں نے مذاق میں اپنے کپکپاتے ہاتھ سے نجمہ کے سر پر چپت مارنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے ۔ ’’ پپو کا خیال رکھنا ۔‘‘ انہوں نے کہا تھا پھر ان کو ہوش نہیں تھا کہ نجمہ کب اشفاق کے ساتھ روانہ ہو گئی ۔
اس کے کچھ دیر بعد وہ نجمہ کے کمرے میں دروازے کے قریب کھڑے تھے ۔ انہیں لگا اس کمرے کی ہر شے ۔ پر ویرانگی رات بھر کی تھکی ہوئی طوائف کی طرح لپٹ گئی تھی ۔ ایک گرد کی تہہ ۔ جیسے ابھی طوفان آ کر گزر گیا ہو۔ صبح سے رات تک اتنی گرد کیسے جمع ہو سکتی ہے ، یہ عارف میاں کو خیال نہیں آیا کہ ان کی آنکھوں کی دھند بھی ہو سکتی ہے ۔ مگر اس وقت بے حد سکوت تھا ۔ پورے چاند کی رات کو دن سمجھ کر جاگ اٹھنے والے پرند ے بھی جس سکوت کے سحر کو توڑ نہ سکتے تھے ۔ کم از کم عارف میاں کے لیے ۔ وہ جیسے نظروں سے گرد جھاڑ جھاڑ کر کمرے کا جائزہ لینے لگے ۔ الماری کے اوپر پپّو کے کھلونے ۔ الماری میں ۔ انہوں نے الماری کھولی نجمہ کے کچھ پرانے کپڑے ننھے پپّو کے کچھ جوڑے ، کچھ پرانی شیشیاں جس میں جانے کب کی دوائیں بھری تھیں۔ ایک ڈبے میں بیسیوں طرح کی ٹیبلٹس ۔ (خدا پپو کو ہمیشہ صحت مند رکھے ۔ ان کے دل نے دعا مانگی)۔ پھر وہ طاہرہ کے کمرے کی طرف مڑ گۓ۔ جو تقریباً خالی تھا۔ صرف ایک کونے میں کچھ بستر رکھے تھے ۔ دیوار کے ایک کونے میں لگے چوبی سنگھار دان کے گندے شیشے میں کوئی عکس نہیں تھا اور ایک ٹوٹی ہوئی کنگھی سنگھار دان سے گرا ہی چاہتی تھی ۔ عارف میاں پھر نجمہ کے کمرے میں آۓ اور دروازے کے سہارے لگ کر کھڑے ہو گئے ۔ افوہ ۔ کتنی تکلیف وہ خاموشی ہے ۔ انہوں نے پھر سوچا ۔ اور ابھی پرسوں ہی ۔۔ پرسوں رات کو جب وہ اشفاق کے ساتھ 23 ڈاؤن جنتا ایکسپریس میں دہلی آ رہے تھے تو ان کے ذہن میں کتنی اپ اور ڈاؤن ٹرینیں چل رہی تھیں۔ کئی انجن خواہ مخواہ شنٹنگ کر رہے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرین ایک جھٹکے سے کسی سٹیشن پر رکی۔ اوپر کی برتھ پر لیٹے ہوۓ اشفاق کی آنکھ کھل گئی ۔ ’’ کون سا سٹیشن ہے ۔ ‘‘ اس
نے پوچھا۔ ‘‘ ابھی سفر شروع ہوۓ دیر ہی کتنی ہوئی ہے جو تم یہ پوچھنے لگے ۔ تمہاری آنکھ لگ گئی نا اس لیے پتہ نہیں چلا ہو گا۔ غالباً مہد پور ہے مگر اس طرف پلیٹ فارم نہیں آیا ہے ۔ دوسری طرف ہے ۔ ‘‘ عارف میاں نے طویل جواب دے کر کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ ٹرین پلیٹ فارم سے کافی آگے آ گئی تھی کیوں کہ یہ بوگی انجن سے بالکل ملحقہ تھی۔ ’’ تم سو جاؤ اشفاق ‘‘ انہوں نے پیار سے کہا۔ ’’ ابھی دلّی دور ہے ۔‘‘ اشفاق نے آنکھیں مصنوعی طور پر بند کر لیں۔ ٹرین پھر کھسکنے لگی۔ اور پھر تیز دوڑنے لگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی لمحے ، کئی یادیں، جیسے فریاد کرتے ہوۓ دوڑنے لگے ۔ ’’ہمیں کہاں چھوڑے جا رہے ہو عارف میاں۔ ہمیں بھی لے چلو ساتھ میں ‘‘ اور عارف میاں نے ایک ایک کر کے ہر لمحے کو گود میں اٹھا کر چلتی ٹرین میں سوار کرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اماں مجھے نوکری مل گئی ۔ وہ جو اس دن ٹیچر شپ کے لیے انٹرویو دیا تھا نا ۔۔۔۔۔‘‘
’’چلو میرے دکھ کے دن کٹ گئے ‘‘ ۔ اماں نے عارف میاں کو دعا دینے کی بجاۓ براہ راست خدا کا شکر ادا کیا ۔ پھر عارف میاں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔ ’’ طاہرہ کو خوش خبری دے دی‘‘؟۔
’’جی ہاں۔ امّاں ‘‘ عارف میاں بولے ۔ ’’ تو جا کر زاہدہ بی کو بھی خبر سنا دو وہ بھی سچ مچ خوش ہوں گی۔‘‘
پھر عارف میاں تقریباً دوڑتے ہوۓ پڑوس کے گھر میں پہنچے ۔ ’’ خالہ جان ‘‘ انہوں نے دروازے پر آواز لگائی ۔ مگر جواب کا انتظار کیے بغیر اندر گھس گئے ۔ ’’ خالہ جان ۔ میں انٹرویو میں کامیاب ہو گیا۔ مجھے ملازمت مل گئی ‘‘۔ وہ سیدھے باورچی خانے میں گھس گۓ تھے ۔ زاہدہ بی نے کھونٹی سے دوپٹہ اتارا اور جلدی سے گلے میں ڈال کر عارف میاں کو لپٹا لیا ۔ اور بلائیں لے ڈالیں۔
’’اور ہاں خالہ جان ۔ معاف کیجیے گا۔ میں اچانک سیدھا یہاں چلا آیا‘‘۔۔۔۔
’’کوئی تم غیر ہو عارف میاں ۔ جاؤ جا کر نجو کو بھی یہ خبر سنا دو۔۔۔۔‘‘
’’کہاں ہیں نجّو‘‘
ادھر بڑے کمرے میں ہی ہوگی۔ کچھ سی رہی تھی‘‘۔
وہ باورچی خانے سے نکل کر آنگن میں آۓ اور دالان کے پار بڑے کمرے کے دروازے میں ہی نجمہ کی جھلک پا کر بولے ۔
’’نجّو ۔۔۔ مجھے نوکری مل گئی۔۔۔۔‘‘
’’ مبارک ہو عارف بھیّا ۔۔ مٹھائی کھلائیے ‘‘۔۔ وہ دالان میں چلی آئی۔
’’مٹھائی تو میں کھلاؤں گا ۔ مگر تنخواہ ملنے کے بعد‘‘۔
’’ ابھی فوراً مٹھائی کھلانے کا میں نے تھوڑا ہی کہا تھا ۔ پہلی تنخواہ پر ‘‘۔۔۔ نجمہ بولی۔ ’’ابھی تو خالہ جان آپ لوگوں کو میرا منہ میٹھا کرانا چاہیے ۔‘‘ زاہدہ بی بھی دالان میں چلی آئی تھیں اور عارف میاں ان کی طرف مڑ کر بولتے ہوۓ نجمہ کو وہاں سے غائب ہوتے نہ دیکھ سکے ۔
’’ہاں اور کیا ۔۔۔‘‘ زاہدہ بی نے عارف میاں کی طرف داری کی اور صحن کے ہینڈ پمپ پر جا کر ہاتھ دھونے لگیں ۔ ایک لمحے کو عارف میاں اکیلے رہ گۓ ۔ مگر دوسرے ہی لمحے نجمہ چلی آئی۔ ’’لیجیے عارف بھیّا ۔۔ رات ایک جگہ میلاد تھا ۔ فی الحال اس کے حصے سے ہی منہ میٹھا کر لیجیے ۔‘‘ اس نے عارف میاں کی طرف ایک لڈو بڑھا دیا۔ ایک لڈو دیکھ کر عارف میاں نے کچھ سوچا ۔ پھر دوبارہ باورچی خانے میں جا پہنچنے والی زاہدہ بی سے مخاطب ہوۓ ’’خالہ جان لڈو میں اکیلے نہیں کھاؤں گا‘‘۔
’’میرے منہ میں پان ہے ۔ تم دونوں بھائی بہن کھالو‘‘۔ زاہدہ بی نے کہا اور بُھنتے ہوۓ مسالے میں سبزی ڈال کر فضا میں ایک چھٹاکے کی آواز پیدا کردی ۔ عارف میاں نے آدھا لڈو نجمہ کی طرف بڑھا دیا ۔ ’’لو بھئی ۔ ہم بھائی بہن کھا لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’عارف بھیّا اب بھابھی لے آئیں گے گھر میں ‘‘ نجمہ بولی۔ ’’عارف میاں زاہدہ بی اور نجمہ بڑے کمرے میں فرش پر بیٹھے تھے ۔
’’نہیں بھئی بھابھی کہاں ۔ ابھی بہنوئی ڈھونڈھنا ہے ۔ ’‘
’’کچھ سلسلہ ہوا طاہرہ کا‘‘؟ ۔ زاہدہ بی نے پوچھا ۔ حالانکہ ان کو بھی یقین تھا کہ کچھ سلسلہ ہونے پر سب سے پہلے ان کو ہی بتایا جاتا۔
’’نہیں خالہ جان ۔ یہی تو مصیبت ہے ‘‘۔
’’اوئی ۔ مصیبت کیوں ہوئی۔ خدا نے چاہا تو جلد ہی اپنے گھر کی ہو جاۓ گی۔ طاہرہ بھی۔ حمیدہ بی کا ایک بوجھ تو تمہاری ملازمت کی وجہ سے کم ہو ہی گیا ۔ ایک یہ فکر بھی دور ہو جاۓ گی۔ دعا کرو کہ نجمہ کے بھی ہاتھ پیلے ہو ہی جائیں۔ ‘‘
’’پوسٹ مین‘‘ دروازے پر آواز آئی ۔ یہ نجمہ کے والد کی پنشن کا منی آرڈر تھا۔
پھر ایک صبح حمیدہ بی اٹھیں تو انہوں نے طاہرہ کو بلایا۔
’’بیٹی میرا دل کچھ گھبرا رہا ہے ‘‘۔
’’کیوں امّاں ‘‘۔۔
’’پتہ نہیں کیوں ۔ سینے میں درد ہو رہا ہے ‘‘۔
’’ٹھہرئیے اماں ۔ میں سنکائی کر دوں ۔ کسی کو بلا لاؤں ۔ پڑوس میں جو نئے لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔ ہاں ۔ سنکائی کردو ۔ چولہا جلاؤ ۔ اور بھائی کو ناشتہ کرا دو ۔ عارف میاں اٹھ گئے ۔؟‘‘ حمیدہ بی نے پوچھا ۔ اور پھر یہ سوچا کہ ان کی عرصے کی سنگی ساتھی زاہدہ بی مہنگائی کی وجہ سے پڑوس کا مکان فروخت کر کے چھوٹے سے کسی مکان میں کرائے سے رہنے کے لیے چلی گئیں ۔ اور ان کو اکیلا چھوڑ گئیں۔۔۔۔
طاہرہ نے دروازے سے جھانکا ۔ عارف میاں منہ دھو رہے تھے ۔ طاہرہ نے باورچی خانے میں چولہا جلایا ۔ اور چاۓ اور سینک کے لیے ایک ساتھ پانی چڑھا کر جیسے ہی لوٹ کر آئی حمیدہ بی اب اس فکر سے آزاد ہو چکی تھیں کہ طاہرہ بائیسویں سال میں قدم رکھ رہی ہے ۔ اس سے کیا، وہ ہر فکر سے آزاد ہو چکی تھیں۔ مگر عارف میاں نے خود کو پھر بھی تنہا محسوس نہیں کیا تھا۔ اسکول سے آتے جاتے وقت وہ ہمیشہ کافی کافی دیر کے لیے زاہدہ بی اور نجمہ سے باتیں کرتے رہتے تھے ۔ ان کا اسکول بھی تو زاہدہ بی کے نئے گھر کے پاس ہی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اتنی دیر کہاں لگا دیتے ہیں بھائی جان۔ اسکول سے سیدھے گھر نہیں آتے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ہاں۔ خالہ جان کے یہاں دیر ہو گئی ‘‘۔۔ عارف میاں کو سچ بولنے میں بھلا کیا خطرہ تھا۔
’’بھائی جان ۔ میری کہنے کی جگہ تو نہیں ہے ، مگر ایک بات کہوں؟‘‘
’’کہو ۔‘‘ عارف میاں قریب آ گۓ۔
’’ وہ عابدہ خالہ آئی تھیں آج ۔ کہہ رہی تھیں ……… ‘‘
’’ہاں ہاں ۔ بتاؤ نا ۔ کیا کہہ رہی تھیں ۔۔‘‘ عارف میاں تعجب اور اضطراب کا ایک ساتھ شکار ہو اٹھے ۔
’’کہہ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ کہہ رہی تھیں کہ عارف میاں اور نجمہ ……… ‘‘
’’کیا۔۔۔۔۔۔؟‘‘ ان کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
’’وہ کہہ رہی تھیں کہ زاہدہ بی سے کہہ کر دونوں شادی کیوں نہیں کر لیتے ۔۔۔‘‘
عارف میاں چکرا گئے ۔ نجمہ ۔۔۔ بہت اچھی لڑکی ہے ۔ مگر اسے اس نظر سے تو ۔۔۔۔ یہ ضرور ہے کہ وہ بناۓ ہوۓ رشتے کے مطابق اس کی والدہ کو خالہ جان کہتے تھے ۔اور اس رشتے سے نجمہ کو خالہ زاد بہن ۔۔۔ خالہ زاد بہن سے شادی ضرور ممکن ہے مگر نجمہ کے ساتھ شادی ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ انہیں ضرور کچھ کرنا پڑے گا۔ اور پھر اگلی بار جب عارف میاں اس گھر میں گئے اور معمول کے مطابق ، خالہ جان کو آواز دی تو دالان میں نجمہ نظر آئی۔ مگر وہ نجمہ کا سامنا نہ کر سکے ۔ باورچی خانے کی طرف رخ کر کے بولے ۔ ’’ خالہ جان ۔ کوئی چیز منگانی ہو تو بتا دیجئے ۔ میں لیتا آؤں گا ‘‘ اور تھوڑی دیر بعد سیر بھر چاول سیر بھر چاول کی گردان کرتے ہوۓ لوٹ گئے ۔
جب شام کو وہ اسکول سے بازار ہوتے ہوۓ اور چاول لیتے ہوۓ لوٹ کر آۓ تو جیسے وہ ایک فیصلہ کر چکے تھے ۔
’’میں تم کو آج سے نجمہ نہیں ۔ نجو کہوں گا۔ آج سے میں نے تم کو باقاعدہ اپنی حقیقی بہن بنا لیا ہے ۔ ‘‘
’’تو کب نہیں تھی تمہاری بہن عارف میاں۔۔۔‘‘ زاہدہ بی جو لمحہ بھر پہلے سناٹے ہیں آ گئی تھیں ، سنبھل کر بولیں۔
’’نہیں خالہ جان ۔۔ بلکہ خالہ جان کیوں۔ آپ کو بھی میں اب امی کہا کروں گا۔ اماں کے بعد ایک آپ ہی تو ایسی ہستی ہیں۔ اور میری بہن طاہرہ کی طرح ایک اور بہن مجھے مل گئی ہے ۔۔۔۔ نجو ۔۔۔‘‘
’’ تو میں بھی آپ کو صرف بھیّا کہا کروں گی۔ عارف بھیّا نہیں۔‘‘
’’ ہاں بھئی اب تم ہی تو ہو اس کے بھّیا ۔ اس کا بھّیا تو ایک ہی تھا۔ جیسے اس کے ہی غیر قوم کے ساتھیوں نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ زاہدہ بی کے ذہن پر سن سینتالیس کی آندھیاں چلنے لگیں ۔۔۔ ’’خیر۔۔۔۔۔ اب تمہارے ہاتھوں ہی نجو کی شادی ہونی ہے ۔‘‘اور پھر وہ نجمہ کو ہٹ جانے کا اشارہ کر کے سرگوشیوں میں کہنے لگیں۔۔‘‘ ایک جگہ کا رشتہ تو آیا ہے ۔ لڑکے والے جلدی میں جواب مانگ رہے ہیں۔ اکیلا لڑکا ہے ۔ بنک میں کلرک ہے اس کے کسی دوست کی مان بات چلا رہی ہے ۔ نام اشفاق ہے ۔ رتلام میں ہے ۔ ‘‘
عارف میاں اشفاق کے بارے میں معلومات کرنے چلے گئے اور کافی مطمئن رہے ۔ اس سلسلے میں اشفاق کے ایک دوست جمیل سے بھی ملاقات کی جو کہ عارف میاں سے بھی واقف تھا اور عارف میان بھی جمیل کو جانتے تھے ۔ اور جب جمیل کو پتہ چلا کہ عارف میاں اور نجمہ میں منہ بولا بھائی بہن کا رشتہ ہے تو بڑی بے تکلفی سے عارف میاں سے بولا۔۔۔۔
جناب یہ نرالی بات دیکھی ۔ عام طور پر لوگ بدصورت لڑکیوں کو بہن بناتے ہیں اور ان کی خوبصورت سہیلیوں سے عشق لڑاتے ہیں۔ یہ آپ نے کیا کیا کہ ایسی پیاری چیز ۔۔۔‘‘ اور عارف میاں اس کے آگے کچھ نہ سن سکے ۔ ان دنوں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جب وہ نجمہ اور زاہدہ بی کے گھر سے نکلتے تھے تو ساتھ خیر الدین درزی سڑک کی طرف لکڑی کی بنچ پر بیٹھے ہوۓ اپنے گاہکوں یا دوستوں سے اس کی طرف اشارہ کر کے مسکراتا تھا اور کبھی پڑوس کے عبداللہ پان والے کو آواز لگا تا تھا۔ ’’ بھائی ۔۔۔ بہتی گنگا ہے ۔ ۔۔۔ ہمارے سامنے بہہ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اور عارف میاں دل ہی دل میں کھول اٹھتے ۔ اور پھر ایک دن طاہرہ بھی کہہ بیٹھی تھی۔۔۔
’’بھائی جان۔۔۔ جتنی باتیں آپ مجھ سے کرتے ہیں ، شاید اس سے زیادہ تو نجمہ سے کر لیتے ہوں گے ۔‘‘
’’ارے پاگل ۔۔ کیا تو میری بہن نہیں ہے ۔ ‘‘
’’بہن ہوں تو کیا ہوا۔۔۔۔ بنائی ہوئی تو نہیں ہوں۔۔۔۔‘‘ میرا تجربہ تو نہیں ہے ۔ پتہ نہیں یہ بنائی ہوئی بہن کیسی ہوتی ہے ۔ ‘‘ وہ طنز سے مسکراتی
اور اسی شام کو گھر لوٹتے ہوۓ انہیں باہر سے ہی گھر کے اندر کی آوازیں آئیں۔۔۔
’’عارف میاں نہیں آۓ ابھی۔۔۔۔‘‘ یہ عابدہ خالہ کی آواز تھی۔۔۔
’’بیٹھے ہوۓ ہوں گے وہی اپنی منہ بولی چہیتی بہن کے پاس۔۔۔‘‘ لہجے کی حقارت اور اس میں چھپا طنز بارش کی دھوپ کی طرح صاف اور تیز تھا۔ وہ گھر میں داخل ہوۓ بغیر موڑ کے پاس دُکان سے پہلی بار بازار کا پان لے کر چبانے لگے ۔
آخر نجمہ اور اشفاق کی شادی ہو گئی اور وہ دونوں رتلام میں جا کر رہنے لگے ۔ جہاں اشفاق نوکر تھا۔ اور عارف میاں ضد کر کے زاہدہ بی کو اپنے گھر ہی لے آۓ ۔ ’’امی آپ اکیلی کیا کریں گی اس گھر میں رہ کر ‘‘ ۔ عارف میاں نے کہا تھا اور پھر اسکول کے اوقات کے علاوہ وہ دن بھر گھر میں ہی رہتے ۔ ’’امی ۔۔۔ میرے کرتے میں بٹن ٹانک دیجیے گا۔ امی یہ پاجامہ دھوبی کو دے دیجیے ۔ امی یہ کر دیجیے ۔۔ امی وہ کر دیجیے ۔ ۔۔۔ مگر طاہرہ زاہدہ بی کو ہمیشہ خالہ جان ہی کہتی رہی۔ یہاں تک کہ زاہدہ بی نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔
شادی کے پہلے سال میں ہی نجمہ کئی بار اسی گھر میں آتی ۔ اور عارف میاں اپنی اس بہن کی خاطریں کرتے رہے ۔ اور پھر ننھا پپو پیدا ہوا۔ اور نجمہ نے اسے ماموں کہلانا سکھایا تو اس کے ننھے منے سے منہ سے ’ماموں ‘ سن کر وہ بہت خوش ہوتے ۔ اشفاق کو فرصت ذرا کم ملتی تھی اور پھر کبھی کبھی دوروں پر بھی جانا پڑتا تھا ۔ پپو کی پیدائش کے وقت بھی وہ موجود نہیں تھا اور عارف میاں نے ہی رتلام جا کر ننھے پپو کے کان میں اذان دی تھی۔
’’ماموں ۔ ماموں ۔ ماموں سے پوچھو ۔۔ مومانی کہاں ہے ۔ ‘‘
’’شیطان ‘ جانے انہوں نے پپو سے کہا تھا یا نجمہ سے تھا۔ ‘‘ سچ بھّیا ۔۔ایک پیاری سی بھابھی ڈھونڈھوں۔ بلکہ سمجھیے ڈھونڈھ رکھی ہے ۔ بس آپ کی اجازت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
نہیں نجو۔ ابھی نہیں۔ ‘‘ وہ ہمیشہ ٹال جاتے ۔ طاہرہ کی شادی سے پہلے وہ اپنی شادی کیسے کر لیتے ؟ مگر طاہرہ کے لیے کوئی رشتہ جُڑتا ہی نہ تھا۔ ان کے پاس لڑکے کو دینے کے لیے نہ اسکوٹر تھی نہ کار ۔ انہوں نے خود بھی اب جا کر ایک سکینڈ ہینڈ سائیکل خریدی تھی جس کی ’چوں چوں ‘ کی آواز کی وجہ سے اسکول کے بچے انہیں ان کی پیٹھ پیچھے ’چوں چوں ماسٹر ‘ کہنے لگے تھے ۔ اگر کوئی لڑکا کچھ نہ مانگتا تو بعد میں پتہ چلتا کہ بد قماش اور آوارہ ہے ۔ اور کہیں کسی جگہ کوئی اس کی غیر منکوحہ بیوی موجود ہے ۔ اس کے نصیب میں جیسے کوئی اشفاق نہیں تھا۔ اور طاہرہ ایسی بھی پوچھ نہیں تھی کہ کسی ایرے غیرے کے پلّے باندھ دی جاتی۔ عارف میاں اکثر سوچتے کہ کسی سرداری دفتر میں نوکری کر لیں۔ جہاں ’اوپر‘ کی آمدنی کے بھی وسیع امکانات ہوں ۔ مگر انہوں نے شرمندگی سے ایسے بے ایمانی کے خیالات کو ہمیشہ جھٹک دیا۔ اور پھر اک دن اخبار میں دہلی کے ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی جگہ دیکھ کر انہوں نے درخواست دے دی تھی اور اپنے تجربے کی بنا پر منتخب بھی ہو گئے تھے ۔ اور پھر اپنے آبائی قصبے جاؤرہ سے نکل کر وہ دہلی کے وسیع و عریض شہر میں آ گئے تھے ۔
’’دہلی کب آۓ گا۔ ۔۔۔‘‘ اشفاق نیند پوری کر کے اوپر سے نیچے والی برتھ پر آ بیٹھا اور آنکھیں ملنے لگا۔
’’ابھی سوائی مادھو پور گزرا ہے ۔ کوئی چار گھنٹے بعد۔ ‘‘ عارف میاں نے جواب دیا ۔ ٹرین اب بھی تیزی سے چلی جا رہی تھی۔ چھک چھک چھک۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’ٹرن ٹرن‘ یہ پوسٹ میں کی گھنٹی کی آواز تھی۔ عارف میاں دروازے کی طرف بڑھے اور نجو کا خط کھول کر پڑھنے لگے ۔
’’نجمہ کا خط ہے کیا۔ ’’ طاہرہ باورچی خانے سے چلائی۔ ’’ ہاں ہاں‘‘ عارف میاں کو لگا کہ انہوں نے ایسا جواب دیا مگر در اصل منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا تھا۔ نجمہ نے لکھا تھا کہ اشفاق کسی کو قتل کر دینے کی کوشش کے جرم میں تین سال جیل چلے گئے ہیں۔۔۔‘‘
عارف میاں رتلام جا کر نجمہ اور پپّو کو دہلی لے آۓ تھے ۔ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ اشفاق جیسا شریف آدمی جیل جا سکتا تھا مگر نجمہ نے لکھا تھا ’’ میں ملنے پر سب کچھ بتا دوں گی۔ اپنے بھیّا سے جھوٹ بول ہی نہیں سکتی۔ ‘‘ اور دہلی آ کر نجمہ نے بتایا تھا۔ ’’ بھیّا ۔۔ ایک دن میں گھر میں نہا رہی تھی۔ مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ اور ان کے ایک دوست جاوید آ کر بیٹھ گئے ہیں ۔ میں نے نہا کر کپڑے بدلے ۔ اور بغیر ۔۔۔۔۔۔‘‘ نجمہ رکی تھی ۔ پھر رک کر بولی تھی ۔ بغیر دوپٹے کے ہی باہر نکل آئی ۔ اور تب کمرے میں ان لوگوں کو دیکھ کر بھاگی۔ اور وہ جاوید ۔ بس بھیّا ۔ بتا نہیں سکتی کہ کیسے دیکھ رہا تھا۔‘‘ بعد میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ انہوں نے غسل خانے کے دروازے کے پاس آکر مجھ سے کہہ رہا تھا کہ باہر کے کمرے کی طرف نہ آنا۔ مگر میں نہ جانے کیوں سن ہی نہیں سکی۔ ان سے میں نے معافی مانگی تو وہ بولے کہ مجھے یقین ہے کہ تم نے میری بات سنی نہ ہوگی اور مجھے تم پر اپنے سے زیادہ بھروسہ ہے ۔ میں بھٹک سکتا ہوں مگر تم نہیں ۔۔۔‘‘ تب مجھے اطمینان ہو گیا تھا۔ پھر وہ اور جاوید باہر والے کمرے میں ہی سوۓ تھے اور میں دالان میں سو رہی تھی کہ میری آنکھ کھل گئی ۔ پتہ چلا کہ وہ خون میں تر بتر کھڑے ہیں ۔ میں و ایک دم گھبرا گئی ۔ وہ بولے ۔
’’وہ سوّر تمہاری مچھر دانی اٹھا کر تم کو دیکھ رہا تھا۔ اچھا ہوا کہ میں جاگ رہا تھا ۔ کم بخت مر نہیں پایا ۔ ‘‘ میں نے ڈر کر پوچھا ’’کون ؟‘‘ تو پتہ چلا کہ ان کا وہی دوست جاوید۔۔۔ باورچی خانے کے چاقو سے صرف اس کا سینہ زخمی ہو سکا تھا۔
عارف میاں کا خون کھول اٹھا تھا۔ ایک لمحے کو ان کا جی چاہا کہ وہ ابھی جاوید کا مکمل قتل کر آؔئیں ۔مگر ان میں اتنی ہمت کہاں تھی۔ مگر ہوتی تو اس دن جمیل کو تھپڑ ہی نہ مار دیتے ۔
پھر نجمہ بولی ۔’’نجو ۔۔ تم نے مجھے اسی وقت لکھ کیوں نہ دیا۔ تار کیوں نہ دے دیا۔ ورنہ کچھ کوشش کی جاتی ۔ مقدمے کا ابھی مکمل فیصلہ تو ہوا نہیں ہوگا۔ ‘‘
’’ نہیں بھیا۔۔۔ فیصلے کے بعد ہی تو جیل میں گئے ہیں۔ وہ جمیل کسی پولس سپرنٹنڈنٹ کا بھانجا بھی ہے ۔ اور کسی مجسٹریٹ کا سالہ بھی اور مقدمے کی بات انہوں نے ہی چھپائی تھی۔ پہلے دن حوالات میں ہی کہنے لگے کہ وہ ایک آدھ ہفتے میں ہی چھوٹ جائیں گے ۔ مگر ۔۔۔ خیر ۔ جو ہونا تھا ہو ہی گیا۔۔۔‘‘ اور پھر نجمہ اور پپو کو عارف میاں نے دہلی میں ہی اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔
پھر ایک دن اشفاق کا رجسٹرڈ لفافہ آیا ۔ جس میں عارف میاں کے نام خط تھا۔ ۔۔۔ ’’ بھیّا ۔ میں بہت شرمندہ ہوں ۔ میں نہیں چاہتا کہ پپو کے سر پر الزام لگے کہ اس کا باپ جیل میں سزا بھگت چکا ہے ۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ نجمہ کو طلاق ۔۔۔۔‘‘ اور وہ نجمہ کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ اس رات طاہرہ نے تنہا ہی کھانا کھایا تھا۔
’’اتنی عمر تم تنہا کس طرح کاٹو گی۔‘‘ عارف میاں جیسے دل پر جبر کر کے بولے ۔ ’اشفاق کی حماقت ہے ۔ یہ سب میں رتلام جا کر اس سے مل کر اسے سمجھاؤں گا کہ وہ کیا بیوقوفی کرتے جا رہا ہے ۔ یا تم کہو تو میں یہ قبول کر لوں اور تمہارے لیے کوئی دوسرا۔ ‘‘
’’ نہیں نہیں بھیّا ۔۔۔‘‘ نجمہ چیخی ۔ پھر سر جھکا کر شرم سے بولی ’’ وہ یا کوئی نہیں ۔۔۔‘‘ ’’اپنی نجو کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ دلہن بناؤں گا ۔ اور پھر اشفاق کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ دے دوں گا ۔ اور تجھے دلہن کی طرح ڈولی میں بٹھا کر رخصت کروں گا۔ بس تین سال اور ۔ بس دو سال اور ۔ ۔۔ بس سال بھر اور۔۔۔۔
اور ادھر دو سال میں ہی انہوں نے بہتر ملازمت اور کفایت شعاری سے خرچ کی بنا پر طاہر ہ کی شادی کے لائق رقم پس انداز کر لی تھی۔ اور ابھی چھ ماہ پہلے وہ طاہرہ کو رخصت کرتے ہوۓ کہہ رہے تھے ۔ ۔۔ ‘‘طاہرہ۔ میں نے تمہیں ہمیشہ ہی سمجھایا ہے ۔آج پھر یہ کہہ دوں کہ ایسا نہیں ہے کہ مجھے تم سے محبت نہ رہی ہو۔ تم بہر حال میری بہن تھی اور ہو۔ ایک بہن کا میں نے اضافہ کر لیا تو کیا تم بہن نہیں رہ گئیں ۔۔۔ اب دیکھو ۔۔ میں کتنا اکیلا ہوں۔ اور پھر نجو بھی چلی جاۓ گی ۔۔۔ تم سب مجھے چھوڑ جاتی ہو۔۔۔ ‘‘ اور انہوں نے ڈولی کے پردے سے ہی آنسو پونچھ لیے تھے ۔ اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب اشفاق جیل سے رہا ہوا اور باہر عارف میاں موجود تھے ۔
’’ہاں ۔ اور میں ہی نہیں ۔۔۔ نجمہ اور پپو بھی دہلی میں تمہارے منتظر ہیں۔
اور 23 ڈاؤن جنتا ایکسپریس دہلی پہنچ چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افوہ کتنی اذیت ناک خاموشی ہے ۔ عارف میاں نے شاید پچیسویں بار سوچا ۔ نجو کے کمرے کے دروازے سے لگے ہوۓ ان کو صدیاں گزر گئیں۔ جھُجھو جھونٹے ۔۔ ماموں موٹے ۔ ‘‘ کمرے کے کسی کونے سے ان کو آواز آتی۔ انہوں نے چونک کر دیکھا ۔ ہوا سے پپو کا پرانا پالنا ہل کر چارپائی سے ٹکرا گیا تھا۔ اچانک عارف میاں نے پپو کی ریل گاڑی اٹھائی ۔ اس کی پٹریاں زمین پر بچھائیں اور چابی دے کر چھوڑ دی ۔ اب وہ تیزی سے گول چکر کھائے جا رہی تھی۔