تحریر: حافظ مظفر محسن

”جھگی میں بیٹھا فقیر اور جرمن گیت کا ترجمہ“ طنزومزاح

”آو¿ مایوس ہونا سیکھیں“ ؟ میں نے شہر کے سب سے بڑے پبلیشر گل فراز احمدسے کہا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ بڑھ گئی۔۔۔ حافظ صاحب خیر تو ہے۔۔۔ صبح سویرے۔۔۔لگتا ہے بجلی کے ساتھ ساتھ پانی بھی بند تھا۔۔شاید آپ نے صبح اٹھ کر منہ نہیں دھویا۔۔۔
”مایوس ہوں ہمارے دشمن“ ؟
فراز بھائی یہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔دشمنوں نے سن لیا تو وہ ”بلیک واٹر“ کے ساتھ ساتھ”کریک ڈاٹر“بھی بھیج دیں گے کیونکہ 007 کی ہر فلم میں انہوں نے ہمیشہ جہاں وار کرنا ہو اپنے ہیرو کے ساتھ ایک نہایت حسین و جمیل ہیروئین بھی ڈال دیتے ہیں۔ اور اسے بھی ہمیشہ انہوں نے خوب چالباز ثابت کیا۔ دھن دھنا دھن۔۔ سنا ہے 007فلموں میں کامیابی کی وجہ ہمیشہ ”کریک ڈاٹر“ یعنی ہیروئین ہی تھی۔۔؟! اس کا مطلب ہے ان کے ہاں قوموں پر قابض ہونا۔باقاعدہ ایک subject(مضمون) ہے؟ فراز نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا پھر گویا ہوئے۔۔۔ہاں۔۔۔مظفر میں کم کم فلمیں دیکھتا ہوںواقعی ”دی سپائی ہولوڈ می“ اور”مون ریکر“ میں ہیرو سے زیادہ طاقت ور ہیروئین تھی لیکن ہمارے ہاں بھی تو لیلیٰ خالد وغیرو گزری ہیں جنہوں نے جہاز تک اغواءکئے اور حال ہی میں جی۔ایچ۔کیو پر حملہ کرنے والا (ماسٹر مائنڈ) عقیل عرف ڈاکٹر عثمان بھی تو بتا چکا ہے کہ تین خواتین ہیں صوابی میں جو بارود سے گاڑیاں بھرتی ہیں خود کش حملوں کے لئے۔۔۔لاہور میں اک ساتھ تین تازہ حملوں میں خواتین بھی شریک ہیں اور باقاعدہ انہوں نے بھی اس واردات میں حصہ لیا۔یہ خبر کہاں تک سچ ہے یہ کچھ دن تک واضح ہو جائے گا۔
”السلام علیکم“ گرجدار آواز آئی۔۔۔ استاد کمر کمانی کی آمد ہو چکی تھی۔۔”میاں یہ تمہارے لکشمی چوک میں سب سے زیادہ کیا ملتا ہے۔۔۔”اڑتی ہوئی گرد“ گل فراز احمد بولے۔۔۔مظفر تم بتاو¿۔۔”ککڑ بٹیرے۔۔لٹیرے۔۔سب ہنس دیئے۔۔ککڑ بٹیرے رہنے دیں۔۔۔”لٹیرے“ کافی ہیں۔۔گل فراز احمد بولے۔ایک کلو کڑاہی گوشت منگواو¿ نکلے گا آدھا کلو پیسے پورے۔ ٹپ نہ دو تو ویٹرآپ کو خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا رخصت کرے گا۔دعا کریں وہ دھکا نہ دے۔
میاں تم دونوں جس اینگل سے بات کر رہے ہو وہ غیر سنجیدہ بات ہے کیونکہ اوپر سے نیچے تک اب لٹیرے تو ملیں گے آپ کو اور اپنے اپنے گریبانوں میںبھی منہ ڈال لو۔۔ استاد کمر کمانی نے اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔ کبھی سوئی گیس کے دفتر گئے ہو۔۔۔؟ ”نہیں“ تو پھر جاو¿۔۔۔تمہیں اس اہم ترین لفظ کی جیتی جاگتی تصویریں مل جائیں گی۔۔۔اس عوامی دور میں بھی وہاں چولہا بجھانے والے ملیں گے۔۔چولہا جلانے والے نہیں۔۔۔ایک دن کا کام اگر محکمہ سوئی گیس سے تین ماہ سے پہلے کروا دو تو میں اپنا نام استاد کمر کمانی کی بجائے۔۔”استادجھوٹی کہانی“ رکھ لوں گا۔۔۔میں نے استاد کا نیا نام تجویز کر دیا۔۔۔ویسے استاد کمر کمانی دوسروں کے نام رکھنے میں خاصہ ماہر ہے جس نے اگر وضاحت کر دی تو یہ مضمون سنسر ہو جائے گا۔
سنو۔۔۔لکشمی چوک میں پندرہ منٹ بارش ہو تو دو دو فٹ پانی جمع ہو جاتا ہے۔نہ لکشمی ملتی نہ چوک کا کچھ پتہ چلتا ہے خشکی ہو یعنی سورج نکلے تو بیس پچیس فقیر،فقیرنی وہاں قبضہ کر لیتے ہیں۔۔۔چھا جاتے ہیں۔۔ گویادندناتے پھرتے ہیں۔۔۔اپنے کلائنٹ کو ڈراتے دھمکاتے پھرتے ہیں اپنی اداو¿ں سے، گنہگار نگاہوں سے ۔۔ساتھ رکھی بلاو¿ں سے ۔۔۔مجھے استادکمر کمانی کی بات قابل توجہ لگی۔۔۔پچھلی شام میں نے اک فقیرنی کو لکشمی چوک میں دیکھا۔۔۔ وہ اک کمزور جان فقیرنی کو دھکا دے کر میرے پاس آ کرکھڑی ہو گئی ۔۔”اوئے تم تو پہلے گڑھی شاہو چوک میں مانگتی تھی۔۔۔“؟ ہاں وے باو¿ تم نے ٹھیک پہچانا۔۔میری بدلی (ٹرانسفر) ہو گئی ہے۔۔یہاں زیادہ شاہ خرچ آتے ہیں۔کھابے کھاتے ہیں۔ مونچھیں صاف کرتے ہوئے موڈ میں ہوتے ہیں اور جو فقیر سامنے آ جائے اس کو اچھی خاصی ”موج“ کروا دیتے ہیں۔۔۔جو پیچھے رہ جائیں اور کھا کر جانے والوں کی گاڑیوں کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں۔ وہ گالیاں کھاتے ہیں اور زناٹے دار تھپڑ بھی کیونکہ کھابہ کھا کر جانے والوں کا زیادہ کھانے کی وجہ سے چلنا دو بھر ہو چکا ہوتا ہے اور دماغ ماو¿ف۔ ویسے بہت زیادہ کھانے سے بندہ سنا ہے پاگل بھی ہو جاتا ہے۔
گذشتہ شام میں نے دیکھا۔۔۔کہ جیسے فقیروں کا لکشمی چوک پر قبضہ ہو گیا ہو۔ بیس سے زیادہ ہر رنگ و نسل کے فقیر۔ گویا فقیروں کا جم غفیر۔۔ تھی جن کی کارکردگی بے نظیر لیکن شکل و صورت سے اکثر اس میں سے لگتے تھے بے حد حقیر۔۔
میں نے غور کیا ان فقیروں میں سے اکثر پوری طرح صحت مند تھے مجھے ان کے قریب کھڑے ٹریفک پولیس کے وارڈن بے حدنحیف لگ رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ اس بے حد صحت مند فقیر کا تعلق اگر طالبان سے ہو تو یہ آرام سے اس بے چارے نہتے پولیس وارڈن کو قابو کر سکتا ہے اور اس کے پاس اس کی کل قیمتی متاع یعنی چالان بک چھین کر وہاں سے اپنی ساتھی فقیروں کی مدد سے جدھر چاہے بھاگ کر جا سکتا ہے ۔ میرادل چاہ رہا ہوتا ہے کہ میں حکومت وقت کی پالیسیوںپر تنقید کروں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حکومت وقت کی مصروفیت پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور عملہ بھی بے حد چاک و چو بند۔۔۔پچھلے دنوں آپ نے اخبارات میں دیکھا ہو گا جب اک عدالت میں چلتے معاملے کو مشہورگلو کارہ حمیرا ارشد نے وزیراعلیٰ پجاب کے حضور پیش کرنے کے لئے وہاں موجود افسران سے رابطہ کیا اور اپنے شوہر کے ساتھ وہاں داخل ہوگئیں۔۔پرانے مغل بادشاہوں کا دور یاد آ گیا۔۔وزیراعلیٰ پنجاب کے اس ذیلی دفتر میں پانی پت کی اٹھارویں لڑائی بغیر ہتھیاروں کے شروع ہو گئی۔۔بے چاری گلوکارہ وہیں کرسی پر ایزی موڈ میں بیٹھی سو گئی۔۔سونے سے پہلے اس نے اپنے شوہر فلمی ہیرو احمد سے درخواست کی کہ میں سو رہی ہوں جب ان سینئر افسران کے درمیان شروع ہونے والی ”پانی پت کی اٹھارویںلڑائی“ ختم ہو تو میں نیند سے بیدار ہو کر اپنا مدعا بیان کر لوں گی اور تھوڑا سا اپنا حصہ اس لڑائی میں ڈال لوں گی یعنی میں بھی ان افسران سے لڑوں گی۔
اور معاملہ طول پکڑ گیا۔۔۔لیکن مسئلہ بہر حال حل ہو گیا لینے کے دینے پڑ گئے۔۔وزیراعلیٰ نے دونوں افسران کو معطل کر دیا اوپر سے عدالت نے دونوں افسران گلوکارہ اور اس کے ”معصوم“ شوہر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے۔ اور پھر ہر طرف ”معافی“۔۔”معافی“۔۔”معافی“۔۔ کا شور مچنے لگا۔حالانکہ چینلزنے خفیہ کیمروں سے اس جھگڑے کی فلم بنائی بھی اور عوامی تفریح کے لئے چینلز پر چلا بھی دی۔لوگ محظوظ بھی ہوئے اور لوگوں نے خوب انجوائے بھی کیا ”ہائے ہائے“بھی کیا ہائے ہائے کیوں کیا یہ میں بتانے سے قاصر ہوں۔
اصل میں لکشمی چوک میں اتنی بڑی تعداد میں فقیر فقیرنیاں دیکھ کر میں بری طرح گھبرا گیا۔۔ ایک چوک میں بیس سے
زیادہ فقیر۔۔۔”اللہ کی پناہ“۔ اتنی بڑی تعداد میں فقیر خود سے جگہ، موقع یا اڈے کا تعین نہیں کر سکتے۔۔یقینا وہاں ان کا رہبر یا ٹھیکیدار یا کہ لیں مالک ضرور کہیں برے ہوٹل میں بیٹھا ہاتھ میں مرغ کی ٹانگ پکڑے سگریٹ سلگائے ان سب ”کارکنوں“ یا کاریگروں کو واچ تو ضرور کر رہا ہو گا میرے اندر خوف کا پہلو بھی نمودار ہوا اگر یہ بیس فقیرہی اسلحہ نکالیں تو وہ پورے چوک کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ٹریفک پولیس کا اک وارڈن وہ بھی نہتا ان کا کیا بگاڑ لے گا۔ میں نے اپنے شہر کے دس سے زیادہ چوکوں میں اتنی اتنی تعداد میں فقیروں کے غول منظم انداز میں اپنی ڈیوٹیاں مستعدی کے ساتھ سر انجام دیتے دیکھے ہیں اک دن میں نے غور کیا ان چوکوں پر قابض فقیروں میں ساٹھ فیصد مکمل صحت مند فقیر ہوتے ہیں جنہیں مانگنے کے لئے محض اپنا منہ بگاڑنا پڑتا ہے اور آواز میں درد پیدا کر نا ہوتا ہے اس کے لئے یقینا انہیں پرانے گلوکارطلعت محمود کی غزلیں سننا پڑیں گی یا اعتبار ساجد کی شاعری پڑھنا پڑے گی۔ ممکن ہے وہ میری اس ہدایت سے پہلے ہی کانوں میں ”واک مین“ کا چھوٹا سے ہیڈ فون لگا کر مہدی حسن اور غلام علی کی درد ناک غزلیں سن رہے ہوں یعنی انجوائے بھی کر رہے ہوں اور مانگ بھی رہے ہوں۔بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے۔
ان ساٹھ فیصد کے بعد بیس فیصد صحت مند عورتیں ہیں جنہیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں ویسے اطلاع ہے کہ ان کے ہٹے کٹے خاوند گھروں میں بیٹھے ٹی وی پر کھیلوں کے چینل کے سہارے جواءکھیل رہے ہوتے ہیں شام کو ڈنڈے کے زور پر اپنی ما نگتی بیویوں سے حساب بھی لیتے ہیں۔۔۔پائی پائی کا ان مانگنے والوں میں دس فیصد وہ ذلیل کمینے مانگنے والے ہیں جنہوں نے خود سے اپنے دودھ پیتے بچوں کے جسموں کو داغدار کیا ہوتا جھلسایا ہوتا ہے یا ان کے بازو پر بڑی سی پٹی باندھ کر زخمی ہونے اور اذیت میں مبتلا ہونے کا ڈھونگ رچایا ہوتا ہے اور پھر شدید گرمی یا سردی میں ان کا ننگا جسم دکھا کر وہ ہمدردیاں حاصل کرکے بچے کے نام پر بھیک مانگتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک فقیروں کی وہ قسم ہے جنہیں ہم ”نوٹوں“ کی مشین کہتے ہیں وہ شخص میرے شہر کے اے گریڈ چوکوں میں کھڑے ہوتے ہیں آپ سمجھتے ہیں ناں اے گریڈ چوکوں میں وہ چوک ہوتے ہیں جہاں بیس بائیس فقیر سائے کی طرح قابض ہوئے ہوتے ہیں۔۔”نوٹوں کی مشین“ نے ایک دودھ پیتا بچہ ایک کندھے پر زخمی حالت میں ڈالا ہوتا ہے دوسرے کندھے پر آگ میں جھلسا ہوا اور اس نے اپنے منہ پر اس قدر خطرناک انداز میں اذیت طاری کی ہوتی ہے کہ پتھر دل انسان بھی موم ہو جاتا ہے۔پھر رنگ برنگے نوٹ سمیٹ سمیٹ کر وہ تھک جاتا ہے اور شام کو بڑی گاڑی اس ذلیل شخص کو دونوں بچوں سمیت اٹھا کر لے جاتی ہے۔وہیں جب میں نے موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور تھوڑا اس فقیروں کی سلطنت کا جائزہ لینے لگا تو ایک وہیل چیئر پر بیٹھا فقیر ایک نشئی قسم کے فقیر کے ساتھ ”بلیوٹرتھ“ کے ذریعے اپنے اپنے موبائل سے پیغامات کا تبادلہ کر رہا تھا۔۔۔میں سمجھ گیا کہ ان دونوں فقیروں نے اسکول کالج کا بھی منہ دیکھا ہوا ہے لیکن دنیا کا سب سے آسان پیشہ سمجھ کر بھیک مانگنے کو بطور پیشہ اور اپنے لئے کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ ایک فقیر نے چند قدم آگے کھرے فقیر کو SMS کیا کہ یہ جاو¿ تھری پیس پہنے خوبصورت نوجوان آ رہا ہے یہ کنگلا ہے اس سے بھیک مانگ کر وقت ضائع نہ کرنا۔ تیری اطلاع غلط ہے مجھے پچھلے چوک میں بیٹھی فقیر نی کی کال آئی ہے کہ اس تھری پیس والے نے اس سے ہزار کا چینج لیا ہے لہذا تو چپ کر اور کام سے کام رکھ۔
مجھے اور تو خوف ہیں لیکن سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ لاہور کراچی، فیصل آباد،راولپنڈی، پشاور جیسے شہروں کے چوکوں میں چھائے فقیروں کے یہ گینگ جو یقینا آپ میں رابطہ میں ہوں گے کہیں کوئی پریشر گروپ نہ یشکیل دے ڈالیں اور الیکشن کے موقع پر کہیں اپنا علیحدہ گروپ بنا کر بری پارٹیوں سے ”بار گینگ“ نہ شروع کر دیں اور ہماری اسمبلیوں میں فقیر گروپ کے علیحدہ سیٹیں مختص ہوں اور بڑہتے بڑہتے ایک آدھ وزیر بھی فقیر گروپ سے لینا پڑ جائے۔
دوسرا خوفناک پہلو یہ کہ چوکوں میں لگے ناکے والے پولیس کے افسران صرف موٹر سائیکلوں کو چیک کرتے ہیں بڑی گاڑیوں کو ٹٹولتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شہروں میں بکھرے لاکھوں بھکاری ہی کسی دہشت گردی میں ملوث ہوں یہ سب پولیس اور انتظامیہ کا کام ہے کہ ان کی فہرست بنائے ان کی فائلیں کھولے تاکہ ایک مکمل ریکارڈ تیار ہو۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ”بہت خوشی کی بات“ ہے کہ وہ سرکاری محکمے جہاں عملے کے ہزاروں افراد بڑی بڑی تنخواہیں لے رہے ہیں جو فقیروں کو پکڑ کر ”دارالرحمت“ یا ایسے اداروں میں ڈاخل کرانے کے لئے تیار ہوئے وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ارد گرد کے خوفناک حالات سے بے خبر ہیںاور سارا زور پولیس اور فوج پر ڈال دیا گیا جہاں دوران ڈیوٹی اب تک ہزاروں جوان شہادت کے درجے پر فائز ہ ہو چکے ہیں۔
بہت سال پہلے جب غیر ملکیوں کی پاکستان آمدکا سلسلہ منقطع نہ تھا میرے بھائی احسن خان نے مجھے بتایا کہ آج ہم نے لاہور کی منٹو پارک اور ریلوے لائین کے درمیان ایک جھگی میں بیٹھے اک فقیر سائیں ریزو کو تلاش کرنا ہے ”کیوں“ میرے مختصر سوال پر بھائی جان نے کہا۔۔۔”شام کو بتاو¿ں گا“ اور کلاس اٹینڈ کرنے لاءکالج چلے گئے۔
شام کو ہم دونوں سائیں ریزو کو تلاش کرنے نگلے میرا خیال تھا خاصہ مشکل کام ہو گا اور بے کار بھی۔۔ ارے واہ تین چار لوگوں سے پوچھا تو اک جوان لڑکی نے ہمیں پیچھے آنے کو کہا اور وہ ہمیں اک جھگی میں لے گئی۔”یہ ہے سائیں جی کی جھگی۔۔وہ پھل لینے گئے ہیں“۔۔۔آپ اندر جا کے بیٹھ جائیں۔ وہ ہنستی ہوئی بیٹھنے کا اشارہ کر کے اک اور جھگی میں داخل ہو گئی۔یہاں سب پھٹی پرانی جھگیاں تھیں لیکن سائیں ریزو کی جھگی قدرے صاف تھی۔ باہر آٹھ دس گملے پڑے تھے۔ جھگی کے اندر فرش(کچی زمیں) پر بستر لگا تھا دو آدمی وہاں سو سکتے تھے۔۔۔ہم ادھر ادھر پھرتے سائیں کے انتظار میں پاس موجود ریلوے اسٹیشن کی طرف جا نکلے۔۔مجھے ریلوے اسٹیشن کا ماحول ہمیشہ اچھا لگا۔۔۔ دور سے آتی ٹرین اس کی خوفناک آواز خوانچہ فروشوں کا رکتی گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاکنا اور پھر گاڑی کی رخصتی کا منظر ہر بار مجھے یوں لگا جیسے یہ گاڑی چل نکلی ہے۔اس میں میرا کوئی پیارا بھی بیٹھا ہے جو نہ جانے کب واپس آئے یہاں تک کہ گاڑی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ۔ ہم دونوں بھائی اب بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے کچھ دیر بعد ہم پھر واپس سائیں ریزو کی جھگی کی طرف چل نکلے ۔۔فقیر کی جھگی میں دیا جل رہا تھا۔ اور کسی کے گانے کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔
گوریئے ۔۔۔میں جانا پردیس
میں جانا تیرے نال
گوریئے ۔۔۔میں جانا پردیس
بھائی جان نے جھانک کر دیکھا۔۔۔تو۔۔۔گانے کی آواز مدھم ہو گئی۔۔۔”آجاو¿ بیٹا“۔۔۔ اور ہم دونوں جھگی میں داخل ہو گئے۔۔۔سائیں ریزو۔۔۔؟! ہم نے آہستہ سے پوچھا۔
”میں ہی ہوں سائیں ریزو“۔۔۔۔زرینہ بتا رہی تھی تم دونوں پہلے بھی آئے تھے۔۔!
”جی ہاں“۔۔۔بھائی جان نے بتایا۔۔۔تو وہ بولے تمہیں جرمن سے ”اللہ دین“ نے خط لکھا ہو گا میرے بارے میں ”اللہ دین“ نامی تو کوئی شخص میرا واقف نہیں۔۔۔! سائیں ریزو ہنس دیا۔۔۔۔ اس کا نام تو سر سٹیفن ہے لیکن میں نے اپنی آسانی کے لئے اس کا نام ”اللہ دین“ رکھا ہے۔۔۔۔وہ آ رہا ہے۔۔۔”یہ لو انگور کھاو¿“ سائیں ریزو نے انگوروں کی پلیٹ ہماری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔جو ابھی ابھی زرینہ رکھ کے گئی تھی۔۔۔ہم نے بھی انگور کھانے شروع کئے جن کی لذت۔۔۔کیا کہنے خوشبودار میٹھے۔۔جی ہاں مجھے خط سٹیفن نے لکھا تھا میں اسی کے کہنے پر آپ کو تلاش کرتا یہاں آیا ہوں۔۔۔”سنو۔۔۔لڑکے کیا نام ہے تیرا۔۔۔؟!
جی احسن خان۔۔۔”ہاں خان آج کے بعد ہم اللہ دین کہیں گے سٹیفن کو اور تمہیں میں کہہ کر بلاو¿ں گا۔۔۔”خان“ ”یہ چھوٹا تمہارا بھائی ہے“ ”جی ہاں“ یہ حافظ قران ہے“۔۔۔”اچھا۔۔۔ اس کا اللہ دین نے اپنے خطوط میں ذکر کیا تھا کہ وہ اسے بچے سے بھی ملنا چاہے گا جس نے پورا قراں زبانی یاد کر لیا ہے۔۔۔کم عمری میں ہی۔
انگوروں کی مٹھاس اور سائیں ریزو کی میٹھی باتوں کا ذائقہ لئے ہم واپس آگئے۔۔۔ہم دونوں بھائی سائیں کے بارے میں اکثر گفتگوکرتے ہم دونوں کی رائے اس فقیر کے بارے میں ایک تھی کہ وہ بھی سر سٹیفن عرف اللہ دین کی طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے اور دنیا سے اسے بھی کم لگاو¿ ہے۔
ہم دونوں سہہ پہر کے وقت ائیر پورٹ پر پہنچ گئے ایک چھ فٹ قد کا نہایت خوبصورت شخصیت کا مالک نہایت نفیس فریم والی عینک لگائے شخص باہر آیا اور ہم دونوں اس کی طرف بڑھے۔۔۔خان نے جس روانی سے انگلش میں اس سے گفتگوکی وہ حیران رہ گیا۔۔۔ہم ایک ٹیکسی پر بیٹھے اور سیدے منٹو پارک کے پاس سائیںریزو کی جھگی میں آ گئے۔۔۔ اس دوران اللہ دین سے ہم نے دنیا کے ہر موضوع پر پات کی۔۔۔ سائیں جی بھی منتظر تھے ہمارے۔۔۔ ہم ٹیکسی سے اترے سائیں بھی بھاگ کے آیا اور وہ دونوں بغل گیر ہو گئے سائیں نے پھر ہم سب کی انگوروں سے تواضع کی۔۔۔کچھ مشروبات بھی زرینہ نے ہمارے سامنے رکھے۔۔ وہ چلی گئی اور ہم سب کھانے پینے لگے۔۔وہیں پتہ چلا کہ اسلامی تاریخ کے حوالے سے کسی موضوع پر اللہ دین نے جرمن کی کسی یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی اور اس دوران انگور کھلانے والے سائیں ریزو نے بھی اس کی خطوط کے ذریعے کافی مدد کی۔پندرہ دن تک ہمارا آنا جان رہا ہم سب جیسے ایک گھرانے کے فرد ہوں۔۔۔۔اکثر ہم بازار سے انگور خرید کر لے جاتے جو بات سائیں جی کو پسند نہ تھی۔
اک شام اللہ دین نے سائیں ریزو سے فرمائش کی کہ آپ نے اک گانا سنانے کا وعدہ کیا تھا؟ سائیں ریزو نے ٹال مٹول سے کام لیا لیکن ہم سب کے اصرار پر اس نے پھر گایا۔۔۔۔۔
گوریئے ۔۔۔میں جانا پردیس
میں جانا تیرے نال
گوریئے ۔۔۔میں جانا پردیس
بھائی جان نے گانے کا ترجمہ انگلش میں کیا تو اللہ دین کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور اس نے بتایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جرمن زبان کے اک محبت بھرے گیت کا ترجمہ ہے۔۔۔؟
شاید ہمارے اس گیت کا کسی جرمن لکھاری نے ترجمہ کیا ہو۔۔۔بھائی جان نے مسکراتے ہوئے پوچھا سب ہنس دیئے۔
اللہ دین نے ہمیں جرمن میں وہی گانا سنایا جو سائین ریزو گایا کرتا تھا۔۔۔جو پرویز مہدی نے اپنی نفیس خوبصورت جذباتی آواز میں کئی سال پہلے گایا تھا اور بے حد مقبول تھا۔
ہم نے اللہ دین کو دعوت دی اور والد صاحب نے ہمیں مالی تعاون کا یقین بھی دلایا اور والدہ نے کمیٹی کے وہ پیسے بھی ہمیں تھما دیئے کہ اس جرمن شخص کو لاہور کے کسی اعلیٰ ہوٹل میں ٹہراو¿ جو سائیں ریزو کی جھگی میں رہ رہا ہے۔
ہم دونوں بھائیوں نے انگور کھاتے ہوئے اللہ دین کو اس منصوبے سے آگاہ کیا۔۔۔۔ تو وہ ناراض ہو گیا سائیں جی نے بھی برا منایا خیر ہم نے شرمندگی کا اظہار کیا اور صلح ہو گئی۔۔۔سائیں ریزو اس شام بڑا خوش تھا۔۔۔ہم نے اس قدر خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے ہنستے ہوئے کہا ”یہ سرپرائزہے“۔
ہم دونوں بھائی غور کرتے رہے سوچتے رہے لیکن کچھ سمجھ نہ آیا۔ اگلی شام ہم سب اکھٹے ہوئے۔ ایک ساتھ سائیں ریزو نے ہمیں دو خوشیاں دیں۔وہیں ہماری موجودگی میں سر سٹیفن عرف اللہ دین نے اسلام قبول کر لیا اور مستقل طور پر اب وہ اللہ دین کہلائے گا اللہ دین بن جائے گا۔
آدھ گھنٹے بعد ایک دوسری تقریب ہوئی جس میں زرینہ کی اللہ دین سے شادی ہوئی۔نکاح کی اس سادہ تقریب جس میں ہمیں پھر انگور کھلوائے گئے، اس کے بعد سائیں ریزو نے بتایا کہ زرینہ عیسائی فیملی سے ہے لیکن ایک ماہ قبل اس نے اسلام اپنی مرضی سے قبول کر لیا تھا۔ اور آج یہ دونوں نو مسلم حلقہءبگوش اسلام ہو چکے ہیں۔
اگلی شام بھائی جان کو کوئٹہ میں ملازمت مل گئی اور وہ کوئٹہ روانہ ہو گئے اور میں پڑھائی میں مصروف ہو گیا۔۔کچھ عرصہ بعد میں سائیں ریزو کی جھگی پر گیا۔۔۔ وہاں جھگی تو تھی لیکن اس میں اک ہٹھہ کٹا شخص رہ رہا تھا۔۔۔ نہ انگور کھلانے والا فقیر سائیں ریزو وہاں تھا نہ اللہ دین اور زرینہ ہمیں ملے۔ پتہ چلا کہ اللہ دین اور زرینہ جرمن چلے گئے اور فقیر سائیں ریزو اک شام وہاں سے ہر چیز چھوڑ چھاڑ کر یہ کہتے ہوئے رخصت ہو گیا کہ ”اب میں ایسے ہی کسی نئے مشن پر روانہ ہو رہا ہوں“ خدا حافظ۔

تحریر: حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527