جہالت اور برَبریت

جہالت اور برَبریت میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جنہوں نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا، بلکہ بہت پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں پوری طرح شامل ہے، صرف فرق ہے طریقہ کار کا، پڑھےلکھے لوگوں نے اس کو ایک فیشن بنا لیا ہے، ایک رسم کے طور پر جرم ، برائی یا زیادتی کی جاتی ہے، اور پھر اس پر فخر بھی کیا جاتا ہے،اس چرچا کیا جاتاہے اور احباب کو بہت فخر سے بتایا جاتا ہے۔ دنیا میں جرائم کے تناظر میں اگر سروے کیا جائے، تو مجھے عین یقین ہے کہ پڑھے لکھے معزز لوگوں کی شرح جرم ان پڑھ لوگوں سے کہیں زیادہ ہے، ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو جرائم کو ایک فیشن سمجھ کر اپناتاہے، پھر عادت ثانیہ، اور پھر خصلت!!!!!!!!!!!

جس کا انجام بلا آخر معاشرتی بد حالی، بے راہ روی اور بد ترین واقعات کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

برائی کیا ہے؟

میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ برائی کیا ہے، کسی سیانے کا کہنا ہے کہ “برائی یہ نہیں کہ ہمارے گھر کے دروازے پر گندگی پڑی ہے بلکہ برائی یہ ہے کہ ہمیں وہ گندگی نظر نہیں آتی”

جب ہم میں سے برائی کا احساس ختم ہو جاتا ہےتو ہم فطری طور پر مر چکے ہوتے ہیں ہمارے اندر سے انسانیت ختم ہو چکی ہوتی ہے، پھر نا رشتے خون کے رہتے ہیں نا بھائی چارے کے، نا اپنے کی تمیز نا پرائے کی، نا اخلاقیات نا خاندانی اقدار۔

چلو سب مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہمارے احساس کو زندہ کردے، ہمارے دلوں پر جو گناہ اور جہالت کے قفل ہیں، برائیوں کے سیاہ داغوں نے ہمیں ہمارے راستے سے بھٹکا دیا ہے، اللہ تعالٰی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،

آمین ثم آمین!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

طالب دعا رانا راشد