مَلک، رحمن مَلک اور وینا مَلک(شوکت علی مظفر)
اِن دنوں عطاء الحق قاسمی صاحب بھی کراچی کے حالات، پنجاب کی سیاست، بلوچستان کی شورش اور سرحد کی افرا تفری سے پریشان ہیں۔ دو چار دن قبل ان کی محفل میں شریک ہونے کا موقع ملا تو ہم سمجھے وہ افراتفری کے اس ماحول میں افراتفریح سے کام لیتے ہوئے کوئی تازہ لطیفہ سنا کر محفل گرمائیں گے لیکن یہ تو ان لوگوں کے مخالف ہیں جو کہتے پھرتے ہیں ’’یادِ ماضی عذاب ہے یارب! چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔‘‘ عطاء الحق قاسمی کا بس چلے تو وہ کہیں’’یادِ ماضی شباب ہے یارب! چھین لے مجھ سے بڑھاپا میرا‘‘۔ انہوں نے پھلجڑیاںکہتے ہوئے اپنے ماضی کے قصے چھیڑ دےئے اور کچھ اِس طرح چھیڑے جیسے آج کا کوئی نوجوان کسی خاتون کو چھیڑنے کی جسارت کرتا ہے۔ ماضی کے دوچار چٹکلوں میں ہی انہوں نے محفل تمام کردی اور کسی رنگین و سنگین یاد کے آجانے سے انہوں نے’’باقی آئندہ‘‘ کہہ کر رخصت کردیا۔ قاسمی صاحب اتنے احتیاط پسند ہیں، کوئی بھی گناہ کیا ہمیشہ اکیلے ہی کیا۔ مَلک کا کہنا ہے، جب اکیلے ہوں تو پھر گناہ کیسے ہوسکتا ہے؟ مَلک کا کیا ہے، وہ تو فضول باتیں کرتا ہی رہتا ہے۔میں قاسمی صاحب کا بتا رہا تھا کہ انتہائی احتیاط پسند ہیں، اسی لیے جسے بھی پسند کیا انتہائی احتیاط سے کیا ۔ شکر ہے تنہائی پسند نہیں ہیں۔
حافظ مظفر محسن بھی لاہوریے ہیں اور پکے لاہوریے ہیں،اس لیے زندہ دل ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ان کی زندہ دلی دیکھنی ہو تو ان کی شاعری پڑھ لیں۔ ہم جو قاسمی صاحب کی محفل سے اُٹھ کر سیدھا ان کے دفتر جارہے تھے تو موصوف بڑی سی نیکر پہنے چراغ پارک کے ارد گرد بارش میں انجوائے کرتے ہوئے مل گئے۔ ہمیں ٹیکسی میں دیکھ کر لپکے’’ہور شہزادے!‘‘ کہہ کر باہر کھینچا اور کَس کرجپھی ڈال دی۔ لگتا ہی نہیں ہے کہ کسی شاعر سے گلے مل رہے تھے، ایسا معلوم ہورہا تھا حافظ صاحب شدتِ خلوص کے زیر اثر ابھی بارش کے پانی میں ہمارا لہو بھی لیمو کی طرح نچوڑ کر شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
’’بول شہزادے۔ ۔ ۔ کچھ تو بول! اتنے دنوں بعد آئے وہ بھی چپ چپ!‘‘ حافظ صاحب نے ہمیں بھرپور طریقے سے نچوڑنے کی کوشش کی۔ میں کیسے بتاتا کہ حافظ صاحب چھوڑیں گے تو کچھ بولنے کے قابل ہوں گا۔
کبھی کبھی خلوص و محبت بھی کیسا جان لیوا ثابت ہوتا ہے، اس کا اندازہ آج ہورہا تھا۔ ممکن ہے اس میں بارش کا قصور ہو جو حافظ صاحب آج موڈ میں تھے۔ کراچی والے بارش کے آثار دیکھ کر خوش اور اثرات دیکھ کر ناخوش رہتے ہیں جبکہ لاہور والے بارش کے آثار دیکھ کر خوش اور اثرات دیکھ کر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔
’’دفتر چلو گے یا عطاء الحق قاسمی کے پاس چلیں؟‘‘حافظ صاحب عطاء الحق قاسمی کے زبردست فین بھی ہیں اور دوستوں میں سے بھی۔ میرے جواب دینے سے قبل ہی انہوں نے بتایا’’عطاء الحق قاسمی سردیوں کی بارش میں کافی پلاتے ہیں اور گرمیوں کی بارش میں آم پیش کرتے ہیں!!‘‘
یہ بات تو درست ہے، عطاء الحق قاسمی آم کے اتنے شوقین ہیں، جب یہ بیرون ملک دورے پر تھے تو ایک یورپی خاتون صرف اس لیے ان پر فریفتہ ہوگئی کہ عطاء الحق قاسمی کو آم چوستے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ شکر ہے،قاسمی صاحب نے محترمہ کو لفٹ نہ کروائی اور آج تک آم ہی چوس رہے ہیں۔ پتہ نہیں آم اور ادیبوں کا اتنا گہرا تعلق کیوں ہے۔ مَلک کہتا ہے، آم کھانے سے آنکھیں روشن، دماغ تیز اور بدن میں چستی آتی ہے۔ شاید اس نے بھی قاسمی صاحب کو آم کھاتے دیکھ لیا ہے۔ میں نے مظفر محسن کو بتادیا کہ اُن کے ماضی کے قصوں سے محظوظ ہوکر آرہا ہوں تو انہوں نے فرمایا، بڑے ادیبوں کے پاس ماضی اور نئے لکھنے والوں کے سامنے مستقبل نہ ہو تو وہ اچھا نہیں لکھ سکتے۔
ہماری سانس بحال ہوئی تو مظفر محسن نے جھٹ پٹ پیپسی کی ڈیڑ ھ لیٹر بوتل خرید لی کہ اسکیم چل رہی اور آج کل سب سے سستی یہی چیز آرہی ہے۔ میں نے لاکھ کہا، رہنے دیں مجھے پیپسی پسند نہیں ویسے بھی خالص پیسپی ہم جیسے غریبوں کو جلد چڑھ جاتی ہے اور ہوش ٹھکانے نہیں رہتے۔ انہوں نے ایک نہ سنی اور یکے بعد دیگرے تین گلاس ہمیں پلا دیئے۔
’’آپ بھی تو پئیں۔‘‘ ہم نے مدہوش ہوتے ہوئے کہا۔ ایک تو بارش کی پھوار اور اوپر سے ٹھنڈی یخ پیپسی، نشہ تو چڑھنا تھا۔مظفر محسن نے مسکراتے ہوئے مزید مشروب انڈیل کر ہماری جانب بڑھایا’’مجھے شوگر ہے۔‘‘
’’تو کیا آج مجھے ’’ہم مرض‘‘ کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے مشروب لینے سے انکار کردیا۔
مظفر محسن غصہ میں آگئے۔ ان کا چہرہ عام دنوں میں سرخ و سفید رہتا ہے غصے میں تو اور بھی زیادہ سرخ ہوگیا۔ انہوں نے بھیگی ہوئی نیکر کو کھینچ کر اوپر کیا اور پھر مشروب سے بھرا گلاس غٹا غٹ پی کر کہا’’اب میری ویکسین کے پیسے تم ادا کرو گے۔‘‘
ہمیں پہلی بار اندازہ ہوا کہ بندہ شاعر بھی ہو، ادیب بھی ہواور ساتھ میں لاہوریا بھی ہو تو بہت خطرناک ہوا کرتا ہے۔شاعر غصہ میں ہوتو شاعری میںخون خرابہ برپا ہوتا ہے، ہر شعر میں دشمن کے جگر کو الفاظ سے کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ادیب غصے میں ہو تو محاورات اور ضراب الامثال سے دشمن پر غصہ اتارتا ہے جبکہ لاہوریا غصہ میں آجائے توزندہ دل ہونے کے باعث پہلے آستین چڑھائے گا،پھر جگت بازی شروع کردے گا۔ حافظ صاحب نے بھی کچھ ایسی ہی دھمکی دی’’تمہیں تو میں شاعری میں دیکھ لوں گا، کالم میں رگڑا نہ لگایا تو کہنا اور غریب کو کبھی شوگر ہوئی ہے جو تجھے ہوگی۔‘‘
’’محسنصاحب! آپ تو سب کو ایک پرچم تلے دیکھتے رہے آج یہ غریبی امیری والی جگت کیوں کی؟‘‘
میں نے حافظ صاحب سے یہ بات اس لیے کہی تھی کہ وہ اکثر فون پر ہمیں ایک سستا شعر سناتے رہتے ہیں کہ
مرد، عورت، ہیجڑے میں کوئی فرق نہیں کیونکہ
اس پرچم کے سائے تلے، ہم ایک ہیں
محسنصاحب ہم سے ناراض ہی رہتے اگر معروف شاعر فرحت عباس شاہ ’’ شام کے بعد‘‘ نہ آتے۔ پتہ نہیں ان کے پاس کون سی ایسی جادوئی چھڑی ہے جس کے گھمانے سے حافظ صاحب کی تمام ناراضگی دور ہوجاتی ہے۔مَلک کا کہنا ہے، دونوں ہی شاعر ہیں اور ایک دوسری کے شعری کمزوریوں سے واقف بھی۔ مشاہدے کی بات ہے، آپ نے شاعر وں کو کبھی آپس میں لڑتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔ایک عجیب بات ہم نے نوٹ کی ، فرحت عباس ہمیشہ اُداس رہتے ہیں مگر آج تو بڑے اچھے موڈ میں تھے، میرا خیال تھا کہ بارش کا اثر ہے مگر وہ تو بعد میں پتہ چلا، کرکٹر آصف اور وینا ملک کی شادی پر خوش ہیں۔ انہوںنے ایک کام اور کیا کہ مَلک صاحب کو بڑے تپاک سے گلے لگایا اور مبارک باد دی۔ مَلک صاحب حیران کہ آصف کی شادی پر انہیں کس چیز کی مبارکباد ۔ یہی سوال انہوں نے شاہ صاحب سے بھی کیا، وہ مسکرائے اور کہا’’مَلک صاحب! اچھا ہوا، آپ کی ایک بیٹی کا بوجھ تو کم ہوا۔‘‘
فرحت عباس شاہ وینا مَلک کو مَلک صاحب کی بیٹی سمجھ رہے تھے۔ مَلک صاحب نے غلط فہمی دور کی تو مظفر محسن نے لاہوریا ہونے کا ثبوت دیا’’شاہ جی! وینا مَلک کی شادی کی مبارک باد دینی ہے تو رحمن مَلک کو دیں کیونکہ یہ اندرونی مسئلہ ہے اور رحمن مَلک ہر طرح کے اندرونی و بیرونی مسائل سے نمٹنے کے ماہر ہیں۔‘‘
مَلک صاحب یہ سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا’’رحمن ملک صاحب کو مبارکباد دینی ہے اور یہ عرض بھی کرنی ہے کہ وہ بیان دیتے ہوئے لہجے کو تھوڑا نرم رکھیں کیونکہ ان کے بیانات جو بیانات کم دھمکیاں زیادہ محسوس ہوتی ہیں، سے بچیاں بھی ڈر کر ملک سے باہر جاکر شادی کررہی ہیں۔ اگر یہی حالت رہی تووینا ملک جیسی لڑکیاں پردہ کرنے والی خواتین سے بھی برقع چھین چھین کر فرار ہونا شروع ہوجائیں گی!!‘‘