دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا
تمہارا ہو کے بھی ممکن ہے میں رہوں اس کا

زمیں کی خاک تو کب کی اڑا چکے ہیں ہم
ہماری زد میں ہے اب چرخِ نیلگوں اس کا

تجھے خبر نہیں اس بات کی ابھی شاید
کہ تیرا ہو تو گیا ہوں مگر میں ہوں اس کا

اب اس سے قطع تعلق میں بہتری ہے مری
میں اپنا رہ نہیں سکتا اگر رہوں اس کا

دلِ تباہ کی دھڑکن بتا رہی ہے رضا
یہیں کہیں پہ ہے وہ شہر پُر سکوں اس کا