رات اور رات کے بعد
(خالدہ اصغر کے لیے )

جب رات نصف دنیا کو اپنے شکنجے میں کس لیتی تو جیسے اس کی جان نکل جاتی۔ اسے نانی اماں کی کہانی کے وہ دیو یاد آتے جن کی جان کسی مینا طوطے میں قید ہوتی ۔ یا جو ’کیل دئیے جاتے ۔ اسے ایسا لگتا کہ اگر اس کی جان کسی پرندے میں نہیں ہے تو سورج کے سرخ جلتے ہوۓ گولے کے ساتھ ہر لمحہ جل رہی ہے ، پگھل رہی ہے ۔ مگر رہتی پاس میں ہے ۔ اور سورج ڈھلتے ہی جیسے وہ بے جان ہو جاتا ہے ۔ اگر کوئی سورج کو قتل کر دے تو وہ بھی ہمیشہ کے لیے مر جاۓ گا ۔
اور اس طرح جب رات آتی تو وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ ڈرنے لگتا ۔ آج چودھویں شب تھی مگر اس نے اپنے کمرے کی کھڑکیاں بند کر لی تھیں ۔ مگر پھر بھی اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کھلے میدان ۔ جنگل بیابان میں کھڑا ہے ۔ چودھویں کا پیلا پیلا چاند طلوع ہو رہا ہے ۔ افق کے کنارے پر وہ پہلے سرخ سرخ آنکھوں سے اپنے شکار کو دیکھتا ہے ۔ سارے فرشتے ۔اور نیکی کے پیغامبر اور اچھی روحیں سب ان سرخ سرخ آنکھوں سے ڈر جاتی ہیں اور تحت الثریٰ میں چھپ جاتی ہیں یا افق کے دوسرے کنارے سے چاند کی سرخ کم ہوتی جاتی ہے ۔ ہوا میں نہ جانے کیوں خنکی سی آ جاتی ہے اور ہوا کا ایک ہلکا سا جھونگا اس کے بدن میں گھس جاتا ہے ۔ اسے جھرجھری آتی ہے ۔ اور اس کے کپڑے سرسراتے ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ساری دنیا کے حشرات الارض اس کے لباس کی شکنوں اور سلائیوں میں گھس گۓ ہیں۔ وہ ایک آستین جھاڑتا ہے تو کوئی کنکھجورا اس کے شانے پر رینگنے لگتا ہے ۔ اس کو ہاتھ سے جھاڑتا ہے تو اس کی پیٹھ پر بچھوؤں کی قطاریں رینگنے لگتی ہیں۔ کہ جن کے الٹے ہوۓ ڈنک بار بار اس کی قمیص کے تانے بانے میں الجھ کر ان کی رفتار کم کر دیتے ہیں۔ وہ پھر رینگتے ہیں اور بل کھاتے ہیں اور اپنے ڈنک کو قمیص کی قید سے آزاد کر لیتے ہیں۔ دو تین قدم بچھوؤں کے قدم چلتے ہیں اور پھر قمیص میں ان کے ڈنک پھنس جاتے ہیں ۔ پھر کنکھجورے اور سانپ اور مکڑیاں اور تل چٹے اور مزید بچھوؤں کی قطاریں ۔ پھر چاند سوکھے سوکھے لنڈ منڈ درختوں میں سے نکلتا ٹھیک سر پر آ جاتا ہے ۔ اور عین اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ جنگل بیابان میں نہیں ہے بلکہ ایک آسیب زدہ سنسان کھنڈر کے صحن میں کھڑا ہے اور اس کے پیچھے ان گنت انجانے دروازے اور راہداریاں اور دالان منہ پھاڑے کھڑے ہیں۔ ان کے اندر اندھیرے ناچ رہے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے جو چاندنی ان حدود کے اندر رینگ آئی تھی ۔ اس کو اندھیروں نے قتل کر کے باہر پھینک دیا ہے اور اندھیروں کی حکومت بسیط سے بسیط تر ہو گئی ہے ۔ بجھا ہوا سا چاند اور خوفناک لگتا ہے ۔ پھر صبحِ کاذب ابھرنے لگتی ہے اور اندھیرے اور بھی شور مچا ،مچا کر لڑنے لگتے ہیں جیسے ان کی جنگ صبح کے اجالوں سے ہے ۔ اندھیرے میں کبھی کبھی ان کی تلواریں چمک جاتی ہیں۔ اور پھر وہی بدن میں سرسراہٹ بچھوؤں کی قطاریں ۔ کنکھجورے ۔ پھر لنڈ منڈ درخت ۔ کھنڈر سب غائب ہونے لگتے ہیں ۔ اور کھڑکی کی دراز سے روشنی کی ایک دبلی پتلی لکیر سلانڈر پر کسی ننھی بچی کی طرح کمرے میں پھسل آتی ہے ۔ اور وہ دو بارہ اپنے آپ کو کمرے میں پاتا ہ اور کھڑکی کھول کر سورج کو نظر بھر کے دیکھ لیتا ہے ۔ سورج جس میں اس کی جان ہے ۔
پھر ہر رات یہی ہوتا ہے ۔ اور چاندنی راتوں کی ہیبت کم ہونے لگتی ہے ۔ اور اندھیروں کی ہیبت بڑھ جاتی ہے ۔ اور پھر چاند مکمل غائب ہو جاتا ہے ۔ جن راتوں کو اماوس کی راتیں کہا جاتا ہے ، وہ آ جاتی ہیں ۔ اور ہر رات کی طرح اس رات اس کے کمرے کی دیواریں اور چھت اور سارا فرنیچر ۔ اس کی الماری اور الماری میں سجی ہوئی فلسفے اور ادب و شاعری کی کتابیں اور پلاسٹک کا گڈا اور لکڑی کے ناگا آدمی اور ایش ٹرے پر یونانی تہذیب کے زمانے کی تصویریں سب غائب ہو جاتی ہیں ۔ اور اس کے چاروں طرف سنسان جنگل بڑھتا جاتا ہے ۔ پتہ نہیں وہ درخت ہیں بھی یا نہیں۔ اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ۔ بس اندھیرے کی سرنگ ہے جو چلی جاتی ہے ۔ وہ چلا جاتا ہے ۔ مگر جیسے قدموں کو حرکت دیے بغیر۔ پھر کوئی الّو کہیں چیختا ہے ۔ ایک چمگاڈر اس کے سر سے تقریباً ٹکراتے ہوۓ گزر جاتی ہے ۔ پھر بلّیوں کے لڑنے کی آوازیں آتی ہیں۔ یہ بلّیاں ہیں یا اندھیرے ۔ کہ ان کی آنکھیں بھی اندھیرے میں نہیں چمکتیں ۔ پھر کسی نزدیکی پل سے کوئی ٹرین دھڑ دھڑاتی ہوئی گزر جاتی ہے ۔ مگر ٹرین میں روشنی نہیں ہے ۔ اور پھر یہ اندھیری ٹرین بھی اندھی سرنگ میں گھس جاتی ہے اور وہ نہ جانے کیسے کھلے میدان سے بغیر قدموں کو حرکت دیے اس چلتی اندھیری ٹرین میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اسے کچھ نظر نہیں آتا ۔ پتہ نہیں یہ سرخ مسافروں کے ہونٹوں اور انگلیوں میں دبی سگریٹوں کا جلتا ہوا سرا ہے یا وہ سرخ آنکھیں ۔ پھر نہ جانے کہاں سے آ کر ریل گاڑی کی چھت پر بلیاں لڑنے لگتی ہیں۔ وہ باہر سے دیکھتا ہے ۔ (نہ جانے کب وہ چلتی ٹرین سے اتر گیا ہے ) ۔ ان کے چیخنے کی آوازیں اور چھک چھک کی آوازیں مخلوط ہو جاتی ہیں ۔ پھر ریل سیٹی دیتی ہے اور اس کے بھاپ کے انجن سے بہت سا جلتا ہوا کوئلہ نیچے گرتا ہے ۔ اور جب ایک الّو اس کے شانے پر آ کے بیٹھ جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ ٹرین کا نام و نشان کچھ نہیں ہے ۔ پھر وہی کھلا میدان ہے ۔ نہ جانے اس کے پیچھے کھنڈر ہیں یا نہیں۔ کھنڈر ہیں تو ان میں ان گنت دروازے اور راہداریاں اور دالان ہیں یا نہیں۔ کچھ نظر نہیں آتا ۔ وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو کمرے کی بند کھڑکی کی پتلی سی دراز سے ایک ننھی منی بچی ۔۔ روشنی کی ایک کنجوس سی کرن کمرے میں داخل ہو جاتی ہے ۔