”تمازت“ شفیق سلیمی کا پہلا اور تاحال آخری مجموعہ کلام ہے۔تمازت سے ہمارا پہلا تعارف1993ءمیں ہوا۔ اُن دنوں ہم لوگ غریب الوطنی کے پہلے تجربہ سے گزر رہے تھے۔بغرضِ تعلیم ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔اُن کے اشعار دل میں اترتے چلے گئے کہ حسبِ حال معلوم ہوئے۔ اور ان کا یہ شعر

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے

اکثر ہماری زبان سے نکل جایا کرتا تھا۔بعد ازاں مختلف ادبی جرائد میں ان کا” تمازت“ کے بعد کاکلام نظر سے گزرتا رہا۔پھر جب 2003ءمیں بسلسلہ روزگار دیارِ غیر جانا پڑا تو ان کے اشعار میں پنہاں کرب ہم پر کھلتا چلا گیا۔اور محسوس ہوا کہ شفیق سلیمی نے تو ہوبہو ہماری داستانِ سفر رقم کر ڈالی ہے۔

سفر وسیلہ ظفر بھی ہے، گیان کا راستہ بھی اور مصائب کا کوہِ گراں بھی۔ غریب الوطنی وہ آفاقی موضوع ہے کہ کم و بیش تمام دنیا کے اہلِ قلم اسے اپنا موضوع بناتے آئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سفر اور غریب الوطنی کے موضوع میں شفیق سلیمی کو ایسا کیا دکھائی دیا اور انہوں نے اس سارے تجربہ میں ایساکیا کھویا، کیا پایاکہ تمازت کے کم و بیش نوے فیصدی اشعار اسی موضوع سے متعلق ہیں۔
قدیم زمانہ میں سفر علم کے حصول کا ایک راستہ تھا ۔ لیکن فی زمانہ آسودگی، معاشی مسائل سفر کی ایک بنیادی وجہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ شفیق سلیمی کے ہاں اس سفر کی بنیادی وجہ معاشیات سے متعلق ہی معلوم پڑتی ہے کہ علم کا حصول کہیں بھی منشاءبن کر سامنے نہیں آ پایا۔ لیکن شفیق سلیمی کا کمال ہے کہ انہوں نے معاشی مسائل کو اپنے اشعار میں نمایاں نہیں ہونے دیا۔گو کہ کہیں کہیں اس کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیںلیکن یہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔قصہ مختصر شفیق سلیمی کے اشعار ان کے ذوقِ آوارگی پر دال ہیں۔ سفر میں رہنا ان کی سرشت ہے۔کیا ہو گا؟ کیا نہیں ہو گا؟اس سے انہیں آغازِ سفر میں کچھ غرض نہیں ۔وہ سفر جو اُن کے اشعار میں بغیر کسی مقصد کے آغاز ہوتا ہے ، اس کے انجام پر وہ اپنا احتساب کرتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہیں بھی سفر کے محرکات پر کھل کر بات نہیں کی لیکن سفر اور غریب الوطنی کے متعلقات کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان پر کیا گزری؟ انہوں نے کیا پایا؟ انہوں نے کیا کھویا؟ یہ وہ موضوعات ہیں جن پر شفیق سلیمی نے کھل کر بات کی ہے۔

اپنا تو کام ہے ہر حال میں چلتے رہنا
ہم تمیزِ رہ و منزل میں نہیں پڑتے ہیں

ریگِ روں پہ نقشِ کفِ پا تراشنا
اک منظرِ سراب سے دریا تراشنا

کون سا سودا ہے سر میں، کس کے قابو میں ہے دل
ہر قدم صحراؤں میں ہے، ہر گھڑی وحشت میں ہوں

جانے کس ڈگر میں ہیں، بے جہت سفر میں ہیں
شہرِ کم نظر ہم بھی کب تری نظر میں ہیں

یہ سفر کسی تلاش و جستجو کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔

میں تھک گیا ہوں صدائیں نگر نگر دے کر
کہاں گیا وہ مرے پاؤں میں سفر دے کر

ننگی شاخیں گھور رہی تھیں ہم آوارہ سایوں کو
سبز رتوں کے بستر میں کچھ گونگے پتے بوئے تھے

ہر راہ پہ چلتا ہوں، رکھتا ہوں کھلی آنکھیں
شاید کہ نظر آئے جو دھیان میں بستا ہے

لیکن اس تمام ریاضتِ سفر کاا نجام شاعر کے حسبِ منشاءنہیں ہوتا اور اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ سفر لایعنی تھا اور کچھ پانے کی جگہ وہ بہت کچھ ہار آیا ہے۔ پہچان چھن چکی ہے،منظر سراسر بدل چکا ہے۔

گھروں کی رونقیں وہی جو تھیں کبھی
مگر بھلا دئے گئے، گئے ہوئے

تمام عمر اڑانوں میں کاٹ دی ہم نے
تمام رنگ پروں کا پروں سے جاتا رہا

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے
کچھ درد تھے چن لائے، کچھ اشک تھے رو آئے

توہینِ انا بھی کی، تحسینِ ریا بھی کی
یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا یہ بوجھ بھی ڈھو آئے

پہچان کا ہر منظر انجان ہوا آخر
لگتا ہے کئی صدیاں اک غار میں سو آئے

سفر سے لوٹ آئے تھے مگر کیا دیکھتے ہیں
فضا بدلی ہوئی ہے، سب کا سب الٹا پڑا ہے

حکمائے قدیم کے نزدیک زندگی کی بابت ایک عام نظریہ یہ تھا کہ زندگی ایک قید خانہ ہے جس سے انسان اپنی مرضی سے فرارنہیں ہو سکتا۔ہمارے ہاں تصوف میں بھی زیادہ تر یہی ”نظریہ جبر“ کارفرما رہا ہے۔لیکن شفیق سلیمی کے ہاں اس قید خانے سے بھاگ نکلنے کی خواہش اور کوشش موجود ہے۔ یہ مروجہ رسوم اور طریقہ ہائے زندگی سے بیزاری کا رویہ بھی گردانا جا سکتا ہے۔پنجرا توڑ کر بھاگ نکلنا اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے لیکن پنجرا توڑ کر صیاد کی بے بسی کا تماشا دیکھنے کا ایک اپنا لطف ہو گا جس سے شفیق سلیمی بخوبی آگاہ لگتے ہیں۔عدم نے کہا تھا

کس طرح ٹوٹتی ہیں زنجیریں
یہ بھی اک دن تجھے دکھاؤں گا
اے قفس کے محافظِ ناداں
میں اڑا تو نظر نہ آؤں گا
(عبدالحمید عدم)

اس قطعہ میں عدم کے ہاں پنجرا توڑ کر بھاگ نکلنے کا رویہ ہے، محافظِ قفس اس کی آزادی پر کس قسم کا ردِعمل دیتا ہے، کس بے بسی کے عالم میں ہے، اس سے اسے قطعاً غرض نہیں۔ لیکن شفیق سلیمی تو تماشا بینی کے شوقین ہیں۔

پنچھی توڑ اڑان کو نکلے، بے پر کے پنچھی
مار اُڈاری چھت پر جا بیٹھے گھر کے پنچھی

غالب نے کہا تھا

گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
(غالب)

شفیق سلیمی کم و بیش اسی نظریہ حیات کے پیرو نظر آتے ہیں۔ اُن کے ہاںزندگی سے مسرت کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کی خواہش اتنی شدید ہے کہ انتہائی تھکن اور دل شکستگی کے باوجود سفر کہ ان کی سرشت میں داخل ہے، کی خواہش نہیں جاتی۔

خواب تک نہیں باقی اب گرفتِ خواہش میں
ذائقے اڑانوں کے پھر بھی بال و پر میں ہیں

شاعر کے لاشعور کے کسی گوشہ میں یہ خوف بھی موجود ہے کہ اس کے بعد اس کی آئندہ نسل پر بھی یہ سفر واجب ہونے والا ہے۔لیکن یہاں قدرے مجبوری کا عنصر سامنے لایا جا رہا ہے۔

میرے آنگن کے شجر کو بھی سزا دی جائے گی
شاخ پر بیٹھی ہوئی چڑیا اڑا دی جائے گی

شفیق سلیمی کے ہاں تمام مصیبتیں جھیل لینے کے بعد ایک شادمانی کا احساس نظر آتا ہے۔ اور انہیں خیال گزرتا ہے کہ جو ہوا جیسا ہوا، اچھا نہ تھا تو اتنا برا بھی نہ تھا۔اس تلخیوں بھرے دور نے جہاں بہت کچھ چھین لیا وہاں کچھ دیا بھی۔یہ اور بات کہ اہلِ ظاہر کے نزدیک اس حاصل کی کوئی اہمیت نہیں

اپنی مٹی سے دوری کے احساس نے قربتیں بخش دیں
ایسا پانسا پڑا درد وہ مل گیا ہے جو نایاب تھا

مٹی سے دوری کے احساس سے جو قربتیں میسر آتی ہیں وہ اہلِ ظاہر پر نہیں کھل سکتیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تخلیق کار اپنے اندر کی دنیاو¿ں کی سیاحت پر چل نکلتا ہے۔یہ نایاب درد کہ ایک ایسے کرب کی دین ہے جو ظاہری دنیا کے جو ر و ستم کا نتیجہ ہے ، ہر ایک کا مقدر نہیں ہوتا۔داخل کی دنیا کا سفر فلسفہ اور تصوف کے لئے راستے ہموار کرتا ہے۔
سفر کے حوالہ سے یہ احساسات شفیق سلیمی کے تجربات و عمیق مشاہدہ کی دین ہیں۔شفیق سلیمی کا احساس سراسر ایک منفرد طرز کا احساس ہے۔ ہو سکتا ہے یہاں آپ لوگ ناصر کاظمی کا نام لیں لیکن ناصر کاظمی کی ہجرت کی نوعیت قطعاً مختلف ہے۔مزید یہ کہ ناصر کاظمی اپنے شعری سفر کے آغاز میں ہی اندر کی دنیاو¿ں کی فتح میں لگ جاتے ہیں جبکہ شفیق سلیمی کا سفر خارج سے باطن کی جانب ہے۔یہ راستہ طویل سہی لیکن زیادہ نتیجہ خیز ہے۔
روزِ اول سے حکماء، دانشور اور شعراءاپنے معاشرے، اپنی ریاست کے سیاسی و معاشی مسائل پر غور و فکر کرتے آئے ہیں۔حکیم اپنے عہد کے مسائل پر غور و خوض کے بعد ان کا حل تجویز کرتا ہے۔شاعر اپنے معاشرے کو درپیش مسائل کی طرف اشارہ دیتا ہے۔اردو شاعری میں بھی شروع سے یہ سلسلہ موجود رہا ہے۔ شفیق سلیمی اپنی روایت سے مضبوطی سے جڑے ہوئے انسان ہیں۔ وہ اپنے عہد کے معاشی و معاشرتی و سیاسی معاملات کی بد نظمی پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔حکماءاس بات پر متفق ہیں کہ فرد سے زیادہ معاشرہ کی اصلاح ضروری ہے۔ جھوٹی انا، ناپائدار دولت و ثروت، جھوٹی شان و شوکت، زندگی کا مصنوعی پن سب کچھ ہمارے شاعر کو کَھل رہا ہے۔ہم انسانی تاریخ کے انتہائی تلخ و تاریک دور سے گزر رہے ہیں۔

سنگ و سگ و صدا سبھی پیچھے پڑے ہوئے
اک دوڑ سی ہے ہم میں برابر لگی ہوئی

پیکٹوں میں بند ہو کر اب بکے گی روشنی
بوتلوں میں شہر کو تازہ ہوا دی جائے گی

کوئی نکلے جواب کی صورت
چہرہ چہرہ سوال ہو گیا ہے

خار بڑھتے جا رہے ہیں، برگ و گل ناپید ہیں
کس نمو کا زہر پھیلا ہے شجر میں، دیکھنا

زندگی ہوتی رہی ہے بس اسی ڈھب سے شفیق
ہر یقیں مجھ کو نیا اک واہمہ دیتا رہا

پاکستان برِ صغیر پا ک و ہند کے مسلمانوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔اس عظیم مسلم سلطنت کا خواب دیکھنے والے ، اس خواب کی تعبیر کے لیے جد و جہد کرنے والے اور پھر اس خواب کو عملی جامہ پہنانے والے کیا عظیم لوگ تھے۔ ان لوگوں نے کیا کیا نہ سوچا تھا اس مملکت کی تعمیر و ترقی کے لیے ۔پاکستان کو اسلام کا قلعہ بننا تھا لیکن ہم لوگوں نے کیا کیا؟ ادھر اس کے بانی نے آنکھیں موندھیں اور ادھر ہم اس کی ترقی کی بجائے اس کی تخریب میں سرگرم ہو گئے۔افسوس صد افسوس کہ ہم بحیثیت ایک قوم کوئی بھی ایسا کارنامہ سرانجام نہ دے پائے جو ہمارے آباءکی ارواح کے لیے باعثِ تسکین ہوتا۔شفیق سلیمی کو اس بات کا شدید قلق ہے ۔

سر میں ایک سودا تھا ، بام و در بنانے کا
آج تک نہیں سوچا ہم نے گھر بنانے کا

لیکن کیوں؟ اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں۔معاشرتی تنظیم کی عدم موجودگی، بنیادی اخلاقی اقدار سے روگردانی،منزل کے حصول کے جنون کا فقدان، نااہل اور بے بصیرت لوگوں کی پوجا۔ہم لوگ غلط صحیح کی پہچان کھو بیٹھے ہیں۔

جھوٹ کے سامنے اب جھوٹ ہی استادہ ہے
معرکے اب حق و باطل میں نہیں ہوتے ہیں

کسی دیوار میں در کس طرح ہو
کوئی آشفتہ سر باقی نہیں ہے

ایک شوق ایسا بھی ہم نے پال رکھا ہے
بے وقار لوگوں کو معتبر بنانے کا

ہاتھوں میں بجھا ہوا چراغ لے کر
اندھا ہمیں راستہ دکھا رہا ہے

ایسے میں جب عام آدمی حواس گم کر بیٹھتا ہے، شاعر فوری ردِ عمل کے طور پر طفل تسلیوں کا سہارا لیتا ہے۔ جو ہے، جیسا ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔

لاکھ کوشش پر بھی گھر کو گھر نہ کر پائے شفیق
اور پھر ہم نے مکاں کو بس مکاں رہنے دیا

لیکن انجام کار

لہر لہر بپھری ہے، قہر قہر دریا میں
بے جواز لگتا ہے، سعی رائگاں رکھنا

زمیں تو خیر زمیں تھی کہ تنگ ہم پہ ہوئی
اک آسماں تھا سو وہ بھی سروں سے جاتا رہا

شاعر کے اندر کا دانشور بیدار ہوتا ہے۔ وہ خرابی کی اصل جڑ سے آشنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اصلاح کی کوششیں صحیح سمت میں نہیں ہیں۔فرد اور معاشرہ ۔۔دراصل دونوں کی اصلاح درکار ہے۔ دوا کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کے حضور دعا کی بھی ضرورت ہے۔یہاں شاعر کے اندر کا انسان چیخ اٹھتا ہے کہ مذہب اس مسئلے کا سب سے بہتر حل ہے۔

مسئلہ سارے کا سارا اور ہے
درد ہے کچھ اور چارا اور ہے

برسرِعام یہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں
اس بھرے شہر میں زندہ ہے صداقت ہم سے

جو بھی ہم سے بن پڑا کرتے رہے
رت بدلنے کی دعا کرتے رہے

عافیتِ جاں ڈھونڈتا ہوں کنجِ دعا میں
جب وقت مرے واسطے موزوں نہیں ہوتا

شاعر بھی کیا خوش گمان ہوتا ہے۔ اک ذرا ہوا بدلی نہیں کہ اس کے اچھے وقت کے تخمینے شروع ہو جاتے ہیں۔

پھر وہی رُت ہے، پھر نمو کا عمل
ٹہنی ٹہنی، شجر شجر ٹھہرا

زندگی ایک بھول بھلیاں سے کم نہیں۔روزِ اول سے فلاسفر، دانشور، حکماءزندگی اور کائنات کی گتھیاں سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ان سربستہ رازوں کا پاجانا اتنا آسان نہیں۔شفیق سلیمی کے ہاں اس حوالہ سے خوبصورت اشعار ملتے ہیں۔

جنگل کا پار کرنا کچھ آسان تو نہیں
رستوں کے درمیان سے رستہ تراشنا

کون ناپے گا سمندر کی طلسمی وسعتیں
کشتیاں تو چل رہی ہیں ساحلوں کے ساتھ ساتھ

ہم نے سب کے سب مجلے پڑھ لیے
زندگی! تیرا شمارا اور ہے

تو کس شمار میں آئے گا، کس خمار میں ہے
زمین دھند میں لپٹی، فلک غبار میں ہے

شفیق سلیمی کی شاعری کا غالب حصہ معاشی و معاشرتی و سیاسی آگہی اور مضامینِ ہجرت پر مبنی ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ ان کے ہاں بس یہی کچھ ہے۔ اپنے پیشروؤں اور معاصر شعراءکے مانند ان کے ہاں مضامین کا تنوع ہے اور محبت کہ کسی عہد میں غزل کا اصل موضوع ٹھہری تھی، ان کے ہاں بھی بدرجہ¿ اتم موجود ہے۔ایک جیتا جاگتا محبوب ہے۔سپردگی کی خواہش ہے۔واضح رہے کہ سپردگی کی خواہش ہے، سپردگی نہیں۔ہلکے پھلکے معاملاتِ عشق کہ کسی دور میں معاملا بندی کہلائے ،بھی دکھائی دیتے ہیں۔

تو اک بھرپور غزل ہے
تجھے مصرعہ مصرعہ گاؤں

ساری تعبیریں ہیں اس کی، سارے خواب اس کے لیے
ہر سوال اس کے لیے ہے، ہر جواب اس کے لیے

ہونٹوں پہ لرزتی ہوئی خاموش صدا کا
آنکھوں کے دریچوں سے گزر کیسا لگا ہے

لیکن

اُس سنگ صفت کے لیے جاں دے کے بھی دیکھا
وہ موم تو ہو جاتا ہے، ممنوں نہیں ہوتا

وہ کہیں میری ہتھیلی پر نہیں
کیا شفیق اُس کا ستارہ اور ہے

یہ کیفیت بلکہ یوں کہیے کہ حال زیادہ طویل دکھائی نہیں دیتا۔ اور دیروز بن جاتا ہے۔اور یادوں کی شکل میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔کہیں ہلکی اور کہیں شدید کسک بن جاتا ہے۔

یہ کیا ہوا کہ کوئی بھی نظر میں جچتا نہیں
وہ کون تھا جو مرے منظروں سے جاتا رہا

جو میرے ساتھ پہنچا منزلوں تک کون ہے یہ
جسے میں چھوڑ آیا راستوں میں کون تھا وہ

وہ تیرا غم تھا، میرا عکس تھا یا واہمہ
جو میرے روبرو تھا آئنوں میں کون تھا وہ

چاند ہی تنہا نہیں ہے بام پر
اک شبِ ہجراں کا مارا اور ہے

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا
خفا جو خود سے ہوئے آئنہ بھی ٹوٹ گیا

کہہ رہے ہیں مجھ سے خوشبو، پھول،پھل اور ذائقے
تم بھی اپنا رنگ بدلو، موسموں کے ساتھ ساتھ

ہمارا شاعر آگے چل کر کیاکارہائے نمایاں سرانجام دیتا ہے۔ قرطاسِ وقت پر اپنے نشان ثبت کر پاتا ہے کہ نہیں،اس کی پیشین گوئی تو کی جا سکتی ہے لیکن فیصلہ قدرے مشکل ہے کہ بقولِ شفیق سلیمی

ابھی سے کیسے تعین ہو راستوں کا شفیق
سفر پہ نکلا ہوں ان دیکھی منزلوں کے لیے

یہی ان دیکھی منزلیں جن کی کھوج میں شفیق سلیمی ہیں، آنے والے عہد میں ان کے ادبی قد و قامت کی ضامن ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نوید صادق)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ: ماہنامہ بیاض، لاہور