بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

ہمارا پیارا وطن پاکستان آج کل بے شمار مسائل کا شکار ہے کچھ لوگ تو اب پاکستان کو مسائلستان کہتے ہیں۔ ویسے تو کئی مسائل ہیں لیکن آج ہم خود کش حملوں کو دیکھتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پاک فوج جب کہیں آپریشن کرتی ہے تو وہ لوگ جواب میں خود کش حملے کرتے ہیں۔ ہم تھوڑی دیر کے لئے کچھ باتیں تصور کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کی فوج سرا سر غلطی پر ہے اور جن کے خلاف آپریشن کر رہی ہے وہ مسلمان ہیں اور اسلام کی سر بلندی کے لئے کوشاں ہیں۔ جنہیں آج کل طالبان کہا جاتا ہے یا وہ خود کہلواتے ہیں۔ ایک بات یاد رہے کہ ہم افغانی طالبان کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ پاکستانی طالبان کا ذکر کر رہے ہیں اور نہ ہی افغانی طالبان کا پاکستانی طالبان سے رشتہ ناتہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ ایک علیحدہ اور لمبی بحث ہے۔ اچھا تو ہم اپنے تصورات میں واپس آتے ہیں کہ پاکستانی فوج غلطی پر ہے اور طالبان اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔ پاکستانی فوج تو ہے ہی غلطی پر اس لئے وہ جو بھی کرے غلط ہے لیکن ہم اُن لوگوں کے کردار کو دیکھتے ہے جو اسلام اور مسلمان کے لئے لڑ رہے ہیں یعنی پاکستانی طالبان۔۔۔

پاکستانی فوج امریکہ کے کہنے پر یا خود اپنی مرضی سے طالبان کے علاقے پر حملہ کرتے ہیں تو جواب میں طالبان خود کش حملے کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خود کش حملہ پاکستانی فوج پر ہے یا کسی اور پر؟؟؟ یہ بات سب جانتے ہیں کہ خود کش حملے فوج پر بھی ہوتے ہیں اور عام عوام پر بھی۔ فوج پر ہونے والے حملوں کو چھوڑ کر عام عوام پر ہونے والے حملوں کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے لڑنے والے کیا کر رہے ہیں؟؟؟

اسلامی تعلیمات اور تاریخ کھول کر دیکھیں تو ایک بات صاف صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے ہر کام کے قوانین اور قواعد و ضوابط بنائے ہیں اور مسلمانوں کو اُن پر چلنے کا کہا گیا ہے۔ حضورﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے کی جنگوں کو دیکھیں تو جب بھی کوئی اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو اُس کو جنگ کے قوانین یاد دلائے جاتے جن میں سے صرف ایک جس کو تقریباً ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے۔ وہ یہ کہ “جو تہمارے خلاف ہتھیار نہ اُٹھائیں انہیں کچھ نہیں کہنا” یعنی عام الفاظ میں یوں کہ جو لوگ تم سے نہیں لڑتے اُن سے تم نے نہیں لڑنا اور نہ ہی انہیں کوئی نقصان پہنچانا ہے بے شک وہ کوئی بھی ہوں۔

یہاں دیکھا جائے تو وہ لوگ جن کے خلاف لڑنے سے منع کیا جا رہا ہے وہ لوگ ہیں تو دشمن کے اور دشمن کے علاقے کے اور ہو سکتا ہے کہ وہ کفار ہوں۔ لیکن پھر بھی عام عوام سے لڑنے سے منع کیا گیا۔ ہم اس ایک اصول کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کفار عوام، دشمن کے لوگ، ظاہر ہے جن کے لوگ ہوں گے تو ہمدردیاں بھی اُن کے ساتھ ہوں گی لیکن پھر بھی عام عوام کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔

اب ہم نے صرف ایک اسلامی جنگی اصول کو دیکھ لیا۔ اب دیکھتے ہیں اسلام کے لئے لڑنے والے طالبان کو۔۔۔ طالبان کی دشمن اگر فوج ہے تو فوج سے لڑیں لیکن بے گناہ پاکستانی عوام کو کیوں مار رہے ہیں؟؟؟ طالبان پر حملہ فوج کرتی ہے لیکن طالبان کمزور عوام پر خود کش حملہ کیوں کرتے ہیں؟؟؟ اس غریب عوام کو روٹی نہیں مل رہی لیکن یہ انتقامی کاروائی میں بھوکی عوام کا گوشت کیوں کھاتے ہیں؟؟؟ ملک بحرانوں کا شکار ہے لیکن ملکی تنصیبات کو تباہ کر کے ملک کو اور کھوکھلا کیوں کرتے ہیں؟؟؟ یہاں ویسے ہی بھائی بھائی سے خوف زدہ ہے پھر چیتھڑے اڑا کر عوام میں خوف کیوں پیدا کیا جا رہا ہے؟؟؟ کیا قصائی کم پڑ گئے جو خود کش حملہ کے ذریعے اپنا اور عوام کا گوشت کیا جا رہا ہے؟؟؟

اِن باتوں کو دیکھ کر ایک بات صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ جو شر پسند عناصر عام عوام پر حملے کرتے ہیں اور اُن کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں وہ کسی طرح سے بھی اسلامی جنگی اصولوں پر نہیں چل رہے اور نہ ہی اسلام اور مسلمانوں کی خاطر لڑ رہے ہیں بلکہ ذاتی مفادات، بیرونی یا اندرونی شیطانی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ جن کا مقصد اسلام، مسلمانوں اور جہاد کو بدنام کرنا ہے۔ یہ سرا سر اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر عام عوام سے نظریاتی اختلاف ہے تو تبلیغ کریں، سچی باتیں بتائیں اور لوگوں کے دل جیتیں۔ اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ نظریاتی اختلاف پر دوسرے کو قتل کر دیا جائے۔ جنگ میں عام عوام کو مارنا اور نظریات کے اختلاف پر لوگوں کو قتل کرنا یہ کہاں لکھا ہے؟؟؟

میں تمام لوگوں سے جو اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں خدا کے لئے عام عوام کو مت مارو۔ ہمیں سمجھو ہم امن چاہتے ہیں، ہم علم چاہتے ہیں، ہم ترقی چاہتے ہیں، ہم اسلام کی سر بلندی چاہتے ہیں۔ ہم اسلام کے اُس دشمن سے لڑنے والے ہیں جو ہم سے لڑتا ہے۔ ہم بے گناہوں پر ظلم نہیں کرتے۔ لیکن طالب تم کیسے انسان ہو؟؟؟ جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہو اور بے گناہوں کا خون بھی بہاتے ہو؟؟؟ جبکہ “مسلمان بے گناہوں کا خون نہیں بہاتا”۔۔۔

احمد فراز بھی کہہ کر چلا گیا ہم پھر سے اُس کی یاد تازہ کرتے ہوئے اُس کا پیغام سناتے ہیں

تم اپنے عقیدوں کے نیزے ہر دل میں اتارے جاتے ہو
ہم لوگ محبت والے ہیں، تم خنجر کیوں لہراتے ہو
اس شہر میں نغمے بہنے دو، اس شہر میں ہم کو رہنے دو
ہم پالن ہار ہیں پھولوں کے، ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں
تم کس کا لہو پینے آئے، ہم پیار سکھانے والے ہیں
اس شہر میں پھر کیا دیکھوگے، جب حرف یہاں مرجائےگا
جب تیغ سے لے کٹ جائے گی، جب شعر سفر کرجائےگا
جب قتل ہوا سب سازوں کا، جب کال پڑا آوازوں کا
جب شہر کھنڈر بن جائے گا، پھر کس پر سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں، جب دیکھوگے، ڈر جاؤ گے