کچھ دن پہلے انٹرنیٹ کی ایک فورم اردو ویب ڈاٹ او آر جی پر ایک دوست خرم شہزاد خرم نے ایک دھاگہ(تھریڈ) شروع کیا جس کا نام تھا “آپ نے کیا دیکھا”۔ دھاگے کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے زندگی میں کوئی حیرت انگیز واقعہ دیکھا ہے تو یہاں لکھیں۔ خود خرم بھائی نے اپنا ایک واقعہ لکھا جس میں انہوں نے چور کو دیکھا تھا۔ آخر کار شور مچانے سے چور بھاگ گیا۔
میرا بھی دل کیا کہ میں بھی اپنے کئی ایک واقعات میں سے کوئی لکھ دوں۔ جب بھی کچھ لکھنے لگتا تو بار بار ایسا لگتا کہ میں نے بہت کچھ دیکھا ہے اب لکھوں تو کیا لکھوں۔ ساتھ ہی بزرگوں کی باتیں یاد آتی ہیں کہ ہم نے یہ دیکھا ہم نے وہ دیکھا یعنی اُن کے بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی یاداشت۔ میرے دادا جان مرحوم کہا کرتے تھے کہ ہم نے زمین کو دو حصوں میں تقسیم ہوتے دیکھا یعنی وہ پاکستان بننے کے عمل کو زمین کے دو ٹکڑے ہونے سے تعبیر کرتے تھے۔ ہم نے دیکھا تھا کہ کیسے بے گناہ لوگوں کو خون کے دریا میں نہلایا گیا۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی موت کو شور مچاتے سنا تھا۔ وہی جو ایک ساتھ رہتے تھے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہو گے۔ یہ منظر زمین کو دو حصوں میں تقسیم ہونے سے بھی زیادہ بھیانک تھا۔ دادا جان پاکستان بننے سے پہلے آفیسر تھے جو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی طرح کے کسی ادارے میں نوکری کرتے تھے۔ اُن کا کام تمباکو کی کاشت کو دیکھنا اور پھر اُس پر ٹیکس لگانا تھا۔ انہیں دنوں تحریک پاکستان بھی عروج پر تھی اور آخر کار پاکستان بن گیا۔ گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ جو آفیسر جہاں (پاکستان یا ہندوستان) رہنا چاہتا ہے وہ دفتر میں آ کر لکھ دے۔ دادا جان اس کام کے لئے گجرات(پاکستان) سے گورداس پور گئے۔ اُن کے ساتھ اُن کے دو ساتھی جن میں ایک ہندو اور ایک سکھ تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر اتر کر تانگہ لیا اور دفتر جا رہے تھے کہ راستے میں دیکھا کہ ایک مسلمان آگے بھاگ رہا ہے اور سکھ اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور آخر کار سکھوں نے مسلمان کو پکڑ کر مار دیا۔ دادا جان کے سکھ دوست کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی پھر واپسی پر ان تینوں کی راہ الگ ہو گی وہ دونوں موجودہ ہندوستان کی طرف اور دادا جان واپس گجرات(پاکستان) کی طرف روانہ ہو ئے۔ ریلوے اسٹیشن پر دیکھا کہ ایک سکھ ہے اور اُس کے پیچھے کچھ مسلمان لگے ہوئے ہیں اور ویسے ہی جیسے سکھوں نے مسلمان کو مارا تھا اب کی بار مسلمانوں نے سکھ کو مار دیا۔ تلوار، چاقو یا خنجر سکھ کے معدے کو چیر گیا۔ معدے میں پڑی ہوئے خوراک باہر نکل آئی۔ خوراک کیا تھی گھاس بھوس تھا وہ کئی دن سے فصلوں میں چھپے ہوئے کھاتا رہا۔
دادا جان جب بھی ایسا کوئی واقعہ سناتے تو کہتے کہ بہت خون خرابہ ہوا تھا۔ خون کے دریا تھے۔ جن میں لوگ نہا رہے تھے۔ واقعہ سناتے سناتے اپنے ایک خاص انداز میں افسردہ ہو جاتے اور کہتے کہ وقت نے ہمیں بہت عجیب وقت دکھایا ہے۔
آج جب میں اپنے بارے میں کہ میں نے کیا دیکھا لکھنے کا سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ جیسے دادا جان ہمیں بتاتے تھے اسی طرح اگر ہم بھی زندہ رہے تو کل کو نئی نسل کو بتائیں گے کہ ہمارے دادا نے پاکستان بنتے ہوئے بہت خون خرابہ دیکھا اور ہم نے پاکستان بننے کے بعد اسی خون کو زیادہ مقدار میں دیکھا۔ اُس وقت تو سکھ مسلمانوں کو یا مسلمان سکھوں کو مارتے تھے لیکن ہم نے اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کو مرتے دیکھا۔ ہم نے اپنوں کی جدائی، تڑپ اور درد دیکھا۔ غربت سے مرتے معصوم بچے دیکھے۔ ننے ننے ہاتھ گاڑیوں کو صاف کرتے دیکھے۔ کچرے کے ڈھیر سے خوراک تلاش کرتے غریب دیکھے۔ غربت ختم کرنے کی کانفرنس فائیو سٹار ہوٹل میں ہوتی دیکھیں۔
مزید ہمارے قصے کچھ یوں ہونگے ۔۔۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں ہر طرف نہریں ہی نہریں تھیں۔ مسلمانوں کا خون اُن نہروں میں پانی کی جگہ بہایا جاتا تھا۔ اسلام کا نام لے کر جو جی میں آیا کر دیا جاتا۔ لوگوں کے ایمان کو لوگ ہی تول رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر کفر کا فتویٰ لگا کر واجب القتل قرار دیا جاتا تھا۔ فرقہ واریت کو ہی دین بنے دیکھا۔ ایک لاؤڈ سپیکر خرید کر لوگ امام، خطیب اعظم اور مفتی بن بیٹھتے تھے۔ علم ، تحقیق اور ریسرچ نام کی چیز سے نفرت کی جاتی تھی۔ اسلام کی اصل روح کو سمجھنے والے چند پڑھے لکھے اور امن پسند لوگ تو موجود تھے لیکن انہیں وقت کی ایسی زنجیر ڈال دی گئی تھی کہ وہ قید کی زندگی گزار رہے تھے۔ نوجوان اپنے بزرگوں کو کم عقل اور اُن کی تحقیق کو سرے سے ہی غلط کہتے تھے۔ ہر بندہ اپنے آپ کو امیرالمومنین بننے کے قابل اور امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور باقی اماموں سے زیادہ بڑا عالمِ دین سمجھتا تھا۔ جو دل میں آتا اُس کو اسلام کا نام دے دیا جاتا۔ انسان کی جان مکھی مچھر سے بھی کم تر جانی جاتی تھی۔ کچھ لوگ حالات سے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کر لیتے اور کچھ کو انتہا اور شدت پسند خودکش حملے میں مار دیتے۔ ہر طرف بمب دھماکے تو یوں ہوتے جیسے چھوٹا موٹا پٹاخہ پھوڑا جا رہا ہو۔ لوگوں کے تندرست جسم ایک ہی لمحہ میں چیتھڑے چیتھڑے کر دیئے جاتے اور یوں سمجھا جاتا کہ یہ تو عام سی بات ہے۔ حاکمِ وقت اور باقی سیاسی پارٹیاں جمہوریت کے نام پر اپنے کاروبار سجاتے۔ اسی جمہوریت کے بازار میں کچھ چھوٹے لوگ ریڑھی لگا لیتے۔ اسی جمہوری بازار میں آئین کو کھوٹے سکے کے عوض بھیچ دیا جاتا۔ اگر بازاروں میں کچھ تھا تو صرف آئین کی نیلامی ہی تھی۔ اشیاء خوردنی نام کی چیزیں ناپید ہو چکی تھیں۔ آٹا کا نام سن کر ہی لوگ خوش ہو لیتے تھے۔ بجلی اپنی رفتار کی طرح آتی اور لمحہ بھر میں واپس چلی جاتی۔ انڈسٹری ایسے تباہ ہوئی کہ موہنجوداڑو کے کھنڈرات سے بھی بری حالت ہو گئی اور پھر لوگ اسی سکھ جس کا واقعہ دادا جان مرحوم سناتے تھے کی طرح اپنی جان بچانے کے لئے جنگلوں میں گھاس بھوس کھاتے رہے۔ آخر کار موت کے بعد دیکھا تو خوراک کیا تھی بلکہ گھاس بھوس ہی تھا جو اِدھر اُدھر سے جانوروں کی طرح کھایا ہوا تھا۔
یہ قصے سناتے ہوئے ہم بھی دادا جان کی طرح افسردگی کے عالم میں ایک لمبی سانس لیں گے۔ اپنی عینک اتار کر آنکھوں سے بہتے ہوئے سمندر کو صاف کرتے ہوئے آج کل کے حالات کی درد ناک یادیں، خون کے رنگے ہوئے کپڑے میں سمیٹ کر الماری میں رکھ دیں گے۔۔۔ یہ ساری باتیں کرنے کہ بعد اب مجھے پتہ چلا ہے کہ خرم بھائی کس آنکھوں دیکھا حیرت انگیز واقعہ کی بات کر رہے ہیں۔ اور میں نے اُن کے کہنے پر اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ لکھا دیا ہے کہ “میں نے کیا دیکھا”۔
اللہ تعالٰی پاکستان کی حفاظت کرے۔۔۔آمین