پارک میں

وہ کافی دیر سے بچوں کے پارک میں بیٹھا تھا۔ وہ اگر یہاں نہیں دکھائی دیتا تو شاید شہر میں لگے ہوۓ سرکس میں تماش بینوں کی سب سے اگلی قطار میں بیٹھا نظر آتا اور بچّوں کی طرح تالیاں پیٹتا۔ اسے سرکس سے بے حد دل چسپی تھی، خاص طور پر جب لڑکے لڑکیاں چھت پر لگے جھولوں کے ڈنڈوں میں پیر پھنسا کر لٹک جاتے یا پھر اُسے اس وقت بھی بے حد مزا آتا جب ایک تار پر کوئی لڑکی اپنے پیروں سے رقص دکھاتی یا ایک پہیے والی سائیکل چلاتی تیزی سے گزر جاتی۔ مگر اس وقت وہ سرکس کے تماش بینوں میں شامل نہیں تھا بلکہ پارک میں نظر آ رہا تھا۔
سامنے کچھ لڑکے چھوٹی سی ربر کی گیند سے فُٹ بال کا کام لے رہے تھے۔ گلاب کی کیاریوں کی درمیانی خلاؤں کو گول بنا رکھا تھا اور ننھے ننھے پیر اس ننھی منی سی گیند کو فٹ بال سمجھ کر کِک لگا رہے تھے۔
“گول” ایک بچّے نے چیخ کر کہا۔
“گول” دوسرے بچوں کی آواز کی آوازوں کے ساتھ ہی ایک بوڑھی ان سنی آواز بھی شامل تھی۔ وہ بڑے انہماک سے یہ فٹ بال میچ دیکھتا رہا۔ ایک ٹیم میں چار کھلاڑی تھے اور دوسری ٹیم میں چھہ۔ چھہ کھلاڑیوں کی ٹیم نے چار کھلاڑیوں والی ٹیم پر چار گول کر دۓ تھے جب کہ چار کھلاڑیوں والی ٹیم ایک ہی گول کر سکی تھی۔ اس لئے جب اس بار کھلاڑیوں والی ٹیم نے ایک اور گول کیا تھا تو اسے بے حد خوشی ہوئی تھی۔ ان چاروں میں نیلی نیکر والا لڑکا گیند کو ماہر کھلاڑیوں کی طرح کِک لگا رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد براؤن پتلون پہنے ایک مرد اور گلابی جین پہنے ایک عورت وہاں آئی۔ “سُنیل!”۔ انھوں نے آواز لگائی۔ اور وہ نیلی نیکر والا لڑکا اپنے سرخ موزوں اور سرخ ہی جوتوں سے بھاگتا ہوا ان کے پاس گیا۔سبز گھاس پر دوڑتے یہ سرخ جوتے اسے بے حد پیارے لگے۔ “چلو۔ اب گھر چلیں”۔ وہ مرد عورت شاید اس بچّے کے والدین تھے۔ اس نے بڑی اداس آنکھوں سے گیند اٹھائی اور بغیر دوسرے بچّوں کو کچھ کہتا ہوا اپنے والدین کے ساتھ چل دیا۔
اُس نے بڑی دیر تک ان تینوں کا اپنی نظروں سے تعاقب کیا۔ پارک کے باہر مرد نے گرے سکوٹر کے پیچھے عورت کو اور آگے نیلی نیکر والے لڑکے کو کھڑا کر کے پیروں کی ہلکی سی جنبش سے سکوٹر سٹارٹ کیا اور روانہ ہو گیا۔ شام کے ساۓ بڑھتے جا رہے تھے۔
سبز فراک اور زرد موزوں والی ایک بچّی سلائڈر پر سیڑھیوں کے ذریعے بھاگ بھاگ کر چڑھنے اور سلائڈ کے چکنے دھات کے فرش پر سے پھسلتے ہوۓ اترنے لگی۔
سیاہ نیکر والا ایک بچہ لکڑی کے گھوڑے پر بیٹھا زمین پر ٹانگوں کو مار مار کر گھوڑے کو اس بری طرح آگے پیچھے کر رہا تھا کہ اصل گھوڑا شاید اپنے مالک کی فرماں برداری سے انکار ہی کر دیتا۔
کئ بچّیاں ایک دوسرے کو چھونے کا کھیل کھیل رہی تھیں اور تیزی سے بھاگ رہی تھیں۔ ان کے اڑتے ہوۓ فراک اور رنگ برنگی جینس بڑی خوب صورت لگ رہی تھیں۔ یہاں کی گھاس نم تھی جس کی وجہ سے ان کے بھاگتے ہوۓ پیر پانی کے ننھے ننھے موتی فضا میں بکھیر دیتے تھے۔
دھیرے دھیرے دوسرے مرد اور عورتیں ادھر آتی رہیں اور بچّے ان کے ساتھ واپس جاتے رہے اور وہ ان سب کو پیدل چلتے ہوۓ، کار میں بیٹھتے ہوۓ، یا سائیکل پر سوار ہوتے دیکھتا رہا۔ اپنی اداس آنکھوں سے۔
پھر ایک دوسرے کونے سے سکول کی کچھ لڑکیاں اس طرف سے گزریں۔ ان کے ہاتھوں کے سامان سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ پارک کے کسی غیر آباد کونے میں پکنک منا کر واپس جا رہی تھیں۔ ایک لڑکی اچانک گھاس پر بیٹھ گئی اور دوسری کو پکارا جس کا نام کویتا تھا۔ یہ نام اسے پکارنے پر ہی پتہ چلا تھا۔ اس نے کویتا سے کچھ کہا اور گھاس پر بیٹھ گئ۔ اس نے چپّل اتار کر اپنے پیر باہر نکالے۔ اسے یہ پیر بے حد پیارے لگے۔ جیسے دو فاختائیں۔ کویتا نے پہلی لڑکی کے پیر سے شاید کانٹا نکالنے کی کوشش کی۔ اور کچھ ہی لمحوں میں یہ لڑکیاں بھی وہاں سے جا چکی تھیں۔ پارک سنسان ہو گیا تھا۔ درختوں کی آخری چوٹیوں پر دھوپ کے اداس اور پیلے دھبّے مِٹنے لگے تھے۔
وہ اداس ہو گیا۔ اس نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے ہینڈل موڑا اور دھیرے دھیرے اپنی وھیل چئیر کو موڑ کر سڑک پر لے آیا۔