پرائی کھڑکیاں

شام کا وقت تھا۔ میں وقت گزارنے ے لیے کھڑکی کے نزدیک آکر کھڑا ہو گیا تھا جس کے نیلے سبز اور سرخ رنگ اور مختلف ڈیزائنوں والے شیشے شفق کی روشنی میں عجیب سائیکلیڈیلک (Psychedelic) منظر پیش کر رہے تھے ۔ مگر میں شاید ان مناظر سے لطف نہیں اٹھا رہا تھا۔ میری توجہ باہر سے گزرنے والے ایک بوڑھے آدمی پر مرکوز تھی جس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ سی چھڑی تھی جس میں گھنگرو بندھے تھے ۔ دوسرے ہاتھ میں کشکول۔ کسی بھی شام دھندلکے میں اس Psychedelic نمونے دکھانے والی کھڑکی سے جب نیچے سڑک کی طرف جھانکتا ہوں تو مجھے گھنگھروؤں بندھی چھڑی پٹکتا کوئی فقیر نظر آ جاتا ہے اور مجھے آج سے اٹھارہ بیس سال پہلے کی ایک گھنگرو بندھی سیاہ شیشم کی لکڑی کی آواز آتی ہے جو ’غریب خانے ‘ کی ڈیوڑھی میں کھڑی پکارا کرتی تھی ۔
’’دم کا دیدار بابا دم کا دیدار
دم کا ہے گھوڑا۔دم ہی ہے سوار
اور نہ جانے کیا کیا ۔ ۔ اس وقت ہمارے لیے ان الفاظ کی اہمیت کچھ نہیں تھے ۔ یہ محض بول تھے ۔ یہ تو اب احساس ہوتا ہے کہ ان بھکاریوں کے سوکھے ہونٹوں سے بھی صداؤں کے روپ میں کیسے تر و تازہ فلسفیانہ اور تصوفانہ خیالات ابلتے تھے ۔ کاش اس فقیر کی آواز ہم میں سے کوئی ٹیپ کر کے رکھ لیتا۔ مگر کیا اس وقت کوئی ٹیپ ریکارڈر سے واقف تھا ۔۔۔ ! اس کا چہرہ ۔۔۔۔ ؟ہاں۔ ایک میلی سی سفید چادر جو کسی زمانے میں سفید رہی ہو گی۔ اس کے چہرے کے چاروں طرف بندھا ہوا نقابہ۔ جھرّی زدہ سیاہی مائل چہرہ مگر آنکھوں کی چمک چہرے کی سیاہی میں کمی پیدا کرنے والی ۔ اور لٹکے ہوۓ گوشت میں جو کبھی تندرست بازو رہے ہوں گے ، شیشم کی چھڑی ۔ جس کے مُنھ کے چاروں طرف کئی کالے پیلے گھنگھرو اور کالے کالے سرخ سرخ بڑے بڑے موتی بندھے ہوۓ یا شاید کہ رہا ۔ چھن وہ زمین سے چھڑی ٹکرا ٹکرا کر بجاتی اور گردن ہلا ہلا کر گاتی رہتی۔ ’’دم کا دیدار با با دم کا دیدار۔
مگر ہم لوگوں میں سے کسی نے اس وقت نہ غور ہی کیا اور نہ ہی ہماری عقل میں یہ سما سکتی تھی کہ کبھی کبھی ایسے بے قیمت لگنے والے الفاظ کتنے قیمتی ہو سکتے ہیں ۔ مگر اس وقت ہم لوگوں کو گردن ہلا ہلا کر اس کی نقل میں ’’ دم کا دیدار‘‘ اسی کے لہجے میں چلانے کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھ میں آتا تھا۔ نانی بی کے کچھ دینے کے بعد وہ بڑھیا رخصت ہو جاتی تو ہم پھر بھاگ کر امرودوں کے درختوں پر چڑھ جاتے ۔ امرود تو اب میں کہہ رہا ہوں۔ ورنہ وہ تو ’سفریوں‘ کے پیڑ تھے ۔
’’یہ غریب خانہ ‘‘ تھا ۔ یہاں سے بہت دور وسط ہند میں مالوہ کی ایک چھوٹی سے غریب ریاست جاؤرہ اور اس میں سرکاری مکانات کا ایک حصہ۔ بلکہ دراصل ’’ سردار محل‘‘ جس کے شاہانہ نام سے نا نا جان سخت متنفر تھے اور انہوں نے گھر کی دوبارہ تعمیر و مرمت مکمل ہوتے ہی ڈیوڑھی کے دروازے پر سنگ مر مر کا سنگِ خانہ لگوا دیا ۔ ’’ غریب خانہ‘‘ ۔ اور اس کے نیچے خود ان کا کہا ہوا تاریخی شعر ۔۔
سن مسیحی و ہجری کا مادّہ احمدؔ ۔۔۔۔ ’’غریب خانۂ طبن ‘‘ خانۂ مسرت‘‘ است
’’غریب خانۂ طین ‘‘سے 1936 ء اور خانۂ مسرّت سے 1356 ھ کے اعداد برامد ہوتے ۔ مگر یہ تو میں اب کہہ سکتا ہوں۔ اس وقت تو شاید بے حد کوشش کر کے بلکہ ہجّے کر کے ہم شعر پڑھ پاتے ہوں گے ۔ اس طویل اور بوڑھی ڈیوڑھی جس کے اختتام پر بڑ سے دروازے پر یہ الفاظ لکھے ہیں ۔ اور اس کے کنارے ایک بڑھیا نہایت فلسفیانہ صدا لگاتی ہے اور ہم بھاگ کر صفریوں کے درختوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ دیوڑھی کے پار ایک طویل آنگن ہے ۔ جس کے مشرق کی طرف ایک کنواں ہے اور کنوئیں کے پیچھے کی دیوار پر غسل خانے سے ملحق ایک لکڑی کی سیڑھی لگی ہوئی ہے ۔ جس کی بلّیوں پر چڑھ کر گھر کی عورتیں ہم سایوں سے باتیں کیا کرتی ہیں۔ اور ہم ساۓ بھی دور کے کون تھے ۔۔۔۔ جبو خالہ اور بھوری خالہ جو نانا جان کی بھتیجیاں ہی تو تھیں۔ جنوب کی طرف کمروں کی طویل قطار ۔ اور شمال کی طرف ایک دیوار جو ایک ساں ڈیوڑھی سے غسل خانے اور بیت الخلا تک آنگن پار کرتی ہوئی چلی گئی تھی۔ جس کے اس پار دُکانیں ہی دُکانیں ۔ اور ان سارے طویل کمروں کے باہر لمبے دالان میں ’’ دم کا دیدار‘‘ سننے کے بعد راجہ میاں کی بانسری کی آواز آتی ۔ ’’اِلّو ری ۔۔۔۔۔۔‘‘ اور ہم سب بھی ’’الّو ری‘‘ گاتے ہوۓ پہنچ جاتے اور بانسری کے سروں پر بے ڈھنگا کورَس شروع ہو جاتا ۔ (ہم سب لوگوں کو اپنی اپنی جگہ اپنے گانے پر بے حد فخر تھا۔ ) ’’ پنچھی بنوں اڑتی پھروں مست گگن میں ۔۔۔‘‘ اور اس گیت کو گانے میں جنس کی کوئی تخصیص نہیں تھی ۔ شمّی باجی اور طلعت آپا بھی اسی طرح اڑتی پھرتی تھیں اور واجد میاں اور راشد میاں بھی۔ ہم سبھی گگن میں اڑتے پھرتے تھے ۔
واجد میاں نے بانسری بجائی نہ جانے کیسے سیکھ لی تھی ۔ ہم چاروں ان کی اس حرکت سے بے حد مرعوب تھے اور پھر اس کورَس کے آئٹم کے بعد سفریوں کے درختوں میں محفل جمتی اور کچے کچے امرودوں ۔۔ سفریوں سے ایک دوسرے کی ضیافت کی جاتی۔ کبھی باورچی خانے سے جا کر نمک اور کالی مرچ لائی جاتی جو ہمیشہ اماں جان پسی ہوئی ریڈی میڈ رکھتی تھیں۔ شاید وہ مزا بعد میں پکے سے پکے امرودوں میں بھی نہ آیا ہو گا۔
باورچی خانے میں ایک فرض اور تھا۔ اصلی گھی کے کنستر میں سے جو سردیوں میں جما ہوا ہی ہوتا، ایک بھیلا نکال کر شکر کے ڈبے میں ڈالنا اور کھا لیتا۔ اور سر کے بالوں سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ کسی دوسرے سے اس بات کا تذکرہ بھی نہ کرنا۔ حالانکہ ہم پانچوں سوار یہی کرتے تھے ۔ مگر نہ جانے کیوں ہر ایک دوسروں سے چھپ کر یہ حرکت کرتا تھا۔ باورچی خانے سے جو بھی گھی کے ہاتھ سر سے یا کسی پردے سے پونچھتا ہوا نظر آتا ، ہم لوگ سب اپنے کو مجرم سا محسوس کرتے اور اس وقت کا مجرم باورچی خانے کے دروازے کے قریب ہی برامدے میں رکھی ہوئی گھڑونچی کے نزدیک جا کر پناہ لیتا جہاں بڑے بڑے سیاہ گھڑوں پر سرخ کپڑا اور موگرے کے ہار چڑھے ہوتے ۔ پاس ہی ایک کیل سے ناریل کا بنا ڈونگا لٹک رہا ہوتا جس سے پانی نکال کی چاندی کی پالش کے کٹورے میں بھر کر پاس ہی پڑی ہوئی مٹیالے سبز رنگ کی بنچ پر بیٹھ کر پیا جاتا۔ یہ بنچ نانا جان نے خاص اسی مقصد سے ڈلوائی تھی کہ کھڑے ہو کر پانی نہ پیا جاۓ ۔ مگر ہم لوگوں کے اس وقت پانی پینے میں یہ اہتمام بھی ہوتا کہ اس حد تک احتیاط برتی جاتی کہ کوئی آواز پیدا نہ ہو۔ مبادا برامدے کے پار دالانوں اور کمروں میں دو پہروں کو آرام کرنے والے بزرگ جاگ جائیں۔ پھر بھی اکثر نانی بی اماں جان میں سے کسی کے کھسر پھسر کرنے کی آواز آ ہی جاتی جنہوں نے یا تو کوئی عجیب سا خواب دیکھا ہوتا اور اس کا اظہار فرض ہوتا اور سننے والے کو اس کی تعبیر پر غور و فکر بھی ایسا ہی فرض۔ یا پھر ان بزرگوں کو یہ شک ہوتا کہ باورچی خانے میں چور آ گئے ہیں اور امی کو اس کی کوئی فکر نہ ہوتی۔ وہ بے تکلفی سے بستر پر دراز عجیب و غریب انداز میں خرّاٹے لیتی رہتیں۔
ان بزرگوں سے بھی کئی چیزیں وابستہ تھیں ۔ امّاں جان جو نانی بی اور نانا جان دونوں کی کسی نہ کسی رشتے سے خالہ تھیں، اپنی ’’پن کُٹیا‘‘ میں پان کوٹ کوٹ کر کھایا کرتیں۔ پانوں کی طلب اور دانتوں کی کمی دونوں کی بیک وقت مجبوری کی مثال تھی وہ سنہرے پیتل کی پن کٹیا ۔ ہم لوگوں کوبھی ویسے پان کا شوق نہیں تھا، مگر اماں جان سے کُٹا ہوا پان اکثر کھایا جاتا۔ نانی بی کی بھنی ہوئی سونف سے بھی ہم لوگوں کو بے حد رغبت تھی ۔ پھر امّی اور خالہ جان کے دوپٹے تھے ۔ سفید ململ کو مختلف رنگوں میں کرتے اور تنگ پجاموں کے رنگ سے رنگ ملا کر رنگا جاتا اور پھر ہم میں سے دو دو ایک ایک دوپٹے کو دونوں طرف سے پکڑ کر سکھاتے ۔ دونوں ہاتھوں کی چُٹکیوں میں دو کونے پکڑ کر مٹھّی قریب لائی جاتی پھر ہاتھ اوپر کر کے پھیلاۓ جاتے اور ہاتھ نیچے آنے کے بعد پھر مٹھیاں قریب لا کر یہی عمل دہرایا جاتا ۔ ہوا سے منٹوں میں دوپٹے سوکھ جاتے ۔ اس کے بعد کچھ عجیب و غریب منصوبے بناۓ جاتے ۔ کبھی یہ مہم ہوتی کہ کون اندھیری کوٹھری میں جاۓ۔ اس کوٹھری سے اماں ان نے دو داستانیں بیک وقت وابستہ کر رکھی تھیں۔ اس اندھیری کوٹھری کہلاۓ جانے والے کمرے کے عقبی دروازے سے دوسری منزل کی طرف جانے والی سیڑھیاں بے پر اسرار تھیں۔ اماں جان کا بیان تھا کہ ایک بار ان سیڑھیوں پر انہیں ایک سر کٹا دکھائی دیا تھا۔ اور ایک اور بار اس کوٹھری سے پائل کی جھنکار سنائی دی۔ اور جب وہ تفتیش کے لیے اندر گئیں تو عقبی زینوں کی نظر آنے والی آخری سیڑھی پر انہوں نے گھنگرو بندھے الٹے پیر دیکھے ۔ یہ سر کٹے اور پِچھل پیریاں ہماری زندگیوں میں نہ جانے کیا اہمیت رکھتی تھیں۔ ممکن ہے کہ یہ داستانیں اس لیے بنائی گئی ہوں کہ اوپر کے کمروں میں نانا جان جو سامان خرید کر ڈالتے تھے اس میں ہم لوگ ہی کیا چور تک کچھ گڑ بڑ نہ کریں۔ ایسی مہمیں تنہا سر نہیں کی جاتیں، پھر بھی کبھی کبھی کوئی جیالا تنہا یہ معرکہ سر کر ہی لیتا۔ سر کٹے اور پچھل پہری سے ملاقات کا ہر لحظہ منتظر ۔ مگر جیسے ہی سیڑھی چڑھ کر اوپر گودام والے کمرے میں پہنچ جاتا ، سارا ڈر غائب۔ بس پھر یہ کام کیا جاتا کہ دروازے کے ٹوٹے حصے میں سے لکڑی ڈال کر اندر کا سامان ذرا جھنجھوڑ دیا جاۓ۔ مونگ پھلیوں کے ڈھیر دروازے کے ٹوٹے حصے میں نکلنے لگتے یا اس طرح گرتے کہ ہاتھ ڈال کر جیبیں بھرلی جائیں۔ یہ مہم اکثر مل کر کی جاتی۔ اور جب مونگ پھلیوں سے طبیعت سیر اور جیب بوجھل ہو جاتی تو واپسی کے سفر میں پھر وہی خطرہ در پیش ہوتا۔
’’جناب کل رات کو میں نے اس طرف سے پائل کی آواز سنی تھی‘‘ راشد میاں کو ہمیشہ ایسے بیانات دینے میں مزا آتا تھا۔ اور صاحب ۔ کل تو زینے پر ایک لالٹین آپ ہی آپ ہوا میں معلق سیڑھیاں اترتی ہوئی آ رہی تھی۔۔۔۔۔ ‘‘ میں بھی مرعوب کرنے کی کوشش کرتا ۔ مگر ڈرتے ہم دونوں ہی تھے ۔ بلکہ پانچوں ہی۔ یعنی واجد میاں ،شمّی باجی اور طلعت آپا بھی۔ سب سے زیادہ تو شمّی باجی ہی ڈرتیں ۔ اور راشد میاں اکثر خوفناک داستانیں سناتے رہتے ۔ مگر اندھیری کوٹھری کے سحر سے آزاد ہو کر باہر آنگن کی طرف بھاگنے والوں میں سب سے آگے راشد میاں ہی ہوتے ۔ پھر چین کی سانس لی جاتی اور جیبوں میں ٹھونسی ہوئی مونگ پھلیاں یا دوسری اشیاء اپنی طرف متوجہ کر لیتیں۔
اوپر والے کمرے میں اگر مونگ پھلیاں نہ ہوتیں تو پوست کے ڈوڈے ہوتے ۔ جن کو توڑ کر ہم لوگ خشخاش تو خشخاش افیون تک کھا جاتے ۔ مگر خشخاش کھانے میں وہ مزا نہیں آتا تھا جتنا مونگ پھلیوں میں آتا تھا۔ ایک سال گڑ کے بورے بھرے گۓ تھے ،گودام میں اور ہماری قسمت اچھی تھی کہ ایک بورا دروازے کے ٹوٹے حصے سے بالکل قریب تک لڑھک گیا تھا ۔ پھر لکڑی میں چاقو باندھ کر بورا باہر سے کاٹا گیا مگر بورا کٹنے پر بھی گڑ کے حصول میں کافی محنت کرنی پڑتی جو کہ کھانے کے بعد وصول ہو ہی جاتی۔اس وقت نانا جان سے ہم لوگ ناراض ہو جاتے جب وہ کوئی بے کار سی چیز خرید کر گودام میں بھر لیتے ۔ ایک سال انہوں نے لہسن خریدلیا اور ایک بار سرخ مرچ ۔ بے انتہا بوریت ہوتی ۔سر کٹے اور پچھل پہریوں کی داستانیں تک ختم ہو گئی تھیں ۔ مگر اس سے زیادہ بوریت اس سال ہوئی جب وہ گودام والا کمرہ تقریباً بالکل خالی رہا۔ کیونکہ اس بار چاندی کی ایک بھاری بھر کم سلاخ اس کی دیوار کے ایک کونے میں ہی سما گئی تھی۔ یہ دراصل نانا جان کی سالانہ تجارت تھی۔ ہر سال کسی نہ کسی منگل کے دن جو کہ ہاٹ کا دن تھا۔ ایک بیل گاڑی گھر کی ڈیوڑھی کے پاس آکر رکتی۔ دینا ماموں اترتے اور ’’پردے ہو جانا‘‘ کی آواز لگاتے ہوۓ سامان دوسرے مزدوروں سے اتروانے میں مصروف ہو جاتے ۔ ’پردے ہو جانا ‘ کی آواز یوں تو دن میں دو تین بار آتی ہی تھی۔ کنواں سوکھ جاتا تو بہشتی میاں بھی پردہ کروا کے پانی بھر کر جاتے کئی مشکیں بھر کے ۔ مگر ہم لوگوں کا دھیان ہر منگل کی ہاٹ کے دن اس آواز پر ہوتا تھا جو بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز کے بعد سنائی دے ۔ ’’ پردے ہو جانا ۔۔۔‘‘ ہم لوگوں کو ان مزدوروں پر تعجب بھی ہوتا ۔ یہ کیسی مخلوق ہے کہ انہیں اندھیرے کمرے میں ڈر نہیں لگتا۔ مگر شاید اس تعجب سے زیادہ ہم لوگ دعا میں مصروف ہو جاتے ۔ اللہ میاں ، اس بار مونگ پھلیاں ہوں ۔ خیر ۔ پوست کے ڈوڈے بھی ایسے برے نہیں تھے ۔ یہ دعا بھی کی جاتی کہ بوریوں میں سامان ہو تو بوریاں پھٹی ہوئی بھی ہوں ۔ یا بورے اس کمرے میں خالی کر کے مزدور واپس لے جائیں۔
ہاٹ والا دن ۔۔۔ منگل بڑی مصروفیت کا ہوتا ۔ صبح سے ہی بیلوں کی گھنٹیوں کی آوازیں گونجا کرتیں ۔ اور پھر نیلام کی بولیاں ۔۔ مگر یہ تو بڑے کاروبار والی باتیں تھیں۔ ہماری دلچسپی کی تو چھوٹی چھوٹی دُکانیں تھیں ۔ کسی دُکان پر مختلف رنگوں کے بڑے بڑے موتیوں کے بیسیوں ہار اور کنگن ۔ کسی میں رنگین لکڑی کے فریم والے آئینے ۔ شمّی باجی ہر دوکان کی چوڑیاں سمیٹتی پھرتیں۔ طلعت آپا بھی کبھی کبھی ان کا ساتھ دیتیں۔ مگر زیادہ تر وہ دوسرے زیورات میں دلچسپی لیتیں ۔ میری اور راشد میاں کی اصل تفریح مٹّی کے کھلونوں سے وابستہ تھی۔ ایک کونے میں مٹی کے بنے کیلے ۔ امرود سیب رکھے ہوتے ۔ دوسری طرف مختلف سائز اور رنگوں کے راجا ۔ راج کمار سادھو اور نرتکیاں ۔ کہیں ہاتھی گھوڑے ۔ دیوالی قریب ہوتے تو دِیوں کی تو بھر مار ہوتی۔ ہر دُکان پر ڈھیر لگا ہوتا۔ سب سے زیادہ مزا اس کے اگلے دن آتا ۔ دوسرے دن بدھ کی صبح روشنی پھیلنے سے پہلے ہی ہماری ایک اور مہم شروع ہوتی ۔ سارے ’ہاتے ‘ میں بکھرے ہوۓ مٹّی کے شکورے اور دۓ سمیٹنا ہمارا فرض جو تھا۔
گھر سے کچھ قدم کے فاصلے پر یہ طویل و عریض میدان تھا جو کبھی احاطہ کہا جاتا ہوگا مگر اب بگڑ کر اس کا نام محض ’ہاتہ‘ رہ گیا تھا۔ یہاں پر منگل کو بازار لگتا تھا۔ اور 26/جنوری اور 15 /اگست کو جھنڈا چڑھتا تھا۔ ہم لوگ اسی میدان میں بکھری ہوئی مٹی کی چیزیں سمیٹتے پھرتے تھے ۔ کبھی کبھی کسی سپاہی کا تلوار اٹھاۓ ہوۓ ہاتھ، یا کسی ناچنے والی پُتلی کی کسی مُدرا میں ٹانگ ہم کو راستے میں پڑی مل جاتی۔ پھر موتی ۔سیپیاں۔ ایک آدھ کنگھا ۔ اور شمّی باجی کے لیے چوڑیاں ہم سب ڈھونڈھتے پھرتے ۔ ویسے گھر میں اکثر چوڑی والی آ کر اپنے ہاتھ سے ساری عورتوں اور لڑکیوں کو ہاتھ بھر بھر چوڑیاں پہنا جاتی تھی۔ مگر مفت میں حاصل وہ چوڑی جو اتنی محنت سے سب مل کر ڈھونڈھیں ، ایک دوسری ہی اہمیت رکھنی تھی شمّی باجی ہی کیا، ہمارے نزدیک بھی ۔ وہ سارا سرمایہ اپنے اپنے ڈبّوں میں بند کر دیا جاتا۔ ٹوٹی ہوئی چوڑیاں جمع کر کے ان سے سیر بین بنوائی جاتی۔ اور ہم سب مختلف ڈیزائنیں بنتے بگڑتے دیکھتے رہتے ۔ ٹوٹی چوڑیاں بھی کیا کیا رنگ دکھا سکتی ہیں ، یہ ہم کو تب ہی پتہ چل گیا تھا۔
ہاٹ کی مہم سے واپسی پر گھر سے ملحق امام باڑے پر ایک اسٹاپ لازمی تھا۔ یہاں ہمیشہ تعزیہ رکھا رہتا تھا۔ محرم کی نو اور دس تاریخ کے علاوہ جب یہ ’’اُٹھا‘‘ کرتا تھا اور ’’ٹھنڈا‘‘ کیا جاتا تھا ، سارا سال امام باڑے میں رکھا رہتا اور اس کی ڈیزائن میں رد و بدل اور تجدید کی جاتی رہتی ۔ گھچّو چچا جو اس تعزیۓ کے نواب صاحب کی طرف سے انچارج تھے ۔ اس میں روز بروز کچھ نہ کچھ سجاوٹ کرتے رہتے ۔ تعزیہ بنانا کچھ ان کا ہی آرٹ تھا۔ اس میں عجیب و غریب رنگین کھڑکیاں ہوتیں۔ نہ جانے انہیں کیا کہنا چاہیے تھا۔ شاید فریم مگر گھچو چچا ان کو کھڑکیاں کہتے تو سارا جاؤرہ کھڑکیاں ہی کہتا اور سمجھتا تھا۔ ایک پھندنے والی ڈوری کو وہ حرکت دیتے اور تعزئیے کی عمارت میں چھ خانوں یا فریموں میں نظر آنے والے مناظر ایک پل میں تبدیل ہو جاتے ۔ ابھی ان کھڑکیوں میں اللہ ۔ محمؐد۔ علیؓ۔ فاطمہؓ۔ حسنؓ ۔ اور حسینؓ کے طغرے نظر آتے تو اگلے ہی لمحے کعبہ معظمہ۔ مدینہ منوّرہ۔ کربلا شریف ۔ خواجہ غریب نوازؒ اور حضرت نظام الدینؒ وغیرہم کے مزاروں کی تصویریں نظر آتیں۔ ہم لوبان سے اٹھتی ہوئی خوشبوؤں کی طرف ذرا متوجہ ہونے کے بعد دوبارہ ان کھڑکیوں کی طرف نظر اٹھاتے تو چھ عدد مور مختلف انداز میں ناچتے نظر آتے ۔ محرم کا زمانہ نہ ہوتا توان کھڑکیوں کے مناظر میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ بلکہ تعزیہ بھی اس وقت نظر آتا تھا جب گھچو چچا اسکی صفائی کرتے ورنہ عام دنوں میں اس پر ایک غلاف چڑھا ہوتا اور گھچو چچا اس تعزیے کے پیچھے بیٹھے اپنی جادوگری کرتے رہتے یا پتنگیں بناتے ملتے یا مانجھا سوتتے ہوۓ نظر آتے ۔ اور وہاں سے نکلتے تو اکثر چچی بلا لیتیں۔ یہ چچی جگت چچی تھیں اور ان کے شوہر سبھی کے مجّو ماموں ۔ نہ جانے ایسا کیوں تھا۔ ہم لوگوں کو چچی سے اس لیے دلچسپی تھی کہ ہر جمعرات کو وہ دو آنے کے چنوں اور چرونجی دانوں پر نیاز دلواتی تھیں اور ہم کو بلوا لیتیں۔ مجو ماموں محض عید بقرعید پر نظر آتے اور اس دن ان کے گھر پر گھوڑا بندھا بھی نظر آتا اور تانگہ بھی ۔ ویسے رات کو وہ کبھی گھر میں آتے ضرور تھے ۔ مگر ہم سے کہا جاتا تھا کہ رات کو ڈیڑھ بجے آنے والی ٹرین کے وقت تک تانگہ چلا کر آتے ہیں اور صبح چھ بجے والی پہلی بس کے لیے بس اسٹینڈ پر نظر آتے تھے ۔ سنا تھا کہ دوپہر کو وہ تین بجے آنے والی ٹرین کے انتظار میں 12 بجے سے پہلے ہی اسٹیشن پہنچ جاتے تھے ۔ اور پیپل کے درخت کے نیچے جہاں گھوڑوں کی پانی پینے کی ناند بھی تھی، تانگہ کھڑا کرتے ، گھوڑے کو چارہ دیتے ، چچی کا دیا ہوا کھانا پوٹلی میں سے نکال کر کھاتے ، اور تانگے میں لیٹ کر آرام سے سو جاتے ۔ ٹرین سے آنے والے مسافر ہی پھر ان کو جگاتے ۔
ان دو پہروں کی مہموں سے فارغ ہو کر گھر آتے تو شام کو چاۓ پی جاتی۔ جو نانی بی خوب پانی کھولا کر اور اس میں پتّی پکا کر بنایا کرتیں اور ڈھیروں شکر ڈال دیتیں ۔ کبھی کبھی بھوک لگنے پر چاۓ کے ساتھ روٹی کھائی جاتی اور اگر تازہ روٹی نہ ہوتی تو بھی سوکھی روٹی کے چوروں کا اسٹاک رہتا تھا، وہ چاۓ میں ڈال کر کھاتے یا پیتے ۔ مگر جب یہ ٹکڑے ، یہ روٹی کا چورا گڑ میں پکایا جاتا تو وہ مزا آتا جو شاید بعد میں عمدہ سے عمدہ مٹھاس کی ڈش میں نہ آیا ہوگا۔ ’’ ٹکڑے ‘‘ نانا جان کو بھی بہت پسند تھے ۔ ایک دن ہم لوگوں کی بیت بازی ہو رہی تھی اور گاڑی ’ٹ‘ پر اٹک رہی تھی ۔ نانا جان پاس ہی کھانا کھا رہے تھے اور ٹکڑے کھاتے ہوۓ انہوں نے فی البدیہہ یہ شعر کہا ؎
ٹکڑے امان بی نے پکاۓ ۔ اور ہم سب نے مل کر کھاۓ
’ٹ ‘ کے علاوہ کسی دوسرے حرف سے شعر یاد نہیں آتا تو اس کی ہی رد و بدل کر دی جاتی۔ ’چ‘ کا مسئلہ ہے تو شعر ہو گیا ہے ۔ چاول اماں بی نے پکاۓ۔ اور ہم سب نے مل کر کھاۓ ۔ کبھی ’ر‘ سے روٹی، ک‘ سے کھانا یا ’ح‘ سے حلوہ ہو جاتا ۔ کوئی اعتراض کرتا کہ یہ شعر تو ہو گیا تو جواب دیا جاتا کہ ’’ وہ تو ٹکڑے تھے ، یہ اماں بی نے حلوہ پکایا ہے ! ‘‘
شام کی چاۓ کے بعد گرمیوں میں آنگن میں چھڑکاؤ کرنے میں ہم سب اپنا شرمدان کرنے ۔ دینا ماموں کنویں سے ڈول میں پانی نکال کر بالٹی میں بھرتے جاتے اور ہم لوگ لوٹوں میں بھر بھر کر سارے صحن میں پانی چھڑکتے رہتے ۔ اور جب مٹّی کی سوندھی سوندھی کچی خوشبو رچ اٹھتی تو بے حد خوش ہوتے اور گھر میں پھیلنے والے تناؤ کی ہم لوگوں کو کچھ خبر نہیں ہوتی۔ ماموں میاں حسین شگر فیکٹری میں کام کرتے تھے ، وہاں کے کارکنوں میں انہوں نے ہڑتال کروا دی تھی۔ بزرگ لوگ سب بے حد پریشان تھے ۔ ان کی سرگوشیوں میں کبھی کوئی لفظ ’اشتراکی‘ سننے میں آتا مگر یہ ہماری سمجھ سے پرے تھا ۔ بار بار ماموں میاں کو کوئی بلانے آتا ایک آدھ بار پولس بھی۔ مگر وہ نہ جانے کہاں انڈر گراؤنڈ رہتے ۔ نانی بی تو پریشان پھرتی رہتیں۔ اور نانا جان اپنی پریشانی کا اظہار بھی نہیں کرتے تھے ۔ وہی معمول کے مطابق مغرب کے وقت برامدے میں بڑے تخت پر بہ آواز بلند نماز پڑھنے کے بعد کھانا مانگتے ۔ اور دستر خوان بچھ جاتا تو خود اکڑوں بیٹھ جاتے ، گھٹنوں پر اپنے ہاتھ پھیلا کر رکھ لیتے اور ایک ایک لقمہ آہستہ آہستہ کھاتے رہتے ۔ اکثر ہم میں سے بھی کسی کو اپنے ساتھ بٹھا لیتے ۔ پانی پلانے کا کام طلعت آپا کا ہوتا جن کو وہ اکثر بڑی بی کہہ کر مخاطب کرتے ۔ میں بھی کھانا کھاتا تو نانا جان کی نقل میں ان کی طرح ہی گھٹنوں پر ہاتھ لمبے کر کے اکڑوں بیٹھا کھانا کھا تا رہتا۔ کھانے کے بعد وہ شمّی باجی کو آواز دے کر عشا کے لیے وضو کے پانی کا لوٹا بھرکر رکھنے کی ہدایت کرتے ۔ سوتے وقت بھی شمّی باجی کا کام تھا کہ ان کے تہجد کے لیے وضو کے پانی کا لوٹا ان کے سونے کے کمرے کے باہر برامدے میں گھڑونچی کے پاس رکھ دیں۔
شام کو ہم لوگوں کی مشغولیات بڑھ جاتیں ۔ خاص طور پر گرمیوں میں ۔ساری چار پائیاں نکال کر باہر بچھائی جاتیں اندر والا بڑا تخت دالان سے اٹھ کر باہر آ جاتا۔ اس پر سفید چاندنی بچھائی جاتی۔ گاؤ تکیے لگتے ۔ سارے پلنگوں پر بستر بچھانے کے بعد سفید چادریں اور اجلے برف سے غلاف والے تکیے رکھے جاتے ۔ تخت کی سفید براق چاندنی پر نانی بی اپنا پاندان اور اماں جان اپنی پن کٹیا لے کر جم جاتیں۔ نانا جان معمول کے مطابق چھوٹے تخت پر نماز اور کھانے سے فارغ ہو کر اپنے پلنگ پر بیٹھ کر کچھ دیر تک خلال کرتے رہنے اور پھر چچا صاحب سے ملنے چلے جاتے جو در اصل ان کے بیت قریبی دوست تھے ۔
پھر اچانک ماحول بدل جاتا۔ آزادی جو مل جاتی۔ کسی شام دھمو میاں جو ماموں میان کے دوست تھے ، ایک عجیب سا باجہ لے کر آتے ۔ اس کا نام بینجو بتایا گیا تھا۔ ہم لوگوں کو تو اس پر قسمت آزمائی کرنا بے حد اڈونچرس لگا ہی۔ ماموں میاں اور راجہ میاں ہی کیا، ، امّی نے بھی کچھ دھنیں اس پر نکال ہی لیں ۔ ’’کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ ‘‘ اور ’’ گھر آیا میرا پردیسی‘‘ اور آۓ گا آنے والا ۔ آۓ گا ‘‘ ۔ ماموں میاں اپنا انگریزی گانا جو دراصل ہندوستانی گیت کا ہی ترجمہ تھا گاتے تو ان سے بینجو پر دھن صحیح نہیں نکلتی ۔ اور وہ بینجو چھوڑ کر چلّا تے ۔
Oh my magician,
Leave thou my arm
It is the mid-night
Let me go Homewards
اور نانی بی اپنے مخصوص انداز میں ایک ایک لمحے کے وقفے سے ’ووئی ‘ ’ووئی ‘ کہے جاتیں۔ امی ان کو سمجھاتیں ۔ ’’ وہی گانا ہے ۔ آپ نے سنا نہیں ۔ جادوگر سیّاں ۔ چھوڑو موری بیّاں ۔ ہو گئی آدھی رات ۔ اب گھر جانے دو۔۔۔‘’ کبھی موسیقی کی محفل نہیں ہوتی تو بیت بازی ہو جاتی ۔ اکثر تو نا نا نان کی فرمائش پر ہی اور ان کے سامنے ۔ کبھی لوڈو ہوتا ۔ کیرم کھیلا جاتا ۔ جس زمانے میں منجھلے ماموں علی گڑھ سے آنے ہوتے ، اس زمانے میں اس قسم کے اودھم زیادہ ہوتے ۔ مگر ایک سال وہ آۓ تو ان کے ساتھ ایک صاحبہ اور بھی تھیں۔ جو ہم میں سے کسی کو قطعی دلہن نظر نہیں آئیں۔ نانی بی اور امی نے حکم دیا کہ ان کو ممانی بیگم کہا جاۓ مگر وہ خود بضد کہ ہم کو ممانی نہ کہا جاۓ، ریحانہ باجی کہا جاۓ ۔ نانی بی نے بھی کچھ دن دلہن پکارنے کے بعد پھر ریحانہ نام لینا شروع کردیا تھا ان کا ۔ حالانکہ وہ خود علی گڑھ جا کر ان کو بیاہ کر لائی تھیں ۔ مگر منجھلے ماموں سے اکثر یہی کہتیں کہ تم نے تو خود شادی کر لی ہے ۔ ہم کیا کریں۔ منجھلے ماموں اور ریحانہ باجی کی دنیا ہی الگ تھی۔ منجھلے ماموں بھی کبھی اپنی دنیا سے آۓ اور ہماری دنیا کو ایک آدھ خبر سنا کر چلے جاتے جو دلچسپ ہوتے ہوۓ بھی ہم کو دلچسپ نہیں لگتی ۔
’’ بھئی معلوم ہے ۔ یہ ریحانہ ٹوٹھ پیسٹ کھا جاتی ہے ۔۔۔۔‘‘
ویسے تو یہ ٹوتھ پیسٹ ہی ہمارے لیے نئی چیز تھی۔ نانی بی بوا سے سب کے دانت مانجھنے کے لیے لکڑی کا کوئلہ خوب باریک پسواتیں اور اس میں نمک ملا کر شیشوں میں بھر کر رکھا جاتا تھا۔ پھر جب منجھلے ماموں علی گڑھ واپس گئے تو پھر جاؤرہ کبھی واپس نہ آۓ ۔ کچھ دن بعد ماموں میاں بھی علی گڑھ روانہ ہو گۓ۔ بعد میں پھر وہ بھی لوٹ کر نہیں آۓ ۔ یہ بڑے لوگ ہی تھے ہمارے لیے ۔ نانی بی کی طرح بزرگ نہ سہی مگر ہم پانچوں کی کمپنی سے الگ تھے ۔ دونوں بعد میں اگلے سال ایک بار ضرور آۓ ۔ مگر اس آمد کو کیا کہا جاۓ ۔
جس سال منجھلے ماموں نے اپنی دنیا الگ بسا لی تھی ۔ اس کے دوسرے سال کی ایک صبح میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ہم لوگ رات کی گاڑی سے چل کر علی الصبح جاؤرہ پہنچے تھے ۔راستے بھر امّی روتی رہیں ۔ اور جیسے ہی اس صبح ہم گھر میں داخل ہوۓ ، وہ 20/ستمبر کی اداس پیلی پیلی صبح تھی ۔ مرغیاں ڈربے میں سے نکلنے کو بے تاب تھیں مگر دینا ماموں نہ جانے کہاں تھے ۔ نانی بی کے بال کھلے ہوۓ تھے اور سفید اجلے کپڑوں میں بغیر کسی زیور کے وہ عجیب سی نظر آ رہی تھیں ۔ باہر نانا جان کی بیٹھک کا بند دروازہ انہونا سا لگ رہا تھا۔ ڈیوڑھی۔ چھجی اور اندرونی آنگن میں مختلف قسم کے مرد اور عورتیں جمع تھے ۔ چھجی میں جو در اصل بیٹھک کے باہری طرف کا آنگن تھی، مولسری اور انار کے پیڑوں کے نیچے سارے گھر کی کرسیاں جمع تھیں۔ اور مرد بیٹھے تھے ۔ اندر کے صحن میں تخت اور چارپائیاں بچھی تھیں۔ جن پر عورتیں بیٹھی تھیں ۔ اس دن کیا کیا ہوا۔ مجھے کچھ یاد نہیں۔ بس میری نگاہوں میں یہی ایک منظر جم کر رہ گیا ہے ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ نانا جان کے جنازے کی آخری جھلک میں نے دیکھی تھی یا نہیں۔ کفن میں ان کے چہرے پر کتنا نور تھا اس کا مجھے کچھ پتہ نہیں۔
اگلے دن تک خاندان کے سب افراد جمع ہو چکے تھے ۔ پھر مختلف قسم کے لوگ بھی جو شاید باہر کی دُکانوں کے کراۓ دار تھے ۔ ہم لوگوں کو دور بھگا دیا گیا۔ ہم لوگوں نے چوری چھپے باتیں سننے کی کوشش بھی کی مگر کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ بہر حال ایک ہفتے میں ہی گھر کا آدھا سامان غائب ہو گیا۔ اماں جان کو پڑوس کے گھر میں رہنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ جبو خالہ اور بھوری خالہ کے یہاں۔ کچھ سامان چچا صاحب کے گھر رکھوا دیا گیا ۔ اور کچھ دوسرے چچاؤں ۔ ماموؤں، خالاؤں وغیرہ کے گھروں میں ۔ نانا جان کے کمرے کی لا تعداد کتابیں صحن میں ڈھیر کر دی گئیں۔ نمائش کے لیے ۔ جو چاہے اپنی پسند کی کتابیں لے جاۓ ۔ بڑے تخت پر یہ نمائش پانچ سات دن لگی رہی۔ یہ ساری کتابیں نانا جان کو کتنی پیاری تھیں ۔ مگر اب کتنی بے مروتی سے لوگ ان کتابوں کو سبزیوں کی طرح جھولوں میں بھر کر لے جا رہے تھے ۔ پھر ہم پانچوں ، نانی بی ، خالہ جان اور امّی کافی لدے پھندے اندور روانہ ہو گۓ۔ منجھلے ماموں اور ماموں میاں علی گڑھ چلے گۓ اور بمبئی والے بڑے ماموں واپس بمبئی ۔ وہ یوں بھی بہت کم آتے تھے ۔ خالو جان تو یوں بھی ہمیشہ دوروں پر رہتے تھے اور خالہ جان نانی بی کے ساتھ ہی رہتیں۔
اس دن جیسے ہی ہم لوگ مجو ماموں کے تانگے میں بیٹھ کر ریلوے اسٹیشن پہنچے تھے ، کئی لوگ ہم لوگوں کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھے اور کئی آتے جاتے رہے ۔ تانگے سے سفید پردے کھول دیے گئے ، اور دینا ماموں اور دوسرے لوگ ان پردوں کو تان کر کھڑے ہو گۓ اور درمیان میں راستہ بنا دیا ۔ اس ’’راستے ‘‘ سے سب لوگ اسٹیشن کی عمارت میں داخل ہوۓ اور اس عمارت کے اس کمرے تک چلے گۓ جہاں اسٹیشن ماسٹر نے یہ اطلاع ملنے پر کہ مولوی صاحب کے گھر کی سواریاں آ رہی ہیں، پہلے سے ایک کمرے میں انتظام کر رکھا تھا۔ کچھ دیر بعد گھچو ماموں سائیکل بھگاتے ہوۓ آۓ اور خبر دی کہ تانگے کے روانہ ہونے کے کچھ ہی لمحوں بعد ڈیوڑھی کی دیوار اور ’’ غریب خانہ‘‘ والا پتھر گر گیا ۔ میں نے اسے اٹھا کر اپنے پاس یادگار کے طور پر رکھ لیا ہے ۔ آپ کی اجازت چاہیے ‘‘۔۔۔
’’تم کون غیر ہو گھچّو میاں ‘‘ ۔۔۔ نانی بی نے کہا اور آنسو پونچھے ۔

اس صبح کے بعد دس سال بعد کی ایک اور شام۔۔۔۔۔۔۔
امی ۔ میں اور شمّی باجی اس ڈیوڑھی میں داخل ہوۓ۔ گھنشیام داس آگے آگے چل رہا تھا۔ ہم لوگ اپنے بچپن کو کرید رہے تھے ۔ ’’ دیکھۓ بی بی جی ۔۔۔‘ اس نے امی کو مخاطب کیا ۔ ’’ یہ کنواں ہم نے بند کروا دیا ہے ۔ اب تو کمیٹی والا نل لے لیا ہے نا۔ ۔۔۔ یہاں سے یہ زینہ نکال لیا ہے ، یہ کمرے یہاں سے تُڑوا دئیے ہیں اور یہ اوپر یہ نۓ کمرے بنے ہیں۔۔۔ ‘‘ اور نہ جانے کیا کیا ۔ یہ گھر قطعی وہ نہیں تھا ۔ جو ہم لوگ چھوڑ کر گۓ تھے ۔ وہ اندھیری کوٹھری کا اسرار ختم ہو چکا تھا اور نہ گودام والا کمرہ ہی باقی بچا تھا۔ میں اور شمّی باجی اس سبز اور زرد گھر کو دیکھتے رہے ۔ جو پرایا تھا ۔ ہم دونوں گھر کے اندر کمروں کے اندر گۓ بغیر باہر آ گۓ۔ ہاتہ سنسان پڑا تھا امام باڑے کا اونچا دروازہ ہی بند تھا۔ سنا گیا کہ صرف محرم میں تعزیہ کھولا جاتا ہے اور پچھلے پانچ برسوں میں گھچّو ماموں نے اس میں کچھ تبدیلی نہیں کی ہے ۔ ہاتے میں بیچوں بیچ بنے لوہے کے اسٹرکچر پر کبوتر بیٹھے تھے ۔ گھنشیام داس امی کو گھر کے اندر لے گیا ۔ اپنی بیوی سے ملوایا اور پر تکلف چاۓ پلائی ۔ ہم باہر ڈیوڑھی کی طرف بنی ہوئی دیوار پر لگا ہوا نیا پتھر دیکھتے رہے جس پر ہندی میں ’’ شری نواس سدن‘‘ لکھا تھا ۔ اوور آس پاس ہتھیلیوں کے نشان تھے ۔ ایک طرف ’’لابھ‘‘ اور دوسری طرف ’’شبھ ‘‘ لکھا تھا دور دور تک مولسری امرود اور انار کے درختوں کا نام و نشان نہ تھا ۔ وہ سارے سر کٹے اور پچھل پیریاں آزاد ہو چکی تھیں۔ ان کا سارا طلسم ، سارا تھر ل ختم ہو چکا تھا ۔ اب کبھی تعزیے کی کھڑکیوں میں مور نہیں ناچیں گے ۔ اب کبھی امرودوں میں وہ مزا نہیں ملے گا، اب کبھی مولسری کے ان درختوں کی خوشبو اس آنگن کے پار نہیں پہنچے گی۔ وہ خوشنما چاندنی اب صلیب پر چڑھ چکی اور پیلا اداس چاند ان پھولوں پتیوں اور درختوں کے درمیان مسکرا رہا ہے ۔ جو اب پرانے ہو چکے ہیں۔ سائکیڈیلڈک نمونے کے شیشوں والی کھڑکی سے جھانکنے پر سب کچھ پرایا لگ رہا ہے کہ وہ تمام کمرے ۔ دروازے ۔ دالان۔ دروازے اور وہ ساری کھڑکیاں پرائی ہو چکی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔
یہاں سے بہت دور ایک چھوٹے سے قصبے کا ایک مشہور محلہ ہے جسے ہاتہ کہتے ہیں ۔ یہاں سرکاری امام باڑے کے اندر تعزئیے کے علاوہ ایک سنگ مرمر کی سل رکھی ہے ۔ جس پر سیا ہ پتھر سے لکھا ہے ’’ غریب خانہ‘‘ اور ایک شعر ؎
سن مسیحی و ہجری کا مادہ احمدؔ ۔ ’’غریب خانۂ طین خانۂ مسرت است‘‘۔ یہ امام باڑہ اب کبھی نہیں کھولا جاتا ۔ محرم کے دنوں میں تعزۓ کی صفائی کر کے اسے باہر نکال کر رکھا جاتا ہے ۔ اور محرم کے بعد تعزیہ پھر اندر رکھ دیا جاتا ہے اور امام باڑے کا بڑا دروازہ اگلے محرم تک کے لیے بند کر دیا جاتا ہے ۔
۔(اکتوبر 1974 )۔