پلیٹی نم بالوں والی لڑکی
(تلقار مس کے نام)

اس رات نہ جانے ہم لوگ کہاں مہمان تھے ۔ شاید کسی کے گھر کوئی تقریب تھی۔میں نے مردانے مہمان خانے سے کسی بچے کو بھیج کر زنانے سے امی اور باجی کو بلوانا چاہا۔ امی نہ جانے کن انتظامات میں لگی ہوئی تھیں جن کی میرے لیے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اور باجی ۔۔۔۔ اب یہاں مجھے وقت کی ترتیب ۔۔ sequence کا احساس نہیں ہو رہا ہے کہ ایسی کیا بات ہوئی تھی جو اچانک میری باجی سے لڑائی ہو گئی اور میں نے طے کیا کہ میں نہیں بولوں گا ۔ اور میں گھڑی دیکھتا رہا ۔ رات بھیگتی جا رہی تھی ۔ نہ جانے میں نے باجی کے ساتھ کیوں بولنا بند کر دیا تھا۔ مگر انہوں زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کر ’میرا اچھا بھیا ‘ قسم کے جملے کہہ کر مجھے منا لیا تھا ۔ اور پھر میں ان کو ساتھ لے کر ماموں جان کے گھر آنا چاہ رہا تھا۔ مگر نانی بی بھی ساتھ ہو گئیں ۔ ’’میں بھی چلوں گی ۔ بلکہ دو تین دن رہوں گی راشد کے پاس‘‘ انہوں نے کہا تھا ۔
یہاں پھر وقت کی ترتیب میرا ساتھ نہیں دے رہی ہے ۔ درمیان کے مناظر دھندلے ہو گۓ ہیں۔ جیسے کسی پرانی فلم کی کوئی ریل کاٹ دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد میری یاد داشت میں اگلا منظر ماموں جان کی بڑی سی کوٹھی کا ہے ۔ نانی بی ۔ باجی اور میں اندر داخل ہوۓ ۔ بڑے سے پھاٹک سے ہار سنگھار اور چمپا کے درختوں کے اندھیرے سایوں کی طرح گزرتے ہوۓ ہم لوگ پائیں باغ کی طرف بڑھ گۓ ۔ یہ سوچ کر کہ چوکی دار کو زحمت نہ ہو ا کرے ۔ پچھلے دروازے میں نانی بی نے خود اپنا تالا ڈال دیا تھا۔ اب تالا کھولنے کے بعد ہم لوگ پائیں باغ میں داخل ہوۓ۔ درمیان کے مدور راستے پر بجلی کے کھمبے لگے تھا۔ جن میں روشنیاں لگی تھیں۔ شیڈ کے باہری شیشے ایک سیدھی طشتری پر رکھی ہوئی الٹی طشتری کی شکل کے تھے جو اندر لگے ہوۓ قمقموں کی روشنی کو چھان چھان کر باہر پھینک رہے تھے عجیب اداس سا منظر تھا ۔ دالان کی طرف بڑھا تو دو مچھر دانیاں نظر آئیں ہلکے ملٹری رنگ کی۔ مجھے یاد آیا کہ ماموں جان کے یہاں پروفیسر گارسواں اور ان کی حاملہ امریکی بیوی جن کا نہ جانے کیا نام تھا، مہمان ٹھہرے ہوۓ ہیں۔ مہمان کمرہ بھی اسی دالان کے ہی ملحق تھا ۔ پروفیسر گارسواں کا یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے تقرّر ہوا تھا اور وہ ماموں جان سے دوستی کی وجہ سے پہلے سے ہی چلے آۓ تھے ۔ میں باجی اور نانی بی دھیرے دھیرے دالان سے گزرتے ہوۓ اندر کمروں کی طرف بڑھ گۓ۔ مگر میں وہیں رک گیا ۔ ایک مچھر دانی میں سے براؤن رنگ کا نائٹ سوٹ اور سفید بال نظر آ رہے تھے ۔ ان کا سگار باکس بستر سے نیچے گر گیا تھا جسے میں نے دھیرے سے اٹھا کر اور ایک ہوانا سگار نکال کر دو بارہ رکھ دیا ۔ اس کے بعد دوسری مچھر دانی پر نظر گئی جہاں اخروٹی رنگت کے بالوں والی مسز گارسواں سو رہی تھیں ۔ ان کی سرخ نائٹی ان کے درمیانی جسم کی حدود سے دور تک پھیل گئی تھی۔ اور ان کا کھلا ہوا جسم کاہی سبز رنگ کی مچھر دانی میں سے بے حد پر اسرار نظر آرہا تھا۔ میں سوچتا رہا۔ ان کا لڑکا یا لڑکی اب ہندوستان کی فضا میں پہلی سانس لے گی۔ تو کیا وہ ہندوستانی نہیں کہلاۓ گی۔ وہ فرانسیسی امریکی ہی کیوں رہے گی۔۔۔ لا فِس انڈینہ ۔(La fisse indienne) ۔ میں نے سوچا اور پھر مجھے پروفیسر گارسواں کے نام پر ہنسی آ گئی ۔ گارسواں ۔ بواے ۔ ٹھیک ہے بواۓ ۔ تم سوتے رہو۔ اور جب تم اٹھو گے تو تم کو محسوس نہیں ہوگا کہ تم نے اور خاص طور پر تمہارے بیٹے یا بیٹی نے ہندوستانی تہذیب کو کس طرح اوڑھ لیا ہے ۔ مگر تم واپس جاؤ گے تو یہی کہتے رہو گے کہ او۔ دیٹ گوڈ ڈیم کلچر ( Oh that God damn culture ) ۔ یہ تو آزادی کے بعد کا زمانہ ہے ۔ پھر بھی یوروپینس کی ذہنیت ابھی تک بدلی تو نہیں ہے ۔
باجی دالان میں آئیں۔ میں اور نانی بی یہاں ہی سو جائیں گے ۔ تم واپس گھر چلے جاؤ۔ ‘‘
میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ کیا میں اسے اپنا گھر سمجھ کر نہیں آیا تھا۔ اور اب مجھے اپنے ذاتی کمرے کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ میں چپ چاپ واپس جانے کے لیے مڑ جاتا ہوں ۔ جیب میں رکھا سگار کچھ چبھتا ہے ۔ میں اسے نکال کر ہاتھ میں رکھ لیتا ہوں اور پائیں باغ سے گزر کر دروازے کی طرف بڑھ جاتا ہوں۔ پیچھے نانی بی شاید دروازہ بند کرنے دبے پاؤں آتی ہیں۔ میں سگار چھپا لیتا ہوں اور دروازے سے باہری لان کی طرف پھر ہار سنگھار کے پیڑوں کے نیچے سے گزرتے ہوۓ بڑے پھاٹک سے نکل جاتا ہوں اور دیا سلائی ٹٹولتا ہوں ۔ سڑک پر دھیرے دھیرے بوجھل قدموں سے چلتے ہوۓ سگار سلگا لیتا ہوں۔ اپنی گھڑی دیکھتا ہوں رات کے ساڑے بارہ بجے تھے ۔ مگر مجھے صحیح وقت ابھی یاد نہیں۔ میں نے کہا نا کہ میں وقت کا تسلسل اور ترتیب بھول چکا ہوں ۔
میں ہوسٹل آ جاتا ہوں ۔ اپنا کمرہ کھولتا ہوں ۔ نائٹ سوٹ دیکھتا ہوں کہ کپڑے بدل ھوں ۔ باہر کوئی کپڑا نہیں ہے ۔ اس کے لیے سوٹ کیس کھولتا ہوں ۔ اوپر رکھی ہے ترتیب کتابوں کی ہٹا کر اندر سے پکڑے نکالتا ہوں ۔ لیکن مجھے نائٹ سوٹ نہیں ملتا ۔ الماری میں پھر سے دیکھتا ہوں۔ نائٹ سوٹ نہیں ہے ۔ پھر مجھے کسی کمی کا احساس ہوتا ہے ۔ میری میز ۔۔۔ مگر میری میز یہاں سے غائب ہے ۔ نہ جانے کون کس وقت کہاں لے گیا ہے ۔ میں دوبارہ سوٹ کیس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ میرے ہاتھ میں ایک بنیان آتا ہے ۔ جس کا برانڈ دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ میرا نہیں ہے ۔ نیچے کے کپڑے بھی مجھے اپنے نہیں لگتے ۔ پھر کتابیں بھی مجھے اجنبی لگتی ہیں۔ ان کو کھول کر ان پر لکھے نام دیکھتا ہوں۔ ہر کتاب پر M.K.K. کے الفاظ لکھے ہیں ۔ ہاں ۔ یہ میرے
پڑوسی کمال کی کتابیں ہیں یہ سوٹ کیس بھی اس کا ہے ، الماری بھی اس کی ہے ۔ کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑاتا ہوں ۔ ہر شے کمال کی ہے ۔ میں تیزی سے باہر آتا ہوں اور یہ کمرہ بند کر دیتا ہوں۔ مجھے چوری یا جرم کا احساس ہوتا ہے ۔ نہ جانے اپنے پڑوس کے کمرے کا تالا میر ی چابی سے کیسے کھل گیا ہے ۔ میں اس کمرے کے بائیں طرف والے کمرے کی طرف جاتا ہوں ۔ کہ یہ کمرہ میرا ہوگا۔ کمروں کے نمبر پچھلی بار کی سفیدی میں چھپ گۓ تھے اس کے لیے مجھے کمروں کی شاید پہچان نہیں رہی ہے ۔ تالا کھولنے کی کوشش کرتا ہوں مگر کمال کے کمرے کے دونوں طرف والے کمروں کا تالا میری چابی سے نہیں کھلتا ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میرا کمرہ کہاں گیا۔ میں سوچتا ہوں کہ پھر ماموں جان کے گھر لوٹ چلوں۔ نہ جانے کیا وقت ہوا ہوگا ۔ میں باہر نکلتا ہوں ۔
’’ہلو جاوید ۔۔۔۔ ‘‘ مجھے آواز آئی ۔ یہ سامنے YWCA میں رہنے والی مسز ہربرٹ کے یہاں تقریباً روزانہ آنے والی مسز میری اسمتھ تھیں۔ ’’ہلو مسز سمتھ ‘‘
’’ نو۔۔۔ نو ۔۔۔ ڈیر ۔۔ ازنٹ دیٹ رانگ ۔ میں نے تم سے ہمیشہ کہا ہے کہ مجھے آنٹی میری کہا کرو۔۔۔‘‘
’’ اوہ ساری میڈم۔ آنٹی میری آئی مین ۔۔ واٹ کین آئی ڈو فار یو ۔۔۔‘‘
’’کچھ نہیں۔ مجھے اپنے گھر تک چھوڑ آ سکو تو آئی ول بی ویری تھینک فل ۔ یہاں جون کے یہاں بہت دیر ہو گئی ہے ۔ ‘‘ اور وہ میرے ساتھ چلنے لگیں مگر اس وقت نہ جانے کیوں بے حد عجیب باتیں کر رہی تھیں وقت کو بیس سال پیچھے لوٹانے کی۔
’’ کیا ایسا ممکن ہے ۔۔۔‘‘ انہوں نے پوچھا ۔
’’ ہاں۔۔۔‘‘ میں نے ہنستے ہوۓ کہا ’’ ویلز کی ٹائم مشین مل جاۓ تو۔ ‘‘
اور انہوں نے میری بات پر قہقہہ لگا کر جیسے میرا مذاق اڑا دیا ۔ مجھے سارے واقعات یاد نہیں رہے مگر نہ جانے کیوں انہوں نے کسی نہ کسی بات پر میری راۓ مانگی اور میری راۓ پر قہقہے کا اظہار کر کے میر ا مذاق اڑایا ۔ یہاں تک کہ ان کا فلیٹ آ گیا ۔ سامنے والے فلیٹ میں ابھی بھی کافی چہل پہل تھی۔ اوپر کی منزل میں ۔ نیچے بھی کچھ فیشن ایبل لڑکیاں ٹہل رہی تھیں ۔
’’اوہ ہو ۔ انجو ۔ سارا ۔ ان سے ملو ۔ یہ جاوید ہیں۔ بڑے مزے کے آدمی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے پھر قہقہہ لگایا ۔
’’ یہ ٹائم مشین بنانے کیا بات کر رہے ہیں۔ ہا ہا ہا۔ اور سنو ۔ جیسے کبھی کبھی برسات کے دنوں میں آنکھوں میں کوئی کپڑا کر جاتا ہے ۔ ایسے ہی راتوں کو ان کو ڈر لگتا ہے کہ کوئی ٹوٹا ہوا تارہ ان کی آنکھ میں نہ گر جاۓ ۔۔ ہا۔ہا۔ ہا۔۔۔‘‘
اور وہ نہ جانے کیا کیا کہتی ہوئی اپنے فلیٹ میں چلی گئیں ۔ میں رکا رہا ۔ میں اور انجو اور سارا سامنے کی طرف دیکھتے رہے جہاں مسز میری سمتھ دھیرے دھیرے زینے چڑھ رہی تھیں ۔ ۔ ’’ بے چاری‘‘ انجو نے کہا ۔
’’آج ہی ان کو خبر ہوئی کہ ان کا بیس سالا لڑکا فریڈرک ’شزوفرینیا‘ کا شکار ہو گیا ہے ۔‘‘
’’کہاں ۔۔؟ ‘‘ میں نے پوچھا ۔۔
’’پین سلوینیا میں کہیں ۔ اور لاس انجلس میں مسٹر اسمتھ اپنی کسی کینیڈین داشتہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ تم کو معلوم ہے مسز اسمتھ سے آٹھ دس سال چھوٹے ہیں۔ ؟ ‘‘
مجھے مسز میری کے خاندان کے بارے میں یہ معلومات نئی لگی تھیں۔ میں نے ان کے گھر کی طرف دیکھا اوپری منزل کی کھڑکی سے نظر آنے والے کمرے میں آنٹی میری ایک الماری سے چینی گڑیاں نکال رہی تھیں۔
’’آئیے اوپر چلیں ۔ مسز سمتھ نے پہلے بھی آپ کا ذکر کیا تھا کہ آپ اچھے ادیب بھی ہیں اور بڑے اچھے موسیقار بھی ۔کیا آپ پیانو Play کر سکتے ہیں۔۔‘‘
’’بس جو کچھ بھی کرتا ہوں۔ کر ہی لیتا ہوں۔ پیانو بھی بجانا آتا ضرور ہے ۔ مگر معاف کیجیے گا۔ میں انگریزی موسیقی کی روح سے سمجھوتہ نہیں کر سکا ۔ اس لیے پیانو پر اس قسم کا entertainment نہیں دے سکوں گا۔ ’’
’’نہیں نہیں ۔ آپ دھن بجائیے گا ۔ انجو بنگلہ گیت گاۓ گی۔‘‘
’’یہ بات مان لی۔ رابندر شونگیت میں پیانو بڑا پیارا لگتا ہے ۔ آئیے انجو جی۔۔‘‘
ہم تینوں اوپر چلے گۓ ۔ بڑے سے ڈرائنگ روم میں ہر شے فاختئی رنگ کی تھی۔ پردے ۔ قالین۔ صوفے ۔ کارنس پر رکھی چپ چاپ سی گوتم بدھ کی مورتی اور صلیب بردوش عینی کی پینٹنگ ۔ میں پیانو کے پاس اخروٹ کی لکڑی کے اسٹول پر جا بیٹھا۔ انجو نے ایک بنگلہ گیت کی دھن مجھے بتائی ۔ پھر میں پیانو بجانے لگا۔ انجو نے بنگلہ گیت چھیڑ دیا۔ بنگلہ میں نہیں سمجھ سکتا مگر پیار کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ لہجے سے مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ بے حد پیار بھرا گیت ہے ۔ اس اجاڑ سی رات کے آدھے سے زیادہ حصّہ بھیگنے کے بعد کے لمحوں میں پیانو پر ایک بنگلہ لڑکی کے بنگلہ گیت کا ساتھ دیتے ہوۓ سوچ رہا تھا۔ آج سے پیس پچیس سال بعد پروفیسر اور مسز گارسواں کی لڑکی۔۔ اگر لڑکی ہوتی تو ۔۔۔۔ فرانس کے کسی بولوارد میں یا کسی ایسے ہی ڈرائنگ روم میں گٹار پر راگ بھیم پلاسی بجانے کی کوشش کر رہی ہو گی یا پھر پیانو پر راگ گوڑ سارنگ۔ مہمانوں نے اس سے ہندوستانی موسیقی کی فرمائش کی ہو گی۔ کاش وہ ایسا نہ کرے ۔ یا اگر وہ کوئی لڑکا ہوا تو ’ہرے راما ہرے کرشنا ‘ گاتا ہوا ایل ایس ڈی کے نشے میں بھول جاتا ہو گا کہ اس کے ڈیڈی کسی دن ہندوستان کے ایک شہر کے بے حد وسیع مکان کے پائیں باغ میں مچھر دانی لگا کر سگار پیتے پیتے سو جاتے تھے ۔ اور ان کے میزبان کے ساتھ سہگل کے گیتوں اور بڑے غلام علی خاں کی ٹھمری پر سر دھنتے دھنتے پاگل ہو جاتے تھے ۔
’’اب آپ بھی کچھ سنائیے ۔۔۔‘‘ انجو نے مجھ سے فرمائش کی۔ اور میں سوچنے لگا کہ پیانو پر کون سا ہندوستانی فلمی گیت اچھا گایا جا سکتا ہے ۔ اور میں نے شروع کر دیا ۔ ’’ میں دل ہوں اک ارمان بھرا ۔۔۔ تو آ کے مجھے پہچان ذرا ‘‘
میرے ذہن میں طلعت محمود کی آواز تھی مگر باہر عجیب سی آواز آتی۔میں نے مسز سمتھ کی کھڑکی کی طرف دیکھا وہ کھڑکی میں ہی کھڑی تھیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں بچوں کے بجانے والا باجہ تھا۔
گیت ختم ہوا۔ انجو اور سارا نے تالیاں بجائیں۔ اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ پہلے میں نے دو سے زیادہ لڑکیاں دیکھی تھیں ، باقی لڑکیاں اس وقت اس کمرے میں موجود تھیں یا نہیں۔ میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ یہ کیسی ہندوستانی لڑکیاں ہیں جو رات کے اس پچھلے پہر (دو ڈھائی بج چکے تھے ) ایک مرد کے ساتھ باتیں کر رہی ہیں اور گیت گا رہی ہیں۔
’’داد دو بھئی۔ کیا خیال آیا ہے ۔ کہ اب کچھ گھریلو قسم کی تفریح کی جاۓ ۔۔۔۔‘‘ انجو نے خوش ہوتے ہوۓ مشورہ دیا۔ ’ کیا مطلب ‘ سارا نے پوچھا ۔
’’ ارے بھائی ۔۔ وہ تمہاری کرایہ دار نہیں ہیں مسز شری واستو۔۔ جن کی لڑکی کی شادی کے سلسلے میں آج رت جگا ہے ۔ ‘‘
’’تو کیا ہم لوگ بھی اس طرح آج رت جگا نہیں کر رہے ۔ اکثر ہی کرتے رہتے ہیں۔ ‘‘
’’ بھئی بے حد رومانٹک لگتا ہے یہ رت جگا بھی۔ چلیے جاوید صاحب ‘‘
’’ لیکن میں وہاں جا کر کیا کروں گا۔ وہاں تو صرف عورتیں ہوں گی ۔‘‘
’’ تو یہاں کیا ہم مرد ہیں۔ پھر آپ سے سب کو ملوایا تھوڑی جاۓ گا۔ بس ایک لڑکی سے ملاقات کروائی جاۓ گی۔‘‘ میری منزل کہیں نہیں تھی ۔ میرا کمرہ کہیں نہیں تھا۔ اس لیے خوشی کے ان لمحوں کو میں نے غنیمت جانا ۔ اور انجو اور سارا کے ساتھ پچھلی طرف کی سیڑھیوں سے اتر گیا۔ یہ سوچتے ہوۓ کہ اگر وہ لڑکی بھی انجو اور ساری کی طرح ہی نکلی تو کہا جا سکتا ہے کہ دنیا بہت خوب صورت ہے اور جینا ابھی مشکل نہیں ہوا۔
’’اور ہاں ۔۔۔‘‘ سارا نے ایک مزے کی بات کی ‘‘ وہ لڑکی پلیٹی نم بلانڈ ہے مگر المونیم چہرے والی لڑکی کہلاتی ہے ‘‘۔
’’کیا مطلب ‘‘ میری سمجھ میں جیسے کچھ نہیں آیا۔
’’ چونکئے نہیں ۔ آپ خود دیکھ لیجیے گا۔ ‘‘
میں باہر دروازے پر ٹھہر گیا ۔ اندر سے مختلف قسم کی آوازیں آ رہی تھیں۔
’’بھئی وہ ہُما کہاں ہے ۔ اسے باہر بلا دیجیے ۔ میں ایک صاحب ۔۔ صاحبہ سے ملانے لائی ہوں ۔‘‘
’’اتنی رات گیے کون آیا ہے ۔ ‘‘ اندر کی آواز آتی۔
’’بھئی وا ہ۔ تم لوگ رت جگا کر سکتے ہو تو کیا اور کوئی نہیں کر سکتا ۔ ‘‘
میں یہ آوازیں سنتا رہتا ہوں ۔ مگر وہ المونیم کے چہرے والی اور پلیٹی نم بالوں والی لڑکی نہیں آتی ۔ انجو اور سارا دونوں اندر چلی جاتی ہیں۔ میں کچھ گھوم کر مسز میری اسمتھ کے فلیٹ کے سامنے آ جاتا ہوں۔ سام کے نغموں کی کتاب بہ آواز بلند پڑھنے کی آواز آ رہی تھی۔ آنٹی میری۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ ان کے گھر کے قریب دو تین سڑکوں کے موڑ کے پیچھے ایک بڑے سے گیٹ والی وسیع عمارت میں فرانسیسی پروفیسر گار سواں اور امریکی مسز گار سواں اپنی ہندوستانی بچی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس کی پیدائش پر شاید ممانی جان رتجگا کروائیں گی ۔ اور وہ بچّی آج سے بیس برس بعد رویندر سنگیت گاۓ گی یا جاز کی دھن پر ناچے گی ۔ اور معلوم نہیں پروفیسر گار سواں کس صورت میں بے انتہا خوش ہوں گے اور کس صورت میں بے انتہا بور ۔ انہیں نہیں معلوم ہوگا کہ یہ کون سی دنیا ہے ۔ مگر میں اس جیتی جاگتی دنیا کے باہر کھڑا ہوا اس پلیٹی نم بالوں والی لڑکی کا انتظار کر رہا ہوں۔ مگر انجو اور سارا کو اب تک پتہ نہیں ہے ۔ پھر میں نہ جانے کب باہر نکل آیا ہوں۔ آنٹی میری نظر آتی ہیں کھڑکی کے پار ۔۔ وہ دیوار گھڑی کا شیشہ کھول کی کر کرسی پر چڑھی اس کی سوئیوں کو پیچھے کی طرف تیزی سے گردش دے رہی تھیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں ایک ببوا تھا۔ اور میں مڑتے ہوۓ سوچنا ہوں کہ وہ لڑکی نہ جانے کیسی تھی ۔ اگر اس کی آنکھوں میں بھی پلیٹی نم یا ایلومینم کی سی چمک ہوئی تو۔ میں ان سے مل کر کیا کروں گا۔
۔۔۔۔۔۔*