پولنگ اسٹیشن میں ایک رات(علی مامون رضوان    ۔ لاہور)

بڑے بوڑھوں سے سنا تھا کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے۔

یہ بات ہمیں کبھی سمجھ نہیں آئی کہ وہ گاؤں کیوں نہیں جاتا حالانکہ فصلیں تو انکی

خراب کرتا ہےشہر والوں کا تو کچھ نہیں بگاڑتا۔ خیر جب ہماری شامت آئی تو ہم اپنے

ابو کے ساتھ پولنگ اسٹیشن جانے کا ارادہ کر بیٹھے۔ جہاں وہ بطور پریزائیڈنگ آفیسر

تعینات ہوئے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ چونکہ ہمارے ابا جی 19ویں گریڈ کےپروفیسر ہیں

اسلئے انکے ساتھ جانے میں ہمارے بھی وارے نیارے ہو جائیں گے۔پولنگ اسٹیشن میں

ہماری خصوصی آؤبھگت ہوگی۔ہم ابا جی کا کارڈ پہنے سب پر حکم چلائیں گے۔بس مزا

انہیں خیالوں میں گم اور خوشی سے سرشار صبح صبح پولنگ اسٹیشن کی طرف روانہ

ہوئے جو کہ گورنمنٹ گرلز کالج وحدت روڈ پر بنا تھا۔ہم نے بائیک کا رخ پولنگ اسٹیشن

کی طرف کیا تو ابا جی نے کہا کہ مال روڈ پر چلو۔ ہم نے دریافت کیا کہ پولنگ اسٹیشن

تو وحدت روڈ پر بنا ہے تو ادھر سے جواب آیا کہ” جناب ! ٹاؤن ہال سے پولنگ کا

سامان آپکے فرشتے لائیں گے؟” جس پر ہم نے کھسیانے ہو کے مال روڈ کی راہ لی۔

ٹاؤن ہال پہنچتے ہی ہم نے انگریز دور کی مشابہ تین عمارتیں دیکھیں جس کے گراؤنڈ

میں ٹینٹ لگے ہوئے تھے۔ “سیاستدانوں کو ادھر بھی چین نہیں” ہم نے بے زاری سے

سوچا۔ کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ یہ بھی کوئی جلسہ ہی ہو رہا ہے۔ لیکن پوچھنے پر معلوم

ہوا کہ یہ کوئی جلسہ نہیں بلکہ پولنگ کا سامان یہیں تقسیم ہو رہا ہے۔

ٹینٹ ہال میں داخل ہونے سے پہلےدو “پری چہرہ”کانسٹیبلوں نے تلاشی کے بہانے

ہمارے جسم کی خوب مالش کی۔ اسکے بعد ہم اندر داخل ہوئے۔ اندر جاتے ہی ہمیں بھانت

بھانت کی آوازیں سننے کو ملیں۔ سپیکر پر کوئی چیخ چیخ کرپریزائیڈنگ آفیسرز کو بلا

رہا تھا۔ تاکہ ہر کسی کو دو دو سپاہی عنایت کئے جائیں جو کہ پولنگ اسٹیشن کی حفاظت

کیلئے مامور تھے۔ شدید انتظار کے بعد ہماری باری بھی آ ہی گئی اور ہمیں بھی دو عدد

معصوم صورت “پیٹی بند بھائی” مل گئے اب پولنگ اسٹیشن کا سامان لانا باقی تھاجو کہ

ایک اور چوٹی سر کرنے کے برابر تھا۔

الیکشن کمیشن والے ہمارے حلقے پر کچھ زیادہ ہی مہربان تھے۔ سارے حلقوں کو انکا

مکمل سامان مل چکا تھا لیکن ہماری ابھی تک باری ہی نہیں آئی تھی۔ یاد رہے کہ ہم

صبح 11 بجے کے آئے ہوئے تھے اور اب شام کے 7 بج رہے تھے۔ ہمارا بےبسی اور

غصے کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔ ہمیں ہوں لگ رہا تھا کہ ہر دوسرے حلقے والا

ہمیں جاتا جاتا منہ چڑا رہا ہے کہ لو ہم تو فارغ ہوئے آپ لگے رہو لائن میں۔ آخر خدا

خدا کر کے رات ڈیڑھ بجے ہماری باری آئی اور ہمارے فارغ ہونے کے ساتھ ہی بارش

بھی شروع ہو گئی۔ اسی بارش میں ہم نے پولنگ اسٹیشن کا سامان وصول کیا اور باہر جا

کر رکشہ ڈھونڈا اور دونوں پولیس والوں کو سامان دے کر پولنگ اسٹیشن روانہ کیا اور

خود بائیک پکڑ کے پولنگ اسٹیشن روانہ ہوئے۔۔

پولنگ اسٹیشن پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک منحنی صورت والے پٹھان چوکیدار نے

ہمارا استقبال کیا۔ ہم نے رکشے سے سامان اتروایا اور اندر کمرے میں رکھ دیا۔ ویسے

آپس کی بات ہے کہ بعد میں اس پٹھان سے خوب دل لگی رہی۔خیر اب رات کے ڈھائی بج

رہے تھے اور گھر جانے کے حالات نہیں تھے اسلئے ہم نے پولنگ اسٹیشن میں ہی رات

گزارنے کی ٹھانی۔ ہم سونے کے لئے کمرے میں جانے ہی والے تھے کہ ہمیں پیٹ میں

دوڑتے چوہوں کا خیال آیا ۔ ہم نے جلدی سے ابو کی طرف دیکھا تو وہاں بھی کچھ ایسے

ہی حالات تھے۔ میں نے ابو سے کچھ لانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے قدرے توقف

کے بعد اس پٹھان چوکیدار کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ یہ شرط سننے کے بعد ہم

ہلکے سے گھبرا گئے اور جب ہم نے اس خانصاحب کی طرف دیکھا تو وہ بڑے پر

اسرار انداز میں مسکراتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ایک بار تو جی چاہا کہ انکار کر دیں

لیکن پھر “جل تو جلال تو” کا ورد کرتے ہوئے اسکے ساتھ جانے کا رسک لینے کا

ان خان صاحب کی ایک تو آواز بہت باریک تھی اوپر سے جب وہ بات بات پر قہقہہ

لگاتے تو اور بھی ڈراؤنے محسوس ہوتے۔ خیر اسکی رہنمائی میں مارکیٹ پہنچ گئے

جہاں سے ہم نے کھانے کا سامان لیا اور واپسی پر خانصاحب کی گپوں اور قہقہوں سے

لطف اندوز ہوتے رہے۔ شروع شروع میں تو ہم خاصے محظوظ ہوئے لیکن جلد ہی تنگ

آگئے۔ پولنگ اسٹیشن پہنچ کر ہم نے پیٹ پوجا کی اور چوکیدار کو بھی ہم نے اپنے ساتھ

کھانے کی دعوت دی لیکن اس نے شکریے کے ساتھ انکار کردیا جس پر ہم نے بھی خدا

کا شکر ادا کیا۔ خیر کھانا کھا کر وہیں لوہے کے بنچوں پر سونے کی کوشش کرنے

لگے۔رات کے نجانے کس پہر ہماری آنکھ لگ گئی۔

صبح اٹھے تو دن خاصا چڑھا ہوا تھا ۔ہم نے انگڑائی لی اور اٹھنے کی ٹھانی ۔ باہر

نکلے تو کالج میں خاصی گہما گہمی تھی۔دن کے دس بج رہے تھے۔لوگ جوق در جوق

ووٹ ڈالنے کیلئے آ رہے تھے۔باہر ہمیں اپنے ابّا جان نظر آئے۔ان کے ہاتھ میں پانچ چھ

موبائیل تھے،جو کہ پولیس نے انہیں منچلوں سے ضبط کر کے دیے تھے۔ابّو نے ہمیں

کہا کہ گھر چلے جاو ، کچھ گھنٹوں بعد آ جانا جب تک ووٹنگ بھی

ہم نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس گھن چکر سے نجات ملی اور گھر آ

گئے۔گھر آ کر ہم نے توبہ کی کہ آئیندہ کسی سرکاری کام میں شمولیت کا ارادہ دل میں

نہیں لائیں گے۔ آخر میں میں اتنا ضرور کہوں گا کہ سارے مشاہدہ میں ناقص سرکاری

انتظام کو دیکھ کر بڑا افسوس ہوا جہاں نوکری سے نکالے جانے کے ڈر سے صنف

نازک کو بھی مردوں کے ساتھ قظار میں کھڑے ہو کر سامان لینا پڑ رہا تھا۔اور انہیں بھی

سامان لیتے وقت اور دیتے وقت، اسی طرح دھکے پڑ رہے تھے جس طرح مردوں کو

پڑ رہے تھے۔خواتین کی حالت زار دیکھ ھمارے دل سے یہی دعا نکلی کہ خدایا ہمارے

ملک میں بھی ایک ایسا معاشرہ پروان چڑھے،جہاں عورتوں کا، ان کی عزت کا،ان کے

احترام اور وقار کا خاص خیال رکھا جائے اور ان پالیسیوں کو بہتر بنایا جائے جہاں مرد

و زن کو ایک ہی لاٹھی ہانکا جاتا ہے، کیونکہ میرے مطابق ایک عورت ہی ایک ایسی

نسل کو پروان چڑھا سکتی جو کہ اس ملک اور عالم اسلام کی تاریخ بدل کے رکھ دے،

لیکن صرف تب اگر اس عورت کو اپنے عورت ہونے کا احساس ہو جائے۔