پہلا اور دوسرا احساس

اسے دور سے آتی ہوئی نرس دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ صبح کے دس بج چکے تھے ۔ یہ وقت اس کے انجکشن لگنے کا تھا ۔ اور نرس شاید اسی مقصد سے اس کے پلنگ کی طرف آ رہی تھی۔
’’نرس ۔۔ مس جوزف !‘‘ کافی دور سے ڈاکٹر شرما کی بھاری آواز سنائی دی ۔
’’بیڈ نمبر بارہ کو انجکشن لگا کر آتی ہوں ‘‘۔ بیڈ کے پاس سے آواز آئی ۔ نرس آ چکی تھی اور اس کا بازو پکڑ کر انجکشن لگانے ہی والی تھی ’’سسٹر ‘‘ اس نے کہا ’’میرا نام وجے ہے ۔ وجے ۔ بیڈ نمبر بارہ نہیں۔۔۔۔‘‘
’’ہم کس کس کے نام یاد رکھیں بابا ۔ ہمارے لیے تمہارا بیڈ نمبر ہی کافی ہے ‘‘ نرس نے خالی سرنج کی سوئی اس کے بازو سے نکالی ۔
’’مگر سسٹر ۔۔ یہاں اس وارڈ میں تو مریض زیادہ نہیں ہیں نا ۔۔ یہاں تو ……
’’مگر تم ہو تو بیڈ نمبر بارہ پر نا ۔۔۔۔ بس ہم یہ جانتے ہیں کہ تم بیڈ نمبر بارہ ہو ۔۔۔۔‘‘
وہ انجکشن لگا کر چلی گئی ۔ اس آئسولیشن وارڈ میں اس کے علاوہ دوسرا مریض تھاہی کون ۔ وہ بے مقصد ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔ وہی ماحول ، وہی ماحول کی یکسانیت ۔ وہی بستر کے قریب کھڑکی ۔ کھڑکی میں وہی باہر کا منظر ۔۔ سٹریچر پر ایک مریض کو اندر لایا جا رہا تھا جس کی ننگی سوکھی ٹانگوں پر گھٹنے کے پاس بڑے سے زخم سے پیپ رس رہی تھی اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں ۔ یہاں تک بو نہیں پہنچ رہی تھی، مگر پھر بھی اسے متلی سی محسوس ہوئی۔ ’’ہونہہ‘‘ اس نے گردن جھٹک دی اور کھڑکی بند کر دی پھر اس نے خود کو یاد دلایا۔
’’میرا نام وجے ہے ۔۔۔ وجے ہے ۔۔۔۔ وجے ہے ۔ نمبر بارہ نہیں ‘‘۔ وہ کہنا چاہ رہا تھا ۔ مگر اس کی آواز مسلسل کھانسی میں دب گئی ۔ وہ کل ہی یہاں آیا تھا ۔ اس اسپتال میں ۔ اور اب نہ جانے کتنے دن یہاں رہنا ہوگا۔ وہ آنے والے دنوں کی اذیت کے احساس سے پریشان ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسلسل کھانس رہا تھا ۔ اس کا بخار بھی اس وقت شدت پر تھا ۔ نرس اچانک آئی اور پھر چلی گئی ۔ اور پھر نرس کے واپس آنے سے پہلے اس کی آواز آ گئی ۔ آواز کی رفتار بہر حال انسانی رفتار سے تیز ہوتی ہے ۔
’’ڈاکٹر ۔۔ بیڈ نمبر بارہ کو دیکھ لیجیے ۔ اس کو بخار بڑھ گیا ہے ‘‘۔
’’تم چلو ۔ میں آتا ہوں ‘‘ یہ ڈاکٹر کی آواز تھی۔ اس کے ذہن میں پھر یہ خیال کلبلانے لگا۔’’میرا نام وجے ہے ۔ بیڈ نمبر بارہ نہیں۔ میرا نام وجے ہے بیڈ نمبر بارہ نہیں ۔۔۔ میرا نام …… ‘‘ مگر نرس کے ساتھ ڈاکٹر فوراً نہیں آیا ۔ صرف نرس آکر چپ چاپ ٹمپریچر گراف اٹھا کر لے گئی ۔ پھر ڈاکٹر آیا۔ کچھ دیر تک وہ اسے دیکھتا رہا۔ اب اس کی کھانسی بند ہو گئی تھی مگر سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ پھر ڈاکٹر کے قدموں کی آواز آئی ۔ وہ جارہا تھا۔ پھر آواز آئی ۔ وہ سسٹر سے کہہ رہا تھا۔ ’’نمبر بارہ کو سترپٹو مائسین کا ایک اور انجکشن ابھی دو ۔ ان میں دو بار کی جگہ تین بار کر دو۔۔۔‘‘
اور وہ اس ماحول کو کوسنے لگا۔ ماحول جس نے یکسانیت اور مونوٹونی کو جنم دیا ہے ۔ جس نے اس کا نام بدل دیا ہے اور اب وہ صرف ایک بستر ہے اور ایک ہندسہ ۔
وہ سوچنے لگا۔ وہ اب اس دنیا میں اکیلا ہے ۔ کاش اس کی ماں اس وقت زندہ ہوتی ۔جو اس کے بچپن میں ہی سورگ سدھار گئی تھی ۔ کاس اس کا باپ زندہ ہوتا مگر وہ بھی کچھ عرصے بعد اسے اکیلا چھوڑ گیا تھا ۔ نرس آئی اور انجکشن لگا کر چلی گئی۔ اس نے پھر سوچ کی کڑیاں ملائی شروع کیں ۔ اگر اس کے ماں باپ زندہ ہوتے تو وہ یہاں آنے اور اس کا نام لیتے ۔ اس بڑے اسپتال والے بڑے شہر میں تو اس کے وہ دو چار دوست بھی نہیں ہیں۔ یہاں تو اس وقت وہ صرف ایک ہندسے میں سمٹ گیا ہے ۔ نمبر بارہ ۔۔۔ ایک دہائی اور دو اکائیاں ۔
اس نے کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھا ۔ اسپتال سے ایک لاش لے جائی جا رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور منہ موڑ لیا ۔ اور پھر وہی کمرہ تھا ۔ وہی بستر تھا ۔ جس پر ایک کارڈ بورڈ پر لکھا ہوا نمبر بارہ ۔ پہلے اس کا جی چاہا کہ وہ زور زور سے چیخے ۔ ’میں وجے ہوں ۔۔۔ میرا نام وجے ہے ۔ بیڈ نمبر بارہ نہیں ‘ ۔ مگر پھر اسے ایک اور احساس پیدا ہوا ۔۔ ’’ ہاں ۔۔۔ میں ایک ہندسہ بھی تو ہوں ۔ بیڈ نمبر بارہ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اس کے بستر کی طرف آ رہا تھا۔ یہ اس کے آنے کا وقت نہیں تھا۔ مگر وہ اس وقت نرس کے بلانے پر آیا تھا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو نرس کی آواز آئی تھی۔ ’’بیڈ نمبر بارہ کا بخار اب ہلکا ہے ۔ Prescription میں کچھ changes کیجیے گا ۔۔۔ ؟ ‘‘ ۔ اور اب ڈاکٹر شرما اس کے پاس کھڑا پوچھ رہا تھا ۔۔۔ ’’ کیا حال ہے بھئ۔۔۔‘‘
مگر اس نے حال بتانے کی بجاۓ صرف اتنا کہا ۔۔۔ ’’ ڈاکٹر ۔۔۔ میرا نام وجے ہے ۔ بیڈ نمبر 12 نہیں ۔۔‘‘ یہ ذہن کا پہلا احساس بول رہا تھا ۔
’’لیکن ہاسپٹل میں تو ہر شخص کو وارڈ نمبر اور بیڈ نمبر کے حساب سے ہی یاد رکھا جا سکتا ہے ۔‘‘
’’ٹھیک ہے ۔ اسپتال کا ماحول ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک نام کو ہندسے میں تبدیل کر دیتا ہے ۔‘‘ دوسرے احساس نے اسے یاد دلایا ۔۔ اس نے یوں ہی کھڑکی کی طرف دیکھا ۔ ایک لاش لے جائی جا رہی تھی۔ اس کچھ تکلیف تو ہوئی۔ مگر اس نے نظریں نہیں پھیریں اور کھڑکی بھی کھلی ہی رہنے دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ اکیلا تھا ۔ نرس یہاں سے ابھی گئی تھی اور ڈاکٹر کو رپورٹ دے رہی تھی ۔’’ بیڈ نمبر 12 کا ٹمپریچر نارمل ہے ۔ کھانسی بھی کم ہے ۔ اب وہ ہیلتھ کی طرف جا رہا ہے ‘‘۔ اس کا پہلا احساس سو چکا تھا ۔ دوسرا احساس جاگ گیا ۔ اس نے پلنگ پر تختی دیکھی ۔ بیڈ نمبر 12 ۔ ٹمپریچر گراف دیکھا ۔ اور سوچا کہ اب اسے اس خوفناک ماحول سے نجات مل جاۓ گی۔ وہ تندرست ہو رہا ہے ۔ یہ ماحول جس نے اس کے ۔۔۔۔۔۔ پھر اس نے آس پاس دیکھا ۔ مگر کہاں ہے خوفناک ماحول ۔ کس قدر سکون ہے یہاں ۔ ہر شے سفید اور پاک صاف ۔ کھڑکی کے باہر ہرا بھرا لان ۔ کتنا حسین لگ رہا ہے ۔ یہ افسردہ ماحول سہی ۔ مگر افسردگی بھی کتنی اچھی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ مکمل طور پر تندرست ہو گیا ہے ۔ اس عرصے میں اسے آوازیں آتی رہیں ۔ ’’نمبر 12 کو پھل اور دودھ کی Diet بڑھا دو‘‘۔۔ پچھلے ہفتے سے بیڈ نمبر 12 کا وزن تین پاؤنڈ بڑھ گیا ہے ‘‘۔
اور آج وہ ڈسچارج ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر نے اس کو پھر چیک کیا۔ ’’ آپ کا نام ؟‘‘ نرس کے ہاتھ میں ڈسچارج شیٹ تھی ۔
’’بیڈ نمبر بارہ ‘‘۔ اس نے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔
’’بیڈ نمبر نہیں ۔ نام بتایئے ‘‘ ڈاکٹر شرما نے کچھ جھنجھلا کر کہا ۔
’’ہاں ۔ میرا نام بیڈ نمبر 12 ہے ‘‘ اس نے سختی سے کہا ۔ اور کھڑکی سے جھانکا ۔ ایک لاش لے جائی جا رہی تھی۔ ایک بڑھیا کو پیٹھ پر لادے ایک آدمی اندر آ رہا تھا۔ وہ بغیر نوٹس لیے بے تعلقی سے یہ عمل دیکھتا رہا