تحریر: حافظ مظفر محسنؔ

چھینک مارنے والا طوطا اورآم خوری کا خوفناک منظر طنزومزاح

صنوبرؔ خان جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کسی درخت کا نام نہیں، ہمارے دوست ہیں ان کی خوبیاں خامیاں، سب دوستوں کو پسند ہیں۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی خوبیاں خامیاں دونوں ہی عوام الناس کو اچھی لگتی ہیں۔ یہ خاصی گہری بات ہے۔۔۔۔ کیسی کیسی گہری باتیں اس وقت ہمیں سمجھ نہیں آ رہیں ۔۔سوات امن معاہدہ کے بعد ریگولیشن بھی پاس ہو گیا لیکن امریکن انتظامیہ کو یہ سب سمجھ نہیں آ رہا حالانکہ ہمارے اپنوں کو بھی یہ سب سمجھ نہیں آ رہا لیکن شو یہی کر رہے ہیں کہ ’’مجھے سب پتا ہے‘‘۔۔’’مجھے سب معلوم ہے‘‘۔

صنوبر خان بڑا خدمت کرنے والا انسان ہے۔آپ کہیں بیٹھ جاؤ بیٹھ جائے گا چل پڑو، چل پڑے گا۔۔آپ موبائل فون پر پشتو گانے کی دھن چلاؤ دھیرے دھیرے خٹک ڈانس کرنے لگے گا۔بھاگ جاؤ بھاگ جائے گا آپ کہیں سو جاؤ سو جائے گا، خوابون میں کھو جائے گا۔

کل شام ملا۔۔۔’’مظفر خان۔۔یار پیٹ میں درد ہے قبض بھی ہے‘‘۔۔۔۔!خان بابا آپ سیدھا ڈاکٹر اظہار شاہ کے پاس جاؤ ’’وہ تو ہومیو پیتھی ہے‘‘؟۔۔’’۔حضور ہومیو پیتھی بھی ڈاکٹر کہلاتے ہیں‘‘ ہماری وضاحت پر سیدھے ڈاکٹر اظہار شاہ کو جا ملے۔۔نہ جانے کیا دوا دی شاہ صاحب نے۔۔جو بھی جس کام کی جتنی دوا دی۔۔۔صنوبر خان نے ساری کی ساری اک ساتھ کھائی۔۔ڈکار لی ۔۔پاس بیٹھے گدھے کو ڈرایا اور پھر ہمارے پاس آ گیا۔

’’خان کیسے ہو‘‘؟! مظفرخاناں۔۔۔یار کچھ ایک دو فیصد ٹھیک لگتا ہے۔۔شہزاد احمد چیمہ (گجرات وزیر آباد والے) آ گئے ہم نے بتایا کہ صنوبر خان کے پیٹ میں درد ہے۔۔۔حکیم سے گل کند لو ایک پاؤ گل کند ایک لیٹر گرم دودھ کے ساتھ پی لو۔۔۔درد بھی دور اور قبض بھی۔۔خان کوا چھی لگی۔۔۔یہ سستی تجویز۔۔پھر آ گیا۔۔۔ پھر خوفناک ڈکار پاس بیٹھا گدھا اوازار۔۔۔ہم شرمسار۔۔
صنوبر خان آپ کیسے ہو۔۔۔یار۔۔۔یہ دو لیٹر دودھ اور ایک کلو گل کند نے تو بیڑہ غرق کر دیا ہے۔۔۔پیٹ اکڑ گیا ہے لگتا ہے کچھ دماغ کو چڑھ گیا ہے۔ (یہ حساب ہمارے سیاستدانوں والا ہو گیا ۔ سوال گندم جواب چنا۔)

اوہ خان بابا۔۔۔حضور ایک لیٹر دودھ کہا تھا۔۔۔پاؤ گل کند۔۔۔آپ نے خوراک چار گناہ بڑھا کر استعمال کر لی ہے۔خدا کی پناہ۔۔۔خان بیٹھا بیٹھا خراٹے لینے لگا۔(زیادہ کھا جانے کا انجام چاہے دوا ہی کیوں نہ ہو)

دور سے شفقت اعوان آتا دکھائی دیا۔۔۔اوہ۔۔۔یار اس کا بڑا بھائی حکیم ہے۔۔۔اس سے مشورہ لیتا ہے۔ ہم نے روکا۔۔۔خان نہ رکا۔۔۔۔ہم نے دیکھا وہ دونوں ایک گلی میں داخل ہو گئے۔ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے۔ کیونکہ جس حکیم کی وہ بات کر رہے تھے وہ خاصہ خوفناک قسم کا حکیم ہے۔

آدھ گھنٹے بعد صنوبر خان آ گیا۔۔۔اوئے یارتمہارا دوست شفقت اعوان بھی عجیب آدمی ہے بس میں بیچنے والی ایک پھکی کھلا دی۔۔۔ہم نے ساری پڑیا منہ میں انڈیلی۔۔۔کچھ گلے میں جم گئی۔۔۔کچھ ناک میں چلی گئی۔۔ ابھی تک موجود ہے۔۔۔چھینک چھینک کر مر گیا ہوں۔ تقریباً ایک سو دس بار چھینک مارا ہے۔۔۔گھر میں گیا۔۔۔وہ جو ہم نے ایرانی طوطا گھر میں پنجرے کے بغیر رکھا ہے۔۔۔بڑا خبیث ہے وہ ظالم ۔۔۔ہم نے اس کے سامنے پندرہ بیس دفع چھینک مارا اس نے ہر بار چھینک مار کر ہمارا مذاق اڑایا۔۔ وہ پرانا چھینک مار خان لگتا ہے۔۔۔ہم نے آخر میں گھر سے نکلتے ہوئے غصے میں اسے کہہ دیا۔۔۔

’’طوطے۔۔۔تم طوطا نہیں کتا ہو‘‘۔۔۔ہم آ گئے۔۔پیچھے سے دور تک اس کی آواز آتی رہی۔۔۔کتا۔۔کتا۔۔کتا۔ یار یہ اس بولنے والے طوطے کا فائدہ کوئی نہیں نقصان ہی نقصان ہے۔ جواِس کو پسند آئے اُس بات کو پکڑ کر خوب اچھالتا ہے چاہے مالک جگہ جگہ بے عزت ہوتا پھرے۔۔
طوطے کے ہاتھوں بے عزت ہونا ویسے کوئی خاص بے عزتی والی بات نہیں۔ میں نے وضاحت کی جو خان کو سمجھ نہ آئی۔
’’تو خان صاحب اڑا دو‘‘ اس طوطے کو۔۔یار کئی بار سوچا ہے اسے اڑا دوں۔۔لیکن کبھی کبھی کام بھی اچھا کرتا ہے گاؤں سے جلیب خان اپنے بچوں کے ساتھ آتا ہے اور پندرہ دن کم از کم ہمارے ہاں ٹھہرتا ہے۔۔۔سارا کاروبار ٹھپ ، خدمت بھی کرو اور جاتی دفعہ ادھار بھی مانگتا ہے۔ اور جب ادھار لے جاتا ہے تو کبھی بھی واپس نہیں کرتا ۔۔ مانگو تو لڑ پڑتا ہے۔۔ ظالم ۔۔

پچھلی دفعہ جب جلیب خان آیا تو اس طوطے نے ہماری بڑی مدد کی۔

جب وہ دو تین دن ٹھہرے تو طوطے نے شور مچانا شروع کر دیا ’’جلیب خان۔۔ابھی کتنے دن اور ٹھہرو گے‘‘۔۔جلیب خان۔۔۔ابھی کتنے دن ٹھہرو گے۔۔۔جلیب خان ابھی کتنے دن ٹھہرو گے۔۔۔۔ذرا غور کرو۔۔جلیب خان کو جب یہ فقرہ ہزار دفعہ سننا پڑا ہو گا تو سوچو اس نے کیا کیا ہو گا۔(گویا طوطا عذاب بن کر نازل ہو گیا جلیب خان پر۔۔ اور اُس وقت یہ رحمت بن گیا ہمارے لئے)۔

’’کیا‘‘۔۔۔ہم نے پوچھا۔۔۔ اس نے بندوق اٹھا ئی اور اسے گولی مارنا چاہی۔۔۔تو طوطا گولی چلنے سے پہلے ہی پنجرے کے پاس جا کر لیٹ گیا جیسے مر گیا ہو۔۔۔جلیب خان گھبرا گیا۔۔بندوق پھینک کر افسردہ انداز میں طوطے کے پاس جا کر بیٹھا۔۔ طوطے نے آہستہ سے اک آنکھ کھولی۔۔۔جلیب خان کو غور سے دیکھا اور پیار سے بولا۔۔۔’’جلیب خان ابھی کتنے دن اور ٹھہرو گے؟۔ جلیب خان ہنس دیا۔۔۔ اس نے بیوی بچوں کو ساتھ لیا۔۔۔۔طوطے ۔۔کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا ہو گیا۔

’’طوطے۔۔۔ تم جیتا ہم ہارے‘‘۔۔۔۔خدا حافظ۔

صنوبر خان پیٹ کی سناؤ۔

یار ۔۔۔مظفر خان اب درد بڑھ گیا ہے لگتا ہے مر جاؤں گا۔ابھی کئی لوگوں سے ادھار واپس بھی لینا ہے( پریشان لگ رہا تھا)۔۔۔’’اور جن کا تم نے اھار دینا ہے‘‘ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔

یار خان۔۔مرنے سے پہلے فریج میں کچھ آم پڑے ہیں کھا لو۔۔۔ شاید اوپر ملیں یا نہ ملیں۔

خان پیٹ کا درد بھول کر فریج کی طرف لپکا۔۔۔اور آم پر آم کھانے لگا۔ اور میں نہایت مزے سے آم خوری کا یہ ۔’’خوفناک ‘‘ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے گھبرا سا گیا۔
میں آم خوری کے اس خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ ایسے میںدروازے پر بیل ہوئی۔۔ہمارے دوست کپیٹن ڈاکٹر ناظر علی زیدی تشریف لے آئے۔۔بغل گیر ہوئے۔۔خان سے ملنے لگے۔۔۔ تو خان نے بغل گیر ہونے سے یہ کہہ کر روک دیا۔ پیٹ سے پیٹ مت ملاؤ ڈاکٹر۔۔پیٹ پھٹ جائے گا۔ درد سے۔۔۔ درد سے نہیں۔۔۔۔ زیادہ کھا کھا کے پھول جانے سے۔۔۔ میں نے وضاحت کی۔۔۔

ڈاکٹر صاحب نے ماجرا سنا تو کچھ دوائیاں لکھ کر دیں۔

ہم نے بندہ بازار بھیجا۔۔۔دوائی لانے کو۔۔۔ خان رودیا۔۔مظفر خاناں۔۔۔ اس ظالم ملازم کو روکو۔۔اگر پیٹ میں جگہ ہوتا تو دو آم جو بچ گئے ہیں ہم وہ نہ کھا لیتے۔۔ملتانی آم کوئی چھوڑنے والی چیز ہے۔؟ ہم نے حالات بگڑتے دیکھے تو ڈاکٹر صاحب کے مشورہ پر ایدھی والوں کی ایمبولینس منگوائی اور صنوبر خان کو ہسپتال لے گئے۔ ایمر جنسی میں موجود ڈاکٹر نے ساری کہانی سنی۔۔خوب ہنسا۔

ہم نے ہنسنے کی وجہ پوچھی۔۔۔ تو ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’بھئی میں نے بھی آج خوب مینگو کھائے ہیں۔حالانکہ میرے پیٹ میں درد تھا، اکڑاؤ تھا اور گنجائش بھی نہ تھی‘‘۔۔۔’’ بہتر ہے آپ ہم دونوں کوکسی حکیم کے پاس لے جائیں۔۔۔ تاکہ کچھ آفاقہ ہو۔۔۔ کیونکہ شام کو میں نے ایک عزیز کے ہاں مینگو پارٹی پر جانا ہے‘‘۔۔۔ہم نے ڈاکٹر کو حیرت سے دیکھا۔۔۔ جو پوری طرح سنجیدگی سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔۔۔ جبکہ صنوبر خان درد سے کراہ رہا تھا۔۔دو مریض ہمارے سامنے تھے۔۔ دونوں بسیار خوری کے ماہر لگتے تھے۔۔۔ اور ہم پریشانی میں کسی دوسرے ’’آپشن‘‘ پر غور کر رہے تھے؟

حسن عباسی کی تازہ کتاب میں انور مسعود کی یہ چھوٹی سی نظم ’’میرا کی قصور اے‘‘ اچھی لگی۔۔
؂ ٹاہلی تھلے ملنے دا
وعدہ اونہے کیتا سی
ٹاہلی جتھے دسّی سی
اوتھے تھے کچھ ہور اے
ایدھے وچ تُسی دسّو
میرا کیہ قصور اے
تحریر: حافظ مظفر محسنؔ
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527