ڈاکٹر ہو تو ایسا۔ ۔ ۔
سرکاری ہسپتال میں مریضوں کی کثرت تھی ۔ ۔ ۔ جبکہ ڈاکٹروں کی فصل خشک سالی کا شکار نظر آتی تھی۔ آج ایک ہی ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر تھے اور شاید نئے نئے یہاں آئے تھے جو اتنے حیران پریشان دکھائی دے رہے تھے۔مریضوں کی بہتات کے باعث بدحواس سے تھے اور بیک وقت کئی مریضوں کو چیک کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔۔ ۔ ۔

ایک مریضہ کی نبض تھامے اس کے دل کا حال جاننے کی تگ و دو میں تھے اور یہ قطعاً بھول چکے تھے کہ وہ پچھلا مریض جسے پانچ منٹ قبل منہ کھولنے کا کہا تھا ابھی تک منہ پھاڑے ان کو گھور رہا ہے۔
جب اس پر نظر پڑی تو ہڑبڑا کر اس کے منہ کے غار میں تھرمامیٹر ٹھونسا اور منہ بند کر دیا۔۔ ۔ ۔ چند منٹ بعد تھرما میٹر نکالا اور عینک درست کرتے ہوئے درجہ حرارت پڑھنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ تھرمامیٹر کچھ مختلف سا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ غور کیا تو سر پیٹ لینے کو دل چاہا ۔ ۔ ۔ یہ تو ان کی بال پوائنٹ تھی۔ ڈرتے ڈرتے مریض کی جانب دیکھا جو انتہائی شوق سے بولا۔

’’سر جی ایہہ تھرمامیٹر وچ پنسل ضرور چائنہ آلیاں لائی ہونی اے۔ ۔ ۔ بڑے ای تیز بندے نیں جی۔ ۔ فیر کِنا بخار اے جی؟؟‘‘
(سر جی یہ تھرمامیٹر میں پنسل ضرور چائنہ والوں نے لگائی ہوگی، بہت تیز بندے ہیں جی۔ پھر کتنا بخار ہے مجھے؟)

ڈاکٹر صاحب نے بھی جلدی سے اپنی غلطی پر پردہ ڈالا اور بولے۔
’’ہاں ہاں ۔ ۔ ۔ نوے ڈگری کا بخار ہے۔ ۔ ۔اچھا کیا جلدی آ گئے ورنہ بچنا مشکل ہو جاتا۔‘‘

ڈاکٹر صاحب نے چند گولیاں نکالیں اور بولے۔ ۔
’’یہ گولیاں کھا لینا ۔ ۔ ۔ اللہ نے چاہا تو شفا بھی ہو ہی جائے گی۔‘‘
مریض نے ایک نگاہ گولیوں پر ڈالی اور بولا۔

’’ڈاکٹر جی یہ ساری گولیاں میں نے ہی کھانی ہیں؟‘‘
ڈاکٹر صاحب جھنجھلا کر بولے۔ ۔ ۔
’’گھر میں کتنے بندے ہیں؟‘‘
’’نو جی‘‘
وہ انگلیوں پر گن کر بولا۔
’’یہ لو پانچ گولیاں اور۔ ۔ ۔ سب کو ایک ایک دے دینا۔‘‘
مریض نے یوں خوش ہو کر سر ہلایا جیسے ڈاکٹر صاحب سے اسی رعائت کی امید تھی اور اٹھ کر چلا گیا۔

ڈاکٹر صاحب نے سکون کا سانس لیا اور اگلی مریضہ کی جانب متوجہ ہوئے۔۔ ۔ ۔
’’جی بہن ! آپ کا سینے کا ایکسرے ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ دکھائیے ادھر۔‘‘
ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے تھاما اور ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ ۔
اچانک چونک پڑے اور اور عینک درست کرتے ہوئے دوبارہ ایکسرے سامنے کیا۔
تھوڑی دیر غور فرماتے رہے پھر بولے۔

’’وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ ۔ ۔ ایک تو پتہ نہیں آپ لوگ اتنی لاپروائی کیوں کرتے ہیں۔‘‘
’’کیسی لاپروائی ڈاکٹر صاحب؟؟‘‘ مریضہ کے ساتھ والی خاتون نے پوچھا۔

’’بھئی یہ میرے خیال سے پچھلے چند دن میں بیسواں کیس ہے جس کا ٹی بی کی وجہ سے پھیپھڑا ہی غائب ہو چکا ہے۔ آپ لوگ پہلے چیک ہی نہیں کرواتے۔ ۔ ۔‘‘
’’ٹی بی۔ ۔ ۔ ۔ پھیپھڑا غائب۔ ۔ ۔ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب۔ ۔ ۔؟؟‘‘
مریضہ کو غش سا آیا۔

’’لو جی ۔ ۔ ۔ آپ خود ہی دیکھ لیں۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے ایکسرے مریضہ کے سامنے کیا اور ایک بالکل کالی جگہ اشارہ کیا۔
’’یہاں کبھی آپ کا پھیپھڑا ہوا کرتا تھا۔۔ ۔ ۔‘‘
’’اب کہاں ہے؟‘‘
’’ٹی بی کھا گئی۔ ۔ ۔‘‘
اور ساتھ ہی مریضہ نے بھاں بھاں کر کے رونا شروع کر دیا۔

’’اب کیا ہو گا جی؟؟‘‘
’’ہو گا کیا ۔ ۔ ۔ نو ماہ لگاتار علاج ہو گا۔‘‘
نو ماہ کا سن کر مریضہ کی آہ و بکا میں اضافہ ہو گیا۔
’’لوگ پروا ہی نہیں کرتے کل ایک آیا اس کا بایاں گردہ غائب تھا۔‘‘
ڈاکٹر صاحب نے مریضہ کو دوا کی پرچی بنا کر دی اور تسلی دے کر فارغ کیا۔۔ ۔ ۔

ایک اور مریض مسمی سی صورت بنائے کھڑا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ ۔ ۔
’’کیوں بھئی تمہارا بھی پھیپھڑ ا غائب ہے کیا؟‘‘
وہ رونی آواز میں بولا۔ ۔ ۔
’’ڈاکٹر جی ۔ ۔ ۔ جء گل پھیپھڑے دی ہوندی تے رولا ای کوئی نائی ۔ ۔ ۔ پر میڈا تے کھبا ادھا دل ای گواچ گیا اے۔‘‘
(ڈاکٹر صاحب ۔ ۔ ۔ اگر بات پھپھڑے کی ہوتی تو مسئلہ ہی کوئی نہیں تھا پر میرا تو بایاں آدھا دل ہی غائب ہے۔)
ڈاکٹر صاحب کو لگا کہ شاید انہیں سننے میں مشکل ہوئی ہے لیکن جب دوبارہ یہی جواب ملا تو گڑبڑا گئے۔ ایکسرے دیکھا تو واقعی آدھا دل نہیں تھا۔
ان کے ذہن میں کچھ چبھ سا رہا تھا۔ اسی دوران نگاہ اس ٹی بی والی مریضہ کے ایکسرے پر پڑی جو وہ وہیں چھوڑ گئی تھی۔
اس کو اٹھا یا اور اس پر دوبارہ نگاہ دوڑائی۔ ۔ ۔
اچانک ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ ۔ ۔ پھیپھڑا تو ٹی بی کھا گئی پر یہ بائیں جانب کی پسلیاں کون کھا گیا۔
تبھی ان کے ذہن میں جواب ایک جھماکے کی طرح آیا ان کی ایکسرے مشین کی ایک سائیڈ ہی بلینک ہو چکی تھی۔۔ ۔ ۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ۔ ۔

بمشکل گمشدہ دل والے مریض کو یقین دلایا کہ اس کا دل اس کے سینے میں ہی ہے۔ اس کو یقین نہیں آتا تھا اور وہ یہی سمجھتا تھا کہ ضرور ڈاکٹر کوئی چکر چلا رہا ہے۔وہ بار بار کہتا۔ ۔ ۔
’’سر جی پر مینوں کھبے پاسے دل محسوس نہیں ہوندا۔‘‘
(سرجی پر مجھے بائیں طرف دل محسوس نہیں ہو رہا۔)
پر ڈاکٹر صاحب نے زبردستی اسے رخصت کیا ۔ ۔ ۔ ان کے ذہن میں وہ بیس کے قریب مریض گھوم رہے تھے جن کا وہ پچھلے دو ہفتے سے ٹی بی کا علاج کر رہے تھے۔