تحریر: حافظ مظفر محسن

ڈسکہ کا حجام،پسندیدہ کلام،اک ادھوری شام طنزو مزاح

” مائیں نی میں کینو آکھاں“۔۔۔ میں نے پہلا فقرہ ہی سنا اور کھو سا گیا۔۔۔”ٹھک ٹھک ٹھک“ کسی نے گھر کا دروازہ زور زور سے پیٹا۔۔۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا باہر کی طرف دوڑا۔۔۔پیچھے سے۔۔۔ بہت پیچھے سے دھیمی دھیمی آ واز۔۔۔ کانوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ” مائیں نی میں کینو آکھاں“۔۔۔” میاں کہاں ہوتے ہو آج سترہ تاریخ ہے اور تم نے مجھے سترہ چکر لگوائے ہیں۔۔مجھے پتہ ہے دودھ اب تم کسی اور سے لینے لگے ہو لیکن پچھلے مہینے کے پیسے تو نکالو۔۔۔ ورنہ چوک چوراہے میں بے عزت ہونے کے لئے تیار رہو“؟ میں نے منت سماجت کی دودھ والے کو ٹالا۔۔۔ٹھک دروازہ بند کیا۔۔۔آکر ٹیپ جس میں میں نے نئی کیسٹ ڈالی تھی کہ مزے سے حامد علی بیلا کی گائی ہوئے شاہ حسینؒ کی کافی سنوں گا، کو ٹھڈا مارا اور چارپائی پر لیٹ کر اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل سوچنے لگا۔۔۔جو میرے ارد گرد بیٹھے کسی معجزے کے منتظر تھے۔اس دور میں معجزے کہاں ہوں گے جب چھینا جھپٹی چل رہی ہے بھائی بھائی کا دشمن ہے۔ دوستوں سے خیر کی توقع نہیں بلوچستان میں شورش بپا ہے لیکن حکومت ابھی وزیرستان میں مصروف ہے۔ کوئٹہ میں کئی سال سے ڈسکہ شہر کا ایک حجام رہائش پذیر تھا کچھ دن قبل اسے جب وہ اپنی دوکان پر بیٹھا تھا کسی نقاب پوش نے آ کر گولی مار دی۔ آج میں نے اس کے بھائی سے تعزیت کی۔ یہ قطعہ بھی آپ کی نظر ہے۔۔۔
مجھ سے ہے ناراض وہ بھائی ڈسکے والا
شعر کی دنیا کا وہ سپاہی ڈسکے والا
کوئٹہ شہر میں قتل ہوا ہے کل محسن
سالوں سے مقیم تھا نائی ڈسکے والا
بھلا ایسے بے ہودہ موڈکے ساتھ پسندیدہ گلوکار کا گانا کیا ماحول بنائے گا۔کبھی کبھی غلط وقت پر سنے گئے ہنستے مسکراتے گانے بھی رلا دیتے ہیں یہ سب موڈ کی بات ہے۔
نہ جانے میں کب سو گیا۔۔۔ نیند آئی مچھر بھی آ گیا۔۔۔یہ ظالم کبھی اکیلا نہیں آتا۔۔ہمیشہ ”فیملی کے ساتھ“”موو“ (Move) کرتا ہے۔اس کی فیملی ممبران ایک سے بڑھ کر ایک ہیں کیونکہ سب کے سب مچھر ہیں۔۔۔آجکل تو مچھر کی بھوں بھوں بھوں میں تکبرانہ انداز محسوس ہوتا ہو گا۔۔۔جو کام ایٹم بم نہیں کر سکتا وہ آجکل مچھر کر سکتاہے۔ ”ڈینگی بخار“۔۔مچھر کو ٹھیک طرح سے اپنی
طاقت اور قوت کا اندازہ ہو جاے تو وہ کسی کو اپنے ساتھ اڑنے نہ دے۔۔ اورگندگی کے جتنے ڈھیر شہر میں بکھرے پڑے ہیں ان پر اکیلا ہی قبضہ جما لے اور اپنی محبوبہ کے ساتھ گاتا پھرے اڑتا پھرے۔۔۔
آ جا میں ہواو¿ں میں فضاو¿ں میں لے چلوں
تو ہی تو۔۔۔۔۔ میرا دوست۔۔۔۔۔۔۔
اور دونوں اک ساتھ دن بھر کے تھکے مارے لوگوں کو کاٹتے پھریں اور ڈینگی بخار بانٹتے پھریں۔۔کیا خوبصورت تحفہ ہے ادارے سوئے ہوئے ہں تو ایسے تحفے تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔مکھیاں بے چاری بھی ہیںبظاہر بے زرر، ٹیکہ تو نہیں لگاتیں، بس ہیپاٹائٹس پھیلاتی ہیں۔چھوٹی موٹی بیماریوں کی تو آپ بات نہ کریں۔ کیونکہ ڈاکٹروں کو بے روز گار بھی تو نہیں کرنا۔
رات کئی بار اٹھا۔۔۔کبھی مچھر تنگ کرے کبھی بچہ رونے لگے رات تین بجے ہمسائے میں لڑائی شروع ہو گئی۔۔۔باپ بچوں کو مار پیٹ رہا تھا ۔۔بچوں کی ماں شوہر کو اس مار پیٹ سے روک رہی تھی۔۔۔میں نے دیوار کے ساتھ کان لگا کر غور کیا۔۔تو پتہ چلا کہ شوہرنے ایک کب چائے کے لئے چینی کسی جگہ چھپا کے رکھی تھی جو اسے شک تھا کہ بچوں نے کھا پی لی بچے رو رو کے قسمیں کھا رہے تھے کہ ہم نے ڈیڑھ چمچ چینی نہیں چرائی۔۔۔ لڑائی کا انجام یہ ہوا کہ بچوں کی ماں نے شوہر کو دلاسہ دیا کہ میں ہمسائے سے منت سماجت کر کے تمہیں دو چمچ چینی لا دیتی ہوں۔۔۔میںنے چھلانگ لگائی۔۔۔بھاگا۔۔۔باورچی خانے کی طرف۔۔۔جہاں میں نے بھی دو چمچ چینی اک جار میں ڈال کے رکھی ہوئی تھی۔۔میں نے چینی جلدی سے چھپانا چاہی اس سے پہلے کہ ہمسائی آ کر منت سماجت کرے۔۔۔میں نے
ایک سلور کی ”پتیلی“ الٹی کی اس پر پاو¿ں رکھا اور جار اونچی جگہ رکھنے ہی والا تھا کہ ٹھک ٹھک ٹھک ہوئی۔۔۔ دروازے پر۔۔۔ ہمسائی آ چکی تھی۔۔۔میں جذباتی ہو گیا میں نے لمبا ہاتھ کر کے جار روشن دان میں رکھنا چاہا۔۔۔”دھڑام“ میں بھی نیچے۔۔۔چینی سارے باورچی خانے میں بکھر گئی۔۔۔بیوی نے افراتفری میں دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔ میں بکھرا تو نہیں لیکن جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوتا محسوس ہوا۔۔۔بیوی اور ہمسائی نے بازوو¿ں سے پکڑ کر اٹھایا۔۔۔ہمسائی نے مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھا۔۔۔میرا پھر گرنے کو دل چاہے۔۔۔بار بار گروں وہ باربار اٹھائے لیکن پھر بیوی کی خونخوار نظریں ۔۔۔میں نے”ہائے ہائے“ کیا اور ماحو ل قدرے بہتر ہو گیا۔۔۔”چینی“ ہمسائی بولی۔۔۔یہ بکھری پڑی ہے۔۔۔میں نے پورے باورچی خانے میں ہاتھ کے اشارے سے بکھری چینی دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔ہمسائی کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔۔وہ پھر لڑے گا۔۔۔بچوں کو مارے پیٹے گا وہ بڑبڑائی ۔۔۔میں اب کے یہ تشدد نہ ہونے دونگی ۔۔بشیراںتو مت گھبرا میں نے تین چار چمچ چینی ایمرجنسی کے لئے چھپا رکھی ہے۔۔۔ابھی لا کے دیتی ہوں۔۔۔بیوی باورچی خانے سے باہر نکل گئی۔چینی لینے کے لئے۔۔ہمسائی اور میں اکیلے باوچی خانے میں تھے۔۔ دور کہیں سے آواز آ رہی تھی (باہر سردیو ں کی پہلی بارش شروع ہو چکی تھی)
اے ابرکرم آج اتنا برس
اتنا برس کے وہ۔۔۔۔
”ہائے مر گئی“۔۔۔ہمسائی زور سے بولی۔۔۔کیا ہوا؟!۔۔بشیراں۔۔۔وہ بھائی جی میں نے تو آج کپڑے دھو کر باہر صحن میں سوکھنے کے لئے ڈال رکھے تھے اور یہ تیز بارش شروع ہو گئی ہے۔۔۔وہ باورچی خانے سے بھاگتی ہوئی نکلی ادھر سے بیگم آگئی۔۔
کیا ہوا۔۔۔کیا ہوا۔۔۔ یہ بشیراں کدھر گئی۔۔۔کیوں بھاگی۔۔۔چینی چھوڑ کر۔۔۔۔ آج کے دور میں چینی چھوڑ کر کون بھاگتا ہے۔۔ وہ اس کے کپڑے بھیگ رہے تھے۔۔۔کیوں؟ کس نے بھگوئے اس کے کپڑے۔۔۔بیوی بولی۔۔وہ کہ رہی تھی؟!
تم خود پوچھ لینا اس سے۔۔میں نے اتنا کہا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔ میں نے جا کر اونچی آواز میں ٹیپ پر لگی نئی کیسٹ لگا دی۔
مائیں نے میں کینو آکھاں
درد ووچھوڑے دا حال نی
مائیں نے میں کینو آکھاں

تحریر: حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527