ڈوب کر غم میں ترے ہم نثار ہو جائیں
بھول کر تشنگی پیہم خمار ہو جائیں

ہر نئی چوٹ بھی چہرے پہ ہنسی لے آئے
دیں مزہ غم بھی اگر بے شمار ہو جائیں

تیرے ہی در سے جڑے ربط نے قائم رکھا
راندہِ در جو ہوں شاید غبار ہو جائیں

چارہ گر! مجھ کو دوا دے کوئی ایسی جس سے
دل میں چبھتے ہوئے کانٹے بہار ہو جائیں

لفظ تو لفظ ہیں پابند ہوں کیسے فارس
توڑ کر بندشیں پھر بے مہار ہو جائیں

از صبیح الحسن