لوگ کہتے ہیں بہت غم خوار رہتے تھے یہاں

میں یہ کہتا ہوں مرے اغیار رہتے تھے یہاں

چاند سورج رات دن بارش زمیں بادل فلک

اِن سے بڑھ کر بھی بہت کردار رہتے تھے یہاں

اب جہاں دیکھوں نظر آتے ہیں میخانے وہاں

شہر میں بس عشق کے بیمار رہتے تھے یہاں۔۔۔

کچھ تو ایسے جن کی کوئی مثل بھی ملتی نہ تھی

کچھ مرے جیسے بہت بے کار رہتے تھے یہاں

کس گلی میں اب ہیں جانے ان کی جلوہ ریزیاں

میں کہاں تھا جب مرے سرکار رہتے تھے یہاں

کاغزی کشتی سمندر کے کنارے دیکھ کر

یوں لگا خرم کہ میرے یار رہتے تھے یہاں