کیری لوگر بل ۔۔ سامراجیت کا تسلسل

سرمایہ دارانہ سامراجیت کا واحد مقصد اور واحد ہتھیار ”زر“ ہے۔ مقصد اس لحاظ سے کہ کوئی اقدام ایسا نہیں ہو گا جس کا مقصد حصول زر نہ ہو، قطع نظر اس کے کہ طریقہ کار جائز ہے یا نا جائز۔ اور ہتھیار اس طرح کہ لوگوں کی مدد ، پھر اپنا اثر و رسوخ اور پھر قوموں کو غلام بنانا اسی ”زر“کی بدولت ہے۔ حصول زر اور اضافہ زر کے لئے خام مال اور منڈیوں کی اسے ہمیشہ سے ضرورت رہی ہے ۔ جس کے لئے غریب اور ترقی پذیر ممالک اس کے لئے بہترین شکار گاہ اور تر نوالہ رہے ہیں۔

حكمت عملي طریقہ کار وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدل جاتا ہےلیکن مقصد ایک ہی ہے، دولت کو دگنا اور چگنا کرنا، چاہے اس کے لئے ہزاروں لاشیں گرانا پڑیں، شہراور بستیاں برباد کرنی پڑیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اسی سامراجیت کے ایجنڈے پر عمل پیرا تھی لیکن انداز ذرا مختلف تھا۔ تجارت کی آڑ میں ان بحری قزاقوں نے انڈیا کا رخ کیا جہاں بیک وقت دونوں چیزیں ، خام مال اور منڈی ، موجود تھیں۔ پھر حالات نے کیا رخ اختیار کیا ، اور کیا نتائج برآمد ہوئے ، کس طرح بر صغیر کو غلام بنایا گیا، وہ 1857ءاور اس کے بعد کے واقعات ، بر صغیر پر گوروں کی حکومت اور نو آبادیاتی نظام کے قیام کی صورت میں زندہ حقیقت کے طور پر دنیا کے سامنے ہے۔اسی طرح فرانس نے افریقہ میں جو کچھ کیا وہ بھی تاریخ کا اک سیاہ باب ہے۔لیکن اس وقت برطانیہ اور فرانس کا ہی ڈنکا بجتا تھا، باقی ساری دنیا یا تو غلام تھی یا سر اٹھانے کے قابل نہ تھی اس لئے دفاعی اور عسکری میدان میں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں تھی۔

اب حالات بدل گئے ہیں، صرف خام مال اور منڈی ہی نہیں بلکہ دشمنوں سے تحفظ بھی ضروری ہے۔ اب یک قطبی دور نہیں رہا، ہر میدان میں مقابل تیار ہیں ، لہذا صرف تجارت سے کام نہیں چلنے والا۔

بایں وجہ سامراجیت نے بھی انداز اور طریقہ کار بدل دیا۔ ایک طرف تیل اور معدنیات کے حصول کے لئے مشرقی وسطی اور مشرق بعید کے ممالک میں اپنی موجودگی کا جواز بنا نے کے لئے خطے کے ممالک کو ٓپس میں لڑایا، پھر ان کے سروں پر اسرائیل جیسی ننگی اور دودھاری تلوار لٹکا دی اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر وسائل غصب کئے جا رہے ہیں ۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خوبصورت نعروں میں سامراجیت کے بھیانک منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کبھی یلغار اور کبھی امداد کی صورت میں غریب اور ترقی پذیر ممالک کی شہ رگ تک پہنچا جا رہا ہے۔ اپنے دشمنوں پر نظر رکھنے کے لئے ان کے پڑوسی ممالک میں اپنے پاو*¿ں مضبوط کئے جا رہے ہیں ۔

سامراجیت کے پھیلاو*¿ اور تحفظ کی اس دوڑ میں پاکستان نہ صرف متاثر ہے بلکہ پچھلے کچھ عرصہ سے دانستہ یا نا دانستہ طور پر شریک بھی ہے۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں میں سب سے اہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہوناہے۔پاکستان امریکہ کی توجہ کا مرکز اس دور سے رہا ہے جب روس عالمی طاقت تھا، اور خوش قسمتی سے دونوں کا مشترکہ دشمن تھا۔ تب سے دوستی تو چلی آرہی ہے لیکن یک طرفہ قربانیوں کے ساتھ۔ اور اب چین پر نظر رکھنے کے لئے افغانستان میں موجودگی ضروری ہے جس کے لئے پاکستان کا تعاون نا گزیر ہے، اور پھر افغان جنگ میں پاکستان اب براہ راست شامل ہو چکاہے، جنگ کا دائرہ سرحدیں پار کر کے سوات تک پہنچ گیا ہے۔

اس اتحاد نے پاکستان کو کیا دیا؟ 35 ارب ڈالر کا خسارہ، تین جانب سے سرحدی خطرات، غیر یقینی حالات، عدم استحکام، مہنگائی، لاشیں ، لاکھوں بے گھر افراد، لاپتہ افراد اور سب سے بڑھ کر خوف و ہراس کی ایک مستقل فضا جس نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا دیاہے۔ اس کے علاوہ مایوسی اور ناامیدی کی وہ سطح جو کسی بھی قوم کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

لیکن امریکہ چونکہ ہمارا دوست اور ہم اس کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں اس لئے ہمارے حالات کی نہ صرف خبر ہے بلکہ فکر بھی ہے۔ مختلف اوقات میں مدد امداد اور پابندیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ اسی خبر و فکر کا نتیجہ ہے۔بطور خاص اس وقت پاکستان جن بحرانوں سے گزر رہا ہے، اور ہر در پر جھولی پھیلا ئے صدائے امداد لگا رہا ہے لازم تھا کہ اسے تنہا نہ چھوڑ اجائے۔اسی کے پیش نظر امریکہ نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستان کی امداد کا فیصلہ کیا ، اور کیری لوگر بل منظور ہو گیا۔

یہ بل کیا ہے؟ اس میں کیا شرائط ہیں؟ اس کا فائدہ پاکستان کو ہو گا یا امریکہ کو؟ کیا یہ بل نیک نیتی کے ساتھ صرف امداد کے لئے منظور کیا گیا ہے یا اس کے پس پردہ کچھ اور عزائم ہیں؟ کہیں یہ پاکستان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کی کوشش تو نہیں؟

ان تمام سوالات کے جوابات اس دن سے سامنے آنا شروع ہو گئے تھے جس دن یہ بل منظر عام پر آیا تھا۔ بل کا اگر جائزہ لیا جائے تو پہلی نظر میں ہی واضح ہو جاتا ہے کہ پرانے شکاری نیا جال لے کر پہنچ گئے ہیں، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے لے کر پاکستان کے تمام شہر غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ ہمارے خفیہ ادارے جو پہلے ہی نشانے پر ہیں مزید مشکلات سے دوچار ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ پروانہ غلامی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ہاتھ پاو*¿ں باندھ کر سمندر میں پھینک دینا ہے تا کہ مدافعت کی صلاحیت تک مفقود کر دی جائے۔

ویسے تو امریکہ نے اس بل سے پہلے بھی پاکستان کو اپنی کالونی بنایا ہوا ہے، جب اور جہاں چاہے جا سکتا ہے ، آزادانہ نقل و حرکت بمع خطرناک ہتھیار اس کے لئے کوئی مسئلہ نہیں، دار الحکومت اسلام آباد سے لے کر سب سے بڑے تجارتی مرکز کراچی تک ، اور پشاور سے کوئٹہ تک ، ہر گھر ، ہر ادارہ اور ہر دفتر ان کے لئے گھر کی بالکونی کی حیثیت رکھتا ہے، اور ہمارے حکام ان کے کام میں مداخلت کو برتر از گناہ تصور کرتے ہیں۔

لیکن اس بل کی منظوری نے تو ان کے تمام سیاہ کارناموں کو سند جواز دے کر اعمال حسنہ ہی نہیں بلکہ کارہانے نمایاں بنا دیا ہے۔ اب وہ شرائط کی خلاف ورزی کے عذر لنگ کو بنیاد بنا کر جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ کر سکتے ہیں، جس کو چاہیں اٹھا کر لے جائیں، جس مسجد اور مدرسے کو چاہیں طلبہ سمیت زمیں بوس کر دیں، کوئی ان سے استفسار نہیں کر سکتا کیوں کہ ہم نے خود سر محضر مہر لگا کر انہیں تمام اختیارات اور سفید و سیاہ کا مالک بنا دیا ہے۔ الغرض اس بل پر دستخط ، خاکم بدہن ، پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔

جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈیا میں تجارت کا سہارا لے کر اس کے وسائل اور اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، اسی طرح اب امریکہ اس بل کے ذریعے پاکستان پر اپنا قبضہ مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے اور مزید تعاون کے لئے بلیک واٹر تو پہلے ہی پاکستان میں پدھار چکی ہے۔ موجودہ حالات کا موازنہ اگر انیسویں صدی کے حالات سے کیا جائے جب انگریز نے بر صغیر کو جکڑنے کا آغاز کیا تھا تو لگتا ہے کہ کیری لوگر بل اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا مشن ایک ہی تھیلے کے جٹے بٹے اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

کیری اور لوگر جنہوں نے یہ بل تیار کیا اور امریکہ جو اس بل کو منظور کررہا ہے سب کے سب قابل فخر اور قابل داد ہیں۔ اس لئے کہ وہ امریکی ہیں ، انہیں اپنے وطن سے محبت ہے جس کا ثبوت انہوں نے اس بل کی تیاری میں دیا ہے۔ مدد اپنی جگہ لیکن ملکی مفاد کسی صورت نظر انداز نہیں کئے جا رہے چاہے اس کے لئے پاکستان کی خود مختاری ہی چیلنج ہو جائے۔ اور ویسے بھی امریکہ سے بے لوث اور بے غرض امداد کی توقع رکھنا بے وقوفی سے کسی طور کم نہیں۔یاد رہے وہ سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار اور مبلغ ہیں، وہ جس کی بھی امداد کرتے ہیں سود کے ساتھ واپس لیتے ہیں جس کا طریقہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ لہذا بغیر نفع کے وہ کسی کی امداد کریں ”خیال است“ اور ان سے یہ توقع رکھنا ”جنوں است“

پاکستان کے مفاد کا خیال رکھنا ہماری اور ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے اس لئے امریکہ یا کیری اور لوگر کو اس بل کی شرائط پر مورد الزام ٹھہرانا اور ان کی ہجو بیان کرنا کسی طور بھی قرین قیاس نہیں ۔ کیوں کہ

صیاد کو جو دیں بھی تو کس منہ سے دوش دیں

ہم اڑ کے آشیاں سے خود دام تک گئے