تحریر: حافظ مظفر محسنؔ

’’نسوار‘‘ طنزومزاح

خوشبو وہ جو دل کو بھائے، وہ خوشبو جوکاٹ کھائے ڈاکٹر کے پاس لے جائے، ہنسنے والوں کورلائے، دل بھی دکھائے اور اذیت پہنچائے، اس سے بہتر ہے کہ کسی نسوار بیچنے والے کی دوکان کے پاس سے گزرے(آہستہ آہستہ۔۔۔رفتار تیزہو گی تو آپ اس مزے سے محروم رہیں گے جو نسوار نہ کھانے والوں کو نسوار کی دوکان پہ بیٹھ کے محسوس ہوتا ہے)
سانس لے ہوا میں موجود سب کچھ بذریعہ ناک سمیٹ لے۔ ویسے نسوار بھی اب ہماری روائتی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔۔جہاں ’’چار شریف لوگ‘‘ بیٹھیں گے نسوار کا ذکر ہو گا۔۔’’جہاں پٹھان وہاں نسوار‘‘۔۔یا یوں کہہ لیں کہ جہاں’’ نسوار وہاں پٹھان‘‘۔۔امریکہ والے ایک عرصہ تک خلیل جبران کی مشہور ترین کتاب ہر سال کرسمس کے موقع پر آپس میں گفٹ کرتے رہے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘۔۔۔میں نے بھی یہ کتاب پڑھی ہے ایسی ہی تحریریں ہمارے ہاں مرحوم میرزا ادیب نے صحرانورد کے خطوط میں لکھی ہیں شرمندگی کی بات ہے کہ ’’صحرا نورد کے خطوط‘‘ بازار میں دستیاب نہیں۔۔۔ ایسے ہی پشتو بولنے والے دوستوں کو چاہئے ہر خوشی کے موقع پر آپس میں نسوار کی ڈبیاں تقسیم کریں۔۔۔نسوار لو نسوار دو اس سے پیار بڑھتا ہے۔۔۔ میرے رنگ و نقشہ اور حلیہ سے متاثر ہو کر کافی پٹھان دوستوں نے مجھے نسوار کی ڈبیہ بطور تحفہ پیش کی۔۔۔میں نے نسوار شاپر میں ڈال کر دوسرے دوستوں کو بھیج دی اور ڈبیہ خود رکھ لیں۔۔۔جب میرا مود ٹھیک ہو۔۔۔کوئی اچھی خبر سن لوں یا ڈھیرسارے آم کھا کر فارغ ہوا ہوں یا اچانک دفتر سے چھٹی کی اطلاع مل جائے یا پھر پتہ چلے کہ آج شام کسی دوست کے ہاں کھانے پہ جانا ہے یا بجلی کا بل کسی شریف کلرک کی ٹائپنگ مس ٹیک (غلطی) سے کم آ جائے تو میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔ نسوار کی ڈبیہ پکڑتا ہوں اور اس پر لگے شیشے کی مدد سے اپنے منہ کا جائزہ لیتا ہوں۔ پورا منہ نسوار والی ڈبیہ میں اک ساتھ دیکھنا چاہوں تو افسوس ہوتا ہے منہ پورا نہیں آتا اس شیشے میں۔۔۔پھر میں کبھی آنکھ دیکھتا ہوں۔۔کبھی کبھی آنکھ مارنے کو بھی دل چاہتا ہے میں ادھر ادھر دیکھتا ہوں کوئی پاس تو نہیں، کوئی آ نہ جائے۔ جب اطمینان ہوتا ہے کہ کوئی آس پاس تو نہیں تو شیشے میںآنکھ مار کے دیکھتا ہوں۔ دائیں آنکھ سے آنکھ مارنے کا عمل کیا اور پھر بائیں آنکھ نسوار کی ڈبیہ میں فٹ کی اور بائیں آنکھ سے آنکھ بند کر کے جیسے کیمرے میں تصویر اتارنے کا عمل ہو۔۔۔دائیں آنکھ سے ماری گئی آنکھ کا بائیں آنکھ سے جواب دیتا ہوں۔۔پھر میں غور کرتا ہوں نسوار کی ڈبیہ سامنے رکھ کے کہ مونچھوں کی کیا پوزیشن ہے۔ کبھی دائیں مونچھ بڑی کبھی بائیں چھوٹی لگتی ہے۔۔جب دونوں کو اکھٹا دیکھنا چاہتا ہوں تو شیشہ چھوٹا پڑ جاتا ہے۔پھر میں نسوار کی ڈبیہ میں اپنے دانت دیکھتا ہوں۔۔۔غصہ آتا ہے کہ مہنگی سے مہنگی ٹوتھ پیسٹ خریدی جس میں انہوں نے خوبصورت سے خوبصورت لڑکی اشتہار میں دکھائی مگر کوئی بھی ٹوتھ پیسٹ میرے دانتوں میں مثبت تبدیلی نہ لا سکی۔۔۔ہاں اب تین چار دانت منہ میں اپنے نہیں ہیں میں نے خود سے بات کی۔۔خود سے سوال کیا اور خود ہی جواب آیا کہ شکر ہے کمال مہارت سے میں نے چار دانت اپنے دانتوں کے ماہر دوستوں سے ملی بھگت کر کے چپکے سے منہ میں فٹ کروا لئے۔۔۔ کسی کو پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ میں نے نسوار کی دبیہ میں اپنے منہ کو ہر زاویہ سے چیک کیا اور خوش ہوا کہ اس صدی میں دوہی اچھی چیزیں ایجاد ہوئی ہیں ایک ڈسپرین کی گولی اور دوسری نسوار کی ڈبیہ۔۔پھر سوچا کہ نسوار کا بذات خود کیا مرتبہ و مقام ہے۔۔۔ چونکہ میں نے کبھی چکھی نہیں اس لئے جواب نہ دے پایا ویسے جو لطیفے نسوار کے حوالے سے بنے ہیں ان سے لگتا ہے کہ مفید ہوتی ہو گی۔۔ میں نسوار کی ڈبیہ سے بہت متاثر ہوں۔ میرا دل چہاہا۔۔۔ اپنی ملنے والی خواتین کو تحفے میں اب اک نسوار کی ڈبیہ پیش کروں اور انہیں نسوار کی ڈبیہ استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتاؤں کیونکہ نسوار کی ڈبیہ سے استفادہ کھڑے ہو کر چلتے پھرتے یا لیٹ کر نہیں کیا جا سکتا۔۔اس کے لئے شرط ہے کہ آپ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جائیں۔۔۔ دیوار البتہ جیسی بھی ہو چلے گی۔ بس بیٹھنے کا طریقہ آپ کو آنا چاہئے۔ اس بار میں بکرا عید پراپنی ملنے والی خواتین کو تحفے میں نسوار کی ڈبیہ پیش کروں گا۔
ویسے ملکی حالات اور طالبان کی آمد اور پھر افغانستان سے سرحدی تنازعات پر اور تو پتہ نہیں کوئی نقصان ہوا یا نہیں لیکن میری اطلاع کے مطابق نسوار کا کاروبار کافی حد تک متاثر ہوا ہے۔ شہری علاقوں میں نہایت خوبصورت نسوار کی ڈبیہ بنانے والے بھی اس جنگی صورتحال کے باعث ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
مجھے وہ مشہور گانا بھی یا آ رہا ہے
پشاور سے میری خاطر نسوار کی ڈبیہ لانا
او ۔۔دلبر جاناں
آپریشن راہ راست کے مثبت منفی پہلوؤں پر بات چیت ٹی۔وی چینلز پر جاری رہتی ہے۔۔ بلاشبہ دنیا میں بڑی ہجرتوں کا تذکرہ ہو گا تو سوات سے ہونے والی ہجرت کا بھی تاریخ میں ہمیشہ ذکر ہو گا اور بھر پور انداز میں ہو گا۔۔لیکن نسوار اور نسوار کی ڈبیہ پر کیا بیتی یہ کسی کو معلوم نہیں؟! کیونکہ۔۔۔
؂ جو مزا نسوار میں ہے
نہ موٹر میں نہ کار میں ہے
ویسے اس کے ہم وذن شعر ہمارے دوست ملک منظور حسین آف راج گڑھ سناتے ہیں۔
؂ جو مزہ ادھار میں ہے
کسی بزنس نہ کاروبار میں ہے
میں نے صنوبر خان سے نسوار بننے کا طریقہ معلوم کیا تو اس نے رازداری سے میرے کان میں بتایا اور ساتھ یہ وعدہ بھی لیا کہ یہ نسواربنانے کا طریقہ آپ کسی اور کو مت بتایئے گا ورنہ اس کے نتائج کی ذمہ داری آپ پر ہو گی۔
میں نے چونکہ وعدہ کر لیا ہے اس لئے میں آپ کو یہ بات بالکل نہیں بتاؤں گا کہ نسوار کیسے بنتی ہے۔۔۔ ورنہ شاید آپ کل کلاں کو نسوار کھانے کا ارادہ کریں اور میری وجہ سے نہ کھا پائیں۔۔۔سوری میں یہ رسک نہیں لے سکتا
بہر حال بات شروع ہوئی تھی خوشبو سے اور چل نکلی نسوار اور نسوار کی خوبصورت ڈبیہ کی طرف۔۔۔میں نے نسوار کے حق میں یہ تحریر لکھ لی تو یاد آیا کہ دوست احباب کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ میں شاید عنقریب نسوار کا بزنس کرنے والا ہوں اس لئے نسوار اور نسوار کی ڈبیہ کے لئے اس قدر ’’معلوماتی مضمون‘‘ لکھ مارا۔۔۔ حالانکہ کچھ باتوں سے انسان بتانا کچھ چاہتا ہے لوگ کچھ سمجھ لیتے ہیں۔۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق انگلینڈ میں اک بوڑھی عورت کو محض اس لئے سات سال قید کی سزا سنا دی گئی کہ اس نے کئی سال تک اپنی بہوؤں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جبکہ ممکن ہے اس کی تینوں کی تینوں بہوئیں شرمیلی ہوں مشرقی انداز اپنانا چاہتی ہوں۔۔۔کیونکہ کیسے ممکن ہے تین بہوئیں وہ بھی آج کے دور کی ایک عدد ساس کا ظلم کئی سال تک انگلینڈ جیسے ملک میں رہ کر سہتی رہی ہوں۔۔۔ کیونکہ ساس اور بہو ہم وذن طاقتیں ہیں۔۔۔نہ کوئی کم نہ کوئی زیادہ۔۔۔ سسرالی رشتوں کے انسانی صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں ایک لطیفے سے ملاحظہ کریں۔
تیز رفتاری کے جرم میں ایک صاحب کا چالان ہوا اور انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔۔ان صاحب نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا۔۔۔
’’جناب والا۔۔۔میں تو صرف بیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے جارہا تھا‘‘؟
’’کیا ثبوت ہے۔۔۔ اس کا‘‘؟ مجسٹریٹ نے دریافت کیا۔
’’جناب والا! ثبوت کے طور پر اتنا جان لینا کافی ہے کہ میں اس وقت اپنی سسرال جا رہا تھا‘‘

تحریر: حافظ مظفر محسنؔ
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527