تحریر: حافظ مظفر محسنؔ

طنزومزاح

’’چوہدری مائیکل جیکسن،ملنگوں کی دھمال اور کالا جادو‘‘

میں نے زندگی میں چوہدری علی احمد کو اتنا سنجیدہ، اداس، پریشان ہوتے نہیں دیکھا جتنا اداس اور پریشان وہ مائیکل جیکسن کی وفات پر ہوئے۔
’’ بس یار مظفر۔۔کیا بتاؤں۔۔۔وہ مائیکل جیکسن اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔دنیا ایک میوزک لوّر سے محروم ہو گئی۔سب سے بڑا میوزک ماسٹر دنیا سے منہ موڑ گیا۔ ہم تھرڈ ورلڈ کے لوگ ابھی تک صرف سوچ رہے ہیں کہ اس عظیم فنکار کو کیسے خراج عقیدت پیش کریں۔۔کیونکہ پورے امریکہ اور یورپ میں سب گلوکاروں کو اکھٹا کریں وہ ان سب میں چوہدری تھا گلوکاروں کا چوہدری۔۔۔‘‘۔
چوہدری صاحب آپ چوہدری مائیکل جیکسن سے کب اور کیوں متاثر ہوئے؟! میرے سوال پر چوہدری صاحب گہری سوچ میں غرق ہو گئے۔۔پھر منہ باہر نکالا۔۔۔ٹھنڈی گرم آہ بھری اور بولے۔۔۔
’’میں کاہنے کاچھے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک حکیم کو اپنی درد شدہ کمر دکھانے گیا تو اس نے جو ورزش بتائی۔۔وہ تقریباً تقریباً ’’بریک ڈانس ‘‘ کے ساتھ ملتی جلتی ہے۔۔ میں نے غور کیا کہ چوہدری مائیکل جیکسن کا انسانیت پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے بریک ڈانس متعارف کروایا اور ہم جیسے لوگوں جن کو جوانی میں ہی کمر درد شروع ہو گئی پر کتنا بڑا احسان کیا اس عظیم ڈانسرنے۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کاہنے کاچھے کے اس مشہور طبیب کو کل درخواست کی ہے کہ وہ اپنے مطّب میں چوہدری مائیکل جیکسن کی مختلف انداز میں ڈانس کرتے ہوئے تصاویر لگائے تا کہ عوام استفادہ کر سکیں اور چوہدری مائیکل جیکسن کو دعائیں دیں چوہدری صاحب نے مزید بتایا کہ میں لاہور۔ کراچی میں مائیکل جیکسن کی یاد میں میوزک اور ڈانس سے پیار کرنے والوں کے لئے اکیڈمی کا قیام عمل میں لا رہا ہوں۔۔۔’’جہاں کمر درد والے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے‘‘۔۔۔میرا یہ فقرہ چوہدری علی احمد کو شاید برا لگا۔۔انہوں نے گردن کو جھٹکا دیا۔۔اور روانہ ہونے لگے تو میں نے پیار سے درخواست کی اور روک لیا چوہدری صاحب نے ہلکا ہلکا بریک ڈانس شروع کر دیا۔۔ماحول افسردہ ہو گیا کیونکہ کسی خاص زاویہ پر جب چوہدری صاحب کمر کو گھماتے تو درد کے مارے ان کی ہلکی سی اذیت ناک چیخ سی بلند ہوتی اور بالکل منظر وہی سامنے آ جاتے جیسے چوہدری مائیکل جیکسن ڈانس کرتے ہوئے چیخ چنگھاڑ اکرتا تھا اور لوگ محظوظ ہوتے تھے۔ انجوائے کرتے تھے اور فنکار کے فن میں مزید تیزی پیدا ہونے لگتی تھی۔ چوہدری صاحب دس منٹ تک ’’ورزش‘‘ کر کے پر سکون ہو گئے۔۔آرام سے بیٹھ گئے اور درد کے مارے آہستہ آہستہ کراہنے لگے۔
میں نے پھر’’مائیکل جیکسن اکیڈمی فار میوزک لوّرز‘‘ پر بات شروع کی۔۔۔تو ملک منظور بول پڑا۔۔چوہدری صاحب کیا بہتر نہیں کہ مینٹل ہسپتال میں ایک وارڈلے کر وہاں پاگلوں کو’’فری ہینڈ‘‘ دے دیا جائے۔۔۔ اور تیز میوزک لگا دیا جائے۔۔۔ تربیت کا عمل جاری ہو جائے گا‘‘۔شائقین کو اجازت ہو کہ وہ گلے سڑے انڈے ٹماٹر برسائیں اور موج منائیں۔
مجھے اور چوہدری صاحب کو ملک منظور کی عالمی سطح پر ’’میوزک لیجنڈکی شان میں یہ گستاخی پسند نہ آئی۔ہم نے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ملک منظورکو چپ رہنے کا مشورہ دیا۔۔۔جو انہوں نے ماننے سے صاف انکار کر دیا اور غصے میں آ گئے۔۔انہوں نے ہمیں برا بھلا کہا ۔۔۔اور گرجتے ہوئے بولے۔۔۔مائیکل جیکسن دنیا بھر کے نوجوانوں کا پسندیدہ فنکار تھا۔۔۔کسی کو اس پر حق جتانے کی اجازت نہیں۔۔۔ویسے اسے عارضی طور پر سونے کے بکس میں ڈال کردفن کیا گیا ہے۔۔۔ اگر تم لوگوں کو وہ زیادہ پسند ہے اور تم زیادہ تعلق جتاتے ہو۔۔۔ تو اس کی قبر کاہنے کاچھے کے آس پاس بنوا کر سونے کا تابوت یہاں لے آؤ اور دفن کر دو۔(اس تابوت کو کون بچائے گا، کون رکھوالی کرے گا)۔
ہم آپس میں الجھ رہے تھے کہ کمر کمانی کی آمد ہو گئی۔۔۔کیا موضوع چل رہا ہے۔۔۔’’چوہدری مائیکل جیکسن کی شان میں قصیدہ گوئی ہو رہی ہے‘‘۔۔۔چوہدری نے جواب دیا۔
تمہیں پتہ ہے مائیکل جیکسن نے کئی بار پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنے جسم میں تبدیلی کی کوشش کی اور خود کر خوبصورت لڑکے کے طور پر پیش کیا۔۔مزید سنو۔۔مائیکل جیکسن بچپن میں خود کو شیشے میں دیکھا کرتا تھا اور اس نے اپنی والدہ کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کاش میری شکل مشہور حسینہ عالم ’’قلو پطرہ‘‘ جو ایک شاہکار تصویر کی وجہ سے جانی پہچانی اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے جیسی ہو سکتی۔۔سنا ہے اس نے کئی بار لاکھوں ڈالر اس عظیم مقصد کے لئے خرچ کئے۔لیکن افسوس کہ یہ کام ہو نا سکا البتہ اس دن سے مائیکل جیکسن کی ماں نے اس کا نام ’’کالو پترا‘‘ رکھ دیا اور وہ بچپن سے لڑکپن تک محلے میں ،دوستوں میں،عزیز رشتہ داروں میں امریکہ یورپ میں (تھرڈ ورلڈ میں یہ اطلاع دیر سے پہنچی تھی) ’’کالو پترا‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔۔۔ خوشی کی بات ہے کہ مائیکل جیکسن کی یہ خواہش کسی حد تک پوری ہو گئی۔۔یعنی پلاسٹک سرجری بار بار کروا کے وہ قلو پطرہ جیسا تو نہ بن سکا۔۔۔لیکن ماں کے پیار اور سچی محبت نے اسے ’’کالو پترا‘‘ بنا دیا۔۔۔ اور اس نام سے وہ خاصہ مطمئن دکھائی دیتا تھا۔’’بلیک سن آف میوزک اینڈ بریک ڈانس‘‘۔!
استاد کمر کمانی نے ہمیں یہ سب تفصیل بتا کر حیرت میں ڈال دیا اور مزید پریشان ہم اس وقت ہوئے جب ہمیں (استاد کمر کمانی نے بتایا کہ چوہدری مائیکل جیکسن کو اچانک موت کی وجہ اس کی ایک سابقہ بیوی کی حرکات تھیں۔۔۔اہل محلہ بتاتے ہیں کہ مائیکل جیکسن کی سابقہ بیوی اکثر نیویارک کے غریبوں کے محلے میں تنگ گلی کے آخری ’’پراسرار‘‘ مکان میں چوری چھپے آتے جاتے دیکھی گئی ہیں اور سنا ہے کہ اس نے وہاں موجود ایک بزرگ جادوگرنی سے ’’کالا جادو‘‘ بھی کروایا تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس جادو گرنی۔۔کا ڈنگیا کبھی بھی پانی نہیں مانگتا‘‘۔۔۔وہ جادو گرنی سنا ہے چند ڈالر لے کر بڑے بڑے قہر آلود کام کر دیتی ہے۔۔آجکل اس نے سیل بھی لگا رکھی ہے؟!
استاد کمر کمانی کی ان گل افشانیوں میں کہاں تک صداقت ہے یہ ہمیں معلوم نہیں۔۔۔لیکن چوہدری علی احمد نے اعلان کیا ہے کہ اگر مجھے اور لاہور کے دس ملنگوں کر ’’ملٹی پل‘‘ ویزہ برائے امریکہ جاری کیا جائے تو ہم چوہدری مائیکل جیکسن کی قبر پر لگا تار بارہ بارہ گھنٹے ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈال کر ریکارڈ قائم کریں گے۔۔کیونکہ اس سے اچھا خراج عقیدت کوئی چوہدری مائیکل جیکسن کو پیش نہیں کر سکتا۔۔۔ عابدہ پروین اگر اپنے خرچے پر ساتھ جانا چاہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔امید ہے وہ مائیکل جیکسن کی قبر پر اونچے سروں میں تین تال کے ساتھ یہ غزل پیش کریں گی۔۔۔
؂ چن ماہی آ تیری راہ پئی تکنی آں
تاریاں کو پچھ لے تو چن کولوں پچھ لے
ساریاں توں پچھ لے میں سو نئی سکنی آں
چن ماہی آ تیری راہ پئی تکنی آں

تحریر: حافظ مظفر محسنؔ
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527