تحریر: حافظ مظفر محسن

”جدید عاشق اور ہوائی قلعے “ طنزومزاح

”ہوائی قلعے اور شاہی قلعے میں کیا فرق ہے“میرا یہ سوال دوستوں کو پسند آیا اور سب گہرائی میں جانے لگے۔ حالانکہ شاہی قلعے بھی آجکل ہوائی قلعے بن چکے ہیں۔ ۔ اور ہوائی قلعے بنانے والے شاہی قلعوں سے بھی بڑے بڑے قلعے بنا رہے ہیں اور جاگتے میں سہانے خواب دکھا رہے ہیں۔محمد فائید نے ہمیں شرمندہ کر دیا جب شاہی قلعہ میں پھرتے ہوئے اچانک وہ بول اٹھا۔ ”کس احمق نے اس شاہی قلعہ کا نقشہ بنایا تھا۔ کون تھا وہ بیوقوف جس نے اتنی بڑی عمارت افراتفری میں کھڑی کر ڈالی۔۔۔ نہ سیکورٹی کا انتظام نہ بلٹ پروف گاڑی کی پارکنگ ہاتھیوں کے لئے بہت بڑی شیڈ بنا دی ہے ناجانے کیوں؟ انسانوں سے زیادہ شاید مغلوں کو ہاتھیوں سے پیار تھا۔نہ ہی اتنے بڑے بڑے کمروں کے ساتھ اٹیچ باتھ بنے ہیں اور نہ ہی کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کے لئے وائرنگ کی گئی۔ اکبر بادشاہ دوستوں کو ای میل کیسے کرتا ہو گا۔ میں اب سمجھ چکا تھا کہ محمد فائید کہنا کیا چاہتا ہے۔ اس کے دل میں چھپی اصل بات کیا ہے اسے ای میلزنہ بجھوانے پر گھبراہٹ سی محسوس ہو رہی تھی حالانکہ آج کی گرم گرم خبر میں یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری ملازم محکمہ زراعت کا ایک افسر محمد الیاس روز سینکڑوں ای میلز ایک شخصیت کے حضور پیش کرتا ہے۔۔۔ وہ ان ای میلز میں مرحوم احمد فراز کے اصلی اور ان کی وفات کے بعد بنے نوجوانوں کے تیار کر دہ نقلی اشعار بھی پیش کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس سارے محنت طلب عمل سے بھی جب اس کی تسلی نہ ہوئی تو اس نے پرانے عاشقوں کے عشقیہ خطوط نکالے۔۔۔ وہ کتابیں نکالیں جن میں ناکام عاشقوں کے حالات، ریفرنس بکس ٹٹولیںجن میں سزائیں اور انجام بتائے گئے تھے جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے بڑے منہ والی سرنج پکڑی اپنی بازو میں سے گزرتی نالی میں ڈالی۔۔۔ جب خون بہنے لگا تو اس نے پیالہ آگے کر دیا۔۔۔ پیالہ بھرا اور نہایت خوبصورت قلم سے اس نے سفید کاغذ پر عشقیہ خطوط اگلنے شروع کر دیئے۔خون سے لکھی تحریر شاید زیادہ پراثر ہوتی ہو۔اور ساتھ ساتھ۔۔۔شور مچانا شروع کر دیا۔
نامہ بر حال میرا ان سے زبانی کہنا
خط نہ دینا کہ وہ اوروں کودکھا دیتے ہیں

حالانکہ اگر عقل ہوتی تو محمد الیاس موبائل فون کا سہارا لے لیتا کیونکہ اسے میرے اندازے سے سہاروں کی ہی ضرورت ہے ۔وہ خود بھی محترمہ سے ملنے اپنے خطوط کے پیچھے پیچھے سسّی پلیجو (وزیر صاحبہ) کے حضور پیش ہو گیا۔ سلام نہ دعا۔۔گلہ کرنے لگا۔آہیں بھرتے ہوئے ۔۔ڈرتے ڈرتے۔۔مدعا بیان کر دیا سب کو حیران اور پریشان کر دیا۔
”سینکڑوں ای میلز اور بڑی بالٹی بھر خون سے لکھے خطوط آپ کو بھیجے گئے۔۔۔ مجال ہے آپ کے جذبات پر جوں تک رینگی ہو۔۔۔یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔ اس سے بڑی بے اعتنائی کیا ہو گی اور پھر شروع ہو گئی۔ محمد الیاس کی دھنائی۔۔۔ ساتھ ساتھ جگ ہنسائی۔۔۔ اور چھپنے لگیں تصویریں محترمہ سسّی پلیجو صاحبہ کیں۔۔۔لوگ اب تک محمد الیاس کو دیکھنا چاہتے ہیں جس نے پودوں جھاڑیوں، درختوں، سبزیوں اور پھلوں کو چھوڑکر صرف پھولوں کا پیچھا شروع کر دیا۔۔۔ بلکہ اتنی بڑی مقدار میں ای میلز اور خطوط لکھ ڈالے جن کا بوجھ کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔اتنی وذن دار قلم کاری۔۔۔ توبہ توبہ۔۔عاشق پریشان ہیں قبر میں بیٹھے مجنوں، رانجھے ، مہینوال نئے دور کے عاشق محمد الیاس کو ”بک اپ“ کر رہے ہیں۔۔اور اس کے ساتھ بے چارے سرکاری ملازم پریشان۔(بھئی سرکاری ملازموں کے نام پر دھبہ ہے یہ محمد الیاس)۔
بات شروع ہوئی تھی محمد فائید کے دورہ شاہی قلعہ سے کہ جس میں اس معصوم نے ہزار سال حکومت کرنے والے مغل بادشاہوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔میرا دل چاہا کہ میں فوری طور پر شاہی قلعہ کا تفصیلی دورہ کروں اور میں بچوں کے ساتھ شاہی قلعہ جا پہنچا۔میںقلعہ میں داخل ہوا۔ مین انٹری سے لگتا تھا کہ اس قلعہ میں بڑے بڑے (نیٹو والے ) ٹرالے آتے رہے ہیں ۔ اکبر بادشاہ کے دور میں ” جن میںشاید ہاتھیوں“ کے لئے چارہ آتا ہو گا۔۔”معصوم بچوں میں سے ایک نے میری بات کو بڑھاتے ہوئے کہا۔۔بائیں طرف بہت بڑی بڑی لمبائی چوڑائی میں بے حد وسیع سیڑھیاں تھیں۔”انکل لگتا ہے اکبر بادشاہ یہاں ہاتھیوں کا امتحان لیتا ہو گا کہ دیکھتے ہیں یہ سیڑھیاںسب سے پہلے کون سا ہاتھی چڑھتا ہے“ بچے نے وضاحت کی اور مجھے اس کی یہ بات سچ لگی۔۔۔ سامنے دربار عام دربار خاص تھے۔۔ انکل یہ دربار عام جو ہے اس میں جب بارش ہوتی ہو گی تو سب ”عام“ بھیگ جاتے ہوں گے اور ادھر ادھر کوئی خاص جگہ بھی نہیں کہ جہاں وہ بارش سے بچنے کے لئے چھپتے ہوں گے واہ بچے نے کیا نکتہ نکالا ہے”لیکن غور کریں“ ۔۔ایک بچہ بولا ”اکثر اوقات بادشاہ سلامت یا ہاتھیوں کے مقابلہ سیڑھیاں اترنا چڑھنا دیکھنے میں مصروف ہوتے ہوں گے، یا شکار پر گئے رہتے ہوں گے یا پھر ”جنگ“ کہ لمبی چوڑی جنگیں بھی تو اس دور میں اکثرجارہی رہتی تھیں اور رہی بات خاص طور پر اکبر اعظم کی تو وہ کافی عرصہ ”دین الہی“ تیار کرنے میں مگن رہے ہوں گے۔ آخر پوری دنیا کو بیوقوف بنان تو آسان کام نہ تھا۔۔ اور ۔۔اور جو ہر مذاہب (ہندو، مسلم سکھ)سے ان کی شادیاں اور بہت سی بیویاں تھیں اور پھر سبھی بیگمات کے سسرالی رشتے دار۔۔“ ”سب نے سر پکڑ لئے“اکبر بادشاہ کی زندگی کا بہت سا حصہ تو ان جھمیلوں میں ہی گزرا ہو گا۔۔۔ اور سوچنے کی بات ہے کہ وہ اپنی بیویاں تو دور کی بات ہے سسرالیوں کو جو کہ بہت بڑی تعداد میں تھے کیسے خوش رکھ پاتا ہوگا؟اور جو سسرالیوں کو خوش نہ رکھ سکا تاریخ گواہ ہے کہ وہ ایک خوش کن زندگی سے محروم ہی رہا۔ سسرالی گدگدی بھی کریں تو گہرا زخم بن جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اکبر بادشاہ کی جتنی بیویاں تھیں اس کے سالے سالیوں کی تعداد بھی ہزار دو ہزار سے زائد ہو گی؟
ہم شاہی قلعہ میں گھوم رہے تھے کہ ایک انگریز سیاح سامنے سے آتا نظر آیا ۔ہم نے ہائے۔۔ہائے۔۔ہیلو ہیلو کی تو وہ بہت خوش ہوا اور پہلا ہی سوال اس نے سیاسی کر دیا۔”وائی زرداری ناٹ سٹے ان فورٹ“ ”زرداری صاحب نے اپنی رہائش گاہ کے طور پر شاہی قلعہ کو کیوں نہیں چنا“۔ احمد بول پڑا۔۔۔ دیکھ لیں جو بات صدر زرداری کے ذہن میں نہیں آئی۔ جو پوری پاکستانی قوم نہ سوچ سکی وہ اس جدید قوم نے سوچ لی۔۔۔ اور سوال کر کے ہمیں پریشان بھی کر دیا۔۔۔پھر ہم آپس میں بحث کرتے ہوئے الجھنے لگے کہ کیوں نہ یہ بات رحمان ملک کے ذہن میں آئی کہ صدر پاکستان کو اپنا دفتر اور رہائش گاہ تھوڑی بہت تبدیلیوں کے بعد شاہی قلعہ میں رکھنی چاہئے؟!
رہی بات خوش آمدی کی تو حیرت ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان نے خوش آمد کا یہ عالی شان موقع کیوں ضائع کیا۔۔دس بیس خود کش ملا کر بھی اس شاہی قلعہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کہ جہاں ہاتھی دوڑیں لگاتے ہوں۔۔۔بڑی بڑی سیڑھیوں پر اچھل کود کرتے ریس لگاتے موج میلے کرتے ہوں وہاں تو پندرہ بیس وزیروں سفیروں کی رہائش گاہیں بھی آسانی سے بنائی جا سکتی ہیں اس کے علاوہ دل و دماغ بھی فرحت محسوس کر سکتے ہیں۔ بندہ خود کر اکبر اعظم کی طرح محسوس بھی کر سکتا اور انداز بھی ویسا ہی اپنا سکتا ہے۔ (ویسے تو انداز تو ہمارے لیڈروں کا پہلے ہی اکبر اعظم سے بھی بلند ہے) کارکن آنا چاہیں بھی تو کون آنے دے گا۔۔۔مخالفین وغیرہ وغیرہ تو بہت دور کی بات ہے۔

بس دور ہی سے کر کے سلام۔

دنیا سے آنے والے حکمرانوں پر رعب پڑے گا عمارت کا دبدبہ لوگوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دے گا اور شاید باہر سے آنے والے جب صدر زرداری کو شاہی قلعہ میں ملنے جائیں تو وہ رعب میں آ کر ان کی سبھی باتیں مان لیں۔۔من و عن۔۔کچھ سربراھان مملکت دوبارہ سے مغل فن تعمیر کے دلدادہ ہو جائیں اور موجودہ حکمران اپنی رہائش گاہوں کے لئے اپنے اپنے ملکوں میں مغلیہ طرز کے قلعے تعمیر کروانا شروع کر دیں اور مغل فن تعمیر پھر سے فروغ پانے لگے اور دنیا ایک بار پھر مسلمانوں سے متاثر ہونے لگ جائے۔۔شاہی قلعہ تو اتنا بڑا ہے کہ اس میں چھوٹا سا رن وے بھی بن سکتا ہے ۔۔ہیلی کاپٹر تو آپ جتنے چاہیں اتار سکتے ہیں۔ ویسے آجکل نشے والے جہاز وہاں عام پھرتے ہیں۔ ہاں اس میں ایک قباحت ہے کہ کل کو میاں نواز شریف نہ مطالبہ کر دیں کہ ”ہم ٹھیک ہے فی الحال مشرف کی گرفتاری جیسے مطالبے سے تو دستبردار ہو سکتے ہیں لیکن ہماراایک نیا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو دفتر بنانے اور رہائش رکھنے کے لئے آدھا شاہی قلعہ دیا جائے اور ضروری ہے کہ درمیان میں دیوار کھڑی کر دی جائے تا کہ ا دھر کے ایم۔این۔اے ادھر اور ادھر کے ایم۔پی۔اے ادھر نہ جا سکیں۔۔۔ اور آخر میں زوردار انداز میں یہ بھی کہتے ہوں کہ اگر لاہور کا شاہی قلعہ آدھا وزیر اعلیٰ پنجاب کو نہ دیا گیا تو ہم بکرا عید کے بعد بھر پور تحریک چلائیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہمار یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا۔ ہم پھر سروے بھی کروائیں گے کہ زرداری صاحب کا گراف کتنے فیصد بلند ہوا ہے اور نواز شریف کا گراف کہاں ہے“
ہمیں شاہی قلعہ کی ہیبت ناک بلڈنگ بہت پسندآئی بہت خوبصورت دکھائی دی۔ ہم نے پانچ پانچ روپے کے چپس کے پیکٹ لئے اور کھانے میں محو ہو گئے۔سامنے ایک فقیر آتا دکھائی دیا۔۔۔وہ بھی یقینا ٹکٹ کے پیسے خرچ کر کے شاہی قلعہ میں آیا تھا۔ ہم نے کمال فراخ دلی سے اسے پانچ کا نوٹ دیا۔ اس نے چڑ مڑ کر کے وہ نوٹ ہمیں تھما دیا۔۔بابو جی پانچ روپے کا کچھ نہیں آتا۔۔میں اخبار میں ”ایڈیٹر کے نام خطوط“ میں لکھوں گا اور حکومت سے مطالبہ کرونگا کہ پانچ دس روپے کے نوٹ بند کر دیئے جائیں تا کہ لوگ یہ تکلف کرنے سے باز آ جائیں۔۔ہم،سب اس پڑھے لکھے حسابی کتابی فقیر کو حیرت سے دیکھنے لگے۔۔ایک بچے نے کہا۔۔”انکل ایسے ہی ہوتے ہونگے ساغر صدیقی۔۔سنا ہے وہ بھی ایسے ہی سادہ سے پھٹے پرانے کپڑے پہنے لاہور کی گلیوں میں پھرتے تھے۔۔سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے۔۔زندگی میں کسی نے ساغر صدیقی کی قدر نہ کی۔ وہ شاہی قلعہ جس میں ہزاروں لوگ سما سکتے ہیں اس کی موجودگی میں ایک ”عالم“ معروف شاعر ساغر صدیقی شہر کی گلیوں میں جہاں دل چاہتا کسی سیڑھی پر لیٹ جاتا اگر نیند آتی سو جاتا نہ جانے کن سپنوں میں کھو جاتا۔لیکن وہ چلا گیا تو اب ہم اس کی برسیاں مناتے ہیں۔۔بڑے بڑے گلوکار ساغر صدیقی کا کلام گا کر شہرت حاصل کر چکے ہیں اور وہ ہوائی قلعے بناتا بھوک افلاس کے ہاتھوں تنگ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ساغر صدیقی کیا خوب کہتا ہے۔۔۔۔

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیںسو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

تحریر: حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527