آزاد بلوچستان
آزاد بلوچستان
علی حسن سمندطور
موسم اچانک تبدیل ہوا تھا۔ کل تک تو ہوا اپنے اندر گرمائش لیے ہوئی تھی مگر آج یہ عالم تھا کہ درجہ حرارت بارہ سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کے لیے تیار نہ تھا۔ جسٹس ملک کے لیے کوئٹہ کے بدلتے موسم کی یہ ادائیں نئی ہرگز نہ تھیں۔ ان کی زندگی یہاں گزری تھی۔ اس وقت جسٹس ملک اس بیٹھک کا جائزہ لے رہے تھے جہاں کچھ ہی دیر میں چند اہم مہمانوں کو آنا تھا۔ اس کمرے کو ٹھنڈا جان کر انہوں نے ایک نوکر کو وہاں کا ہیٹر چلانے کو کہا۔ پھر انہوں نے باورچی خانے میں جا کر مہمانوں کی تواضع کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اور یہ تمام معائنہ کرنے کے بعد وہ گھریلو بیٹھک میں آگئے جہاں ان کی بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ جسٹس ملک کو یہ بنگلہ سرکار کی طرف سے ملا ہوا تھا جہاں وہ اپنی بیوی اور ایک لڑکے، بہو اور دو پوتوں کے ساتھ رہتے تھے۔ جسٹس ملک کا بڑا لڑکا عرفان یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا جب کہ منجھلی لڑکی کی شادی ہو گئی تھی اور چھوٹا لڑکا نوکری کے سلسلے میں عرب امارات چلا گیا تھا۔
جسٹس ملک کو ٹی وی دیکھتے زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ باہر گیٹ کی گھنٹی بجی۔ مہمان آ چکے تھے۔ جسٹس ملک لپک کر اپنی نشست سے اٹھے اور گیٹ کی طرف دوڑے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور جسٹس ملک کو آتا دیکھ کر چوکیدار ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ جسٹس ملک نے باہر نکل کر آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا۔ ان مہمانوں میں جسٹس مری اور جسٹس گل جان سرفہرست تھے۔ باقی لوگ جن کی تعداد بارہ پندرہ کے قریب تھی، ان دو مہمانوں کے ساتھ آئے تھے۔
جسٹس ملک ان لوگوں کو ساتھ لے کر بیٹھک میں آگئے جو ہیٹر چلنے کی وجہ سے اب تک گرم ہو چکی تھی۔ وہاں پہنچ کر لوگوں نے نشستیں سنبھال لیں۔ جسٹس مری کے ساتھ آئے ہوئے لوگ ان کے گرد جھمگٹا لگا کر بیٹھ گئے، جب کہ جسٹس گل جان کے آس پاس ان کے ساتھ آئے ہوئے لوگ بیٹھ گئے۔ جسٹس ملک نے غور کیا کہ جسٹس مری سے کچھ ہی فاصلے پہ چند لوگ ایک گھنی داڑھی والے شخص کے پاس بھی ادب سے بیٹھ گئے تھے۔ اس تیسرے گروہ میں شامل لوگوں نے مخصوص سفید بلوچی پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ جسٹس ملک اس گھنی داڑھی والے شخص کو نہ جانتے تھے مگر انہیں خیال ہوا کہ وہ یقینا جسٹس مری کے ساتھ ہوگا۔
جسٹس ملک نے نوکر کو چائے لانے کو کہا۔ نوکر کے جانے کے بعد بیٹھک میں خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ غور سے جسٹس ملک کی طرف دیکھ رہے تھے۔ وہ میزبان تھے اور اپنے ساتھی ججوں کے مقابلے میں عمر میں بھی بڑے تھے۔ بات انہیں شروع کرنی تھی۔
لوگوں کو ہمہ تن گوش پا کر جسٹس ملک بولنا شروع ہوئے:
“جیسا کہ میں فون پہ جسٹس مری اور جسٹس گل جان سے بات کر چکا ہوں، ہماری آج کی ملاقات کا مقصد بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بات کرنا ہے۔”
یہ بات سن کر وہاں موجود لوگوں کے چہرے پہ ایک گہری سنجیدگی چھا گئی۔
جسٹس ملک بولتے رہے:
“انسانیت سے محبت کرنے والا ہر شخص اس صورتحال پہ غمگین ہے۔ ہم اس قتل و غارت گری کے خلاف ہیں جو ہمارے آس پاس برپا ہے، جس میں معصوم شہری مارے جا رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو مرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمیں اس جگہ سے، بلوچستان سے محبت ہے۔ اور بلوچستان سے اپنی اسی محبت کی وجہ سے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ فیصلہ کریں کہ ہم امن قائم کرنے کے سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مل جل کر فیصلہ کریں کہ ہم اپنی آواز بلند کر کے خون خرابے کو کیسے روک سکتے ہیں، معصوم شہریوں کو موت کے منہ میں جانے سے کیسے بچا سکتے ہیں۔
تو سب سے پہلے میں اپنے معزز مہمان جسٹس مری کو دعوت دوں گا کہ وہ اپنی رائے دیں کہ ہم ججوں کو اور دوسرے سوچنے والے لوگوں کو موجودہ صورتحال میں اپنا کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔”
جسٹس ملک نے اپنی بات اس جملے پہ ختم کی تو سب کی نظریں جسٹس مری کی طرف اٹھ گئیں۔
جسٹس مری بولنا شروع ہوئے:
“صورتحال اچھی ہرگزنہیں ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اب سے پانچ سال پہلے بلوچی اگر پاکستان کے بہت زیادہ حق میں نہیں تھے تو پاکستان کے اس قدر خلاف بھی نہیں تھے۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ بلوچ قیادت کے کئی سرکردہ لوگوں کے قتل کے بعد لوگوں کا اعتبار پاکستان کے اوپر سے اٹھ گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ بلوچ قوم پرستوں نے اپنی قوم کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ بلوچوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح بلوچستان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ تو پھر اتنی پرانی تاریخ رکھنے والی ایک قوم جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے وجود میں آنے والے ملک کی شناخت میں اپنی شناخت کیوں کھو دے۔ پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انیس سو سینتالیس میں پاکستان نے بلوچستان کو زبردستی اپنے ساتھ ملایا تھا۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اب اتنے سارے لوگوں کے ذہن میں بلوچستان کی آزادی کی بات آگئی ہے تو واپسی محال ہے۔ یہ سمجھنا کہ اتنے سارے لوگ یہ ساری باتیں بھول کر دوبارہ پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہو جائیں گے، انتہائی حماقت ہوگی۔”
جسٹس مری نے اپنی بات ختم کی تو جسٹس گل جان نے اپنا گلا صاف کیا۔ لوگ جسٹس گل جان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جسٹس گل جان نے بولنا شروع کیا۔
“میں جسٹس مری کی بات سمجھ رہا ہوں مگر میں ساتھ ہی جسٹس ملک سے بھی متفق ہوں۔
یہ بات صحیح ہے کہ اب بلوچوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنا کیا کردار ادا کریں کہ جو کچھ ہونا ہے بغیر تشدد کے، بغیر قتل و غارت گری کے ہو جائے۔”
جسٹس گل جان کی گفتگو میں توقف آیا تو جسٹس ملک پھر بولنا شروع ہوئے۔
“بات بالکل یہی ہے جو جسٹس گل جان نے کہی ہے۔ اگر بلوچستان کو پاکستان سے الگ ہونا ہے تو بے شک ایسا ہو جائے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ایسا بغیر قتل و غارت گری کے کیسے ہو۔ مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے دو سالوں میں یہاں پے درپے ایک نہیں بیس کے قریب اساتذہ کا قتل ہوا ہے۔ اور ان اساتذہ کا قصور کیا تھا؟ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ پنجابی تھے۔ آپ سوچیں کہ اتنے سارے گھرانے یوں ذرا سی دیر میں تباہ ہو گئے۔
اور ایک استاد کا قتل تو بہت ہی قابل مذمت ہے۔ اگر ماں کے بعد کوئی ہستی قابل عزت ہے تو وہ استاد کی ہے۔
وہ کسی رنگ کا ہو، کسی نسل کا ہو، کوئی زبان بولنے والا ہو، وہ آپ کا استاد ہے۔ وہ آپ کو پڑھا رہا ہے۔ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو علم کے راستے پہ لے جا رہا ہے۔ اور آپ ایک استاد کو صرف اس لیے مار دیں کہ وہ پنجابی ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔ اساتذہ کے قتل کی بنیاد پہ رکھی جانے والی آزادی کی ایسی تحریک آگے چل کر کیا رنگ لائے گی؟”
اس موقع پہ گھنی داڑھی والا وہ شخص بولنا شروع ہوا جو چار لوگوں کے حلقے میں جسٹس مری کے دائیں طرف بیٹھا تھا۔
“آپ میں سے جو لوگ نہ جانتے ہوں وہ جان لیں کہ میں نوراللہ گچکی ہوں۔”
سفید پگڑی والے شخص کی یہ بات سن کر وہاں موجود بہت سے لوگ سکتے میں آگئے۔ان کے لیے نوراللہ گچکی کا نام ہرگز اجنبی نہ تھا۔ سرکاری ایجینسیاں ایک عرصے سے اس کی گرفتاری کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔ نوراللہ گچکی پہ الزام تھا کہ اس نے بلوچستان میں مقیم پنجابی آبادکاروں کے خلاف قتل و غارت گری شروع کی ہوئی تھی۔
نوراللہ پھر بولنا شروع ہوا۔
“سب سے پہلے تو میں ایک بات اپنے دفاع میں کہنا چاہوں گا۔ حکومت کے ادارے مجھے بدنام کرنے پہ تلے ہوئے ہیں؛ ان کا کہنا ہے کہ میں پنجابی آبادکاروں کے خلاف ہوں۔ میں ہرگز کسی کے خلاف نہیں ہوں۔ ہم تو بس پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔
مگر یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے ساتھ شامل ایسے لوگ ہیں جو ان آبادکاروں کو ہلاک کررہے ہیں۔ اور میں آپ کو ان کے غم و غصے کی وجہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
کولھو پہ بم باری ہوتی ہے۔ اوپر سے جہاز آتے ہیں اور بم برسا کر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے گھر تباہ ہوتے ہیں۔ ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔ اور ہم بے بسی سے ان جہازوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ تو اس وقت تو ہماری حمایت میں کوئی نہیں اٹھتا۔ کوئی آنسو ہمارے لوگوں کے لیے نہیں بہتا۔
پھر ہم مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے احتجاج کرنے کا۔ کوئی طریقہ نہیں ہے اپنے دشمن کو دبانے کا۔ سوائے اس طریقے کہ وہ لوگ جو ہمارے دشمن سے ذرہ برابر بھی ہمدردی رکھتے ہوں، ہم ان کو مار کر اپنا غم و غصہ نکالیں۔ تو یہ ہورہا ہے ان اساتذہ کے ساتھ کہ جن کا تذکرہ آپ نے کیا ہے۔”
جسٹس ملک نے نوجوان کے لہجے میں تلخی محسوس کی تھی۔ انہیں خیال ہوا کہ جیسے انہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہیے۔
“نوراللہ، آپ نہ جانے کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو بلوچوں کی ہلاکت پہ آواز نہیں اٹھاتے۔ ہم بلوچستان میں رہنے والوں نے تو ہمیشہ بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ آواز بلند کی ہے۔
مگر یہ بات تشویشناک ہے کہ بلوچستان میں رہنے والے غیر بلوچیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ قوم پرست بلوچوں میں پاکستان کا مطلب پنجاب لیا جاتا ہے۔ اس منطق سے پاکستانی فوج جو کچھ کر ہی ہے وہ پنجابیوں کا کیا دھرا ہے۔ چنانچہ ہر پنجابی حکومت پاکستان کے ہر عمل کا ذمہ دار ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کہنے کو تو میں بھی پنجابی ہوں۔ یہ بات میرے نام سے واضح ہے۔ مگر کوئٹہ میں رہنے والے پنجابیوں کا پنجاب سے ایسا ہی تعلق ہے جیسا پنجاب میں بسنے والے بلوچیوں کا بلوچستان سے۔
میں آپ کو اپنی تاریخ بتاتا ہوں۔ میرے والد یہاں جج مقرر ہو کر آئے تھے۔ میں نے اپنا بچپن یہاں گزارا ہے ۔ میرے بچے ادھر ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ان کی شادیاں ادھر ہوئی ہیں۔بلوچستان ہمارا وطن ہے۔ ہمیں اس جگہ سے محبت ہے۔ اگر بلوچستان پاکستان سے الگ ہوتا ہے تو ہم لوگ بھاگ کر پنجاب نہیں چلے جائیں گے، ہم ادھر ہی رہتے رہیں گے۔”
جسٹس ملک کی اس جذباتی تقریر کے بعد کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اتنے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے بیٹھک میں گرمی بڑھ گئی تھی۔ نوکر تھوڑی دیر پہلے چائے اور لوازمات لایا تھا اور اب لوگوں کو چائے بنا کر دینے میں مشغول تھا۔ جسٹس ملک نے نوکر سے کہا کہ وہ ہیٹر بند کر دے۔ تمام مہمانوں کو چائے تھمانے کے بعد نوکر نے ہیٹر بند کر دیا۔ اس کے جانے کے بعد جسٹس ملک پھر بولنا شروع ہوئے۔
“ہم بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اگر بلوچستان کے لوگ واقعی پاکستان سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو ان کو ایسا کرنے دیا جائے۔ مگر ساتھ ہی ہم پاکستانی حکومت کا یہ موقف بھی پڑھتے ہیں کہ بلوچستان میں مشکل سے دس فی صد لوگ ایسے ہیں جو گڑبڑ مچا رہے ہیں، بلوچستان کے زیادہ تر لوگ پاکستان کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔”
جسٹس ملک کی اس بات پہ نوراللہ گچکی سے خاموش نہ رہا گیا۔
“پاکستانی حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ یہ بلوچیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازش ہے۔ بلوچ متحد ہیں اور متحد ہو کر پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔” نوراللہ نےغصے سے کہا۔
جسٹس ملک براہ راست نوراللہ گچکی سے مخاطب ہو گئے۔
“نوراللہ، میرے بھائی، آپ غصہ نہ کھائیں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کتنی دل کش شے ہے۔ آپ سوچیں کہ انیس سو سینتالیس میں ہم کیسا محسوس کرتے اگر انگریز جنوبی ایشیا چھوڑتے ہوئے پاکستان نہیں قائم کرتا۔ جس طرح ہم انگریز سے آزادی چاہتے تھے اور ہندوستان سے ہٹ کر ایک الگ ملک دیکھنا چاہتے تھے، شاید بالکل اسی طرح آج بلوچستان کے لوگ پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔”
اس موقع پہ جسٹس ملک تھوڑی دیر کے لیے رکے اور چائے کا ایک گھونٹ پینے کے بعد بولنا شروع ہوئے۔
” ہر دفعہ جب اس خطے میں ایک نیا ملک بنتا ہے تو خوب قتل و غارت گری ہوتی ہے۔ ہم نے پاکستان کے بننے پہ انیس سو سینتالیس میں ایسا دیکھا، پھر بنگلہ دیش کے بننے پہ انیس سو اکہتر میں یہی دیکھا۔ ہماری خواہش ہے کہ اب کی بار ایسا نہ ہو۔ اب کی بار ہم تمیز کا مظاہرہ کریں اور جو کرنا ہے بغیر مار پیٹ کے کر جائیں۔
پھر سوال یہ بھی ہے کہ لوگ آزادی کا نعرہ کب بلند کرتے ہیں۔ دراصل یہ سب لوگ ایک نااہل حکومت سے نالاں رہے ہیں۔ اور ہر دفعہ ہم نے ایک نئے ملک کا تجربہ کر کے دیکھا کہ ہمیں نااہل حکومت ہی میسر رہی ہے۔ لوگوں نے ایک ملک کی نااہل حکومت سے جان چھڑائی تو انہیں نئے ملک کی نئی نااہل حکومت میسر آگئی۔ تو سوال یہ ہے کہ اب کی بار آزادی کا یہ تجربہ کیسے مختلف ہوگا؟”
اس سوال کا جواب جسٹس مری کے پاس تھا۔ انہوں نے جسٹس ملک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“جسٹس ملک، کسی دوسرے کی نااہل حکومت اور اپنی نااہل حکومت میں یہی فرق ہوتا ہے۔ لوگ اپنے لوگوں کی نااہل حکومت پہ پھر بھی صبر و شکر کر لیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بلوچستان کی آزادی کے بعد بلوچوں کےسر پہ ایک اپنی ہی نااہل حکومت سوار ہو جائے مگر اس وقت کی اس وقت دیکھی جائے گی۔ ابھی تو یہ لوگ پاکستان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان فوج بلوچستان فوری طور پہ چھوڑ دے۔”
جسٹس ملک کے گھر میں ہونے والی یہ ملاقت دو گھنٹے سے اوپر جاری رہی۔ اس ملاقات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہاں موجود سب لوگوں کو ایک دوسرے کے دلی جذبات جاننے کا موقع ملا۔ طے پایا کہ اگلی بار تینوں جج صاحبان صرف ایک ایک اسسٹنٹ کے ساتھ ملیں گے اور یہ حکمت عملی تیار کریں گے بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کس طور سے بغیر تشدد کے انجام پا سکتی ہے۔
اگلی ملاقات سے پہلے جسٹس ملک نے ماضی قریب میں آزادی حاصل کرنے والے ممالک کے اوپر تحقیق کی۔ اور جسٹس مری اور جسٹس گل جان سے ملاقات میں انہوں نے بات اسی موضوع سے شروع کی۔
“بلوچستان سے پاکستان کی آزادی کے سلسلے میں ہمیں ان مثالوں کو دیکھنا چاہیے جہاں نوزائیدہ ممالک نے بلا یا با تشدد آزادی حاصل کی۔ مثلا دس سال پہلے مشرقی تمور اقوام متحدہ کی فوج کی نگرانی میں ہونے والے ریفرینڈم کی مدد سے انڈونیشیا سے الگ ہوا۔ اس سے پہلا وہاں انڈونیشیا کی فوج قتل و غارت گری کر چکی تھی مگر کم از کم ریفرینڈم شفاف ہو پایا۔
اس سے پہلے ہم نے چیکوسلاواکیہ کو بغیر کسی تشدد کے چیک ریپبلک اور سلاواکیہ نامی ممالک میں تقسیم ہوتے دیکھا۔
پھر ہم نے دیکھا کہ کینیڈا میں کیوبیک کا صوبہ باقی ملک سے الگ ہونا چاہتا تھا۔ مگر لوگوں کی رائے لینے کے سلسلے میں انہوں نے بیرونی مدد حاصل نہیں کی۔ ان کو اپنے انتخابی اداروں پہ اعتماد تھا۔ ریفرینڈم ہوا اور فیصلہ ہو گیا کہ کیوبیک سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ کینیڈا کے ساتھ ہی رہنا چاہتے تھے۔
پھر ہم نے مونٹینیگرو کی سربیا سے آزادی کو دیکھا۔ جب یوگوسلاویہ کے اوپر سے اشتراکیت کا بندھن ٹوٹا تو سب سے پہلے سلوانیا باقی ملک سے الگ ہوا۔ پھر کروایشیا الگ ہوا۔ پھر بوسنیا اور مقدونیہ الگ ہوئے۔ سربیا اور مونٹے نیگرو کچھ عرصہ ساتھ رہے مگر پھر الگ الگ ملک بن گئے۔”
اس موقع پہ جسٹس مری نے جسٹس ملک کی بات کاٹی۔
“جسٹس ملک، آپ اتنی دور مت جائیں۔ آپ اس خطے میں آزاد ہونے والا وہ ملک دیکھیں جس کو ساتھ رکھنے کی پوری کوشش پاکستانی فوج نے کی۔ آپ نے دیکھا کہ اس کم ظرف فوج نے کیسے کیسے ہتھکنڈے نہیں آزمائے۔ آپ اس فوج پہ اعتماد نہیں کر سکتے۔”
جسٹس مری کی بات میں وزن تھا۔
“میں آپ کی بات سے متفق ہوں، جسٹس مری۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ریفرینڈم ایک شفاف طریقہ ہے یہ فیصلہ کرنے کا کہ لوگوں کا ایک گروہ دوسرے لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ایک منصف ریفرینڈم کا نتیجہ وہ اخلاقی فتح ہے جس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور میرا خیال ہے کہ بلوچستان کے سلسلے میں بھی ہمیں ایسے ہی ایک ریفرینڈم پہ کام کرنا ہوگا۔”
“مگر یہ ریفرینڈم کون کرائے گا؟ بلوچ قوم پرست ایسے کسی ریفرینڈم کو نہیں مانیں گے جو پاکستانی فوج یا پاکستانی حکومت کے زیر اثر کرایا جائے۔” جسٹس گل جان نے اپنی رائے پیش کی۔
اور اس ملاقات کے بعد تین ملاقاتیں اور ہوئیں اور پھر ایک امن معاہدے کے خد و خال واضح ہوتے گئے۔ بلوچستان کے لوگوں کو یہ حق رائے دہی دینا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں جسٹس ملک فارمولا کہلایا جانے لگا۔ مختصر الفاظ میں جسٹس ملک فارمولا یہ تھا کہ پاکستانی فوج بلوچستان چھوڑ دے اور صوبے کا انتظام اقوام متحدہ کی فوج کے حوالے کیا جائے جو یہ ریفرینڈم کروائے کہ آیا بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔ اس حمت عملی کو کاغذ پہ لکھنے اور اس کی جزئیات پہ اچھی طرح غور کرنے کے بعد ان تینوں جج حضرات نے میڈیا کے ذریعے جسٹس ملک فارمولے کو لوگوں تک پہنچانا شروع کیا۔ اب ہر طرف جسٹس ملک فارمولے کا چرچا ہو گیا۔ مختلف ٹی وی اسٹیشن تینوں جج حضرات کو حالات حاضرہ کے پروگراموں میں باقاعدگی سے بلانے لگے۔
اور ایسا ہی ایک موقع تھا جب جسٹس ملک ایک ٹی وی پروگرام میں دوسرے شرکا سے بحث میں مشغول تھے کہ آئی ایس آئی کے ایک دفتر میں گفتگو ہو رہی تھی۔
“اس جسٹس ملک کو آخر کیا تکلیف ہے؟ یہ کیوں اس قسم کی احمقانہ باتیں کر رہا ہے؟ ہم ان دہشت گردوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں جن کی مدد ہندوستان کر رہا ہے۔”
دوسرے شخص نے پہلے کی ہاں میں ہاں ملائی۔
“بات آپ کی بالکل ٹھیک ہے۔ پاکستانی فوج کو کیا ضرورت ہے بلوچستان چھوڑنے کی؟ بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں ہے، یہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔”
پہلے شخص نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
“بات یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اس بے وقوف جج کو راستے سے ہٹانا ہوگا۔”
اور اسی طرح کی ایک گفتگو بلوچستان میں ایک خفیہ مقام پہ ہو رہی تھی۔ وہاں بلوچستان کے کئی قوم پرست لیڈر جمع تھے۔
“ہمیں جسٹس ملک پہ اعتبار نہیں ہے۔ یہ چاہے کتنے عرصے سے یہاں رہ رہا ہو، یہ آخر کار پنجابی ہے۔”
ایک دوسرے شخص نے اس بات کی تائید کی۔
“دنیا ہماری بات سن رہی ہے۔ اور ہم اپنی مسلح جدوجہد سے پاکستانی فوج کو یہاں سے باہر نکالنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ہمیں پاکستانی حکومت سے کسی فارمولے وغیرہ پہ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک شخص نے کہا۔
“ہمیں اس جسٹس ملک کو راستے سے ہٹانا ہوگا۔ بلوچستان کی آزادی کی راہ میں یہ بھی ایک پتھر ہے۔”
اور ہفتے بھر کے اندر ہی جسٹس ملک کی زندگی کا آخری دن آن پہنچا۔ جسٹس ملک ڈرائیور کے ساتھ گھر واپس جا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے آنے والی ایک گاڑی نے جسٹس ملک کی گاڑی کا راستہ روک لیا۔ پھر جسٹس ملک کی گاڑی پہ اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی۔ یہ فائرنگ منٹ بھر جاری رہی۔ جب حملہ آوروں کو یقین ہو گیا کہ ان کی شدید فائرنگ کے بعد گاڑی میں موجود کوئی شخص زندہ نہ بچا ہوگا تو وہ اطمینان سے وہاں سے فرار ہو گئے۔
تھوڑی ہی دیر میں جسٹس ملک کے قتل کی خبر آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ جسٹس ملک کی لاش کو اگلے دن تدفین تک کے لیے اسپتال کے مردہ خانے میں جمع کروانے کے بعد جب جسٹس ملک کا لڑکا عرفان اپنے گھر پہنچا تو وہاں ٹی وی اور اخبارات کے رپورٹروں کا ایک جھمگٹا لگا ہوا تھا۔
ایک رپورٹر نے ہمت کر کے عرفان سے پوچھ ہی لیا کہ اس کا کیا خیال تھا کہ اس کے والد کو کس نے ہلاک کیا تھا۔
عرفان پھٹ پڑا۔
“مجھے کیا پتہ کہ ابو کو کس نے مارا ہے؟ یہاں سب کی دلچسپی صرف اور صرف لوگوں کو مارنے میں ہے۔”
عرفان ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر زور زور سے چیخنے لگا۔
“ظالموں یہ تم نے کیا کیا؟ میرے معصوم باپ کو مار دیا۔ مادر — وہ تمھارا دوست تھا۔ وہ سب کا دوست تھا۔ اس کو سب سے محبت تھی۔ یہ تم نے کیا ظلم کیا؟ وہ تم سب سے محبت کرتا تھا، مادر۔۔۔، وہ سب سے پیار کرتا تھا، بہن ۔۔۔ تم لوگ لڑتے رہو اسی طرح۔ اسی طرح ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہو، بہن ۔۔۔”
عرفان ہذیانی چیخیں مارتا ہوا صوفے پہ بیٹھ گیا تھا اور اب دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے زار و قطار رو رہا تھا۔ عرفان کی یہ حالت دیکھ کر ٹی وی اور اخبارات کے رپورٹر رفتہ رفتہ کر کے وہاں سے روانہ ہونے لگے۔




