ائے زندگی تجھ سے ناراض نہیں ۔
پاکستانی فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والی جنگ کے باعث لاکھوں مہاجرین جو متاثرہ علاقے سے ہجرت کر کے دیگر علاقوں میں آگئے ہیں ۔لاکھوں افراد پناہ گزین کیمپوں میں جانوروں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں غیر انسانی رویہ اور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔پانی بجلی کی کمی اپنی جگہ صفائی کا مناسب انتظام نا ہونے کی وجہ سے بیماری پپھلینے کا بھی اندیشہ ہے۔ سوات اور مالاکنڈ کے جنگ سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اب یہ تعداد بیس لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے صوبہ سرحد کے اضلاع سوات، بونیر، لوئر دیراور دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی کے باعث ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ جس کو بروقت نا روکا گیا تو حالات بے قابو ہو جاہیں گے ۔ اگر کیمپوں پر نظر ڈالی جائے ۔ تو ایک ایک کیمپ میں دس افراد مقیم ہیں ۔ جہاں پر گرمی سے بچاﺅ کا کوئی بندوبست نہیں ہے ۔ یہاں تک کے پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے ، چھوٹی چھوٹی بچیاں ہاتھوں میں برتن اٹھائے پانی بھرنے جاتی ہیں ۔ یہاں بیماری سے بچاﺅ کا مناسب انتظام نہیں ہے ۔ امداد کہاں ہے کس کے پاس ہے کچھ اندازہ نہیں ۔ ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی یہ سوچ کر نہیں دیتا کہ یہ اس کا پیشہ ہے ۔جس کے لیے وہ بتنخواہ لیتا ہے ۔ اس وقت ان کی مدت کرنا سب سے بڑی بات انسانیت کا تقاضہ ہے ۔ ۔ جو آج بے یارومدد گار ہیں ۔ جن کے اپنے ان سے بچھڑ گئے ہیں ۔ ایسے میں ڈاکٹر کی ہلکی سی تسلی بھی انکے زخم بھرنے کا کام کرئے گی ۔
 یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی جنت جیسی خوبصورت وادی میں رہا کرتے ہیں جہاں نا تو گرمی کا احساس ،نا پانی کی کمی ،اور نا ہی رہائش کا مسلہ ، اپنے مال مویشی کھیت تھے ۔ زندگی جیسے تیسے گزر رہی تھی ۔ لیکن پرسکون تھے ۔
 غربت میں بھی مہمان نواز ی میں اپنی مشال آپ تھے ۔آج بچوں کے پھول جیسے مہکتے چہروں پر اداسی اور ڈر کی گرد جمی ہوئی ہے یہ ڈر اور خوف کیسے ختم ہو گا یہ ویراں انکھیں کب پر امید ہو گی ۔ کب خوشی کی روشنی ان میں نظر آئے گئی ۔ مستقبل پہلے ہی ان سے چھین لیا گیا ۔ کیونکہ اسکول کی شکل تو کئی سالوں سے ان معصوم پھولوں نے دیکھی ہی نہیں ہے ۔اور قدرت کی ستم ظریفی کہیں یا پھر ہمارے حکمرانوں کا ظلم جس اسکول میں ان بچوں کا مستقبل تھا ۔ آج اسی اسکولوں میں یہ ہیں لیکن مجبوری اور لاچاری کی حالت میں ۔یہ نہیں جانتے دشتگرد کون ہیں ۔جو انکے بسے بسائے گھروں کو یوں تباہ و برباد کر رہے ہیں ۔ یہ تو ابھی پوری طرح اسلام کو بھی نہیں جان سکے ۔ اور اسلام کو غلط طریقے سے پھلانے والوں کے بارے میں کیسے جان پاہیں گے ۔ اور نا ہی ان کو اس سے کوئی غرض ہے کہ فوج انکے علاقے میں کیوں ہے ۔ انکے تو ابھی کھیلنے کودنے کے دن ہیں ، یہ ابھی کونپلیں ہیں جن کو پھول بنا ہے ۔ لیکن وقت نے انکے پھول بنے سے پہلے ہی روند دیا ۔ کیا وہ ان اسکولوں میں پناہ لیے ہوئے یہ نہیں سوچتے ہوں گے ۔ کہ ہمارا قصور کیا ہے ۔ ہم پر ہی تعلیم کے دروازے کیوں بند ہیں انکے ننھے ننھے زہنوں میں یہ سوچ نہیں آتی ہوں گی ۔ کہ باقی بچوں کی طرح انکے ہاتھ میں بھی تختی اور بستہ ہو ۔وہ بھی ملک کے باشعور اور تعلیم یافتہ انسان بنے ۔ انکے دل میں یہ خواہش جنم نہیں لیتی ہویہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہماری فوج نے کافی جگہوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ اور وہاں امن بھی ہو چکا ہے ۔ بقول ہمارے وزیر طالبان ڈر اور خوف کی وجہ سے یا تو بھاگ گئے ہیں یا پھر مارے گئے ہیں ۔ تو پھر کیوں ان بے گھروں کو جن کے گھر آباد ہونے میں ایک لمبا عرصہ درکار ہے ۔کیوں نا ان کو کیمپوں کے ساتھ وہاں منتقل کیا جائے ۔ تاکہ گرمی پانی کی کمی سے تو بچایا جائے ۔ مزید قیمتی جانوں کا ضائع روکا جائے ۔ مانا وادی پہلے کی طرح خوبصورت تو نہیں ہے ۔ بارود کی بدبو خون کا رنگ تو جابجا ہو گا ۔لیکن وادی پھر بھی سرسبز تو ہوگی ۔؟ قدرتی حسن تو اپنی جگہ قائم ہو گا ۔؟ موسم میں خنکی اور ٹھند تو ہو گی؟ ان کمپیوں کی گندگی مچھر لوڈشیدنگ پانی کا نا ہونا ان سب سے تو بچ جاہیں گے ۔ ویسے تو ہمارے ان بہن بھائیوں کے حوصلے بہت بلند ہیں ۔آج بھی وہ مایوس نہیں ہیں اپنا سب کچھ لٹا کر بھی وہ واپس جانا چاہتے ہیں ۔ وہ موت سے خوفزدہ ضرور ہیں ۔ لیکن وہ ا ٓنے والے کل

سے نا امید نہیں ہیں ۔ آج بھی وہ زندگی سے ناراض نہیں ہیں