اجالوں کی ڈگر

“”سنو !” میں کہنا چاہتا ہون ’’گوئٹے نے کہا تھا ۔ کہ میں بھی مشرقی ملکوں کے راستے پر گامزن ہوں‘‘ تاکہ وہاں پہنچ کر گڈریوں سے مل جاؤں اور مشک و ریشم کی تجارت کرنے والے قافلوں کے ساتھ سفر کروں اور جب راستے کی تکلیف سے تھک جاؤں تو تھوڑی دیر کسی آبادی میں سستا لوں اور پھر پہاڑوں اور جنگلوں کے اس راستے کو ڈھونڈھوں جو شہروں کی طرف جاتا ہے ۔‘‘
میں کہنا چاہتا ہوں ۔ مگر کوئی نہیں سننا چاہتا ۔ سب دھیرے دھیرے گھٹنوں کے بل ۔۔۔ پہاڑیوں پر چڑھے جا رہے ہیں چلے جا رہے ہیں، جیسے کسی کی کوئی منزل نہیں (’منزل تو راستوں کی ہوتی ہے ۔‘‘ کمال نے مجھ سے کہا تھا ۔)
دھوپ بے حد تیز ہو گئی تھی اور ہم سے بے خبر۔ تقریباً سبھی نے اپنے سوئٹر اتار کر کاندھوں پر جھولتے ہوئے SACKS میں رکھ لیے تھے ۔ اور ایک کے پیچھے ایک چلے جا رہے تھے ۔ اکثر کسی وزنی Sack سے کوئی specimen گر جاتا اور اس کے پیچھے والا فرد چپ چاپ اٹھا کر اس sack میں ڈال دیتا ۔ سب کے ہاتھوں میں ہتھوڑے تھے جن کا سہارا لیے سب پسینے میں نہاۓ چلے جا رہے تھے ۔ بلندی اور بلندی کی طرف فی الحال تو اس پہاڑی کی چوٹی ہی سب کی منزل تھی اور میں راستے کی گرد اور دھوپ کی گرمی اور سفر کی تکان اور اپنے کام کے احساس سے بے پروا دھیرے دھیرے گنگنا رہا تھا ۔ ’’ اے دل تھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’سنو سہیل‘‘ علیم نے آواز دی ۔۔۔۔۔۔۔’’وہی گیت سناؤ ۔ لیمن ٹری والا‘‘ اور ہم دونوں ساتھ ساتھ گانے لگے ۔
Lemon tree, lemon tree …….
lemon tree’s very pretty
and its flowers are so sweet;
but its fruit is so sour,
that’s impossible to eat.
مگر وہان کہیں لیموں کے درخت نہیں تھے ۔ پائن اور فر کے خشک پتوں کے ڈھیر بکھرے ہوۓ تھے ۔ راستے میں جو راستہ نہیں تھا ۔ راستہ جو راستے سے دور تھا۔ مگر راستہ جو ہمارے قدم بنا رہے تھے ، خشک پتوں میں پھسلن تو ہوتی ہی ہے ۔ مگر کل کی بارش کی وجہ سے اس پھسلن میں مزید اضافہ ہو گیا تھا ۔اور اب بارش کے بعد فضا میں جو شفافیت پیدا ہو گئی تھی ۔ اس کے باعث دھوپ کے تیر ہمارے کاندھوں پر اپنی نوکیں اور بھی تیزی سے چبھو رہے تھے ۔ خشک پتوں کی باس تھی۔
’’ یہ پہاڑی جنگل،‘‘ کمال نے کہنا شروع کیا میں اور علیم گیت ختم کر کے یک لخت ہمہ تن گوش ہو گئے ۔‘‘ایسے بھی نہیں ہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں
؎ خوشبوؤں کی اداس شہزادی
رات ہم کو ملی درختوں میں
خوشبوؤں کی شہزادی کی موجودگی سے بے پروا علیم نے نعرہ لگایا۔
’’ پھر تم کو یہ شعر کیوں یاد آ گیا ہے ؟ ۔ تو لو یہ بھی سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینہ برسا تو برگ ریزوں نے
چھیڑ دی بانسری درختوں میں ‘‘
’’کتنی آبادیاں ہیں شہر سے دور
جا کے دیکھو کبھی درختوں میں ۔‘‘
میں نے بھی ایک عدد شعر عرض کر دیا۔
اور ہم سب سے آگے چلتے ہوۓ راجندر نے نعرہ لگایا
’’چلتے چلتے ڈگر اُجالوں کی
جانے کیوں مُڑ گئی درختوں میں ‘‘
اور پھر سب کا راستہ بدل گیا۔ راستہ جو راستہ نہیں تھا ۔اور پھر ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ باقی سارے ساتھی نہ جانے کہاں رہ گئے تھے ۔
’’بھئی میں تو اس Sandstone اور lime stone کے contact کو ہی منزل سمجھ کر چلا آ رہا تھا۔ اور ہم تو یہاں پہنچ بھی گۓ ہیں ۔ ‘‘ راجندر نے صفائی پیش کی۔ اور میں نے کہا۔ ’’ سنو راجندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ منزل تو محض لمحاتی ہے ۔ ابھی ہم اس Contact کی Readingاور Samples لے لیں گے ۔ تو یہ منزل کسی اور ارضیاتی ٹیم کی ہو جاۓ گی۔‘‘
’’یا ممکن ہے یہاں پھر کوئی نہ آۓ‘‘۔ کمال نے مایوسی سے اپنی راۓ دی۔
’’ ہاں ۔۔۔ چلو ہم اپنے اپنے نام یہاں کے درختوں پر لکھ دیں‘‘ علیم نے مشورہ دیا ۔ اور سب سے پہلے اسی نے اپنے Sack میں سے chisel نکال کر ایک درخت کے خشک تنے پر ثبت کر دیا ۔ ‘‘علیم فاروقی ‘‘ اور اس کے نیچے ہم سب نے اپنے نام لکھ ڈالے ۔
’’کمال میر ‘‘ ۔ سہیل احسن‘‘ ۔ ‘‘راجندر سکسینہ ‘‘ ۔ اور پھر راجندر نے آخر میں اپنا نام لکھتے ہوۓ چاروں نام کو بریکٹ کرتے ہوۓ لکھ دیا ۔ طلبا ۔ ایم ایس سی ۔ جیو لاجی ۔ 28 /دسمبر 1972 ء ‘‘
’’۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے ساتھیوں کو پکاریں ۔۔۔۔‘‘ اس مقام پر اپنا کام ختم کر لینے کے بعد جانے کمال نے کہا کہ علیم نے ۔
’’سبحان ۔۔۔۔ رمیش ۔۔۔۔علی۔۔۔آرنلڈ ۔۔۔نجم الدین ۔۔۔ خالد۔۔۔ چندریشور ‘‘۔ ہم سب نے پکارا ۔ مگر کسی کا جواب نہ تھا۔ شاید وہ دوسرے ‘‘ راستے ‘‘ سے مڑ کر دوسری پہاڑی پر چلے گۓ تھے ۔
’’آؤ اب لوٹ چلیں ۔ ممکن ہے وہ لوگ بھی لوٹتے ہوۓ نظر آ جائیں ‘‘ کمال نے مشورہ دیا ۔
’’بھئی اپنوں کو تو بہت بھوک لگی ہے ۔‘‘ راجندر نے اپنی پنجابی ذہنیت کے اظہار کے ساتھ اپنے ہتھوڑے اور Sack کو اچھال کر پھینکتے ہوۓ اور گھاس پر بیٹھتے ہوۓ کہا ۔
اور پھر ہم سب کو خیال آیا کہ لنچ پیکٹ ہم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے ۔ میرا لنچ پیکٹ سبحان کے پاس Sack میں تھا ۔ راجندر کا چندریشور کے پاس ۔ علیم کا علی کے پاس اور کمال اپنا لنچ پیکٹ کیمپ پر ہی بھول آیا تھا ۔
’’ اب پتہ چلا ۔۔ اس چوٹی کو فتح کرنے کا نتیجہ ‘‘۔ کمال نے طنزاً راجندر سے کہا ۔ کیونکہ اس نے خود کو پارٹی لیڈر بنا لیا تھا۔
’’ میں سوچ رہا تھا کہ یاروں کے پاس کچھ نہ کچھ نکل ہی آۓ گا۔ خیر ۔ کچھ دیر آرام کر لیا جاۓ۔ اور پھر کچھ سوچا جاۓ ‘‘ ۔ راجندر نے کمال کے طنز کو نظر انداز کر کے اپنی لیڈری برقرار رکھی۔
پھر دفعتاً سب کو پیاس محسوس ہوئی مگر سب کی Water bottles خالی تھیں ۔ ‘‘وہ دیکھو‘‘۔ علیم نے اشارہ کیا ۔ دور ایک پہاڑی آبشار بہہ رہا تھا۔ سب لوگ تیزی سے اپنا سامان اٹھا کر اسی سمت روانہ ہو گۓ ۔
راجندر گنگنانے لگا۔ ’’سچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو‘‘۔ علیم اور میں پھر سرگرمی سے ۔ لیمن ٹری ۔ لیمن ٹری کی گردان کرنے لگے اور کمال سیٹی میں ہلکے سروں سے پہاڑی راگ کی کوئی دھن بجانے لگا۔ کوئی مانجھی گیت ۔ کوئی بھٹیالی گیت۔ مگر ہم اس راستے پر تھے جہاں نہ کوئی بانسری تھی نہ گڈریے ، مانجھی نہ بوڑھی گنگا میں ڈولتی کشتیاں، نہ ناریل اور لیموں کے درخت۔
But its fruit is so sour
That’s impossible to eat
علیم کا گیت اب بھی جاری تھا ۔ اور پہاڑی آبشار بھی جاری تھا ۔ نہ جانے کب سے ۔ اور ہم اس کے دہانے پر کھڑے ہوۓ تھے (ہم سب کسی نہ کسی چیز کے دہانے پر کھڑے ہوۓ ہیں۔ کمال نے سخت بے دلی سے سوچا تھا ۔)
بہرحال پھر وہاں پانی پیا گیا۔ اور ہم سب نے اس آبشار کے کنارے کے گول گول پتھروں پر بیٹھ کر سگریٹیں پیں ۔ سہگل ۔اور پنکج ملک اور گیتا دت اور ملکہ پکھراج کے گیت گاۓ اور پھر سو گۓ ۔ ہمیں کچھ احساس نہیں تھا ۔ کہ ہم اپنے قافلے سے بھٹکے ہوۓ مسافر ہیں۔ شاید ۔۔۔۔ شاید ۔ اس لیے کہ ہم ہمیشہ سے بھٹکے ہوۓ ہیں۔ یا شاید اس لیے کہ ۔۔۔۔۔ مگر یہ شاید ۔ تو کبھی ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔
’’شاید تین یا چار بج گۓ ہوں گے ‘‘۔ راجندر نے آنکھیں کھول کر علیم کو جھنجھوڑا ۔ سب جاگ گۓ ۔ اور سب نے اپنی اپنی گھڑیاں دیکھیں۔ سوا تین بج رہے تھے ۔
’’اب ہم کو لوٹنا ہے ۔ کیمپ کی طرف‘‘
’’اگر کیمپ کا راستہ مل جاۓ۔‘‘
’’اگر کیمپ کا راستہ نہ ملے تو ۔۔۔۔۔ ؟
’’اگر باقی قافلہ گزر چکا ہو تو ۔۔۔۔؟
ہم سب اٹھ کھڑے ہوۓ۔ دھوپ کی تیزی کم ہو چلی تھی ۔ اور ہم راستہ بھولے ہوۓ تھے مگر دھوپ ہم سے بے خبر تھی ۔ راستے کی تلاش میں ۔ اور ایک راستہ بکریوں کے گلے میں بندھی ہوئی۔۔۔ گھنٹیوں سے گونج رہا تھا۔
’’دیکھو وہ کون ہیں ؟‘‘کمال نے اشارہ کیا۔
’’کشمیری اپنی بکریوں کو لیے واپس لوٹ رہے تھے ‘‘ آؤ ہم ان کی طرف چلیں ۔ ان کو نیچے کی پکی سڑک کا راستہ ضرور معلوم ہو گا‘‘۔
’’چلو ۔۔۔۔۔۔ چلو‘‘۔
ہمارے وہ کشمیری میزبان۔
’’آپ صاحب لوگ کی ہم کیا خدمت کرے ۔
’’بابا ہم راستہ بھول گۓ ہیں۔‘‘ میں نے نہایت اطمینان سے حقیقت بیان کی ۔
’’نیچے کی پکی سڑک تک ہم کو پہنچا دیجۓ’‘ ۔ راجندر نے پارٹی لیڈر کا فرض ادا کیا۔
’’تم کو پہاڑی پر آنے کا کیا ضرورت تھا‘‘۔
’’ہم لوگ جیولاجسٹ ہیں بابا۔ اس علاقے کا نقشہ تیار کر رہے تھے ۔ مگر اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گۓ‘‘۔
وہ دونوں آپس میں کشمیری میں بات کرنے لگے پھر بولے ۔
’’آپ جیسا لوگ ہم نے اور بھی دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ ‘‘
’’مگر ان کو تو ہم نے بہت سویرے دیکھا تھا ۔ آپ لوگوں نے کچھ کھایا کہ نہیں ’’۔ بزرگ کشمیری نے اچانک اپنا موضوع بدلا ’’ آپ کو ہم بغیر کھلاۓ رخصت نہیں کریں گے ۔ ہمارا گھر بہت ہی قریب میں ہے یہاں سے ۔ بس راستہ خراب ہے ۔ آپ لوگ چل لے گا‘‘۔
اب تک دونوں مردوں میں جو بزرگ تھا وہی یہ باتیں کر رہا تھا۔ دوسرا خاموش تھا۔ مگر اس بار وہ بولا ۔
’’ہم ان کو مدد دے گا ‘‘۔
اور پھر واقعی وہ راستہ کتنا دشوار گزار تھا ۔ نیچے تک عمودی ڈھلان اور قدم جمانے کی بھی مشکلیں ۔ مگر ہمارے ان دونوں راہبروں نے ہمارے پیر اپنے پیروں پر رکھو اکر یہ راستہ پار کرا دیا تھا۔ ہم کو اپنے بے ہنگم اور بھاری Hunter shoes ان کی پھٹی ہوئی جلد کے خشک پیروں پر رکھنے میں بے حد تکلیف ہوئی تھی۔ بہر حال اس راسے سے گزرتے ہی ہم ایک گھر کے سامنے تھے ۔ یہ لکڑی سے بنی ہوئی چھوٹی سی جھونپڑی تھی ۔ جو ایک کھائی کے کنارے واقع تھی۔ اور راستے کے لیے ایک درخت کا موٹا سا تنا اس گہرائی میں ڈالا گیا تھا ۔ایک لڑکی بڑے اطمینان سے اس پل پر بیٹھی ہوئی شرماتی ہوئی آنکھیں جھپک جھپک کر ہم لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ اور اس کے ہاتھ میں بانسری تھی ۔
پھر ہم بکریوں کا دودھ پی رہے تھے ۔ جس میں زعفران کی خوشبو تھی ۔ اور شکر کے علاوہ خلوص کی مٹھاس تھی اور کانوں میں بانسری کی تانیں تھیں ۔ اور دو مہربان چہرے تھے ۔ اور ایک گول چہرے والی پیاری سی لڑکی کا وجود تھا ۔ اور اس کے سرخ ڈھیلے ڈھالے پھیرن کی بڑی بڑی جیبوں میں ۔۔۔ خوبانیاں تھیں۔ کتنا سکون تھا یہاں۔ (ہمین است و ہمین است و ہمین است ‘‘۔ میں نے سوچا ،
پھر تو جوان مرد نے کشمیری گیت چھیڑ دیا ۔
’’شام ہو رہی ہے ۔
اور سورج کی کرنوں نے سفید بکریوں کی پیٹھ کو پیلا کر دیا ہے ۔
اور بادام کے پیلے پیلے پھول بھی میرے ساتھ تیرے منتظر ہیں
کہ تو اپنی پھیرن میں چاند سورج چھپا کر آ جاۓ گی۔
تو یہاں سورج اور چاند کے بغیر بھی اُجالا ہو جاۓ گا‘‘۔
اور سورج غروب ہو رہا تھا۔
کچھ دیر بعد ہم اپنے میزبانوں کی معیت میں آگے چلے جا رہے تھے ۔ سڑک پہنچ کر ہم نے ان کو رخصت کیا۔ ہم نے سوچا تھا ہم ایک ایک روپیہ فی کس ان کو دے دیں گے ۔۔۔۔ مگر۔۔۔
’’صاحب مہمان تو رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں۔ ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے گھر ہر وقت فرشتے رہیں‘‘۔ بزرگ مرد نے ہم سے کہا تھا اور پھر اپنے صافے کے کونے سے آنکھیں پونچھیں ’’مگر غریب آدمی کے گھر تو مہمان بھی نہیں آتے ‘‘۔
اور پھر ہم لوگ چلے جا رہے تھے ۔ ہم کو اپنے خیمے نظر آ گۓ تھے ۔ وہاں کھانا شروع ہو چکا تھا بس قافلے کے نگراں صاحب شاید ہم لوگوں کی غیر موجودگی سے فکر مند رہے ہوں گے مگر باقی کچن کہلاۓ جانے والے خیمے سے اپنا حصہ لا کر بے فکری سے کھا رہے تھے ۔ ان کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ان پہاڑوں میں ایسی اجالوں کی ڈگر ہے جہاں بانسری کے لہرے ہیں۔ زعفران کی خوشبو ہے محبت ہے ۔ خلوص ہے ۔ انہیں کیا پتا ہے کہ ان سے اتنے قریب کچھ لوگ رحمت کے فرشتوں کے منتظر ہیں۔
اور اب ہم کیسی ڈگر پر آ گۓ ہیں۔
چلتے چلتے ڈگر اجالوں کی۔
جانے کیوں مڑ گئی درختوں میں
میں نے اپنے آپ سے کہا تھا اور ہم لوگوں نے عجیب بے ڈھنگے پن سے اپنا سامان اپنے خیمے کے فرش پر پھینک دیا تھا۔