اسی کے نام سے ہر صبح ابتدا کی ہے
اسی کے نام سے ہر صبح ابتدا کی ہے
وہ جس نے ظلمتوں سے روشنی رہا کی ہے
بہار آتی ہے جیسے اسی کے کھلنے سے
ہر ایک پھول میں خوشبو تری قبا کی ہے
جسے نسیم سحر آج لوگ کہتے ہیں
وہ گرم لُو تھی ترے لمس نے صبا کی ہے
میں جھیلتا ہوں شب و روز آگہی کے عذاب
نگاہِ عقدہ کشا کیوں مجھے عطا کی ہے
فقیہ و شاہ کو خاطر میں ہم نہیں لائے
جو بات کی ہے رضا ہم نے برملا کی ہے




