ایک بزرگ دوست کے لئے
ایک بزرگ دوست کے لئے
مجھے معلوم تھا
میری باتیں تمھیں سن رسیدہ لگیں گی
مجھ پہ اکثر یہ الزام لگتا رہا ہے
کہ میں کم سنی میں، بڑی عمر کی گفتگو کر رہا ہوں
اور کئی لوگ تو اس کو شہرت کمانے پہ محمول کرتے رہے ہیں
انہیں کیا خبر؟
میں نے ان چند برسوں میں کتنا سفر طے کیا ہے
عمر کو۔ ۔ ۔ ۔ روز و شب اور مہ و سال سے
ماپنے کا طریقہ غلط ہے
میں تو ایک ایک دن میں
ہزاروں برس بھی جیا ہوں
مگر تم نہیں جانتے
جان سکتے بھی کیسے
کیا کبھی تم کسی پیکرِ خواب کی جستجو میں
زمان و مکاں کی حدوں سے ورا بھی گئے ہو؟
جہاں ایک اک دن
یہاں کے ہزاروں برس سے بڑا ہے
کبھی تم زمان و مکاں کی حدوں سے نکل کے تو دیکھو
تمہیں میری باتیں بہت چھوٹی محسوس ہوں گی





Tuesday، 13 April 2010 بوقت 10:37 pm
بہت خوب!
Thursday، 29 April 2010 بوقت 2:10 am
واہ بھائی
بہت اعلی پائے کی شاعری ہے
سچ میں مزا آگیا
Friday، 11 June 2010 بوقت 8:55 am
واہ بھائیبہت اعلی پائے کی شاعری ہےسچ میں مزا آگیا
+1
Tuesday، 15 June 2010 بوقت 2:20 pm
واہ بھائیبہت اعلی پائے کی شاعری ہےسچ میں مزا آگیا
+1
Saturday، 08 January 2011 بوقت 3:21 pm
اس سے بہتر تھا کہ اسے نثر کی صورت میں لکھا جاتا۔
ساعری کے زمرے میں تو یہ صنف گزشتہ ایک صدی سے نہیں آسکی۔
اس میں اب بھی جان نہیں آئے گی، سعیء لاحاصل سے احتراز کیجیئے اور نثر لکھیے۔
نوازش ہوگی۔