بارھویں تاریخ کی روشنی کے نام
نعت
غروب شام سے پہلے کا منظر
چمکتی آگ پھیلی آسمان میں
ہراس و خوف جاگا کارواں میں
اندھیروں نے چمکتی آنکھ کھولی
سمندر میں جو اتری سرخ ڈولی
سنہری رنگ کے اڑتے پرندے
بہت خاموشی سے پر کھولتے تھے
کہ شاید رات کی نیندیں نہ کھل جائیں
یہ موتی وقت سے پہلے نہ رل جائیں
کئی فوجیں کنارے پر کھڑی تھیں
ہوا کے اک اشارے پر کھڑی تھیں۔
ہوا کے ہونٹوں پر مایوسیاں تھیں
جو اک مدت سے محتاجِ بیاں تھیں
کہ اب آ جائیں گے کالے اندھیرے
اڑیں گے ہر طرف ڈر کے پھریرے

مگر لو……اب غروب شام کے بعد
ہوا کے ہونٹ پھیلے ………. مسکراۓ
فرشتوں کے کئی پر پھڑ پھڑاۓ
ابھی کچھ لمحے پہلے آنکھ میں تھے
اندھیرے ۔۔اور اندھیرے ۔۔اور اندھیرے
مگر اب دور اک نوری نشاں تھا
فرشتوں سے چمکتا آسماں تھا
ہزاروں چاند تارے سات میں تھے
کئی سورج اس بارات میں تھے
اندھیروں کے محل جو کنگرے تھے
اچانک وہ زمین پر آ رہے تھے
اندھیرے گھر میں اب تک تھا اندھیرا
مگر اس رات اک آئینہ اترا
بکھرتی تھی ہوا میں چاندی چاندی
فضا میں ٹوٹتی تھی چاندنی چاندنی
یہ قصہ بارہویں تاریخ کا تھا