تمام خلق سے تجھ کو جدا بنانے میں
تمام خلق سے تجھ کو جدا بنانے میں
لگی ہے عمر تجھے دیوتا بنانے میں
مجھی پہ قہر جو ٹوٹا تو اس میں حیرت کیا
مرا بھی ہاتھ تھا اُس کو خدا بنانے میں
زمانہ میرے خدوخال ڈھونڈنے نکلا
میں صرف ہو چکا جب آئنہ بنانے میں
مرادِ منزلِ مقصود ہے کسی کا نصیب
کٹی ہے عمر مری راستہ بنانے میں
پلک جھپکنے میں مسمار ہو گیا صاحب
وہ شہر جس کو زمانہ لگا بنانے میں
بہت کھٹن تھا رضا اپنا سامنا کرنا
کئی زمانے لگے حوصلہ بنانے میں





Monday، 02 August 2010 بوقت 12:02 am
تازگی سے بھرپور غزل ہے۔ اس میں شاعری کے نئے رجحات نظر آتے ہیں۔ غالبا’ کسی رسالے میں پہلے بھی پڑھ چکا ہوں۔