خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے
خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے
ہر اک طرف سے صدا آرہی تھی یاں کوئی ہے
یہیں کہیں پہ کوئی شہر بس رہا تھا ابھی
تلاش کیجئے اس کا اگر نشاں کوئی ہے
جوارِ قریہ گریہ سے آرہی تھی صدا
مجھے یہاں سے نکالے اگر یہاں کوئی ہے
تلاش کر رہے ہیں قبر سر چھپانے کو
ترے جہان میں ہم سا بھی بے اماں کوئی ہے
کوئی تو ہے جو دِنوں کو گھما رہا ہے رضا
پسِ گماں ہی سہی پر پسِ جہاں کوئی ہے




