روٹی ، کپڑا اور مکان ،کا نعرہ ہوا پرانا
اب روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ پرانا ھو گیا۔۔ عوام کو کسی اور نعرے کی ضرورت ہے، اس نعرے کو یاپھر ان الفاظ کو سن کر لبوں پر ایک دکھی سی ہنسی۔اور ان الفاظ پر نظر پڑتے ھی انکھوں میں نفرت سی پھیل جاتی ہے، لگتاہے۔پی پی پی کے پاس بس نعرے یا وعدے ھی رہ گے ھیں۔ جو پورا ھونے کے لیے ھرگز ھر گز نہیں ھیں۔
،پہلے بھٹو صاحب نے اور پھر ان کی دختر نیک اختر بی بی بے نظیر نے عوام کو پورا پورا یقین دلایا ، کہ وہ اپنے تن من دھن کی قربانی دے کر غریب عوام کو روٹی کپڑا اور مکان دلاہیں گی ،۔پھر اچانک ان کی موت نے عوام سے یہ ہلکی سی امید بھی چھین لی ان کی موت کے بعد یہی لگا کہ اب یہ وعدہ بی بی کے ساتھ منوں مٹی تلے دفن ھو گے ، لیکن پھر بھی عوام کو کچھ امید تھی۔کہ چلو مکان نا سہی روٹی تو مل ھی جائےگی۔ ایک وقت کی ھی سہی ، بےنظیر کی موت کے بعد جناب زرداری جب صدر کی حیثیت سے برسراقتدار آئے تو اپنے ساتھ بی بی کا وعدہ لے کر آئے، کہ اب وہ غریب عوام کے لیے وہ سب کچھ کرینگے۔ جو بے نظیر کا خواب تھا،۔ اور وہ وعدے جن کو پورا کرنا الفاظ کی حد تک درست ہے، لیکن ان کو عملی جامہ پہنانا بس ایک خواب، اس خواب کی کیا تعبیر ھوگی یہ تو شاید پی پی پی بھی نہیں جانتی ،
اس کے لیے عوام کو نجومیوں کے دروازے کھٹکھٹانے ھوں گیے۔جس کے لیے آسانی سے ٹی وی یا سڑک چھپ نجومیوں سے رجوع کرنا پڑے گا ویسے بھی ٹی وی پر یہ دھندہ چونکہ زوروں پر ھے ،اور خوب پیسے کمائے جارہئے ھیں ، ھر چینیل پر آپ کے مستقبل کا حال ، بچوں کی شادی ، اولاد کا نا ھونا یا ھو کر مر جانا، کاروبار میں مندی ، پر یشانی، لڑکیوں پر جنوں کا سایہ۔ محبت میں ناکامی ، محبوب آپکے قدموں میں، ساس نندوں سے نجات ، بہو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تباو وبرباد کروانا ، کالا جادو ، دوسروں کے گھروں پر نا جائز قبضہ ،سستے داموں زمین کے حقدار بنو،اپنے کاروبار کی چابی ایک دفعہ ھمارے ہاتھ میں د و اور اس کے بعد کسی بھی ہسپتال میں اپنے اور اپنی فیملی کے لیے پور ا وارڈ بک کروا لو ،ساتھ میں قبرستان کے لیے جگہ ھم مہیا کرٰیں گیے، اس کے لیے آپ کو بلکل فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،ھم کس لیے ہیں آپ کے آخری وقت کے ساتھی کیونکہ کس منہ سے کعبہ جاو گیے غالب۔پھر بار بار غالب یاد آنے لگتے ھیں۔اور ساتھ میں کعبہ بھی ، جب کعبہ یاد آتا ھے ، تو پیدا کرنے والے پر بھی خیال جاتا ھے، کوئی تو ھے جو نظامِ ہستی چلا رہا ھے،
اب ھم اتنے بھی ضمیر فروش نہیں ، کہ آخرت کو بھول جاہیں ، سو یہ ھمارا وعدہ رہا۔کہ ( ق ) سے قبرستان اور (ق) سے قل یہ ھمارے ذمہ۔ آپ بےفکر ھو کر (م )سے موت کو گلے لگاو،اپنی پریشانی سے نجات پاو ، باقی سب کچھ ھمارے لیے چھوڑ جاو۔
پہلے یہ ڈرامہ باز لوگ ھم کو کسی روڈ کے کنارے کسی گلی میں یا پھر کسی دریا کے پاس درخت کے نیچے بیٹھے ھوئے نظر آیا کرتے تھے،۔ ایک پوسٹر کے ساتھ جو درخت پر لٹک رہا ھوتا تھا۔ یا پھر کسی دیوار پر آویزہ کیا ھوتا تھا، لال ڈارھی، لمبے لمبے خضاب لگے بالوں، اور سرمہ دار انکھوں والے حضرات۔ ان حضرات میں بس فرق اتنا ھے ٹی وی پر یہ زرا اچھے حلیے میں آتے ہیں۔اور تھوڑے بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ھیں ۔ اور جن کی راسائی ٹی وی تک ممکن نہیں ہے۔وہ ٹی وی سے باھر یہ کاروبار کر رہئے ھیں ، وہ اپنے جعلی علم سے لوگوں کو بےوقوف بنا رہئے ھیں ،اور ھماری پڑھی لکھی عوام جن میں زیادہ خواتین ھوتی ہیں۔ اپنے مسائل کا حل ٹیلی فون کے ذریعے ان نام نہاد نجومیوں سے لیتی ھیں ، یا پھر سڑک کے کنارے یا درخت کے نیچھے بیٹھے ھوئے نجومیوں کو بڑی بڑی رقم دے کر اپنے مسائل کا حل تلاش کر تیں ھیں۔۔جن میں سے ایک وجہ بیٹی کی شادی نا ھونا اور اس سے بڑی وجہ ساس اور نندوں کی لڑائی ، یا پھر بہو کی چالاکی ، بیٹے کا بیوی کا غلام ہونا ، اور تعویز گنڈے وغیرہ وغیرہ شامل ھیں۔
ھمارے مرد حضرات بھی کسی سے کم نہیں ھیں ، وطن میں ھوں یا پھر گھر سے دور۔ کسی بھی مجبوری کی وجہ سے چاہے وہ گھر سے دوری ھو، ذیادہ محنت مزدوری یا پھر بےکاری ،جس کی وجہ سے وہ صبع و شام بے سکونی اور پریشانی کا شکار رہتے ھیں۔ ، اپنے آپ کو پریشانی میں مبتلا پاتے ھوئے فورا ٹیلی فوں اٹھاہیں گے۔ یا پھر راستے میں بیٹھے ھوے ان نجومیوں کے پاس اپنی مشکل کا حل تلاش کرنے چل پڑیں گیے،پہلے تو وہ اپنے ہاتھ کی پانچ انگلیوں کو جس میں بڑی بڑی عقیق یا فروزہ کی انگوٹھیاں پہنی ھوں گیی ، انکھیں بند کر کے گھمائے گا ، اور پھر ایک موٹی سے بلند آواز میں بولے گا۔ بچہ تیرے اوپر جادو ھے۔وہ بھی کالا۔ اگرآدمی ہے تو پری کا سایہ اور اگر لڑکی ھے تو جن کا قبضہ ھے۔ جن عاشق ھو گیا ھے ، جو اس کی شادی کسی اور سے کرنے نہیں دیتا ، آواز اتنی بلند ھوتی ھے کہ راہ چلتے لوگ نا چاہتے ھوئے بھی واپس آتے ھیں ، کہ انہی کے پاس ھماری مشکل کا حل ھے۔ اور یہی حال ٹی وی والے نجومیوں کا ھے۔ پہلے تو پروڈیسر کے کسی عزیز کا فون آئے گا،وہ اپنی کہانی اتنے دردناک طریقے سے بیان کرے گا ، کہ ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوے سب دکھی حضرات کو یہی محسوس ہو گا۔ کہ یہ کہانی اسی کی ہے ، بس پھر کیا ، راستہ کھل گیا۔ اور اس کے دیکھا دیکھی باقی بھی اپنی پریشانی بیان کرنا شروع کر دیں گیے۔، تھوڑی دیر سوچنے کی ضرورت ہے زرا سوچو جو نجومی اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، جو شخص آپ کے پیسے کا محتاج ھے، اگر وہ کچھ کر سکتا تو سب سے پہلے صدر یا وزیر کے گھر کے سامنے نا سہی پچھواڑے ھی سہی کوٹھی ضرور بنواتا،اور اگر کوٹھی تک اس کا علم کام نہیں کر سکتا۔ تو کم از کم ایک مکان ہی بنوا لیتا لیکن نہایت ھی افسوس سے کہنا پڑتا ہے، کہ لوگ پھر بھی یہ ماننے کو تیار
نہیں کے جو کرنا ہے۔ اللہ تعالی نے کرنا ہے ، لیکن سب کچھ اس ذات پر چھوڑ کے امریکہ کی غلامی میں لگنے کو بھی نہیں کہا۔
آج ملک کے حکمران بھی وہی کچھ کر رہئے ھیں ، جو جعلی پیر اور نجومی کر رہے ھیں۔ جھوٹے وعدے وعید کر کے غریب کو بےوقوف بنایا جا رہا ہے۔ وہی ٹی وی، وہی سڑک، وہی کسی سمندر کا کنارہ، بس ایک حکمران نجومی نہیں ھمارا
روٹی کپڑا اور مکان! خدا کے لیے چھوڑ دو ان بے کار نعروں کو، ان جھوٹے وعدوں کو ، دینا ہے تو لوگوں کو ان کی زندگی کی ضمانت دو انکی زندگی کی حفاظت دو ،ان کو دو وقت کی روٹی دو، بے سہاروں کو سہارا دو۔
انکے ووٹ کا قرض یوں ادا نا کرو ، کہ ملک میں امن کی جگہ مٹی کا ڈھیر نظر آئے، خوشحالی کی جگہ بدحالی ھو، مکان کی جگہ قبرستان ھوں اور عوام کے جسم کے ٹکرے جانووں کی خوراک بنیں۔
وہ خوبصورت علاقے جہاں کبھی لوگ سکون کے لیے چند دن گزرانے جایا کرتے تھے، آج وہاں خوبصورت مناظر کی جگہ لاشیں اور پھولوں کی خوشبو کی بجائے بارود کی بدبو آ?تی ہے ،جہاں کبھی امن ھوا کرتا تھا، عورت کو اپنی عزت کے لٹنے کا کوئی ڈر یا خوف نہیں تھا، جہاں وہ کھتوں اور کھلیانوں میں آزادی کے ساتھ گھوما پھرا کرتی تھی۔اور ً محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی تھی۔ آج وہی عورت اپنی عزت کی حفاطت نہیں کر پا رہی عزت لوٹنے والے زندگی بھی لوٹ رہئے ھیں۔کیا کوئی نجومی اس بات کی پشنگوئی نہیں کر سکتا کہ کب ملک میں امن ھو گا؟ کب ملک میں بےروزگاری مہنگائی ختم ھو گیی؟ کب ماں بہن کی عزت محفوظ ھو گی؟کب تک بوڑھے ماں باپ جوان لاشیوں پر خون کے آنسو بہایں گے ؟
ایوان میں بیٹھے ھوئے حکمرانوں کے پاس تو ان باتوں کا کوئی احساس نہیں ھے۔ اگر احساس ھوتا تو یوں پرسکون نا ھوتے، ،لیکن کم از کم نجومی ھی اس کا کوئی جواب دے دیں ، کہ کون سا وزیر جلدی جائے گا اور کس کس یزید حکمران سے عوام کو جلدی نجات ملے گی۔ تاکہ غریب عوام کو تھوڑا حوصلہ مل جایے۔ کوئی امید کی کرن نظر آجائے۔ کہ کل آنے والی صبح کوئی اچھی خبر لے کر آئے، بلکل اسی طرح جس طرح ایک ماں کو اپنی بیٹی کی شادی کی، ایک بےروزگار کو نوکری کی،ایک بیمار کو شفایاب ھونے کی، ایک غریب کو اچھے دن کی، کینسر کے مریض کو زندگی کی اور اپنے ملک میں جھوٹے اور مکار حکمرانوں سے نجات کی۔ تاکہ پھر کوئی خواب روٹی کپڑا اور مکان کا نا ھو بلکہ یہ سب کچھ اس کو حیقیت میں میسر ھوں





Friday، 31 December 2010 بوقت 10:20 am
جب تک ہم لوگ، سیاہ ست دانوں اور جاگیرداروں اور آقاووں کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں پر سے نہیں ہٹائیں گے، جب تک ہم خدائے بزرگ وبرتر پر پورا بھروسہ نہیں کریں گے جب تک ہم شریعت محمدی صلی اللہ و علیلہ وسلم سے دور رہیںگے۔ ہم لوگ اسی طرح ذلیل خوار ہوتے رہیں گے۔ اسی طرح وقت کے فرعون ہمیں اپنا غلام بنا کر ہماری قبروں پر اپنے مقبرے بناتے رہیں گے ہمارے خون سے اپنے گلاب اگاتے رہیں گے-