سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی
سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی
علی حسن سمندطور
کل ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا انہماک سے کام کررہا تھا کہ اچانک تین آدمی وہاں آئے۔ وہ تینوں ایک جیسی سنہرے رنگ کی ٹوپیاں لگائے ہوئے تھے۔ وہ ایسی ٹوپیاں تھیں جو لوگ عموماً بچوں کی سالگرہ پہ پہنتے ہیں، اس ہئیت کی کہ جیسے آپ نے ایک لمبی کون کو الٹا کر کے پہن لیا ہو۔ پہلی نظر میں مجھے یہ بات کچھ عجیب معلوم دی کہ وہ تینوں، نسبتا بڑی عمر کے آدمی، اس طرح کی بچکانہ ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے۔ مگر میں نے ان کی طرف غور سے دیکھا تو وہ تینوں بالکل سنجیدہ تھے۔ ان کے چہروں پہ مسکراہٹ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ الٹا ان کی بھنویں سکڑی ہوئی تھیں۔ میں نے ان تینوں کی طرف استفسار کی نظر سے دیکھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ میرے دفتر میں کیوں آئے تھے۔ وہ تینوں ایک صف میں کھڑے تھے اور مجھے بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ پھر دونوں سروں پہ کھڑے آدمیوں نے میکانیکی انداز میں اپنی گردنیں گھما کر بیچ والے شخص کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ یہ ان دونوں کا اشارہ تھا کہ بیچ والا شخص اپنی بات شروع کر سکتا تھا۔
“کیا تم آنند بھاٹیا کو جانتے ہو؟” بیچ میں کھڑے شخص نے پرسکون لہجے میں مجھ سے پوچھا۔
ٹھیک اسی وقت میرے فون کی گھنٹی بج گئی۔ فون میرے دائیں ہاتھ پہ رکھا تھا۔ میں نے تینوں ملاقاتیوں سے معذرت کا جملہ کہتے ہوئے اپنی کرسی کو گھمایا اور فون کا سامنا کرتے ہوئے فون اٹھا لیا۔ وہ ایک اہم کاروباری سلسلے کا فون تھا۔ مگر فون کی اہمیت کے باوجود میں دوسری طرف کی بات سنتے ہوئے ذہن پہ زور ڈال رہا تھا کہ آخر میں نے آنند بھاٹیا کا نام کہاں سنا ہے۔ اور میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا تھا کہ نہ صرف یہ کہ میں نے آنند بھاٹیا کا نام سنا ہے بلکہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پہ میں آنند بھاٹیا کو اچھی طرح جانتا رہا ہوں۔
فون پہ گفتگو کے دوران کسی موقع پہ دوسری طرف سے مجھ سے ایک سوال کیا گیا اور مجھے کچھ سوچ کر اس سوال کا جواب دینا پڑا مگر اس مختصر فکری انحراف کے بعد میرا ذہن پھر سے آنند بھاٹیا کو یاد کرنے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ میں نے اپنے ذہن پہ بہت زور دیا مگر آنند بھاٹیا کا چہرہ کسی طرح میری یاد داشت کے کسی کونے سے نکل کر سامنے نہ آیا۔ اس کے باوجود اچھی بات یہ ہوئی کہ ذہن پہ اس قدر زور دینے کے بعد آنند بھاٹیا کی زندگی کے بہت سے گوشے سوالات بن کر میرے ذہن میں ابھرنا شروع ہوئے۔
میں سوچنے لگا کہ کیا آنند بھاٹیا ایک عام آدمی تھا؟ دنیا کے کارخانے کے ایک چھوٹے سے گوشے میں سر جھکا کر کام کرنے والا عام آدمی؟ اپنے بزرگ ماضی اور متوقع بے کراں مستقبل سے مکمل طور پہ کنارہ کش ایک عام آدمی؟ اپنی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں جوجھنے والا عام آدمی؟ ایک ایسا عام آدمی جس کی زندگی کا آج اس کے کل سے صرف اس طرح مختلف ہوتا ہے کہ اس کے کلینڈر پہ ایک نئی تاریخ چڑھ جاتی ہے؟ کہ آنند بھاٹیا صرف اس لیے دنیا میں آیا تھا کہ وہ دنیا کی شماریات کا ایک حصہ بن سکے؟ کہ اس کا نام آنند بھاٹیا نہ ہوتا تو محمد اسلم ہوتا، یا راج سنگھ، یا جان اسمتھ؟ کہ آنند بھاٹیا جیسے لوگوں کی تلاش تو ہر مذہبی رہنما، ہر سیاسی نیتا کو ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جو مندر، مسجد، گرجا، اور سیاسی جلسے بھرا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جو ایک دن کسی بم دھماکے، کسی بڑے حادثے، کسی جنگ میں مر جاتے ہیں، اور اخبار میں صرف یہ خبر ہوتی ہے کہ بم دھماکے، یا حادثے، یا جنگی معرکے میں اتنے افراد ہلاک ہو گئے۔ کم ہی لوگ یہ زحمت کرتے ہیں کہ ایک ساتھ اتنے سارے مرنے والوں میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ الگ جستجو کریں۔ کہ وہ مرنے والوں کے ڈھیر میں سے ہر آنند بھاٹیا کو الگ الگ نکالیں اور ہر موت پہ الگ الگ آنسو بہائیں۔
میں فون پہ دوسری طرف کی باتیں سن کر ہوں ہوں کرتا رہا اور ساتھ یہ سوچتا رہا کہ آیا آنند بھاٹیا کو زندگی میں کبھی اتنی فرصت ملی کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچ سکے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنند بھاٹیا نے واقعی کبھی سوچنا شروع کیا ہو اور اس کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہو کہ زندگی محض اتفاقات کے ایک طویل مجموعے کا نام ہے۔ اور شاید یہ جان کر آنند بھاٹیا اپنے وجود پہ حیران ہوا ہو اور پھر زندگی میں آنے والے ہر اتفاق کی حقیقت کو پہچاننے لگا ہو۔ اور پھر اس کے اندر اس حیرت کا شعور مستقل موجود رہتا ہو۔ اور پھر کبھی کبھار یہ شعور اتفاقات کی آندھی سے بلند ہو کر دنیا کے گورکھ دھندے میں منطق تلاش کرتا ہو۔ اور شاید ذہنی ہیجان کے کسی ایسے ہی بہائو میں آنند بھاٹیا کو کسی موقع پہ یہ خوف آیا ہو کہ وہ اپنے وجود میں کس قدر تنہا ہے، کہ اگر کبھی وہ خود اپنا آپ نہ رہا مگر اسے یہ شعور رہا کہ وہ پہلے کیا تھا تو اسے اپنے آپ سے بچھڑ جانے کا کس قدر افسوس ہوگا۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ عمر کے سینتیس سال گزارنے پہ آنند بھاٹیا نے خوشی منائی ہو کہ وہ طوالت العمری میں وینسینٹ فین غوغ کو شکست دے گیا تھا۔ یہ جشن منایا ہو کہ وہ اپنے آپ سے بچ گیا تھا۔ کیونکہ اس بات کا بھی تو امکان تھا کہ خوف اور مایوسی کے کسی لمحے میں وہ اپنے آپ کو گولی مار لیتا۔
جب آنند بھاٹیا سے متعلق میری سوچ اس مقام تک پہنچی تو مجھے دفعتا اچھی طرح یاد آگیا کہ میں آنند بھاٹیا کو کیسے جانتا ہوں۔ میں فون پہ ہونے والی کاروباری گفتگو کو کاٹ کر سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبیوں کو یہ بتانے کے لیے پلٹا کہ میں ہی آنند بھاٹیا ہوں مگر اس وقت تک وہ تینوں وہاں سے روانہ ہو چکے تھے۔




