فرار
فرار
علی حسن سمندطور
“عید میں صرف دو ہفتے رہ گئے ہیں اور تم نے اب تک بچوں کو کپڑے، جوتے نہیں دلائے،” عزیز بیگ کی بیوی نے چلا کر عزیز سے کہا۔ عزیز اس وقت گھر سے باہر نکل رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ عزیز کے پاس اس سوال کا کوئی جواب تھا بھی تو نہیں۔
سڑک پہ موجود گندے پانی کے ایک چھوٹے سے جوہڑ کو ایک جست میں پار کرتے ہوئے عزیز نے سوچا کہ اس کی زندگی اس قدر کٹھن کیوں ہو گئی تھی۔ اسے ہر وقت پیسوں کی اس قدر تنگی کیوں رہتی تھی؟ گھر پہ اس کا بیشتر وقت اپنی بیوی سے تو تو میں میں میں کیوں گزرتا تھا؟
بس کے پورے سفر میں بھی عزیز کا دماغ اسی طرف چلتا رہا۔ اپنے اسٹاپ پہ اتر کر وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا اس شوروم تک پہنچا جہاں وہ ری کنڈیشنڈ اور پرانی گاڑیوں کا سیلزمین تھا۔ دفتر میں بیٹھ کر اس نے ایک پیالی چائے پی اور پھر باہر نکل آیا۔ وہاں ایک گاڑی کا بمپر بدلا جا رہا تھا۔ اس نے کام میں مصروف کاریگروں کو چند ہدایات دیں اور آگے بڑھ گیا۔ ایک گاڑی جو بندرگاہ سے کچھ ہی پہلے آئی تھی روغن اور مٹی میں اٹی کھڑی تھی۔ عزیز نے ایک آدمی کو روانہ کیا کہ وہ اس گاڑی کو دھلوا لائے۔ اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں دن گزرتا گیا۔ مگر مصروفیت کے باوجود تمام دن یہ سوال وقفے وقفے سے عزیز کے ذہن میں دوڑتا رہا کہ وہ اپنی مشکل زندگی کو سہل کیسے بنا سکتا تھا۔ سردست تو بچوں کے عید کے کپڑوں کا مسئلہ تھا مگر عزیز کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جب عزیز یہ مسئلہ حل کرچکے گا تو کوئی دوسرا مسئلہ اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو جائے گا۔
سارے دن تنگ کرتی ان سوچوں کے درمیان عزیز نے دو گاہکوں سے معاملہ بھی کیا۔ ان میں سے ایک تو محض وقت گزاری کر رہا تھا جب کہ دوسرے کے متعلق عزیز کا خیال تھا کہ اگر عزیز گاڑی کی تمام تعریفیں کرنے کے بعد دیانت عیاں چہرے سے گاہک کو گاڑی کی مناسب قیمت بتا دے تو وہ گاہک پلٹ کر آئے گا اور گاڑی خرید لے گا۔
“دیکھیں جناب، ہمارا یہ شوروم آج یہاں نہیں کھلا ہے۔ یہ پچھلے پندرہ سالوں سے یہاں قائم ہے اور آئندہ بھی ہمیں یہیں کام کرنا ہے۔ ہم آپ کو غلط گاڑی بیچ کر اپنی ساکھ مجروح نہیں کریں گے،” عزیز نے پراعتماد لہجے میں گاہک کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ عزیز سے چند اور سوالات کرنے بعد وہ گاہک یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ وہ بازار میں قیمتوں کا جائزہ لینے کے بعد واپس عزیز کے پاس آئے گا۔
اگلے گاہک کے انتظار میں اسٹول پہ بیٹھے ہوئے، ایک ملازم لڑکے کو گاڑی چمکاتے دیکھتے، عزیز نے سوچا کہ اگر اس نے ایک گاڑی اس روز بیچ بھی دی تو اسے اس فروخت کا کمیشن فورا نہیں ملے گا۔ مگر گاڑی بکنے کی صورت میں عزیز کو مالک سے ادھار ضرور مل سکتا تھا۔ ادھار سے کیا ہوگا؟ بچوں کے جوتے، کپڑے کے مسائل حل ہو جائیں گے، پھر آگے دیکھنا ہوگا۔ کچھ دن گزریں گے تو معلوم ہوگا کہ پانی نہیں آرہا ہے۔ پھر پانی کا ٹینکر ڈلوانے کے لیے درخواست دینی ہوگی۔ پھر کسی روز بجلی کا لمبا چوڑا بل آجائے گا۔ بجلی کا بل صحیح کروانے کے لیے عزیز کو مختلف دفاتر کے چکر کاٹنے ہوں گے۔ پھر جب اس نے یہ مسئلہ حل کر لیا تو گھر والے بیمار پڑ جائیں گے۔ عزیز نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی کو آگے کئی سالوں تک دیکھا اور ان تمام سالوں میں اس کو اپنی زندگی مسائل سے گھری ہوئی ہی نظر آئی۔
پھر اسی وقت چار لوگ وہاں آگئے۔ ان چاروں میں صرف ایک خریدار تھا، باقی تین اس کے مشیر تھے۔ عزیز ان چاروں کو مختلف گاڑیاں دکھانے لگا۔
دوپہر کے کھانے کے دوران بھی عزیز اپنی پریشانیوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ انہیں سوچوں میں اسے ایک خیال یہ آیا کہ مسائل سے نمٹنے کا نام ہی تو زندگی ہے۔ عزیز کافی دیر تک اپنے آپ کو اس خیال سے بہلاتا رہا۔ پھر ایک اور خیال یہ آیا کہ مسائل حل کرتے زندگی گزارنا اس وقت اچھا ہے جب ایسا کرنے میں مزا آرہا ہو۔ پھر عزیز کی نگاہ سامنے ٹیلی فون کے تار پہ بیٹھے کوے پہ پڑی جو کچھ دیر پہلے وہاں آکر بیٹھا تھا اور ہوا سے ہلتے ہوئے تار پہ توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ ہاں یہ ہے، اصل زندگی؛ بس تھوڑی بہت خوراک کی تلاش، باقی وقت اپنی مادہ سے پیار و محبت۔ عزیز کا دل چاہا کہ وہ دیکھتے دیکھتے ایک کوا بن جائے اور اڑ کر ٹیلی فون کے تار پہ جا بیٹھے۔ کھانا کھانے کے دوران آنے والے اس عجیب و غریب خیال سے عزیز کے چہرے پہ ایک خفیف مسکراہٹ آگئی۔
دوپہر نسبتا سستی سے گزری۔ اس دوران ایک اور خیال نے عزیز کے دماغ میں سر ابھارا۔ اگر عزیز اس وقت کسی بس کے نیچے آکر مر جائے تو کیا ہو؟ کیا دنیا ختم ہو جائے گی؟ کیا اس کی بیوی بچے بھوکے مر جائیں گے؟ نہیں، ایسا تو کچھ نہ ہوگا۔ نہ دنیا کی رفتار میں کمی آئے گی اور نہ ہی اس کی بیوی بچے بھوکے مریں گے۔ تو پھر کیوں نہ وہ مرجائے، اور تمام پریشانیوں سے نجات حاصل کر لے؟ عزیز نے خودکشی کی کئی رائج تراکیب پہ غور کیا۔ چھت کے پنکھے سے رسی لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دینا اسے خودکشی کی ایک معقول ترکیب معلوم دی۔
اگلے تین دن عزیز اپنی خودکشی کی جزئیات پہ غور کرتا رہا۔ خودکشی کے لیے سب سے موزوں وقت کونسا رہے گا؟ جب اس کی پھانسی لگی لاش اس کی بیوی بچوں کو ملے گی تو ان کے کیا احساسات ہوں گے؟ انہیں عزیز کو بھلانے میں کتنے دن لگیں گے؟ کیا وہ خودکشی کے لیے رسی خرید کر لائے یا کسی چادر سے کام چلا لے؟
پھر چوتھے دن عزیز کے دماغ میں ایک نئی سوچ سمائی۔ سچ مچ مرنا آخر کیوں ضروری ہے؟ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ صرف فکری طور پہ مر جائے۔ وہ اپنے آپ کو سمجھا سکتا ہے کہ عزیز بیگ نامی شخص مر چکا ہے اور وہ ایک دوسرا آدمی ہے جو رحم کھا کر مرحوم عزیز بیگ کے بیوی بچوں کی کفالت کر رہا ہے۔ یہ خیال عزیز بیگ کو بہت بھایا۔ اس نے اپنا نیا نام بھی سوچ لیا، نسیم شاہ۔
“ہاں نسیم شاہ بالکل مناسب نام رہے گا۔ نسیم شاہ عزیز بیگ سے بالکل جدا نظر آتا ہے۔” عزیز نے سوچا۔ اس خیال سے اسے تقویت ملی۔ اب وہ عزیز بیگ کی پریشانیوں والی زندگی سے نکل کر نسیم شاہ کی احسان و مہربانی والی زندگی میں داخل ہو چکا تھا۔ نسیم شاہ اب جو کچھ عزیز بیگ کے بیوی بچوں کے لیے کر رہا تھا وہ اس پہ فرض نہ تھا بلکہ نسیم شاہ کا احسان تھا، ایک بیوہ اور چند یتیموں پہ۔
اس اچھوتے خیال کے ساتھ اب نسیم شاہ ایک نسبتا بہتر زندگی گزار رہا تھا۔ قباحت یہ تھی کہ اس کو نسیم شاہ کہنے والا اس کے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا۔ سب اسے عزیز بیگ کے نام ہی سے پکارتے تھے۔ ان دنوں اسے یوں لگتا کہ جیسے رسہ کشی کا ایک مقابلہ ہو رہا ہو جس میں اس کے آس پاس کے تمام لوگ اسے اس کے پرانے نام سے پکار کر اسے عزیز بیگ کی پریشانیوں والی زندگی میں گھسیٹنا چاہتے ہوں، جب کہ وہ تن تنہا اپنے آپ کو کھینچ کر نسیم شاہ کی آسودہ زندگی میں لے جانا چاہتا ہو۔ رسہ کشی کے اس مقابلے میں اس نے جیتنے کی یہ ترکیب نکالی کہ ہر دفعہ جب کوئی اسے عزیز بیگ کے نام سے بلاتا تو وہ زیر لب اپنے آپ کو نسیم شاہ پکارتا۔ اور یوں رسی کے دونوں طرف زور برابر رہتا۔ مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصے نہ چل پایا۔ سب لوگوں نے مل کر زور لگایا اور نسیم شاہ گھسٹتا گھسٹتا ایک بار پھر عزیز بیگ کی زندگی میں داخل ہو گیا۔ عزیز بیگ کی زندگی میں سب کچھ پرانے وقتوں جیسا تھا۔ پھر وہی صبح و شام کی مصیبتیں، وہی چک چک، وہی جھگڑے۔
ایک صبح جب عزیز کام کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اس کی بیوی نے اسے سختی سے تاکید کی کہ وہ وقت نکال کر آوارہ کتوں کی بہتات کی شکایت کرنے بلدیہ کے دفتر ضرور جائے۔ محلے کے آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے بچوں کا گھر سے باہر کھیلنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ کتے ہر دوسرے روز محلے کے کسی نہ کسی بچے کو کاٹ لیتے تھے۔ عزیز بیگ کی بیوی نے یہ فرمائش بھی کہ عزیز دفتر سے واپسی پہ کہیں سے ڈھونڈ کر کلونجی ضرور لائے۔ نہ جانے کیا ہوا تھا کہ آس پاس کی کسی بھی دکان میں کلونجی دستیاب نہ تھی۔
شوروم کے قریب بس سے اتر کر سڑک پار کرتے ہوئے عزیز نے آسمان میں موجود طیارے کی گڑگڑاہٹ سنی۔ وہ جہاز آسمان میں اتنا بلند تھا کہ نظر نہیں آرہا تھا۔ عزیز نے جہاز میں بیٹھے لوگوں کے بارے میں سوچا۔ کیا جہاز میں سوار لوگ اتنی بلندی سے ان تمام لوگوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو یہاں نیچے موجود ہیں اور اپنی اپنی پریشان زندگیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ دور سے اوروں کی پریشانیوں کا نظر آنا یقینا مشکل ہوتا ہوگا۔
وہ مہینے کی پہلی تاریخ تھی۔ عزیز کو تنخواہ ملنے کی خوشی تھی۔ پچھلے مہینے اس نے دوگاڑیاں بیچی تھیں۔ تنخواہ کے ساتھ اسے ان دو گاڑیوں کا کمیشن بھی ملنا تھا۔ ٹھیک بارہ بجے عزیز کو سات ہزار تین سو چالیس روپے کا ایک چیک پکڑایا گیا۔ بلدیہ سے آوارہ کتوں کی بہتات کی شکایت کا کام عزیز نے اگلے روز پہ ٹالا اور چیک کو بھنوانے کے لیے تیزی سے بینک کی طرف بھاگا۔ چیک بھنوانے کے بعد عزیز کو اپنی پھولی ہوئی جیب کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانا بہت اچھا لگا۔ مگر کھانے کے بعد شوروم میں کئی طوفان آئے۔ پہلے بندرگاہ سے ایک گاڑی آئی جس کے دونوں اگلے دروازوں میں ڈینٹ پڑے تھے۔ وہ نقص دو دن کے اندر ہر حال میں نکلوانا تھا کیونکہ ایک گاہک سے وعدہ تھا کہ اسے گاڑی فورا پہنچائی جائے گی۔ پھر پچھلے ماہ بکنے والی ایک گاڑی واپس آگئی تھی۔ اس گاڑی کے اے سے نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اے سی بنوانا تو کوئی بڑا کام نہ تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ اے سی کا کاریگر دو دن سے بیمار پڑا تھا اور کام پہ نہیں آرہا تھا۔ اب عزیز کو یہ گاڑی لے کر کسی دوسرے اے سی والے کے پاس جانا تھا اور گاڑی کی مرمت کروا کر شام سے پہلے واپس لانا تھا۔ عزیز اے سی کے کئی کاریگروں کے پاس گیا مگر وہ سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے اور ہاتھ کے کام کو چھوڑ کر اس گاڑی پہ کام کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان میں سے ایک نے یہ احسان کیا کہ عزیز سے وعدہ کیا کہ اگر عزیز وہ گاڑی صبح ہی صبح اس کے پاس لے آئے تو وہ اے سی بنا دے گا۔ عزیز گاڑی کو واپس شو روم لے گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ملک کو صورتحال سمجھائی۔ اب شام ہو چلی تھی۔ مالک نے دو چار موٹی موٹی گالیاں بیمار اے سی کاریگر کو دیں اور پھر عزیز سے بالکل سویرے آنے کا وعدہ لیا۔
عزیز گھر جانے کے لیے نکلا تو اسے کلونجی کا خیال آیا۔ وہ کلونجی کی تلاش میں نکلا۔ کافی دور پیدل چلنے کے بعد اسے ایک دکان سے کلونجی مل گئی۔ دکان دار نے کلونجی کی نایابی کا رونا رویا اور ایک سو پچیس گرام کلونجی ایک اخبار کے پھٹے ہوئے ٹکڑے میں لپیٹ کر عزیز کو پکڑا دی۔ عزیز کلونجی لینے کے بعد سوای کی تلاش میں نکلا۔ اس دوران وہ آنے والے کل کی مصروفیت کے بارے میں سوچتا رہا۔ جیب میں سات ہزار سے زائد رقم کے ساتھ عزیز نے بس میں سفر کرنا مناسب خیال نہ کیا۔ وہ کچھ ہی دور پیدل چلا تھا کہ اسے ایک رکشہ نظر آیا۔ رکشے والا ایک کھمبے کی روشنی میں رکشے کی مرمت کر رہا تھا۔
“رنچھوڑ لائن جائو گے؟” عزیز نے رکشے والے سے پوچھا۔
“ہاں، یہ پلگ صاف ہو جائے،” رکشے والے نے ایک نظر عزیز کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ عزیز رکشے میں بیٹھ گیا اور بے مقصد کلونجی کی پڑیا والے اخبار کو پڑھنے لگا۔ اخبار کے اس ٹکڑے پہ ریلوے کا جدول چھپا ہوا تھا۔ اس ٹائم ٹیبل کے حساب سے خیبر میل کو کینٹ اسٹیشن سے ساڑھے آٹھ بجے روانہ ہونا تھا۔ اس وقت آٹھ بجے تھے۔ عزیز نے ایک بار پھر آنے والے کل کی مصروفیت کے بارے میں سوچا اور اس سے اگلے دن کی مصروفیت کے بارے میں، اور اس سے بھی الگے دن کی مصروفیت کے بارے میں۔ اتنی دیر میں رکشے والا پلگ صاف کر چکا تھا۔ اس نے ڈنڈا اٹھا کر رکشہ اسٹارٹ کیا۔ رکشہ اسٹارٹ ہونے پہ رکشے والے نے انجن کو ریس دے کر رواں کیا۔ رکشے کا سفید دھواں رکشے کے پیچھے پھیلتا چلا گیا۔ رکشے والے نے اپنی نشست انجن پہ گرانے سے پہلے عزیز بیگ کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔
“رنچھوڑ لائن؟”
“نہیں، اب رنچھوڑ لائن نہیں جانا ہے۔ کینٹ اسٹیشن لے چلو، اور فورا۔” عزیز نے جواب دیا۔
رکشے والے نے کسی قدر تعجب سے عزیز کو دیکھا اور پھر رکشہ کینٹ اسٹیشن کی طرف دوڑنا شروع ہو گیا۔
اپریل ۱۹۹۷




