فیض احمد فیض مر حوم تو یہ کہہ کر خود دوسری دنیا میں آباد ہو گئے ۔ لیکن ہم ابھی تک ان الفاظ کے گرد ہی چکر کاٹ رہے ہیں ۔ کب تک یہ تماشہ دیکھیں گئے ۔ کچھ پتا نہیں ۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر بسنے والے پاکستانی جن کو اپنے وطن اپنی دھرتی ماں سے محبت ہے اور وہ دل و جان سے یہ چاہتے ہیں کہ انکے ملک میں امن اور سکون ہو ۔ اور خاص کر وہ بزرگ جنھوں نے اپنوں کی قربانی دے کر اس آزاد ملک کا خواب دیکھا ۔اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ۔ اس وقت بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ جب آپ اپنے ہاتھ سے پودہ لگاتے ہیں ۔ اور وہ ایک تناور درخت بنے کے بعد پھل یا چھاوں دینے کے قابل ہوتا ہے ۔ تو اپنے ہی گھر کے افراد یا کوئی انجان اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرئے ۔
 تاریخ کے اوراق پر ایک نظر ڈالی جائے ۔ تو ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے۔ کہ حکومتیں تھالی میں رکھ کر نہیں ملیں انکے لیے قربانیاں دی گئی ۔ جنگیں ہوئی ۔ لیکن پھر ان قربانیوں کا سیلہ بھی ملا ، آنے والی نسل نے اپنے ملک کی بھاگ دوڑ نہایت احسن طریقے سے سمبھالی۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔بھارت کی مشال ہمارے سامنے ہے ۔ پاکستان اور انڈیا دونوں کی پیدائش یعنی آزادی کا دن منانے میں ایک دن کا فرق ہے۔ لیکن وہ ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے دنیا کے کئی ممالک میں جہاں چین کا نام سرَ فہرست ہے تو وہاں انڈیا بھی پیچھے نہیں ہے ۔کیا انڈیا یا دوسرے ممالک کے اندر اختلافات نہیں پائے جاتے ۔ یقینا ایسا کہنا نہ ممکن ہے ۔ لیکن وہاں آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کو حل کیا جاتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ کہ آپس کے اختلافات کو دنیا کے سامنے تماشہ بنانے کی بجائے مل کر حل کیا جاہیں ۔ آج ہم پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔ اس لیے نہیں کہ ہم نے کوئی معرکہ مارا ہے بلکہ اس لیے کہ ہم آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ملک بحران کا شکار ہے ۔ لیکن ہم بس،، میں،، میں ہی گھیرے ہوئے ہیں ۔
مسائل کا حل جو ملک کو درپیش ہیں ۔ انکے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی بجائے اپنے اختلافات اور آپس کی انا کی جنگ سے نکل نہیں پا رہے ۔ اس وقت ہمارا مقصد صرف اور صرف پاکستان ہونا چاہے ۔ لیکن یہ وہی سوچ سکتے ہیں جن کا دل اپنے وطن کے لیے دھڑکتا ہو ۔ اور جن کی جان ملک کی امانت ہو ۔ خالی خولی کہنے سے کچھ نہیں بنتا ہم پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کریں گے ۔ ہم پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اگر دشمن نے پاکستان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔ کہنے کو یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے اور کانوں میں بھی رس گھولتا ہے ۔ بلکل اس سریلے گیت کی طرح جس کو بار بار سننے کو دل کرتا ہے ۔ لیکن اس کا عملی ثبوت بھی ملنا چاہے ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہر گز ہر گز نہیں جو مشکل وقت میں دوسرے ممالک میں جا بسیں ۔اور جن کے بچے پاکستان کی الف ب سے بھی واقف نہیں ۔اور خود ان کو غربت کا احساس نہیں ۔ کہ غریبی کس چڑیا کا نام ہے
آج یہی حال پاکستان کا ہے ۔آپس کے اختلافات کی بھنڈ غریب عوام ، زردای کی قسمت کا ستارہ اس وقت عروج پر تھا ، جب بنظیر اور مشرف کے درمیاں یہ معاہدہ ہوا تھا اور جس کا نکاح امریکہ نے پڑھایا تھا۔ اللہ کریم کو منظور نا تھا ۔سو بی بی کچھ ظالموں کی وجہ سے شہید کر دی گئیں۔مشرف نے اقتدار چھوڑا اور عوام نے بی بی کے صدقے پی پی پی کو کو کو باری اکثریت سے کامیاب کیا ۔ کیونکہ وہ اپنی غربت کا حل بی بی کو ہی سمجھتے تھے ۔ بی بی کے ہر نعرے میں یہی ہوتا تھا ۔ کہ ہم غریب کے ساتھ ہیں ۔ ہم غریب کے لیے ہیں ۔ ،،روٹی ، کپڑا اور مکان ، ، غریب کے لیے ہلکی سی تسلی بھی کسی خزانے سے کم نہیں ہوتی ۔ اور ان کو یقین تھا کہ اب انکے دن پھیرنے والے ہیں ۔ بہت جلد انکے گھروں میں بھی امن کی فضا قائم ہو گی ۔ اور انکو بھی روٹی کے دو ٹکڑے نصیب ہوں گے ۔ لیکن ہارے رے قسمت کس پر جا کر مہربان ہوئی ۔تقدیر کے کھیل بھی نرالے ہی ہیں ۔ وہ انسان جس کو اپنی بیوی کے نام سے جانا جاتاتھا ۔ جس کے اوپر کئی مقدمات تھے ۔ جو سیاست کی الف ب سے بھی واقف نہیں تھا ۔ صدر کی حیثیت سے کرسی پر آ بیٹھا ۔اب وہ روٹی دینے کی بجائے غریب کے منہ سے روٹی کا ٹکڑا چھینے کو تیار بیٹھا ہے ۔ جس شخص کو اپنے وعدے کا پاس نہیں ۔ وہ کیا کسی کے درد کو سمجھے گا ۔ جس نے اپنی زندگی میں انسان سے زیادہ اپنے کتوں اور گھوڑوں کواہم سمجھا ہو ۔ اس سے ہم اچھائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ جس کی رگوں میں ظالموں کا خون دوڑ رہا ہو ۔ اور جو انسان کو اپنا غلام بنا کر خوشی محسو س کرتا ہو ۔ لیکن ہر صبح کے بعد رات اور ہر رات کے بعد صبح طلوع ہوتی ہے ۔ یہ قانون ِ قدرت ہے جس دن ایسا نا ہوا اس دن قیامت آجائے گی ۔ او قیامت تو پاکستانی غریب عوام بھی لاسکتی ہے اپنی محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آنے والے اچھے دنوں کے لیے اپنے بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے ، موجودہ حکومت کو سبق سیکھانے کے لیے ۔ کیونکہ اتفاق اور طاقت میں بڑا دم ہے۔ اگر دو ہاتھ لوہا توڑ سکتے ہیں تو کڑروں ہاتھ گردن تک کیوں نہیں پہنچ سکتے، اور وہ ہاتھ بھی مزدو کے ، وہ ہاتھ پاکستانی عوام کے ۔ اب عوام کو اپنے لیے خود کچھ کرنا ہو گا ۔ خدا بھی ان کی مدر کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت زندگی گزارتے ہیں ۔ اب یہ ہاتھ جو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر سوچ رہے ہو ان کو حق اور سچائی کے لیے اٹھاو ۔ تو پھر دیکھو کسی امریکہ جوکے خود میں سپر پاور ہے ہمارے