میں عکس اس کا ، شعر میں ایسا اتارا تھا
سب نے مرے کلام کا صدقہ اتارا تھا

پھر اس کے بعد گرگیا سونے کا بھاؤ بھی
اِک شام اس نے کان سے جھمکا اتارا تھا

کل رات فیض یاب ہواتھا گناہ سے
کل رات پارسائی کا دھبہ اتارا تھا

خود کو سرِ وصال کیا تھا سپردِ ہجر
اک روز یوں بھی قرضِ تمنا اتارا تھا

کس راہ پر لے آئی ہے یہ مفلسی مجھے
میں نے ابھی سکول کا بستہ اتارا تھا

برسوں پرانا زخم کوئی یاد آ گیا
کل شب ہوا نے شاخ سے پتہ اتارا تھا