کس جرم کی سزا پائی ہے؟؟؟
پچھلے ک ¾ی سالوں سے پاکستان کی جو صورتحال ہے پوری دنیا میں ہر دل و دماغ ہر بڑے چھوٹے مرد و زن کی زبان پر اور ٹی وی اخبار ریڈیو کمپیوٹر کوئی جگہ خالی نہیں جہاں پاکستان کو اچھے الفاظ سے یاد کیا جائے ۔ زرا سا سکون ہوتا ہے تو دل میں یہی امید اور دماغ میں یہی آواز گردشت کرتی ہے کہ بس اب ہمارا ملک امن اور ترقی کی جانب گامزن ہونے لگا ہے ۔ اب ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عوام کی سختی ختم ہونے والی ہے ۔اب ہمارے بچوں کے کانوں میں گولیوں کی لوری سنائی نہیں دے گی ۔ اب ماوَں کے آنگن سونے ہونے سے بچ جاہیں گے ۔ اب عورتوں کے سر ننگے نہیں رہیں گے ۔ اب وہ بیوگی کی سفید چارد نہیں اوڑیں گی ۔لیکن دوسرے ہی لمحے ایسا لگتا ہے یہ ہماری خام خیالی ہے ۔ یہ خاموشی تو کسی طوفان کے آنے کی پیشن گوئی ہے ۔ اور ویسا ہی ہوتا ہے ۔وہی بھوک وہی غربت وہی لاشوں کے ڈھیر وہی قتل و غارت ۔ وہی خون خرابہ ، وہی معصوم بچوں کے ڈرے سہمے ہوے چہرے ،کچھ بھی نہیں بدلہ ہمارے ذہن ملک کی خراب صورتحال کو برداشت کر تے کرتے سن ہو جاتے ہیں ۔
آج اگر پاکستان کے پر فضامقامات پر نظر ڈالی جائے ، جن میں وادی سوات بھی شامل ہے ۔نہ صرف اپنی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور تھے بلکہ امن کا گہوارہ کہلاتے تھے ۔ دوسرے شہروں سے آنے والے رات گئے تک گھوما پھرا کرتے تھے ۔ ہر قسم کے ڈر اور خوف سے مبرا ہو کر اپنی موج مستی میں مگن۔پہلے تو صرف گرمیوں میں لوگ چھٹیاں گزرانے آیا کرتے تھے ۔ اب یہاں کا پرسکون ماحول اور گاوَں کے رویے نے لوگوں کو سردی میں بھی آنے پر مجبور کر دیا ۔ لیکن اب وہ دن ہوا ہوئے۔
یہ وہ لوگ تھے جو اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی عزت بچاتے تھے ۔ غیرت کے نام پر جان دیتے تھے ۔ اگرانکے گاوں میں باہر سے آنے والے کی راستے میں گاڑی خراب ہو جائے تو پورا گاوں مدد کے لیے پہنچ جاتا تھا۔ عورت کے تقدس کو پامال کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے ۔ اگر کسی ہوٹل میں رات گزرانے کے لیے جگہ نہ ملتی تو غریب اپنے گھر تک لے جانے کے لیے تیار ہوتا تھا ۔اور اپنی بساط کے مطابق جو بن پڑتا وہ مہمان نوازی کرتا سب سے زیادہ پر امن یہی علاقے ہوا کرتے تھے ۔ لوگ اپنی پریشانیاں لے کر آتے تھے ۔ اور تازہ دم ہو کر واپس اپنے اپنے روزگار میں مصروفِ عمل ہو جاتے تھے اور آج انہی علاقوں میں امن کی فاختہ کہیں دکھائی نہیں دیتی ۔آج اس راستے سے بچ کر آجا نا بڑی بات ہے ، مہمان نوازی تو دور کی بات ہے ۔ سڑکیں سنسان ہو کر ایک ہو کا عالم اور ویرانے کا منظر پیش کر رہی ہیں وہاں کے اپنے مقامی لوگوں کے آج یہ حالات ہیں کے وہ سوات چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ پیسے والے ملک سے باہر دوبئی اور دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں جبکہ غریب ملک تو نہیں چھوڑ سکتا ہاں اپنے گھر اور خاندان کو بچانے کے لیے گاوں چھوڑ کر جارہے ہیں ۔یہ جنگ جو دو سال سے جاری ہے جس کا مقصد سوات میں شریعت محمدی کے مطابق نظام قائم کرنا ہے۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ۔کہ سوات میں حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا ہے جس کی وجہ سے جنگ بندی کا اعلان ہوا ۔اب وہاں پر شریعت محمدی کے مطابق فیصلے ہوں گے ۔ جو طالبان بندوق کے زور پر نافذ کریں گے صوفی محمد نے حکومت کو اپنی شرائط پیش کی ہیں ۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھول دیے جاہیں گے ۔ اللہ کرئے کہ ایسا ممکن ہو جائے ۔ لیکن کیا ہماری حکومت اسی طرح آئے دن شرائط مانتی رہے گی ۔ یا پھر طالبان اور حکومت کے درمیان ایک ڈارمہ ہے ۔ جس میں کل کردار بدل جاہیں گے ۔ حکومت وہی رہے گی ۔ یا پھر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ۔
یہاں سوات معاہدہ طے پایا ۔ لوگوں نے سکون کا سانس لیا ۔ ابھی پوری طرح اپنی انکھوں اور گناہگار کانوں پر یقین کرنا چاہتے تھے ۔کہ ۵۲ فروری کو ایک نئی خبر نے ملک میں تھلکہ مچا دیا ۔
خبر کچھ یوں تھی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شریف برادران کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ میاں شہباز شریف کے بطور وزیر اعلی پنجاب منتخب ہونے کے الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکشین بھی منسوخ کردیا ہے۔
سپریم کورٹ نے میاں شہباز شریف کے بطور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن بھی منسوخ کردیا۔ عدالت نے شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں دائر تمام درخواستیں مسترد کردیں۔
بدھ کے روز جب ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تواٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور پنجاب حکومت کو میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی پورے ملک میں مختلف جماعتوں کے راہنماں نے مزید تیل ڈال کر اس خبر کو اور ہوا دی جس سے ظاہر ہے کے آگ کے بھڑکنے کے زیادہ امکانات ہیں ۔ سیاسی راہنماو ¿ں کے مطابق اس فیصلے سے ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور مصالحت کی سیاست کو شدید دھچکا پہنچا ہے ۔ اور ملک ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی کی راہ پر آ گیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے حامیوں نے جوں ہی یہ خبر سنی تو پورے ملک میں احتجاج شروع کر دیا ۔ گھیراو اور پتھروں کی صورت میں روڈ بلاک کر دیے ۔پھر وہی اسکول بند امتحانات منسوخ ۔ گھر سے نکلنا محال ، ۔ ملکی املاک کو نقصان، ایک بار پھر عوام سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی ہے ۔
موجودہ حکومت کیا چاہتی ہے ۔انکے چہروں سے نقاب انکی اپنی کم عقلی نے ہی اتار دیا ۔ ۔ جمہوری نظام کا نعرہ لگانے والے خود آمریت کا نظام چلانے میں مصروف ہیں ۔ آج ملک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے ۔ جہاں سب مل بیٹھ کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے آیندہ کا لائحہ عمل تیار کریں ۔ ان کو اپنی جنگ سے او ر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے فرصت نہیں ہے ۔ لیکن غریب عوام کو کس بات کی سزا مل رہی ہے ۔ آج روٹی کپڑا اور مکان تو انکی تقدیر اور قسمت میںن قسمت میں نہیں ہے ۔ لیکن جن کو ووٹ دے کر کرسی دی انکی طرف سے عوام کو کیا حسین تحفہ ملا۔ ہر لمحے کی موت ،غربت ، تاریک مستقبل ، ننھے ننھے بچوں کی مسکراہٹ کی جگہ ڈر اور خوف اور نہ جانے کیا کچھ جو ابھی ملنا باقی ہے ۔ہوا تو کچھ یہی خبر لائی ہے ۔
اس اقتدار کی جنگ میں سب سے زیادہ کون پس رہا ہے ۔ آج پاکستان پر دشمن نظریں جمائے بیٹھا ہے ۔اور ہم ہیں کہ اپنی انا اور اقتدار کی لڑائی کو ختم کرنے اور ملک کو بچانے کی بجائے ایک دوسرے کو دغا دینے میں لگے ہوئے ہیں ۔ یہ بھول گئے ہیں کہ جب تک پاکستان قائم ہے انکی پہچان اور نام ہے
غریب کی صبح اور رات م میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ پاکستان میں غریب کی ہر روز صبح اس امید پر ہوتی ہے ک کہ آج اس کا دن کل سے اچھا ہو گا لیکن پیچھے کہی ماہ سے جو اس پر گزر رہی ہے اس انکھ نے اب خواب دیکھنا ھی چھوڑ دیا ہے کیونکہ خواب کی تعبیر اچھی نا ہو تو کیوں د یکھے جاہیں ،خواب غریبوں کے لیے نہیں ہیں یہ تو پیسے کی طرح امیروں کی میراث ہیں جن پر انکے سواہ کسی کا حق نہیں ۔ غریبوں کے پاس بس تعبیر ہے چاہئے وہ کیسی بھی ہو اچھے خواب اور انکی اچھی تعبیر کے لیے اچھے دنوں کا ہونا ضروری ہے ۔ اور غریب کا سب سے بڑ ستم اور قصور اسکی غربت ہے ۔جو آخری سانس تک اسکی وفادار رہتی ہے ورنہ معاشرے اور پیسے والوں کے لیے غریب اس لیے ضروری ہے اور امیروں کو شکر گزار ہونا چاہئے کہ اگر غریب نا ہوتا تو کیسے اندازہ ہوتا کون امیر ہے ۔
امیر اور غریب اونچ نیچ دنیا کے تقریبا ہر ملک میں موجود ہے لیکن جو پاکستان کے موجودہ حالات ہیں پاکستان کی نیی قیادت جوکہ اب نیی تو نہیں ہے ابھی تک ملک کے حالات ٹھیک ہونے کی بجاے خراب ہو رہے ہیں ۔ بے گناہ لوگ مر رہئے ہیں جن کے لیے حکومت نے ابھی تک کوئی ایسی حکمت عملی نہیں کی ۔ جس سے وہ لوگ جو اپنے گھروں سے جن میں باجوڑ کی اکثریت شامل ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پشاور کے قریب کچا گڑھی کے مقام پر کہی ہزار لوگ خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں ۔ اور نا جانے کتنے اور آہیں گے ۔ کچا گڑھی کے بلکل سامنے حیات آباد جس کو اسلام آباد سے تشبہ دی جاتی ہے ۔ جہاں سب امیر کبیر وزیر ،ایم این اے ۔ سکڑیڑی اور پیسے والے رہتے ہیں حیات آباد ایک پوش علاقہ ہے ۔ جہاں ایک طرف تو بگیمات اور صاحب جی اپنی بڑی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر اسی کچا گڑھی کے سامنے سے گزرتیں ہیں لیکن ایک نظر ڈالنا اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔ دینا تو دور کی بات ہے ۔ یہ بھی اللہ پاک کی ایک بہت بڑی آزماش ہے۔ کہ (کاہے پیسے پہ اتنا غرور کرے ہے) کہ ایک طرف کوٹھی والے ۔ جن کو نا سردی کا غم اور نا گرمی کا احساس ،اور دوسری طرف گھر بار چھوڑ کر آنے والے کہی ہزار خاندان اپنے معصوم بچوں کے ساتھ سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہوے ہیں۔ اور گرمی آنے کی تیاری میں ہے ۔ کب ھمارے ملکی حالات درست ہو گے ۔ اور اگر ج ملکی حالات ٹھیک نہیں ہوتے اور وہ اجڑے ہوئے گاوں دوبارہ نہیں بس جاتے ۔ان بچوں کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا ۔باہر سے آنے والی امداد کب تک پوری ہو گی ۔ جب تک وہاں رہنے والوں کے لیے کوئی صحیح طریقہ کار اور منصوبہ نہیں بنایا یاتا ۔ وہاں رہنے والے نواجوں آج بے کار بیٹھے ہیں کل کو یہی نوجوان غلظ کاموں کے لیے سوچیں گے ۔ اور دشت گرد کھلاہیں گے ۔اور عین ممکن ہے ۔ کہ جس حالات نے ان کو انکی اچھی بھلی زندگی سے یوں کھلے آسمان تلے ڈال دیا ۔ تو کیا وہ چپ رہیں گے ۔ جن کے پیارے مارے گیے ۔ کیا وہ ان کا بدلہ اسانی سے چھوڑ دیں گے ۔ ھم دشت گرد کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے راستہ بھی ھم خود مہیا کرتے ہیں ۔ پھر کہی خواتین ہیں جن کے سربراہ اب اس دنیا میں نہیں رہئے یا تو جنگ میں معذو ر ہو گے ۔ یا پھر دنیا ھی چھوڑ گے ۔ زندگی کا ایک لمبا عرصہ کیسے کٹے
گا ۔ انکے لیے بھی سوچنا ضروری ہے ۔ کہی خواتین ہوں گی جن کے پاس ہنر ہو گا حکومت کو چاہئے کہ انکے روزگار کا کوئی سلسلہ شروع کرئے ،تاکہ معاشرے میں وہ مانگے والوں کی بجائے باعزت شہری کی طرح زندگی گزاریں ۔کیونکہ ان کو عادت پڑھ گی ہے ۔ انکی انکھیں لگی ہوتی ہیں ہر آنے والی گاڑی پر کہ اب کی بار وہ کیا لے کر آئے ہیں ۔ وہ پاگلوں کی طرح گاڑی کی طرف بھاگتے ہیں ۔ میری حیات آباد میں چند فیملی سے ذاتی تعلقات ہیں اور پیچھے کہی سالوں سے میں ان کو دیکھ بھی رہی ہوں اور انکے ساتھ کام کرنے کا اتفاق بھی ہوا ۔ ان میں سب خواتین ھیں ماشا اللہ پڑ ھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتی ہیں مسز سلیم جن کی فیملی میں ڈاکٹرز حضرات کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان کو اللہ تعالی نے وہ دل دیا جو حقیقت میں ڈاکٹر کے دل میں غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے۔مسز سلیم اور انکے بچے ماشا اللہ اپنی ماں کا پورا ساتھ دیتے ہیں ۔جہاں کوئی مشکل ہو کوئی بے سہارا کو سہارا کسی کو داوئی کی ضرورت ہو ۔ یا پھر پیاس بجھانے کے لیے کنواں کھودنا ہو فیی سبیل اللہ مسز سلیم اور انکی ساتھی خواتین جن میں مسز فریال مسز غزالیہ ۔اور ایک اسکول ٹیچر مس زرینہ جو اپنی تنخواہ کا ادھے سے زیادہ حصہ یا تو اپنے اسکول کی غریب بچیوں پر لگاتیں ہیں ۔ اور ساتھ میں خواتیں کی اپنی جو تنظیم بنی ہوئی ہے اس میں پورا پورا ساتھ دیتی ہیں اپنی مدد اپنے کے تحت ۔ان سب کے ساتھ مجھے بھی باجوڑ کے بے سہارہ لوگوں میں سامان تقسیم کرنے کے لیے جانا پڑا میں اپنی انکھوں سے دیکھ کر آئی ہوں ان سب کا جزبہ ۔جزبہ بھی اللہ تعالی ہر ایک کو نہیں دیتا کچھ خاص دل ہوتے ہیں ۔جو غریبوں بے سہاروں کا سوچتے ھیں ، اور اسی طرح ھر ہاتھ دینے والا نہیں ہوتا ۔ یہاں مسز فریال سے میری پہلی ملاقات تھی وہ اپنے ساتھ ۰۰۱ گھی کے ڈبے ۰۰۱ آٹے کی بوریاں اسی طرح چینی ،چائے چاول اور ساتھ میں بستر کپڑے برتن ۔ اور مسز سلیم اپنے ساتھ کوئی ۰۷ کے لگ بگ قرآن شریف اور سورہ یسن لائی تھیں سارے کام کو کرنے لوگوں میں تقسیم کرنے اور دھکا پیل میں ۵ گھنٹے لگے۔ جس میں ساتھ کام کرنے والوں کو تھوڑی بہت چھوٹیں بھی ٓہیں ۔قرآن تقسیم کرنے ھم کیپ کی مسجد کی طرف گے ۔ جو کہ ایک بڑے سے خیمہ میں بنائی گی ہے ، قاری صاحب سے بات ہوئی اور لوگوں کو کہا کہ قرآن چاہئے تو صاف انکار کر دیا کہ ھمیں روٹی اور گھر چاہئے ۔قاری کے ساتھ ایک دوسرا بندہ جس نے بتایا کہ یہاں ھم لوگوں کونماز کے لیے بلواتے ہیں تو لوگ نہیں آتے ۔ پھر ھم نے فی نماز ۵ روپے مقرر کر دی ۔ اب لوگ نماز کے لیے تو نہیں ہاں پیسوں کے لیے آتے ہیں ۔کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے۔ اسلامی جمبوریہ پاکستان جس کی آج یہ حالت ہے ۔ کہ لوگ نماز پیسے لے کر پڑھتے ہیں ۔ کیسے دعایں قبول ہوں گی کیا ھمارا عمل صحیح ہے ۔ایک سوال ہر کوئی اپنے آپ سے پوچھے ۔وہ جو کر رہا ہے ۔کیا صحیح کر رہا ہے ۔ کیا اس کا ظاہر اور باطن ایک ہے۔چاہئے وہ علما ہے چاہئے ڈاکٹر ہے چاہئے وہ دکاندار ہے ۔ چاہئے وہ ایک حکمران ہے ۔ ہا ایک مانگنے والا ۔ہر ایک پاکستانی کی زمہداری ہے ۔ کہ اپنے ملک اپنے وطن پاکستان میں بسنے والے غریب یتیم بے سہارا ۔ بے گھر کے بارے میں سوچے ۔کہ ان ننھے ننھے پھولوں کا مستقبل ان کو کیسے دینا ہے ا ۔




