کچھ دن سے جو گھر میں آ پڑا ہوں
میں اپنے قریب آ گیا ہوں

دنیا سے غرض بھی ہو تو کیوں ہوں
آپ اپنی ہنسی اُڑا رہا ہوں

میں نام کمانا چاہتا تھا
پہچان گنواتا جا رہا ہوں

جس موڑ پہ ہم بچھڑ گئے تھے
میں برسوں وہیں کھڑا رہا ہوں

کچھ ہو تو جواز دیکھنے کا
میں تیرا جہان دیکھتا ہوں!!

میں یعنی نوید صادق، اب تک
کچھ بیتے دنوں کو رو رہا ہوں