ہر نفس مضطرب گزرتی ہے
زندگی کس کے بین کرتی ہے

دھیرے دھیرے، نفس نفس، شب بھر
ایک آہٹ مجھے کترتی ہے

زندگی! دیکھ میں بھی زندہ ہوں
تیرے قبضے میں کتنی دھرتی ہے؟

ایک خوشبو کہ پرکشش بھی ہے
دشتِ بے خواب میں اترتی ہے

میں ہوں اپنی طلب میں گم تو وہاں
بے خودی غم پہ نام دھرتی ہے

دوستو! بھائیو! خداحافظ!
نبض امّید، اب ٹھہرتی ہے

کون جانے نوید صادق کے
دل پہ دن رات کیا گزرتی ہ