”ساڈا چڑیاں دا چمبا وے بابل اساں اڈ جانا“

June 21st, 2009

لڑکیوں کی شادی میں تاخیر ذمہ دار والدین یا معاشرہ؟؟

”ساڈا چڑیاں دا چمبا وے بابل اساں اڈ جانا“اس گیت کے بول ایک بیٹی کے والدین اسکی پیدائش کے وقت ہی سننے لگتے ہیں اور ان کا دل مٹھی میں سما جاتا ہے اور دل میں اپنی بیٹی کےلئے پیار اور محبت بڑھ جاتی ہے جب ایک خاندان میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو خاندان میں کوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے پورا خاندان اسکی نگہداشت کرتا ہے اسکی چھوٹی سی چھوٹی خواہش کو پوار کیا جاتا ہے اسے چلنا سکھایا جاتا ہے جب وہ پہلی بار بولنا شروع کرتی ہےتو سارا خاندان اسکی میٹھی میٹھی باتوں پر صدقے واری ہوجاتا ہے تھوڑا بڑا ہونے پر اسے تعلیم دلوائی جاتی ہے
زندگی کی اونچ نیچ کو سمجھنے کے قابل ہوتی ہیں اسکے بعد زندگی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے یہاں اسے اپنے پیاروں کو چھوڑ کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوتا ہے اور یہی وقت ہوتا ہے جس کا اندازہ بیٹی کے ماں باپ کو اسکی پیدائش کے وقت ہو جاتا ہے
موجودہ دور میں ایک لڑکی کے ماں باپ کےلئے سب سے بڑا مسلئہ اسکی شادی کا ہوتا ہے سب والدین چاہتے ہیں کہ انکی بیٹی اس گھر میں جائے جہاں اسے زندگی کی تمام خوشیاں میسر ہوں اور وہ ایک مکمل خوشگوار زندگی بسر کرے لیکن بہت سے والدین اہنے فرض کو جلد از جلد پورا نہیں کر پاتے اسکی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ جہیز ہے جب لڑکے والے کسی لڑکی کا رشتہ لے کر جاتے ہیں تو وہ لڑکی کے ساتھ ساتھ اس کے جہیز میں آنے والی اشیاء کو بھی مد نظر رکھتے ہیں اور پھر لڑکے کے انتخاب کا فیصلہ کرتے ہیں
موجودو دور میں جبکہ مہنگائی کے جن نے ایک عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اس لئے بیٹی کے جہیز میں ڈھیروں سامان دینا ممکن ہی نہیں رہا بہت سے والدین اپنی بیٹی کو خوشی اور اچھی ازدواجی زندگی کےلئے اسے ڈھیروں سامان دیتے ہین لیکن بہت سے ایسے بے بس والدین بھی موجود ہیں جو خواہش کے باوجود ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ سامان نقدی سے‌آتا ہے خواہش سے نہیں

پاکستان میں موجود لڑکے اپنے لئے ایسی شریک حیات چاہتے ہیں جو کہ انہیں ”گرین کارڈ“ جیسے تمغے سے نوازتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح مغربی ممالک جانا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی وہیں بسر کرنا چاہتے ہیں
بہت سے نوجوان بیروزگاری کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں جبکہ بہے سے مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہو کر ایسا کرتے ہیں پاکستان میں لڑکوں کی نسبت لرکیوں کی شرح خواندگی میں دن بدن اجافہ ہوتا جا رہا ہے اور کواتین کی شادیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بھی نظر آتہ ہے بہت سی ٌرکیاں جو زیادہ پڑھی لکھی ہیں وہ اپنے لئے اپنے معیار کے مطابق رشتہ چاہتی ہیں
ان کی آدھی سے زیادہ عمر پرھائی اور پھر اچھے رشتے کے انتظار میں گزر جاتی ہیں بہت سی خواتین اپنے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں
پاکستان میں دوسرے بے شمار سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کی شادیوں کا مسلئہ بھی ایک بڑا مسلئئہ بنتا جا رہا ہے اس مسلئے کی وجوہات بھی ہماری خود ساختہ ہیں یہ مسلئہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور ماں باپ کےلئے پریشانی کا موجب ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی مین اپنے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں
کہیں لڑکے والوں کو مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں تو کہیں لڑکی کے اچھے رشتے کی تلاش میں ان کے بالوں میں چاندی اتر رہی ہے اور پھر آخر میں ان کے نصیبوں کو الزام دیا جاتا ہے جبکہ قصور انسان کا ہوتا ہے انسان چاہے تو دعا کے‌ذریعے اپنے نصیبوں کو بدل سکتا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑکے کے والدین ایک بیٹی کے والدین بن کر سوچیں اور اپنی بیٹی کو سامنے رکھ کر فیصل کریں کیونکہ ایک نہ ایک دن انہیں بھی بیٹی کے والدین بننا پڑے گا بس خدا سے دعا ہے کہ وہ سب بیٹیوں کے اچھے نصیب کرے آج کے والدین کی زندگی میں حائل ان پریشانیوں کا کوئی سدباب بھی کرے
اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے‌آمین ثم آمین

”لیڈیز فسٹ“

June 21st, 2009

لیڈیز فرسٹ یہ جملہ اکثر و بیشتر ہماری سماعتوں سے ٹکراتا ہے چاہے آپ بس سٹاپ میں سفر کر رہے ہوں دفاتر میں یا پھر شاپنگ سنٹرز میں ہوں
آپ کو یہ لفظ کہیں نہ کہیں ضرور سنائی دے گا یہ لفظ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو ہر معاملے میں قابل احترام دمجھا جاتا ہے اب وہ دور نہٰن رہا کہ مرد ہر کام میں آگے آگے رہیں اور خواتین کو موقع ہی نہ دیا جائے خواتین کو فوقیت دی جاتی ہے بہت سی این جی اوز بھی خواتین کے حقوق کےلئے سرگرداں ہیں
موجودہ دور میں آپ کہیں بھی جائیں ٹرانسپورٹ سے لے کر سکول کالجز ہسپتالوں تک گھروں سے لے کر دفاتر تک ہر جگہ عورت کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے مثلا اگر کوئی کاتون بس میں سوار ہوتی ہے تو مردوں کے مقابلے میں اسے پہلے جگی دہ جاتی ہےاس طرح اگر کوئی خاتون شاپنگ سنٹر یا دفاتر میں جائے تو اس سے تمیز سے ابت کی جاتی ہے خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اگر انہیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں تو ملک دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر سکتا ہے موجودہ دور میں خواتین کو ملازمت کے یکساں مواقع دیئے جاتے ہیں آج کی خواتین ہر شعبہ میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اب شاید ہی کوئی ایسا محکمہ یا ادارتہ ہو جہاں خواتین کو عزت و تکریم دینے کے دعوے کئے جا رہے ہیں وہاں آج بھی بھی بہت سی خواتین کو حقوق دینے کی بات صرف ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود رہی خاص‌طور پر نچلے طبقے کی خواتین آھ بھی اپنے‌حقوق سے نا آشنا ہیں
عورتیں چونکہ مردوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہیں لہذا بعض جگہ تو انہیں عزت دی جاتی ہے مگر بعض جگہ ان کے‌ھقوق و فرائض کے سلسلے میں غفلت برتی جاتی یے تاہم لیڈیز فرسٹ کا فقرہ استعمال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عورتوں کو ہر جگہ فوقیت دی جا رہی ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف‌خواتین کے‌ھقوق و فرائض کی بات ہی نہ کی جائے بلکہ عملا بھی اس کےلئے کچھ کیا جائے ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی عورتقں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے انہیں مرکزی اہمیت دی جاتی ہے ملازمتوں کے یکساں مواقع فراہم کئے جاتے ہیں سکول و کالجز سے لے کر سینٹ اور قومی اسمبلی تک ہر جگہ خواتین کےلئے نشستیں مخصوص ہیں ہر شعبے میں خواتین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے ترقی یافتہ ممالک کی طرح اب ہمارے ہاں بھی اس طرف توجہ دی جارہی ہے خواتین کے‌حقوق کے تحفظ کےلئے مختلف این جی اوز اور قوانین بنائے جا رہے ہیں جیسے کہ موجودہ دور میں‌حدود آرڈنینس کے‌ذریعے عورتوں کو آزادی دینے کی کوشش کی گئی ہے اب خواتین اپنے‌حقوق کےلئے عدالتوں میں اپیل کر سکتی ہیں جہاں عدلیہ ان کو انصاف دلاتی ہے پڑھے لکھے تہزیب یافتہ اور شہری علاقوں میں لیڈیز فرسٹ کا فقرہ اپنی اہمیت رکھتا ہے لیکن ہمارے ہاں ناخوادنگی اور شعور کی کمی کے باعث ””لیڈیز فرسٹ“ کا فقرہ ایک مذاق بن گیا ہے اسی لئے دیہی علاقوں میں خواتین کے‌ حقوق سے کوئی واقف نہین ہوتا جب تک عورت تابعداری اور خدمت کرتی رہتی ہے صرف تب تک انہیں عزت دی جاتی ہے
لیکن جہاں انہوں نے اپنے‌حقوق کے‌حصول کےلئے کوشش کی وہاں سے ذلت اور کردار کشی کا کھیل شروع ہو جاتا ہے
تعلیم مرد اور عورت دونوں کےلئے ہے لیکن عورتوں کو مخص‌یہ سوچ کر تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے کہ تعلیم انہیں خراب کر دے گی
لیکن تعلیم ان کو اچھائی اور برائی کا شعور دیتی ہیں انسان کو اس کے‌حقوق و فرائض سے آگاہ کرتی ہے لیکن ہمارے دیہی علاقوں میں مردوں کو تو تعلیم دلائی جاتی ہے مگر عورتوں کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ بنیادی ضروریات بھی فراہم نہین کی جاتیں
آدم حوا کی پیدائش سے لے کر آج تک عورت زبوں حالی ،خرید و فروخت،اور اس پر جسمانی و ذہنی تشدد جاری و ساری ہے
عورت کے‌حقوق اور عزت و احترام کے لئے الفاظ کی جادو گری کرتے ہوئے بیانات دے کر عورتوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور پھر نام نہاد لفظ لیڈیز فرسٹ کہنا ہر معاشرے کا طرہ امتیاز بن گیا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ معاشرے میں عورت مرد کی مرضی اور مجبوری سے ہر جگہ کام کرتی نظر آتی ہے اس طرح یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ معاشرے میں لیڈیز فرسٹ کا فقرہ عملی طور پر اپنی اہمیت کھو چکا ہے
بظاہر رو عورت کو ہر قسم کی آزادی ہے لیکن آج بھی وہ انہی حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جن سے وہ چند برس پہلے گزرتی ہے کہنے کو تو بہت سی این جی اوز خواتین کے حقوق کےلئے تحفظ کےلئے کام کر رہی ہیں لیکن آج بھی ایک عام عورت نہایت بے بسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے وہ آج بھی مرد کی محتاج ہے وہ اپنا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتی اس پر فیصلے تھوپ دیئے جاتے ہیں
لیڈیز فرسٹ کا جملہ تو ادا کر دیا جاتا ہے لیکن اس کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا
بہت سی جگہوں پر اس جملے کا استعمال کر کے خواتین کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اگر دیکھا جائے تو خواتین کو آج بھی وہ آزادی اور مختاری حاصل نہیں ہے جو اسے ہونی چاہیئے
وہ آج بھی مردوں سے پیچھجے ہی ہے ضرورت اس مار کی ہے کہ خواتین کےلئے لیڈیز فرسٹ کے جملے کا استعمال ہی نہ کیا جائے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کیا جائے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کروایا جائے خواتین کے‌حقوق کے حوالے سے لمبی لمبی تقاریر کرنا ہی کافی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جا رہے ہیں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ معاشرے میں لیڈیز فرسٹ کا فقرہ عملا اپنی اہمیت کھو چکا ہے

مذکورہ تحریر اس لئے لکھی گئی ہے تا کہ وہ خواتین جن کو مجھ ہر غصہ ہے کہ میں نے‌خواتین کا داخلہ ممنوع ہے کے نام سے تھریڈ‌بنایا ہے موجودہ تھریڈ ان خواتین کو خوش کرنے کےلئے لکھا گیا ہے

__________________
دستخط:
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں

ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں تابش،میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

June 21st, 2009

ایسی ہستی کے بارے میں جو احترام و ادب،محبت و عشق اور جنوں کی حدوں کو پہنچی ہو اسکے بارے میں کچھ لکھنے کےلئے الفاظ ڈھونڈنا اور پھر استعمال کرنا بہت مشکل کام ہے
ماں کے لئے لکھنے بیٹھا تو بہت دیر تلک ایک جملہ ہی نہ بن پایا یہی سوچتا رہا کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم پھر جو ذہن میں آتا گیا اسے تحریر کرتا چلا گیا دل بہت بوجھل ہو گیا اور آنکھ بھر آئی کیونکہ ماں ہی وہ ٹھنڈی چھاں ہے جس کے شفیق اور مہربان سائے تلے آکر اسیا لگتا ہے جیسے تپتی دوپہر میں سایہ مل گیا ہو اور ماں کی دعائیں ہی انسان کو کامیاب بناتی ہیں
سب مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں اور ان کی دعائیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں گھر کی دہلیز کے ادنر قدم رکھتے ہوئے ٹھنڈک اور طمانیت کا احساس ماں کے وجود سے ہی ہوتا ہے اسی لئے ماں سے توٹ کر محبت کرنے والے کہتے ہیں کہ
”ماں کی دعا ،جنت کی ہوا“
ہر انسان کی کامرانیوں کے پیچھے انکی ماں کی طاقتور دعائیں ہوتی ہیں کیونکہ ماں کی گود اور اس کا فیضان و طمانیت کی بانہوں میں سمیٹے رکھتا ہے ،
ماں کی شان کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دو جہانوں کے رب نے ماں کو اس معراج تک پہنچایا کہ جنت اس کے قدموں تلے رکھ دیاور نبی کریم(ص) نے فرمایا کہ
”ماں باپ کے چہرے پر ایک نگاہ ڈالنا ایک حج اکبر کے برابر ہے،جتنی بار ماں باپ کے چہرے کی جانب دیکھو سمجھو تم نے اتنی بار حج ادا کیا“
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ
”ماں کی‌کوشنودی دنیا میں باعث دولت اور آخرت میں باعث نجات ہے“
ماں ایک ایسا پختہ مقدس اور دائمی رشتہ ہے جس سے بڑا تعلق پوری دنیا میں نہیں کیونکہ ماں
شفقتوں،محبتوں،ٹھنڈکوں،بہا روں،خوشبوئوں،اور راحتوں کا استعمارہ ،راہنمائی و روشنی کی علامت ہے
چند روز قبل عالمی یوم ماں نہایت جذباتی انداز میں منایا گیا تھا
ہر گھر چونکہ ماں کی محبت و شفقت بے پایاں سے معمور ہوتا ہے اس لئے تقریبا ہر گھر میں اولاد اپنی والدہ ماجدہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے اور جن کیمائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان مسلمانوں کےلئے اللہ تعالی نے یہ عظیم نعمت عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے آگے گئے ہوئے پیاروں کی بخشش و مغفرت کےلئے ایصال‌ ثواب کر کے ان پر جنت الفردوس کے دروازے کھل جانے کا سبب بن سکتے ہیں ،کہتے ہیں مسلمان نیک اولاد اسی لئے مانگتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں وفات پا جانے والے والدین اور دیگر پیاروں کی بخشش و مغفرت کےلئے دعا کر سکیں
یہ احساس ہی اولاد کو کرب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اس کےلئے شب و روز دعائیں مانگنے والی ہستی خاک نشین ہو چکی ہے اس کی آمد کی منتظر نگاہیں ہمیشہ ہمیشہ کےلئے بندہو چکی ہیں (دوستوں یہاں میں اپنے ایک دوست کے الفاظ ایڈ کرتا ہوں جو اخبار فروش یونین کا جزل سیکرٹری ہے جس کی والدہ محترمہ کی آج صبح پہلی سالانہ برسی تھی)
جب بھی کسی ماں کی دنیا سے رخصت ہونے کی خبر سنتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ رحمتوں ،برکتوں اور دعائوں کی یہ آغوش ایک سال قبل ہم سے چھن گئی تھی ماں جی کے دنیا سے منہ موڑ جانے کے بعدمجھے اپنا دل و دماغ ہی نہیں بلکہ اپنا وجود بھی ریزہ ریزہ پوتا محسوس ہوا ایسا لگا کہ دنیا ختم ہو گئی ہے وہ ایسے وقت رخصت ہوئی جب میں پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس قابل تھا کہ ان کی خدمت کر سکوں،کوئی سوچ سمجھ ہی نہیں تھی لیکن ان کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ جس گھر میں ماں نہیں ہوتی وہ گھر گھر نہیں صرف مکان ہوتا ہے کیونکہ گھر رشتوں سے بنتے ہیں اور رشتوں کی لڑی اس وقت تک ہی جڑی رہتی ہے جب تک سارے رشتوں کو جوڑنے والی ڈور سلامت رہی سارے رشتوں کا اس وقت ہی اندازہ ہوا جب وہ ہم میں نہین تھی وہ بظاہر تو ہم سے دور چلی گئی لیکن ان کی دعائوں کا سلسلہ اسی طرح میرے ساتھ رہا بس یہی افسوس ہے کہ ہم ان کی خدمت نہیں کر سکے ( دوستوں گفتگو اس دوست کی ہے مگر الفاظ کا انتخاب میرا ہے)

دوستوں بہت اچھا لگتا ہے جب ہم کسی کو اپنی ماں کو”ماں جی“والدہ“یا امی جان کہہ کر بلاتے ہیں یا دیکھتے ہیں
اور خدمت کرتے ہوئے دیکھں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے کیونکہ ان الفاظ میں جو مٹھاس اور خوبصورتی ہے وہ دوسرے لفظوں میں نہیں لیکن دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والدین کی بہت خدمت کی ہے جبکہ میرے نزدیک ماں کی خدمت کرنے،خیال رکھنے اور اسے ہر طرح کا سکون و اطمنیان بہم پہنچانے کا دعوی کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بلا شبہ”ہم اپنی ماں کی ایک رات کی خدمت کا قرض ہی نہیں چکا سکتے جب وہ خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور ہمیں خشک جگہ پر سلاتی ہے
دوستوں
آئو عہد کریں کہ وہ تمام لوگجن کی ٹھنڈی چھائین موجود ہیں وہ اسکی ٹھنڈک کو اپنی روحوں میں اتاریں اور جن کی مائیں آسودہ خاک ہیں وہ ان سے روحانی فیض حاصل کریں اور یہ دعا کریں کہ
آسمان ان کی لحد پہ شبنم اشفانی کرے
کیونکہ افراتفری اور انتشار کے عالم میں اگر کہیں پناہ ملتی ہے تو وہ‌خدا کی بارگاہ ہے یا ماں کی دعا ہے یہ ماں ہی ہے جس کے دل سے نکلی ہوئی دعا کبھی در نہیں ہوتی اور عرش بریں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں سے محبت کا اظہار کرنے کےلئے صرف ایک دن کو ہی مخصوص نہیں ہونا چاہیئے بلکہ وقتا فوقتا اس عمل کو جاری رکھنا ہم سب کا فرض ہے کیونکہ ماں جیسی ہستی دوبارہ نہیں ملتی
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جن کی مائیں زندہ ہیں وہ انہیں ان کی خدمت اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ جو اس ہستی سے محروم ہو چکے ہیں انہیں صبر و جمیل عطا فرماتے ہوئے انہیں اپنے نیک اعمال کے ذریعے ثواب پہنچانے کی ہمت فرمائے آمین ثم آمین
نوٹ: دوستوں مذکورہ تحریر میں میرے استاد محترم جناب محمد عظیم اقبال نے میری حوصلہ افزائی فرمائی اور چند ایک مقامات ہر الفاظ کی درستگی کی اور مذکورہ تحریر ایک دوست کی والدہ ماجدہ کی پہلی سالانہ برسی پر لکھی تھی جب وہ ماں کو یاد کر کے راقم کے گلے لگ کر رویا تھا
اور دوستوں میں گناہ گار بندہ ہوں اور اللہ کا خاص کرم ہے کہ جب بھی رخصت پر گھر جاتا ہوں اپنی امی کے قدموں تلے دونوں ہاتھ رکھ کر لیٹ جاتا ہوں اور گفتگو شروع کرتا ہوں اور میں اپنی ماں کا لاڈلا بیٹا ہوں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں سید انجم شاہ اپنی ماں بنا کچھ بھی نہیں ہوں کچھ بھی نہیں ہوں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی میری ماں کو صحت و تندرستی عطا فرمائے آمین ثم آمین

__________________
دستخط:
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں

موبائل فون کا عذاب

June 21st, 2009

موبائل فون نے دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے زمانے کی تیز رفتار ترقی اور دوڑ نے فاصلے کم اور دوریاں ختم کر دی ہیں کمپیوٹر اور موبائل فون نے جہاں فاصلے سمیٹ دیئے ہیں وہیں تفریح ،دلچسپی،آگہی اور خوب سے خوب تر کی جسجتو نے زندگی کو اس حد تک مشینی بنا دیا ہے کہ اب ہر چیز قابل رسائی ہے جسید ٹیکنالوجی نے جہاں حضرت انسان کو ترقی کی بلندی پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہیں معاشرے میں موجود جرائم پیشہ عناصر نے اس ٹیکنالوجی کو اپنے مذموم مقاصد کےلئے استعمال کر کے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے سائنسی ایجادات میں سے کمپیوٹر انٹرینٹ اور موبائل فون بہترین ایجادات کے طور پر شمار کےئجاتے ہیں 21 ویں سدی کے اس دور میں دیگر سائنسی ایجادات کی طرح موبائل بھی زندگی کا لازمی جزو بن کہ رہ چکا ہے یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جہاں ان ایجادات کو مغربی اقوام نے اپنی ترقی کا زینہ بنا کر کامیابیاں حاصل کیں وہیں ہماری قوم نے اسے غلط استعمال کر کے معاشرتی بگاڑ کا ایک اور باب رقم کر دیا
موبائل فون کے جہاں بے شمار مثبت پہلو ہیں اسکے منفی پہلوئوں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتاکیونکہ فون کے ناجائز استعمال سے حد درجہ اور گھمبیر قسم کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے
موبائل فون کا بنیادی استعمال یہ ہے کہ کم وقت مین رابطہ اور بات کرنے کی سہولت یا کسی پریشانی مین اپنے گھر والوں کو آگاہ کرنا ،اپنے بزنس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا یا اپنے عزیز و اقارب کی‌کیریت دریافت کرنا ،
موبائل فون کی بدولت آدمی ہر وقت رابطے میں رہتا ہے اور اپنے مطلوبہ شخص سے ہزاروں مل دور ہونے کے باوجود لمحوں میں بات کر لیتا ہے
حتی کہ ملک سے باہر کبھی اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کر لیتا ہے ،آج کل موبائل فون کے ناجائز استعمال کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے چو ر ڈکیت ،دہشت گرد،منشیات فروش ،سٹے باز،جرائم پیشہ عناصر اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کےلئے موبائل فون ہی کا استعمال کرتے ہیں جرائم پیشہ افراد کے پاس مختلف موبائل کنکشن ہوتے ہیں کیونکہ مختلف کمپنیوں کی دو نمبر کنکشن بازاروں میں ہی ٹھیلوں پر دستیاب ہیں تو انکے رجسٹرڈ کرانے کا سوال ہی پیدا نہین ہوتا صرف پیسے دے کر خریدے گئے کنکشن کا مالک خود کو محفوظ سمجھتا ہے ،مختلف موبائل کمپنیوں نے بھی کئی بار اشتہارات دیئے ہیں کہ اپنے موبائل کنکشن کو اپنے نام رجسٹر کرا لیں اور اب تو نادرا کے تحت(جہاں شناختی کارڈ بنتے ہیں ) موبائل کنکشن کو رجسٹرڈ‌کیا جاتا ہے ضروری معلومات کے بعد ہی موبائل کنکشن کو ایکٹیویٹ کیا جاتا ہے
قانون قدرت دیکھیں کہ ایک فور کا نشان انگوٹھا دنیا میں کسی سے نہین ملےا ہر ایک کا اپنا نشان ہوتا ہے شناختی کارڈ تو بدلے جا سکتے ہیں لیکن فنگر پرنٹ نہیں ابھی اس بات پر عمل ہو رہا ہے کہ جب بھی کوئی نیا کنکشن خریدا کاتا ہے تو شناختی کارڈ کی کاپی کے علاوہ نشان انگوٹھا بھی لیا جا رہا ہے یہ ایک مثبت قدم ہے جس سے کچھ بہتری آنے کی توقع ہے اس طرھ ملک میں کام کرنے والی تقریبا سبھی کمپنیوں کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ نئے طریقے پر عمل کریں امن و امان کی‌کراب صورتحال میں تعاون کریں
نئے طریقے کے مطابق موبائل کنکشن کو ایکٹیویت کرنے سے پہلے نادرا کسٹمر کا نام ،ولدیت مپتہ اور جائے پیدائش کے بارے میں معلومات کی تصدیق کرنے کے بعد ہی کنکشن جاری کرے گی اور امن و امان کے حوالے سے قانون نافذ والے اداروں کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں اور فون کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے
ایک اندازے کے مطابق تقریبا 50لاکھ 60 ہزار سے زائد غیر قانونی سموں کو بلاک کیا جا چکا ہے جن میں مختف کمپنیوں کی سمیں شامل ہیں
ماہرین کے مطابق اب جرائم پیشہ افراد اپنے بچائو کی تدبیر پہلے کرتے ہیں اور واردات بعد میں کرتے ہیں اسکی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ اب بینکوں اور مالیاتی اداروں اور دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کمیرے نصب ہیں تا کہ واردات یا ایمر جنسی کے وقت جو مناظر شوٹ ہوں یا تصاویر ہوں انکی مدد سے مجرموں تک پہنچا جا سکے اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ مجرم واردات کےلئے آتے ہیں تو پہلے وہ نصب کمیروں کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں بعد میں واردات کرتے ہیں اس طرح پولیس اور قانون نافذ‌کرنے والے اداروں کو تفتیش کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مجرموں کی شناخت بھی نہین ہوتی اور پھر وہ کسی نئے روپ میں نئی جگہ واردات کےلئے تیار ہوتے ہیں دلپچس بات یہ ہے کہ چور ڈکیت اور جرائم پیشہ لوگوں نے بھی اپنے بچائو کےلئے نئے سوفٹ وئیر تیار کر لئے ہیں تو کہ وہ واردات میں ملوث ہونے کے باوجود پکڑے نہ جا سکین جرائم پیشہ گورہ دو قدم آگے ہی چل رہے ہیں جیسے ہی ان کےلئے کوئی قانون یا قدم اٹھایا جاتا ہے وہ پہلے ہی بچائو کے طریقے ایجاد کر لیتے ہیں
موبائل فون آج کل کی نسل کو لگنے والا وائرس کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ موبائل فون ہی تعلقات کو مضبوط رکھنے کےلئے ایک آلہ کار ہے یہ آپشن نہیا نہین تو آسان ترین ضرور ہے کسی حل تک قصوروار موبائل استعمال کرنے والے ہو سکتے ہیں کہ وہ چاہیں تو جانئز مقاصد کےلئے استعمال کریں یا تو غلط طور پر استعمال کریں آج کل اسکول ،کالج ،یونیورسٹیوں میں ہر طالب علم کے پاس کئی کئی موبائل کنکشن ہوتے ہیں اس سے ان کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے ساتھ ہی دوسرے پیکجز کی وجہ سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہیں جس سے ہماری قوم کا ذہنی معیار گرتا جا رہا ہے اور پان قیمتی وقت مخص تفریح کی گرض سے‌ضائع کر رہے ہیں اکثر طلبہ رات بھر لمبی بات کرتے ہیں اسکی وجہ سستے پیکجز ہیں جو وہ پاکٹ منی سے بھی افورڈ کر سکتے ہیں جو رات کا وقت پڑھائی کےلئے ہوتا ہے وہ موبائل فرینڈ شپ کی نذر ہوجاتا ہے کیونکہ ہماری نسل تو اپنی پڑھائی کو چھوڑ کر دیگر کاموں میں مصروف ہو گئی ہیں
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور کیا وہ درست سمت چل رہے ہیں یا گمراہی کی طرف جا رہے ہیں اگر ہم اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو کل کو ہم اپنی مشکلات میں خود ہی اضافہ کریں گے
اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین

__________________
دستخط:
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں

روٹی کی داد فریاد

June 21st, 2009

وزیر اعلی پنجاب کی اعلی کارکردگی کا کس کو اعتراف نہیں غریبوں کو تو جیسے عید ہو گئی
دو روپے کی روٹی،کاغذ سے موٹی،
گتے سے پتلی جس سے تتلی کا تو پیٹ بھر سکتا ہے مگر غریب کا پیٹ نہیں بھرتا
بغیر بوٹی کے روٹی دو کی بجائے دس کھانی پڑتی ہیں تب جا کر جان میں جان آتی ہے
امارات کا مرغ مسلم پھر بھی مسلمان ہے اپنا وزن و ایمان رکھتا ہے
غریبوں کی دال بھی مہنگی ہوگئی ہے دن بھر مشقت کرنی پڑتی ہے
گتے سے پتلی روٹی بہت جلد ہضم ہو جاتی ہے ،
قبض کا نسخہ بھی آزما کر دیکھا ہے صبر کا پھل بھی کھا کر دیکھا ہے
پھر بھی کسی کروٹ آرام نہیں روٹی نوع انسان کی مجبوری ہے‌
حلوے کا حلوہ،غریب کے‌حصہ نصیب میں ہے اس پر ستم تو یہ ہے کہ محنت مزدوری ڈبل کرنی پڑتی ہے جو ملتا ہے وہ بجلی کے بل میں چلا جاتا ہے یہ دل ہلانے والے بل قصاب کی طرح چمڑی تک اتار لیتے ہیں
مٹی کا تیل بھی مہنگا بیچ کر بتی جلانی پڑتی ہے
اہل ثروت اتنے بے مروت ہیں پھر بھی غریب سے نفرت کرتے ہیں غریب تڑپتا رہتا ہے اور وہ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں
بجلی نہ ہو تو پھر دل جلانا پرتا ہے مرتا کیا نہیں کرتا کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے یہ محل یہ پلازے غریبوں کی محنت و مشقت کے مرہون منت ہیں دولت کے خمار ہیں
اہل ثروت زکوۃ بھی غریبوں کو دھتکار کر دیتے ہیں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا غریب ایڑھیاں رگر رگڑ کر مر جاتا ہے مگر اسے اس طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ جیسے وہ انسان نہیں
ملا کی جھولی نوٹوں سے بھر جاتی ہے چار آدمی مل کر شمار کرتے ہیں غریب ہل چلا کر رزق کا سامان کرتا ہے اور فرعون جاگیردار اٹھا کر لے جاتا ہے
کوئی عدل و انصاف نہیں
غرور تکبر کے مردے ،زندوں کو قبروں تک پہنچانے کا ثواب دارین حاصل کرتے ہیں
غریب نہ ہوں گے تو تھانیدار کا غصہ کس پر نکلے گا غصہ نہ نکلے تو تھانیدار بیمار ہوجاتا ہے
فرقہ واردیت کے بازار میں خود غرض پجاری جذبات کی پوجا کرتے ہیں
چونکہ ہم پیدائشی مسلمان ہیں اس لئے ہمیں دین اسلام سے کچھ غرض نہیں جس چیز سے اللہ نے منع کیا ہے اس سے گریز کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں
نشہ شراب،شباب و کباب بے حساب میسر ہے پھر کون ہے وہ کافر جو انکار کرے تہزیب فرنگی ہے
اور زبان پر لا الہ الا اللہ ہے اگر لا الہ کہہ بھی دیا تو کیا حاصل قلب و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
فنکار منافق کی یہی پہچان ہوتی ہے
کافر اور منافق کےلئے یہی دنیا ہے وہ آخرت کے منکر نکیر سے تو ڈرتا ہے مگر رب تعالیٰ کے قانون سے نہیں ڈرتا
مکافات عمل ہر ایک کے پیچھے دم کی طرح لگا ہوا ہے جو اپنی کتاب میں ذرے ذرے کا حساب رکھتا ہے اور جب سوئی حدف تک پہنچ جاتی ہے تو بم دھماکہ ہو جاتا ہے
اے پیر حرم کچھ تو فکر داد کوئی سوچ غربت کی غریبی کا یہ قلید و تقلید کا طریقہ شرعیت و تصوف کی ایجاد ہے نوع انسانیت روٹی کو ترس رہی ہے اور تم عشرت کے ساتھ عیش و عیاشی کی بدقماشی میں مصروف عمل ہو
کچھ تو کرم کیجئے سرکار ریاست ،ملا و پیر ،جاگیردار سیاست جمہوریت کے نظام میں زمرد خان کا اعلان ہے کہ جو طالبان کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں ان کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی اب بچوں کی تعلیم کی خاطر ماں باپ کو شہید ہونا پڑے گا اس سلسلہ میں طالبان کو دعوت دینی پڑے گی

بشکریہ روزنامہ اوصاف لاہور
مذکورہ تحریر روزنامہ اوصاف لاہور کے ایڈیٹوریل صفحات پر شائع ہوئی ہے محترم ایم اسلم کریلوی صاحب کا پوائینٹ آف ویو ہے

میں وہاں سے پڑھ کر آپ کےلئے پیش کر رہا ہوں

دنیا کی عارضی زندگی

June 21st, 2009

ہر ایک نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے (قرآن پاک)
دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو کہ گویا تم مسافر ہو(حدیث)
اپنے نفس کو اہل قبور میں شمار کرو
ایک فاقہ کش مزدور جھونپڑی کی بھی صبح،دوپہر شام ہوتی ہے اور ایک ائیر کنڈیشنڈ مکان والے کی بھی صبح ،دوپہر شام ہوتی ہے یہ دن اور رات سب کے کٹ جاتے ہیں البتہ فرق ضرور ہے کہ کسی کے یہ اوقات اپنے‌کالق و مالک کی فرمانبرداری میں گذرتے ہیں اور کسی کے اپنے مالک و خالق کی نافرمانی میں گزرتے ہپیں
ایک اور‌حدیث پاک میں سرکار کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،موت کو اکثر یاد کرو جو تمہارے دنیوی عیش و آرام اور لذت کو ختم کر دیتا ہےاللہ تبارک تعالی نے بنی نوع انسان کو اپنی عبادات کےلئے پیدا کیا ہے اور بنی نوع برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدس کو بطور نمونہ مبعوث فرمایا ہے لیکن مقصد رب العلمین اور نمونہ رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آج کل ہم مسلمانوں کا کیا حال ہے ہمیں اس پر غور کرنا چاہیئے آج کل ہماری یہ حالت ہے کہ گویا ہم صرف دنیاوی زندگی اور یہاں عیش و آرام کےلئے پیدا کئے گئے ہیں
اب ہمیں مرنا ہی نہین ہے
قبر کی زندگی،میدان حشر کی زندگی اور جنت کی زندگی کو فرام،وش کر ڈالا ہے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے‌کاص کمرے کے سامنے یہ اشعار لکھے ہوئے تھے
رہ کے دنیا میں بشر کو نہیں زیبا غفلت
موت کا دھیان بھی لازم ہے کہ ہر آن رہے
جو بشر آتا ہے دنیا میں کہتی ہے قضا
میں بھی پیچھے چلی آتی ہوں زرا دھیان رہے
بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اسکے دائیں کان مین ازان پرھی جاتی ہے اور بائیں کان میں تکبیر گویا اسی وقت اسکو یہ پیگان دیا جاتا ہے کہ اذان ہوئی تکبیر ہوئی اب نماز جنازہ کےلئے تیار رہو کسی نے کیا خوب کہا ہے
یہی ہے فصل مرنے اور جینے کا میرے یارو
ازان اس دم ہوئی نماز اس دم پڑھاتے ہیں
ُِ
دنیا کمانے سے منع کای گیا عزت کے ساتھ حلال طریقوں سے دنیا کمانا اور آرام کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی زندگی گزارنا مغضوب نہیں بلکہ مطلوب ہے اور اسکےلئے سعی وتلاش واجب ہے

ہمارے ملک میں بے نمازی،بے‌ھیائی اور بے پردگی کا کیا‌ حال ہے؟
ہم نے اپنے پیارے حبیب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسو حسنہ ،اسلامی معاشرت ،اسلامی آداب کو چھوڑ دیا ہے اور دشمنان اسلام اور مغربی تہزیب و تمدن کے ذہنی غلام بنے ہوئے ہیں
ہمیں اپنے پیارے مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکیدا ارشاد فرامایا ہے حدیث شریف کا ترجمہ ہے” تب تک تم صیح اور پکے مسلمان نہیں بن سکتے جب تک کہ تمہاری ہر ہر خواہش اسکی تابع نہ ہوگی جو کچھ میں لایا ہوں“
یعنی قرآن پاک اور سنت رسول(ص) لیکن ہم آج کل کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے احکامات کو چھوڑ کر کن دشمنان اسلام کی‌کواہشات پر عمل کرتے ہیں ہم نے اخلاقی زوال کیی خطرناک رفتار پکڑی ہے ہم سوئے ہوئے ہیں اسلامی اعزاز ہم سے چھینا جا رہا ہے اور ہم خاموشی سے اس کو قبول کئے جا رہے ہیں گھر میں مقیم بزرگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو حسب ارشاد رب ذوالجلال اور حسب فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجودہ مغربی تہزیب و تمدن کے تاریک اور قبیح مستقبل سے آگاہ کر کے اسلامی تہزیب اور طور طریقوں کو رائج کرائیں اور گھروں میں اسلامی کتب اور رسالے پڑھنے پڑھانے شروع کریں اساتذہ کرام سے بھی انتہائی ّاجزی کے ساتھ عرض ہے کہ وہ کالجوں اور سکولوں میں موجودہ بے راہ روہ،بے حیائی اور بے پردگی کے مضمرات کو طالب علموں کو سمجھائیں اور دینی و دنیوی نقصانات سے آگاہ کریں اور اس طوفان بدتمیزی کو روکنے کی کوشش کریں
اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

دوستوں مذکورہ تحریر میری لکھی ہوئی نہیں ہے کسی محترم نے بذریعہ داک ارسال کی تھی اور اپنا نام و مقام نہیں لکھا تھا صرف اتنا لکھا تھا کہ یہ تحریر روزنامہ خبریں میں شائع ہو چکی ہے
میں سید انجم شاہ یہ نہین جانتا کہ مذکورہ بالا تحریر روزنامہ خبریں میں کب شائع ہوئی اور کن صاحب نے لکھی ہوئی ہے تاہم
بشکریہ روزنامہ‌خبریں کرتا ہوں

__________________

سیالکوٹ تاریخ کے آئینے میں

June 20th, 2009

جموں کے پہاڑوں کے آنگن میں ہیرے کی طرح چمکتی ہوئی نشاط انگیز اور نیلگوں فضائوں میں رچی ہوئی ایک تاریخی بستی امرت گھومتی نالی کی موجیں مہکتے سبزہ زاروں کو کف گل میں شبنم کی طرح چمکا اور مہکا دیتی تھیں قریبی پہاڑوں پر اگے ہوئے موتیے اور چنبے کے گلزاروں سے شبنمی مہکتی ہوائیں بادلوں سے سرسراتی ہوئی جب گزرتی تو سیالکوٹ کی‌ڈالی ڈالی جھوم کر فضا کو نشیلی اور نغمہ سرا کر دیتی یہ روحانی ماحول بڑے بڑے درویشوں اور عارفوں کو دھیان سے گیان کی منزل تک لے آتا اس وجہ سے اسے مہاتماوں کی سرزمین کے نام سے یاد کیے جانے کے علاوہ اسے آٹھ دروازوں کا شہر بھی کہا جاتا رہا ہے
راجہ سل کے زمانے میں اسے سل کوٹ کے نام سے بھی پکارا جاتا رہا ہے
حیران کن کہانی یہ ہے کہ آپ بوسیدہ ،کھنڈر،سلاطین باطن کے پاک مزارات ،مسمار قلعے،ٹوٹی پھوٹی قبریں،چپہ چپہ پر پرانے قحبے اسکی گزشتہ بڑائی کے افسانے دوہراتے ہیں جس قدر پے درپے انقلابات اور زمانے کی نیر نگیاں سیالکوٹ کے حصہ میں آئی ہیں شاید ہی روح زمین پر کوئی شہر ان کا متحمل ہو سکا ہو
اس شہر کی بنیاد چار ہزار سال قبل راجہ سل نے رکھی اور شہر کے وسط میں دہری فصیل والا قعلہ دفاع کے نقطہ نظر سے تعمیر کروایا جس وقت راجہ سل نے اس قلعہ کی بنیاد رکھی اس وقت اصل شہر آجکل کے ٹبہ ککے زئیاں،امام صاحب،ٹبہ سیداں،ٹبہ شوالہ،دھاروال اور پالا شاہ گیٹ پر مشتمل تھا 323 سال قبل سکند اعظم کے ساتھ مورخ پنجاب آئے اور 300 سال قبل دریائے راوی اور چناب میں زبردست طغیانی آنے سے سل کوٹ اور گردو نواح کے علاقہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے شاہ جہاں بادشاہ کے دور حکومت میں سل کوٹ ایک بار پھر دنیا کے نقشہ پر ابھرا اور یہاں پر 13 باغ،12 دریاں بنیں اور تعمیر و ترقی کا دور شروع ہوا پھر ایک وقت میں سکھوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور ایک عرصہ تک شراب و جواء اس شہر میں‌چلتے رہے سکھ بادشاہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد انگریزوں نے اس شہر میں پنجے جما لئے 1849ء میں مہا راجہ دلیپ سنگھ کو معزول کر دیا گیا اور سل کوٹ کو دوسرے علاقوں کی طرح اپنی گرفت میں لےلیا1857ء میں پہلا مارشل لا نافذ کر دیا گیا جہلم اور راولپنڈی کے مسلم فوجیوں نے اپنی توپوں کے منہ انگریز چھاونیوں کی طرف کر کے بغاوت کا آغاز کیا تین ماہ کے قلیل عرصہ بعد انگریز مارشل لاء اٹھانے پر مجبور ہوگئے
پھر صوفیاء کرام نے سل کوٹ میں پانچ دینی درسے قائم کئے جن میں دوردراز سے طلبہ طالبات حفظ قرآن اور دین کی تعلیم کےلئے جوک دو جوک آتے رہے پاکستان کو معرض وجود میں لانے کےلئے سیالکوٹ کے باسیوں نےانتھک کوششیں کیں 1944ء میں مسلمانوں کی عظیم رہنما قاعد اعظم محمد علی جناح سیالکوٹ دورہ پر آئے اور تالاب شیخ مولا بخش میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا انکے ہمراہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان تھے انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا”” میں آپ کی طرح نوجوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جذبے نے میری قوت کو دو آتشہ کر دیا ہے““
پاکستان کی آزادی لاکھوں قربانیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی جس میں سیالکوٹ کے باسیوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور مہکتی ہوائوں کی وادی جموں کشمیر جو ہم سے بھارتی سیاسی سورمائوں نے انگریزوں کی سازش سے چھین لیا سیالکوٹ میں آزادی کے بعد بہت کم صنعتیں تھیں اور ضلع کی آبادی ایک لاکھ نفوس پر مشتمل تھی ضلع سیالکوٹ کی ایک تحصیل نارووال کو بعد میں ضلع کا درجہ دے دیا گیا اور اب سیالکوٹ میں صعنتوں کا جال پھیلایا جا چکا ہے چیمبر آف کامرس آج سیالکوٹ کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے اور چیمبر ہی کی بدولت سے آج سیالکوٹ میں ایک انٹرنیشنل ائیر پورٹ تعمیر کیا جا چکا ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہ تھا اور ایک خطیر رقم سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے دی
سیالکوٹ میں جنم لینے والے چند معروف شخصیات
ڈاکٹر علامہ اقبال مفکر پاکستان
فیض احمد فیض
پروفیسر اصغر سوادئی جو کہ پاکستان کا مطلب کیا کے خالق ہیں
مگر افسوس کہ اس عظیم شخص جو اس ترانہ کا پاکستان کا مطلب کیا کا خالق تھا انتہائی کسمپرسی کے حالات میں دنیا سے رخصت ہوا جس کی نمازہ جنازہ میں حکومت کے کسی عہدیدار نے شر کت نہیں کی
اجازت کے ساتھ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر سید انجم شاہ

__________________
دستخط:
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں

غلاف کعبہ کی تیاری تاریخ کے آئینے میں

June 20th, 2009

خانہ کعبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کےلئےانتہائی مقدس بابرکت اور اہم ماقام ہے جہاں ہر سال پوری دنیا سے ہر نسل،ہر فرقے اور رنگ کے مسلمان اکٹھے ہو کر فریضہ حج ادا کرتے ہیں کعبے کا طواف کرتے ہیں اور اپنے گناہ معاف کرانے کےلئے اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں
خانہ کعبہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ساتھ مل کر تعمیر کیا تھا
مکہ مکرمہ شروع دن سے ہیں آج تک ایک اہم مقام ہے حضور نبی کریم (ص) نے یہاں پر رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا اور جب سیلاب سے کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچا تو نبی کریم (ص) نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی اور پھر اس میں حجرا سود کو رکھنے کے مسلئے کو جس خوش اسلوبی سے طے فرمایا وہ بھی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے یہ بیت اللہ ہے اللہ کا گھر ہے الرحمان کا گھر ہے یہ مقدس عمارت ازلی اور ابدی حرمت کی وجہ سے اللہ تعالی کی‌خاص عبادت کا مرکز ہے قرآن مجید کی مختلف آیات میں تعمیر کعبہ،کعبہ کی اہمیت اور مسد الحرام کے بارے میں تفصیل سے معلومات ملتی ہیں ،مستند روایات ہیں کہ‌حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے‌حضرت اسماعیل علیہ اسلام کے ایما پر مکہ مکرمہ کے چاروں اطراف حد بندی کر کے نشانات لگا دیئے تھے اور یہی حدود حرم ہے نبی کریم (ص) کا ارشاد مبارک ہے کہ مسجد الحرام میں ایک دفعہ نماز ادا کرنے کا ثواب عام مساجد میں ایک لاکھ نمازیں پڑھنے کے برابر ہے
”اخبار مکہ“ کے مصنف کے مطابق خانہ کعبہ کی پہلی تعمیر ملائکہ نے کی اور پھر جب حضرت آدم علیہ اسلام زمین پر تشریف لائے تو انہوں نے اسکی دوبارہ تعمیر کی حضرت ابراہیم علیہ اسلام جب شام سے مکہ مکرمہ واپس آئے تو اس وقت حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی عمر 30سال تھی حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کےلئے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو اللہ تعالی کا حکم سنایا حضرت جبرائیل نے ان دونوں کو ایک ٹیلہ دکھایا جس کو کھودنے پر پرانے گھر کی بنیادیں نظر آئیں انہٰن بنیادوں پر دونوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جب بیت اللہ کی بنیادیں ایک ہاتھ تعمیر کر دی گئیں تو حضرت اسماعیل ایک پتھر لائے جس پر کھڑے ہو کر حضرت جبرائیل نے خانہ کعبہ کی دیواریں مزید بلند کرنا شروع کر دیں حرم شریف میں یہی مقام ” مقام ابراہیم “ کہلاتا ہے جس میں حضرت ابراہیم کے پائوں مبارک کے نقش شیشے کے سنہری جار میں محفوظ ہیں روایت ہے کہ حجرا سود حضرت ابراہیم کے ساتھ ہی جنت سے اتارا گیا تھا اور جہاں یہ نصب ہے وہاں سے طواف کا آغاز کیا جاتا ہے کعبتہ اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بہت پرانی ہے خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حجرت اسماعیل نے چڑھایا تھا ابن ہشام اور دیگر مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے ساتھ ساتھ‌غلاف کا اہتمام بھی کیا تھا
اس روایت کے بارے میں نہ تو اتنے وثوق سے کہا جا کستا ہے اور نہ انکار کیا جا سکتا ہے سب سے مستند حوالہ اس حدیث مبارکہ کا ہے جس پر تاریخ غلاف کعبہ کے تمام مورخین نے اتفاق کیا ہے
ظہور اسلام سے 700برس اور ہجرت نبی(ص) سے220برس قبل یمن کے بادشاہ تبع ابوکرب اسعد(عہدحکومت‌420ءتا425ء) نے‌خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ شریف پر‌غلاف چڑھا رہا ہے یہ‌خواب اس نے کئے بار دیکھا ایک جنگ سے واپسی پر وہ مکہ مکرمہ سے گزرا تو اسے اپنا خواب یاد آیا چنانچہ اس نے یمن سے قیمتی کپڑے کا غلاف بنوا کر خانہ کعبہ پر چڑھایا اسعد نے پہلی بار درکعبہ مشرفہ کےلئے ایک تالہ اور چابی بنوائی شاہ اسعد کے بعد یمن کے ہر بادشاہ نے یہ سعادت حاصل کی اور ہر بادشاہ نے کعبہ شریف کےلئے غلاف بنوایا مورخین کی نظر میں یہ واقعہ اس لئے زیادہ درست ہے کہ ایک بار کچھ لوگ اسعد نامی بادشاہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ حضور اکرم(ص) نے فرمایا کہ اسعد حمیری کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا یہ غلاف سرخ داری دار یمنہ کپڑے سے بنایا گیا تھا قریش مکہ ہر سال دس محرم کو کعبے کا غلاف بدلتے ھے اس دن وہ احترام کی خاطر روزہ بھی رکھتے تھے
زماہ جاہلیت میں خالد بن جعفر بن کلاب نے کعبہ پر پہلی مرتبہ دیباج کا غلاف چڑھایاتھا اسکی لاگت تمام قبائل قریش میں تقسیم کی گئی تھی اس وقت غلاف ٹاٹ،چمڑےاور دیباجوغیرہ سے تیار کئے ھاتے تھے بنی مخروم کے ابو ربعیہ ابن عبداللہ ابو بن عمر نے تجارت میں بے حد منافع کمایا تو اس نے قریش سے کہا کہ ایک سال میں کعبہ پر غلاف میں چڑھایا کروں گا اور ایک سال تمامقریش مل کر یہ فریضہ انجام دیں گے چنانچہ اس کے مرنے تک یہی معمول رہا زمانہ جالہیت میں بھی‌حضور اکرم(ص) کا خاندان مکہ مکرمہ میں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا آپ(ص)کے جد امجد بھی تمام قبائل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے انہوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے‌خصوصی بیت المال قائم کیا تا کہ تمام قبائل اپنی‌حیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں اور کوئی قبائل اس سعادت سے محرون نہ رہ رہیں
اپنے خرچ پر غلاف کعبہ چڑھانے کا شرف حضوراکرم(ص) کی دادی عباس بن عبدالمطلب کی ماں کو بھی حاصل ہوا تھا بچپن میں جب ایک بار حضرت عباس اپنے گرھ کا راستہ بھول گئے تو ماں نے منت مانگی کہ عباس گھر آجائیں تو وہ غلاف نزر کریں گی چنانچہ حضرت عباس جب گھر سلامتی سے تشریف لائے تو انہوں نے یہ منت پوری کی اس وقاع سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی غلاف کعبہ کو ذاتہ اور اجتماعی طور پر بہت اہمیت دی جاتی تھی قریش نے‌حضور (ص) کے اعلان نبوت سے 5 سال پہلے کعبہ کی تعمیر نو کی تو بڑے اہتمام سے غلاف بھی چڑھایا
فتح مکہ کے بعد جب حضور (ص) نے‌خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا تو اس وقت آپ(ص) نے‌غلاف کعبہ کو تبدیل نہیں کیا تھا انہی دنوں ایک عجیب واقع پیش آیا ایک مسلمان خاتون غلاف کعبہ کو صندل کی‌خوش بو میں بسانے کا اہتمام کر رہی تھی کہ اچانک تیز ہوا سے آگ غلاف کعبہ کے پردے پر پڑی اور اس پردے میں آگ لگ گئی جو مشرکین مکہ نے‌ڈالا تھا
فتح مکہ کی خوشی پر حضور اکرم (ص) نے یمن کا تیار کیا ہوا سیاہ رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا آپ (ص) کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا بعدمیں یہ‌گلاف عید الفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا بعد ازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا نو اور دس ہجری میں بھی آپ(ص) نے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں حضور اکرم(ص) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غللاف چڑھایا کرتے تھے
سیدناعمر فاروق پہلے پرانا غلاف اتار کر زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے
لیکن بعد میں اسکے ٹکڑے حجاج اور غربا میں تقسیم کر دیا
حضرت عثمان غنی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی

حضرت عبداللہ بن زبیر اور حجاج بن یوسف نے دیباج کت‌غلاف چڑھائے خلفاء بن عباس نے اپنے500 سالہ دور‌حکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کئے عباسیوں نے اپنے دور حکومت میں غلاف کعبہ کی بنوائی میں خصوصی دلچسپی لی اور اسکو انتہائی خوبصورت بنایا خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں 2 مرتبہ اور مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتما کیا مامون الرشید نے سیفد رنگ کا غلاف چڑھایا تھا خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا لیکن پھر اس نے سیاہ ریشم سے تیار کروایا اس کے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے البتہ اوپر ذری کا کام ہوتا ہے
140ھ سے‌غلاف پر لکھائی شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے
751 ہجری میں مصر کے بادشاہ منصور بن ناصر نے‌غلاف کیا تیاری پر اٹھنے والے مصارف کےلئے قاہرہ کے چند دیہات کی آمدنی وقف کر دی تھی وہ ہر سال بڑے تزک و شان اور اہتمام سے غلاف کعبہ تیار کروا کر مکہ مکرمہ روانہ کیا کرتا تھا روانگی کے موقع پر بہت اہتمام کیا جاتا تھا غلاف کو محل میں رکھ کر عوام کا دیدار کروایا جاتا اور جلوس نکالا جاتا تھا اور جب غلاف مکہ مکرمہ پہنچتا تو اسکا شاندار استقبال کیا جاتا
761 ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ کعبہ کے بارے میں آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کا حکم دیا
سورۃ آل عمرآن کی آیات 96/97 سورۃ امائدہ کی آیت 97 اور سورہ بقرہ کی آیات 128/127 تین اطراف کاڑھی جاتی ہیں
چوتھی طرف غلاف بھجنے والے فرماروا (بادشاہ) کا نام ہوتا تھا
810 ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت انداز میں جازب نظر بنایا جانے لگا جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے مصر پر ستطنت عثمانیہ کے قبضے کے بعد سلمان اعظم نے مزید 7 گائوں کی مزید آمدنی غلاف کعبہ کےلئے وقف کر دی
19 ویں اور 20 ویں صدی عیسوی کے اوائل تک غلاف کعبہ مصر ہی سے تیار ہو کر آیا کرتا تھا یہ قاہرہ کے ایک‌خصوصی کارخانہ میں بنایا جاتا تھا جو صرف غلاف کعبہ ہی تیار کرتا تھا شوال کی 21 تاریخ کو غلاف تیار ہو رک مصر سے مکہ روانہ کیا جاتا یہ دن مصر میں چھٹی کا دن ہوتا تھا مصر میں یہ دن ایک بہت بڑے تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا
محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زرد رنگ کا غلاف بھیجا
سلمان دوم کے عہد حکومے بسے غلاف مصر سے جاتا تھا جب اس رسم میں جاہلانہ باتیں شامل کر لی گئی تو سعودیہ عرب سے مصریوں کے اختلافات بڑھ گئے اور مصریوں کا تیار کردہ غلاد لینے سے انکار کر دیا گیا
شریف حسین والی مکہ کے تعلقات مصریوں سے 1923ء میں خراب ہوئے
چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے واپس منگوا لئے
1333 ھ میںشریف حسین کا بنوایا ہوا غلاف پہلی جنگ عظیم چھڑ جانے کی وجہ سے بروقت نہ پہنچ سکا اسلئے مصری غلاف ہی چڑھانا پڑا
1927ء میں شاہ عبد العزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلد ازجلد ایک کارخانہ قائم کریں اور 1346 ہجری کےلئے غلاف کی تیاری شروع کر دیں چنانچہ انہوں نے فوری طور پر ایک کارخانہ قائم کر کے ہندوستانی کاریگروں کی نگرانی میں غلاف کی تیاری شروع کر دی اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونے والا یہ پہلا غلاد کعبہ تھا
مکہ میں قائم ہونے والی اس فیکٹری کا نام ” دارالکسوہ “ تھا
1962ء میں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی‌آئی
1928ء میں امرتسر سے مولانا اسماعیل غزنوی ،مولانا داود غزنوی نے غلاف تیار کر کے بھیجا غلاف کعبہ کی تیاری میں دنیا کا سب سے بہترین کپرا استعمال کیا جاتا ہے670 کلو گرام خالص سفید ریشم اور 720 کلو گرام مختلف رنگ اور اسک رنگنے کےلئے استعمال ہعتے تھے کل کپڑا تقریبا 660 مربع میٹر ہوتا تھا پورا غلاف کعبہ 54 ٹکڑوں ست بنتا ہے اور ان میں ہر طول 14 میٹر اور عرض 95 سینٹی میٹر اور پورے غلاف کی پیمائش 2650 مربع میٹر ہوتی ہے جبکہ غلاف کی پٹی کا گھیر 45 میٹر اور ارض 95 سینٹی میٹر ہوتا ہے جو مختلف 16 ٹکڑوں کو ملا کر جوڑا جاتا ہے
خانے کعبہ کا دروازہ خالص سونے کا بنا ہوا ہے اس کا پردہ نہایت دلکش جاذب نظر اور دیدہ زیب انداز میں بنایا جاتا ہے غلاف کے چاروں اطراف میں مربع شکل میں سورہ اخلاص کی کڑھائی کی جاتی ہے غلاف کے اوپر قرآن کریم کے حج سے متعلقہ آیات مبارکہ اور اسکے نیچے اللہ سبحان تعالی کے نام کاڑھے جاتے ہیں
آیات قرآنی کی کتابت خط سوسل میں شیخ عبدالرحیم بخاری نے کی پان کے پتے کی شکل میں ”یا حی یا قیوم“ ،”الحمد رب العالمین“ اور اسکے نیچے تکون کی شکل میں ”اللہ”،اسکے نیچے ”یا حنان یا منان“ اور اسکے نیچے ”سبحان اللہ و بحمدہ“ سبحان اللہ العظیم“ کڑھائی کیا جاتا ہے کعبہ مشرفہ کی پٹی اور در کعبہ بنانے کےلئے 11 ماہ درکار ہوتے ہیں
باب کعبہ کی دائیں جانب اوپر کی ایک پٹی میں سنہری کڑھائی میں لکھا ہوا ہے کہ یہ غلاف خادم الحرمین الشریفین فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے مکہ میں تیار کرایا اور پیش کیا
18 جنوری 1983ء کا دن غلاف کعبہ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور سنہری بان ہے اس دن شاہ فہد مرحوم نے اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت (نیویارک) کےلئے پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے عطیہ کے طعر پر در کعبہ کا پردہ پیش کیا یہ پردہ عمارت کے اسقبالیہ کمرے میں نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے
وہ پوری انسانیت کی بیت اللہ کی طرف سے امن و سلامتی اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے جب حجاج اکرام منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو 9 ذی الحجہ کو نیا غلاف چڑھایا جا تا ہے پردوں کو رسوں سے باندھ کر اوپر اٹھا دیتے ہیں اور نیچے سے بیت اللہ شریف کے بڑے بڑے کالے رنگ کے پتھر دکھائی دیتے ہیں غلاف کی سلائی اسطرح کی جاتی ہے کہ باب کعبہ حجراسود اور رکن یمانی کی جگی کھلی رہتی ہے
حج کے ایام میں غلاف کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بعض سادہ لوح لوگ غلاف سے لپٹ کر دھاگہ کاٹ لیتے تھے جن کو میت کی آنکھوں میں ڈالنے کےلئے لاتے تھے جو کہ ایک توہم ہرستی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
نوٹ : مذکورہ تحریر ایک میگزین سے پڑھی گئی جس کو جناب عبدالواحید صاحب نے تحریر کیا تھا میں ان کا مشکور ہوں اور ان کےلئے دعا گو بھی ہوں ( طالب دعا سید انجم شاہ)

عورت کی تزلیل کب تک ہو گی

June 16th, 2009

یہ تحریر لکھتے وقت میری آنکھو سے آنسو جاری ہیں اور میں لکھنے سے قبل بڑی دیر تک سوچتا رہا ہوں‌کہ لکھوں کہ نہ لکھوں مگر اپنے فرض سے مجبور ہو کر لکھ رہا ہوں ( نوٹ: واقعی سچائی پر مبنی ہے جس کی رپورٹنگ میں نے خود کی ہوئی ہے مگر تحریر لکھتے وقت میں الفاظ کا ہیر پھیر کر رہاہوں ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بئ چاری بے بس معصوم دلہن تھی اسکی آنکھوں اور آہوں میں ایک درد ناک کہانی سمائی تھی آہیں تھیں سسکیاں تھیں وہ ایک زندہ لاش کی مانند ہو چکی تھی ایک نئی نویلی دلہن کے دل میں‌محبتوں کے باغ اور ارمان ہوتے ہیں مگر اس بے بس مظلوم عورت کے ارمان پورے ہونے سے پہلے ہی دفن ہو چکے تھے معصوم دلہن کی ماں کی‌خواہش تھی کہ میری بچی اپنے گھر میں خوشی کی زندگی بسر کرے گی مگر ماں بے چاری کی خواہشوں کی لڑی بھی ٹوٹ گئی بچی کی حالت دیکھ کر ماں بے چاری نڈھال ہو چکی تھی معصوم دلہن پر ظلم کی انتہا ہو چکی تھی اس عورت کی کیا زندگی ہے جس کا شوہر شراب پی کر گھر آئے اور دوستوں کو بھی گھر ساتھ لائے اور پھر شوہر بیوی کو کہے کہ میری دوستوں کے ساتھ ہاتھ ملائو ان سے ہنسو کھیلو اور حتی کہ بیوی کو بدکاری کرنے کےلئے دبائو ڈالنا شروع کر دے معصوم دلہن کے انکار پر وحشیانہ تشدد کرتا رہا (ش) بے چاری بے غیرت شوہر کے جال میں پھنس چکی تھی شوہر (فیاض) نے اوچھے ہتھکنڈے اپنانے شروع کر رکھے تھے ایک دن (ش) شوہر کے مظالم سے تنگ آ کہ چپکے سے میکے جا پہنچتی ہے شوہر نے وہاں بھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑا اور پولیس کے ساتھ سسرال پہنچ گیا وہاں اس نے پولیس سے ملکر لوٹ مار شروع کی جب (ش) کے ماں باپ نے روکنے کی کوشش کی تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتا رہا اور الٹا بے چاری (ش) پر زیورات اور نقد روپے بھی ساتھ لے کر آنے کا الزام لگا دیا جب (ش) کے بھائی نے مداخلت کی تو اسے بھی جان سے مار دینے کی دھمکی دے اگر معاشرے میں ایسےشوہر کی گھٹیا سوچ کا تجزیہ کیا جائے تو ایسی کمینی حرکتیں کرنے والے معاشرے میں ایک گندے داغ کی مانند ہے جس شخص کی غیرت مر جائے ایسے شخص ہی ایسی گندی حرکتیں کرے گا میں یہاں پولیس کے مقصد کو اجاگر کروں کہ پولیس کا مقصد تو عوام کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ‌ظلم کرنے والوں کا ساتھ دینا یہاں پر پولیس کو چاہیئے تھا کہ وہ معصوم (ش) کو تحفظ فراہم کرتی اور ظلم کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچاتی عورت تو اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے بچوں کو اچھا مستقبل دیتی ہے انکی بہتر پرورش کرتی ہے عورت تو کئی روپوں میں ہے ماں‌،بہن،خالہ،مامی،نانی،ؠ ?یوی،سالی،بیٹی ان تمام روپوں میں سب سے اعلی روپ ماں کا ہے اس لئے قدرت نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے بیوی جیسے تحفے کی قدر کی اسلام میں عورت پر تشدد کی کوئی گنجائش نہیں عورت کا مطلب پردہ ہے میں ایسے کم ظرف سوچ رکھنے والوں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اپنی بیویوں سے اچھا اور نیک سلوک کریں تا کہ معاشرے میں عورت کی تذلیل نہ ہو ہمیں اچھے اخلاق کی طاقت سے دوسرے کی بہنوں ،بیٹیوں،مائوں ،عورتوں کو نیک نگاہ سے دیکھنا ہو گا تب جا کر ہم معاشرے میں ایک اچھے انسان بن کر ابھریں گے میری بہن (ش) میں آپ کے لئے یہی کچھ کر سکتا تھا جو میں نے کر دیا ہو سکے تو مجھے معاف کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( جہاں تک ہو سکا ایک رپورٹر ہونے کے ناطے ،ایک شہری ہونے کے ناطے میں نے اپنا کردار ادا کیا اور امید تو ہے کہ میں اس کے شوہر کے‌خلاف قانونی کاروائی کا دائرہ کار بڑھا دوں گا ) واضح رہے کہ میں نے میاں بیوی دونوں کے نام بدل دیئے ہیں اور یہ واقعہ حقائق پر مبنی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو ایسے کئی مناظر ہمیں دیکھنے کو ملیں گے مگر ہم صرف ایک تماشائی کی حثیت سے ہی دیکھیں گے اللہ ہم سبکو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے طالب دعا سید انجم شاہ

قاعد اعظم اور انکی تصویر

June 16th, 2009

اسلام و علیکم!‌قارئین محترم ایک طویل عرصہ سے اس تحریر کو لکھنا چاہ رہا تھا مگر ناگریز وجوہات کی بناء پر لکھ نہ سکا آج لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں صاحب علم حضرات سے التجا ہے کہ میری راہنمائی فرمائی جائے اور منتظمین سے درخواست ہے کہ اگر تحریر میں کوئی لفظ قوانین کی رہ سے مناسب نہ ہے تو نشاندہی کریں آپ سب کے تعاون کا طلبگار سید انجم شاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
جس سکول ،جس ادارے ،جس دفتر چلے جائیں ،اسمبلی ہال ہو یا گورنر ہائوس،مختصر یہ کہ ہر دفتر میں آپ کو قائد اعظم کی تصویر ہمیشہ نظر آئے گی
کہیں یہ تصویر مسکراتی وہئی نظر آتی ہے تو کہیں یہ ہی تصویر درد و غم کے عالم میں اور کہیں گم صم سی نظر آتی ہے
مسکراتی ہوئی تصویر اصل میں طنز ہے جو پورے پاکستان پر ہے اسکے باسیوں پر ہے ارباب اختیار پر ہے
انکے چہرے کا کرب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ملک آج کن ہاتھوں میں ہے کبھی اس تصویر کو ذرا قریب سے دیکھیئے گا
یہ آپ کو بولتی ہوئی نظر آئے گی
یہ ہم سے پوچھتی ہے کہ
ہم سے سوال کرتی ہے
کیا ہم اس کے سوال کا جواب دے سکتے ہیں؟
کیا وہ مقاصد جنکو پورا کرنے کےلئے پاکستان بنایا گیا تھا پورے ہو چکے ہیں؟
کیا وہ قواعد و ضوابط جو پاکستان کےلئے بنائے گئے تھے عملی طور پر ہمیں کہیں نظر آتے ہیں؟
وہ مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے تھے انہیں کیوں نہ حاصل کر سکے؟
ہم اپنی راہوں سے کیوں بھٹک گئے؟
ہم قائد کے پیغام کو کیوں بھول گئے؟
ہم نے قائد کی باتوں پر عمل کیوں نہ کیا؟
یہ وہی ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن یہاں اسلام قانون نافذ ہے؟
کیا یہاں ہر کام اسلام کے مطابق ہو رہا ہے؟
یہاں ظلم تو نہیں ہو رہا؟
کیا یہاں بیوائوں اور یتیموں کا حق ادا کیا جا رہا ہے؟
کیا یہاں مجرم کو قانون کے مطابق سزا مل رہی ہے؟
کیا یہاں انصاف دکانوں پر بک تو نہیں رہا؟
کیا یہاں اپنوں کو نوازنے کاکام جاری ہے؟
یہاں انصاف کی کس طرح تزلیل کی جارہی ہے؟
اگر ہم ان تمام سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کریں تو ہم سے انکا تسلی بخش جواب نہیں دیا جا سکے گا
ہم سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ معاشرہ اب تک قائم کیسے ہے
کیونکہ کوئی بھی معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کی بنیاد پر نہیں
حیران کرنے والی بات ہے کہ یہ معاشرہ پوری آب و تاب کے ساتھ ظلم کی بنیاد پر قائم ہے
کیا ہم آنے والی نسل کو اس پس منظر سے آگاہ کر رہے ہیں ؟
یا ہم خود بھی اس پس منظر کو بھول چکے ہیں جو پاکستان بنانے کا باعث بنا،؟
جو چیز انسان کو بنی بنائی مل جائے انسان کی فطرت ہے کہ اس کی قدر نہیں کرتا شاید اس لئے ہمیں بھی پاکستان کی قدر نہیں ہے
اگر ہمیں پاکستان کی قدر ہوتی تو آج اسکا یہ حشر نہ ہوتا آج یہاں پر تخریب کاری نہ ہوتی ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی اجناس باہر سے نہ آتیں
انصاف کا اس طرح خون نہ ہوتا عدل صرف کتابوں میں نظر نہ‌آتا اسکی کوئی عملی صورت بھی نظر آتی(تاہم کافی حد تک انصاف کی فراہمی کویقینی بنایا جا رہا ہے)
لوگ امن و سکون سے رہتے یہ بدامنی ہمیں کہیں نظر نہ‌آتی ہم کسی کے سر سے دوپٹہ کھینچنے والے ہاتھ کو کٹوا دیتے کاش!
کاش! ہمیں آزادی کی قدر کرنا‌ آجائے کیونکہ جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتی انکے گلے میں غلامی کا طق پہنا دیا جاتا ہے وہ قوم ذلیل و خوار ہو جاتی ہے تباہی و بربادی اس کا مقدر بن کہ رہ جاتی ہے تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جس نے اسکی پرواہ نہیں کی اسکا نام تک مٹ گیا
کیا قائد کی روح تڑپتی ہوگی؟
کیا اقبال کی روح خون کے آنسو روتی ہو گی؟
ہم کب تک اپنے آپ کو اور ان مقدس روحوں کو دھوکا دیں گے؟
ہم اور کتنی ٹھوکریں کھائیں گے؟
ہم اتنے بے حس کیوں ہو چکے ہیں؟
ہمارے سینے علم کے نور سے خالی کیوں ہوتے جارہے ہیں؟
ہماری آنکھوں سے چمک کیوں غائب ہوتی جا رہی ہے؟
کیا ہم زندہ بھی ہیں یا بدتر ہیں مردوں سےِ؟
ہمارے اندر سے عمل کی قوت کیوں چھن چکی ہے؟
ہم بے عملی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیوں ہے؟ِ
آج ہمارے ہاں خالد بن ولید اور محمد بن قاسم پیدا کیوں نہیں ہو رہے؟
اس لئے کہ ہمارے اندر سے وہ تربیت ختم ہو چکی ہے ہماری سوچیں سطحی ہو چکی ہیں ہمارے اندر سے اسلام کردار کی جھلک مٹتی جا رہی ہے
ہمارے عقائد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں
پاکستان کو اس حالت میں دیکھ کو ہم قائد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کو جواب دے سکتے ہیں؟؟
کیا ہمیں حق ہے کہ ان ہستیوں کی تصویریں ہر جگہ لگائیں؟
ہم ان تصویروں کی کیا عزت کرتے ہیں؟
اس تصویر کے سامنے رشوت بھی لی جاتی ہے
منافقت بھی کی جاتی ہے
ملک توڑنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں
عدل و انصاف کی دھجیاں بھکیری جاتی ہیں
انصاف دولت کے ترازو میں تولا جاتا ہے
آخر یہ کیوں ہو رہا ہے اور یہ کب تک ہوتا رہے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آج ہم اپنے فرائض منصبی بہتر طرح سے سر انجام دیں تو ہوسکتا ہے آنے والی نسلوں تک کوئی نہ کوئی بہتری ممکن ہو جائے آج سب واقف ہیں کہ روشنیوں کا شہر کراچی خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہے آخر کیوں ؟ کراچی شہر کے مکینوں پر اللہ رحم کرے آمین ثم آمین
انصاف کو عدلیہ والا انصاف نہ سمجھا جائے انصاف فراہم کرنے کےلئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں میرا انصاف سے عدلیہ مقصد نہ ہے
اللہ ہم پر اپنا کرم کرے اور ہم کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق فرمائے

__________________