یہ تحریر لکھتے وقت میری آنکھو سے آنسو جاری ہیں اور میں لکھنے سے قبل بڑی دیر تک سوچتا رہا ہوںکہ لکھوں کہ نہ لکھوں مگر اپنے فرض سے مجبور ہو کر لکھ رہا ہوں ( نوٹ: واقعی سچائی پر مبنی ہے جس کی رپورٹنگ میں نے خود کی ہوئی ہے مگر تحریر لکھتے وقت میں الفاظ کا ہیر پھیر کر رہاہوں ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بئ چاری بے بس معصوم دلہن تھی اسکی آنکھوں اور آہوں میں ایک درد ناک کہانی سمائی تھی آہیں تھیں سسکیاں تھیں وہ ایک زندہ لاش کی مانند ہو چکی تھی ایک نئی نویلی دلہن کے دل میںمحبتوں کے باغ اور ارمان ہوتے ہیں مگر اس بے بس مظلوم عورت کے ارمان پورے ہونے سے پہلے ہی دفن ہو چکے تھے معصوم دلہن کی ماں کیخواہش تھی کہ میری بچی اپنے گھر میں خوشی کی زندگی بسر کرے گی مگر ماں بے چاری کی خواہشوں کی لڑی بھی ٹوٹ گئی بچی کی حالت دیکھ کر ماں بے چاری نڈھال ہو چکی تھی معصوم دلہن پر ظلم کی انتہا ہو چکی تھی اس عورت کی کیا زندگی ہے جس کا شوہر شراب پی کر گھر آئے اور دوستوں کو بھی گھر ساتھ لائے اور پھر شوہر بیوی کو کہے کہ میری دوستوں کے ساتھ ہاتھ ملائو ان سے ہنسو کھیلو اور حتی کہ بیوی کو بدکاری کرنے کےلئے دبائو ڈالنا شروع کر دے معصوم دلہن کے انکار پر وحشیانہ تشدد کرتا رہا (ش) بے چاری بے غیرت شوہر کے جال میں پھنس چکی تھی شوہر (فیاض) نے اوچھے ہتھکنڈے اپنانے شروع کر رکھے تھے ایک دن (ش) شوہر کے مظالم سے تنگ آ کہ چپکے سے میکے جا پہنچتی ہے شوہر نے وہاں بھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑا اور پولیس کے ساتھ سسرال پہنچ گیا وہاں اس نے پولیس سے ملکر لوٹ مار شروع کی جب (ش) کے ماں باپ نے روکنے کی کوشش کی تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتا رہا اور الٹا بے چاری (ش) پر زیورات اور نقد روپے بھی ساتھ لے کر آنے کا الزام لگا دیا جب (ش) کے بھائی نے مداخلت کی تو اسے بھی جان سے مار دینے کی دھمکی دے اگر معاشرے میں ایسےشوہر کی گھٹیا سوچ کا تجزیہ کیا جائے تو ایسی کمینی حرکتیں کرنے والے معاشرے میں ایک گندے داغ کی مانند ہے جس شخص کی غیرت مر جائے ایسے شخص ہی ایسی گندی حرکتیں کرے گا میں یہاں پولیس کے مقصد کو اجاگر کروں کہ پولیس کا مقصد تو عوام کی حفاظت کرنا ہے نہ کہظلم کرنے والوں کا ساتھ دینا یہاں پر پولیس کو چاہیئے تھا کہ وہ معصوم (ش) کو تحفظ فراہم کرتی اور ظلم کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچاتی عورت تو اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے بچوں کو اچھا مستقبل دیتی ہے انکی بہتر پرورش کرتی ہے عورت تو کئی روپوں میں ہے ماں،بہن،خالہ،مامی،نانی،ؠ ?یوی،سالی،بیٹی ان تمام روپوں میں سب سے اعلی روپ ماں کا ہے اس لئے قدرت نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے بیوی جیسے تحفے کی قدر کی اسلام میں عورت پر تشدد کی کوئی گنجائش نہیں عورت کا مطلب پردہ ہے میں ایسے کم ظرف سوچ رکھنے والوں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اپنی بیویوں سے اچھا اور نیک سلوک کریں تا کہ معاشرے میں عورت کی تذلیل نہ ہو ہمیں اچھے اخلاق کی طاقت سے دوسرے کی بہنوں ،بیٹیوں،مائوں ،عورتوں کو نیک نگاہ سے دیکھنا ہو گا تب جا کر ہم معاشرے میں ایک اچھے انسان بن کر ابھریں گے میری بہن (ش) میں آپ کے لئے یہی کچھ کر سکتا تھا جو میں نے کر دیا ہو سکے تو مجھے معاف کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( جہاں تک ہو سکا ایک رپورٹر ہونے کے ناطے ،ایک شہری ہونے کے ناطے میں نے اپنا کردار ادا کیا اور امید تو ہے کہ میں اس کے شوہر کےخلاف قانونی کاروائی کا دائرہ کار بڑھا دوں گا ) واضح رہے کہ میں نے میاں بیوی دونوں کے نام بدل دیئے ہیں اور یہ واقعہ حقائق پر مبنی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو ایسے کئی مناظر ہمیں دیکھنے کو ملیں گے مگر ہم صرف ایک تماشائی کی حثیت سے ہی دیکھیں گے اللہ ہم سبکو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے طالب دعا سید انجم شاہ
[...] عورت کی تزلیل کب تک ہو گی [...]