خانہ کعبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کےلئےانتہائی مقدس بابرکت اور اہم ماقام ہے جہاں ہر سال پوری دنیا سے ہر نسل،ہر فرقے اور رنگ کے مسلمان اکٹھے ہو کر فریضہ حج ادا کرتے ہیں کعبے کا طواف کرتے ہیں اور اپنے گناہ معاف کرانے کےلئے اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں
خانہ کعبہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ساتھ مل کر تعمیر کیا تھا
مکہ مکرمہ شروع دن سے ہیں آج تک ایک اہم مقام ہے حضور نبی کریم (ص) نے یہاں پر رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا اور جب سیلاب سے کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچا تو نبی کریم (ص) نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی اور پھر اس میں حجرا سود کو رکھنے کے مسلئے کو جس خوش اسلوبی سے طے فرمایا وہ بھی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے یہ بیت اللہ ہے اللہ کا گھر ہے الرحمان کا گھر ہے یہ مقدس عمارت ازلی اور ابدی حرمت کی وجہ سے اللہ تعالی کیخاص عبادت کا مرکز ہے قرآن مجید کی مختلف آیات میں تعمیر کعبہ،کعبہ کی اہمیت اور مسد الحرام کے بارے میں تفصیل سے معلومات ملتی ہیں ،مستند روایات ہیں کہحضرت ابراہیم علیہ اسلام نےحضرت اسماعیل علیہ اسلام کے ایما پر مکہ مکرمہ کے چاروں اطراف حد بندی کر کے نشانات لگا دیئے تھے اور یہی حدود حرم ہے نبی کریم (ص) کا ارشاد مبارک ہے کہ مسجد الحرام میں ایک دفعہ نماز ادا کرنے کا ثواب عام مساجد میں ایک لاکھ نمازیں پڑھنے کے برابر ہے
”اخبار مکہ“ کے مصنف کے مطابق خانہ کعبہ کی پہلی تعمیر ملائکہ نے کی اور پھر جب حضرت آدم علیہ اسلام زمین پر تشریف لائے تو انہوں نے اسکی دوبارہ تعمیر کی حضرت ابراہیم علیہ اسلام جب شام سے مکہ مکرمہ واپس آئے تو اس وقت حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی عمر 30سال تھی حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کےلئے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو اللہ تعالی کا حکم سنایا حضرت جبرائیل نے ان دونوں کو ایک ٹیلہ دکھایا جس کو کھودنے پر پرانے گھر کی بنیادیں نظر آئیں انہٰن بنیادوں پر دونوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جب بیت اللہ کی بنیادیں ایک ہاتھ تعمیر کر دی گئیں تو حضرت اسماعیل ایک پتھر لائے جس پر کھڑے ہو کر حضرت جبرائیل نے خانہ کعبہ کی دیواریں مزید بلند کرنا شروع کر دیں حرم شریف میں یہی مقام ” مقام ابراہیم “ کہلاتا ہے جس میں حضرت ابراہیم کے پائوں مبارک کے نقش شیشے کے سنہری جار میں محفوظ ہیں روایت ہے کہ حجرا سود حضرت ابراہیم کے ساتھ ہی جنت سے اتارا گیا تھا اور جہاں یہ نصب ہے وہاں سے طواف کا آغاز کیا جاتا ہے کعبتہ اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بہت پرانی ہے خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حجرت اسماعیل نے چڑھایا تھا ابن ہشام اور دیگر مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے ساتھ ساتھغلاف کا اہتمام بھی کیا تھا
اس روایت کے بارے میں نہ تو اتنے وثوق سے کہا جا کستا ہے اور نہ انکار کیا جا سکتا ہے سب سے مستند حوالہ اس حدیث مبارکہ کا ہے جس پر تاریخ غلاف کعبہ کے تمام مورخین نے اتفاق کیا ہے
ظہور اسلام سے 700برس اور ہجرت نبی(ص) سے220برس قبل یمن کے بادشاہ تبع ابوکرب اسعد(عہدحکومت420ءتا425ء) نےخواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ شریف پرغلاف چڑھا رہا ہے یہخواب اس نے کئے بار دیکھا ایک جنگ سے واپسی پر وہ مکہ مکرمہ سے گزرا تو اسے اپنا خواب یاد آیا چنانچہ اس نے یمن سے قیمتی کپڑے کا غلاف بنوا کر خانہ کعبہ پر چڑھایا اسعد نے پہلی بار درکعبہ مشرفہ کےلئے ایک تالہ اور چابی بنوائی شاہ اسعد کے بعد یمن کے ہر بادشاہ نے یہ سعادت حاصل کی اور ہر بادشاہ نے کعبہ شریف کےلئے غلاف بنوایا مورخین کی نظر میں یہ واقعہ اس لئے زیادہ درست ہے کہ ایک بار کچھ لوگ اسعد نامی بادشاہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ حضور اکرم(ص) نے فرمایا کہ اسعد حمیری کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا یہ غلاف سرخ داری دار یمنہ کپڑے سے بنایا گیا تھا قریش مکہ ہر سال دس محرم کو کعبے کا غلاف بدلتے ھے اس دن وہ احترام کی خاطر روزہ بھی رکھتے تھے
زماہ جاہلیت میں خالد بن جعفر بن کلاب نے کعبہ پر پہلی مرتبہ دیباج کا غلاف چڑھایاتھا اسکی لاگت تمام قبائل قریش میں تقسیم کی گئی تھی اس وقت غلاف ٹاٹ،چمڑےاور دیباجوغیرہ سے تیار کئے ھاتے تھے بنی مخروم کے ابو ربعیہ ابن عبداللہ ابو بن عمر نے تجارت میں بے حد منافع کمایا تو اس نے قریش سے کہا کہ ایک سال میں کعبہ پر غلاف میں چڑھایا کروں گا اور ایک سال تمامقریش مل کر یہ فریضہ انجام دیں گے چنانچہ اس کے مرنے تک یہی معمول رہا زمانہ جالہیت میں بھیحضور اکرم(ص) کا خاندان مکہ مکرمہ میں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا آپ(ص)کے جد امجد بھی تمام قبائل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے انہوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کےلئےخصوصی بیت المال قائم کیا تا کہ تمام قبائل اپنیحیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں اور کوئی قبائل اس سعادت سے محرون نہ رہ رہیں
اپنے خرچ پر غلاف کعبہ چڑھانے کا شرف حضوراکرم(ص) کی دادی عباس بن عبدالمطلب کی ماں کو بھی حاصل ہوا تھا بچپن میں جب ایک بار حضرت عباس اپنے گرھ کا راستہ بھول گئے تو ماں نے منت مانگی کہ عباس گھر آجائیں تو وہ غلاف نزر کریں گی چنانچہ حضرت عباس جب گھر سلامتی سے تشریف لائے تو انہوں نے یہ منت پوری کی اس وقاع سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی غلاف کعبہ کو ذاتہ اور اجتماعی طور پر بہت اہمیت دی جاتی تھی قریش نےحضور (ص) کے اعلان نبوت سے 5 سال پہلے کعبہ کی تعمیر نو کی تو بڑے اہتمام سے غلاف بھی چڑھایا
فتح مکہ کے بعد جب حضور (ص) نےخانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا تو اس وقت آپ(ص) نےغلاف کعبہ کو تبدیل نہیں کیا تھا انہی دنوں ایک عجیب واقع پیش آیا ایک مسلمان خاتون غلاف کعبہ کو صندل کیخوش بو میں بسانے کا اہتمام کر رہی تھی کہ اچانک تیز ہوا سے آگ غلاف کعبہ کے پردے پر پڑی اور اس پردے میں آگ لگ گئی جو مشرکین مکہ نےڈالا تھا
فتح مکہ کی خوشی پر حضور اکرم (ص) نے یمن کا تیار کیا ہوا سیاہ رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا آپ (ص) کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا بعدمیں یہگلاف عید الفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا بعد ازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا نو اور دس ہجری میں بھی آپ(ص) نے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں حضور اکرم(ص) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غللاف چڑھایا کرتے تھے
سیدناعمر فاروق پہلے پرانا غلاف اتار کر زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے
لیکن بعد میں اسکے ٹکڑے حجاج اور غربا میں تقسیم کر دیا
حضرت عثمان غنی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی
حضرت عبداللہ بن زبیر اور حجاج بن یوسف نے دیباج کتغلاف چڑھائے خلفاء بن عباس نے اپنے500 سالہ دورحکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کئے عباسیوں نے اپنے دور حکومت میں غلاف کعبہ کی بنوائی میں خصوصی دلچسپی لی اور اسکو انتہائی خوبصورت بنایا خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں 2 مرتبہ اور مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتما کیا مامون الرشید نے سیفد رنگ کا غلاف چڑھایا تھا خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا لیکن پھر اس نے سیاہ ریشم سے تیار کروایا اس کے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے البتہ اوپر ذری کا کام ہوتا ہے
140ھ سےغلاف پر لکھائی شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے
751 ہجری میں مصر کے بادشاہ منصور بن ناصر نےغلاف کیا تیاری پر اٹھنے والے مصارف کےلئے قاہرہ کے چند دیہات کی آمدنی وقف کر دی تھی وہ ہر سال بڑے تزک و شان اور اہتمام سے غلاف کعبہ تیار کروا کر مکہ مکرمہ روانہ کیا کرتا تھا روانگی کے موقع پر بہت اہتمام کیا جاتا تھا غلاف کو محل میں رکھ کر عوام کا دیدار کروایا جاتا اور جلوس نکالا جاتا تھا اور جب غلاف مکہ مکرمہ پہنچتا تو اسکا شاندار استقبال کیا جاتا
761 ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ کعبہ کے بارے میں آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کا حکم دیا
سورۃ آل عمرآن کی آیات 96/97 سورۃ امائدہ کی آیت 97 اور سورہ بقرہ کی آیات 128/127 تین اطراف کاڑھی جاتی ہیں
چوتھی طرف غلاف بھجنے والے فرماروا (بادشاہ) کا نام ہوتا تھا
810 ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت انداز میں جازب نظر بنایا جانے لگا جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے مصر پر ستطنت عثمانیہ کے قبضے کے بعد سلمان اعظم نے مزید 7 گائوں کی مزید آمدنی غلاف کعبہ کےلئے وقف کر دی
19 ویں اور 20 ویں صدی عیسوی کے اوائل تک غلاف کعبہ مصر ہی سے تیار ہو کر آیا کرتا تھا یہ قاہرہ کے ایکخصوصی کارخانہ میں بنایا جاتا تھا جو صرف غلاف کعبہ ہی تیار کرتا تھا شوال کی 21 تاریخ کو غلاف تیار ہو رک مصر سے مکہ روانہ کیا جاتا یہ دن مصر میں چھٹی کا دن ہوتا تھا مصر میں یہ دن ایک بہت بڑے تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا
محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زرد رنگ کا غلاف بھیجا
سلمان دوم کے عہد حکومے بسے غلاف مصر سے جاتا تھا جب اس رسم میں جاہلانہ باتیں شامل کر لی گئی تو سعودیہ عرب سے مصریوں کے اختلافات بڑھ گئے اور مصریوں کا تیار کردہ غلاد لینے سے انکار کر دیا گیا
شریف حسین والی مکہ کے تعلقات مصریوں سے 1923ء میں خراب ہوئے
چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے واپس منگوا لئے
1333 ھ میںشریف حسین کا بنوایا ہوا غلاف پہلی جنگ عظیم چھڑ جانے کی وجہ سے بروقت نہ پہنچ سکا اسلئے مصری غلاف ہی چڑھانا پڑا
1927ء میں شاہ عبد العزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلد ازجلد ایک کارخانہ قائم کریں اور 1346 ہجری کےلئے غلاف کی تیاری شروع کر دیں چنانچہ انہوں نے فوری طور پر ایک کارخانہ قائم کر کے ہندوستانی کاریگروں کی نگرانی میں غلاف کی تیاری شروع کر دی اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونے والا یہ پہلا غلاد کعبہ تھا
مکہ میں قائم ہونے والی اس فیکٹری کا نام ” دارالکسوہ “ تھا
1962ء میں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھیآئی
1928ء میں امرتسر سے مولانا اسماعیل غزنوی ،مولانا داود غزنوی نے غلاف تیار کر کے بھیجا غلاف کعبہ کی تیاری میں دنیا کا سب سے بہترین کپرا استعمال کیا جاتا ہے670 کلو گرام خالص سفید ریشم اور 720 کلو گرام مختلف رنگ اور اسک رنگنے کےلئے استعمال ہعتے تھے کل کپڑا تقریبا 660 مربع میٹر ہوتا تھا پورا غلاف کعبہ 54 ٹکڑوں ست بنتا ہے اور ان میں ہر طول 14 میٹر اور عرض 95 سینٹی میٹر اور پورے غلاف کی پیمائش 2650 مربع میٹر ہوتی ہے جبکہ غلاف کی پٹی کا گھیر 45 میٹر اور ارض 95 سینٹی میٹر ہوتا ہے جو مختلف 16 ٹکڑوں کو ملا کر جوڑا جاتا ہے
خانے کعبہ کا دروازہ خالص سونے کا بنا ہوا ہے اس کا پردہ نہایت دلکش جاذب نظر اور دیدہ زیب انداز میں بنایا جاتا ہے غلاف کے چاروں اطراف میں مربع شکل میں سورہ اخلاص کی کڑھائی کی جاتی ہے غلاف کے اوپر قرآن کریم کے حج سے متعلقہ آیات مبارکہ اور اسکے نیچے اللہ سبحان تعالی کے نام کاڑھے جاتے ہیں
آیات قرآنی کی کتابت خط سوسل میں شیخ عبدالرحیم بخاری نے کی پان کے پتے کی شکل میں ”یا حی یا قیوم“ ،”الحمد رب العالمین“ اور اسکے نیچے تکون کی شکل میں ”اللہ”،اسکے نیچے ”یا حنان یا منان“ اور اسکے نیچے ”سبحان اللہ و بحمدہ“ سبحان اللہ العظیم“ کڑھائی کیا جاتا ہے کعبہ مشرفہ کی پٹی اور در کعبہ بنانے کےلئے 11 ماہ درکار ہوتے ہیں
باب کعبہ کی دائیں جانب اوپر کی ایک پٹی میں سنہری کڑھائی میں لکھا ہوا ہے کہ یہ غلاف خادم الحرمین الشریفین فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے مکہ میں تیار کرایا اور پیش کیا
18 جنوری 1983ء کا دن غلاف کعبہ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور سنہری بان ہے اس دن شاہ فہد مرحوم نے اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت (نیویارک) کےلئے پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے عطیہ کے طعر پر در کعبہ کا پردہ پیش کیا یہ پردہ عمارت کے اسقبالیہ کمرے میں نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے
وہ پوری انسانیت کی بیت اللہ کی طرف سے امن و سلامتی اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے جب حجاج اکرام منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو 9 ذی الحجہ کو نیا غلاف چڑھایا جا تا ہے پردوں کو رسوں سے باندھ کر اوپر اٹھا دیتے ہیں اور نیچے سے بیت اللہ شریف کے بڑے بڑے کالے رنگ کے پتھر دکھائی دیتے ہیں غلاف کی سلائی اسطرح کی جاتی ہے کہ باب کعبہ حجراسود اور رکن یمانی کی جگی کھلی رہتی ہے
حج کے ایام میں غلاف کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بعض سادہ لوح لوگ غلاف سے لپٹ کر دھاگہ کاٹ لیتے تھے جن کو میت کی آنکھوں میں ڈالنے کےلئے لاتے تھے جو کہ ایک توہم ہرستی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
نوٹ : مذکورہ تحریر ایک میگزین سے پڑھی گئی جس کو جناب عبدالواحید صاحب نے تحریر کیا تھا میں ان کا مشکور ہوں اور ان کےلئے دعا گو بھی ہوں ( طالب دعا سید انجم شاہ)